انگزائٹی کا مرض نفسیاتی امراض کی وہ قسم ہے جسے دو علامات “خوف” اور “اضطراب” کی بناء پر دوسرے نفسیاتی امراض سے ممیّز کیا جاتا ہے۔ خوف کی کیفیت کسی حقیقی خطرے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور تصوراتی خطرہ بھی اس خوف کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بہر صورت انگزائٹی کا تعلق مستقبل میں درپیش کسی خطرے (حقیقی یا تصوراتی) سے ہی ہوتا ہے۔
Generlized Anxiety Disorder (GAD)
اپنے نام کے عمومی معنی سے قطع نظر ایک خاص نفسیاتی مرض ہے۔ اس عارضے کو چن لفظوں میں بیان کرنا ہو تو “مستقل شدید اضطراب” سے کیا جا سکتا ہے۔
یہ مرض کسے ہو سکتا ہے؟
عموماً یہ مرض انگزائٹی کی دوسری اقسام کے برعکس زیادہ تر 30 سال کی عمر کے بعد ظاہر ہوتا ہے. لیکن یہ کوئی طے شدہ اصول نہیں ہے۔ 30 سال سے کم عمر میں بھی یہ انگزائٹی ڈس آرڈر ہو سکتا ہے۔
عورتوں کا انگزائٹی ڈس آرڈر کا شکار ہونے کا تناسب مردوں کی نسبت دوگنا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 13 سال سے زائد عمر کی بچیوں اور بالغ خواتین کی انگزائٹی سکریننگ وقتاً فوقتاً ہوتی رہنی چاہیے۔ کیونکہ اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جا ئے تو اس میں کافی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں. لہٰذا بروقت تشخیص انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
جنرلائزڈ انگزائٹی ڈس آرڈر نوجوانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل میں سے تیسرا بڑا مسئلہ ہے. نوجوانی میں انگزائٹی کا شکار ہونا مستقبل میں دوسرے نفسیاتی عوارض میں مبتلاہونے کے خطرے کو دوچندکردیتا ہے۔
نوجوانوں کی علاوہ عمر رسیدہ افراد میں GAD کا شکار ہونے کا تناسب زیادہ ہے۔ عمر رسیدہ افراد میں GAD کا ظہور اکثر ڈپریشن کے ساتھ ہوتا ہے۔
ماضی میں عمر رسیدہ افراد کے انگزائٹی میں مبتلا ہونے پر زیادہ تحقیق نہیں ہو سکی لیکن اب چونکہ Geriatric Psychiatry کے نام سے عمر رسیدہ افراد کے لیے نفسیات کی الگ شاخ قائم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بڑھاپے کے نفسیاتی عوارض پر بہتر انداز سے تحقیق ممکن ہو سکی ہے. نتیجتاً ان عواض کی تشخیص اور علاج کے سلسلے میں کافی مثبت پیش رفت ہو رہی ہے.
علامات؛ (Symptoms)
جنرلائزڈ انگزائٹی کا تشخیصی معیار مریض میں 6 ماہ تک مسلسل شدید اضطراب کی کیفیت کا پایا جانا ہے۔ اس شدید اضطراب کی معیاری حالت کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔
* ہر حال میں پریشانی کی حالت کا طاری رہنا، قطع نظر اس بات کے کہ کوئی حقیقی پریشانی موجود ہے یا نہیں۔
* کسی ایسے خدشے کا کی وجہ سے پریشان رہنا جس کی شدت حقیقت میں تصوراتی شدت سے بہت کم ہو یا بالکل نہ ہو.
* حالتِ بیداری کا ایک بڑا حصہ کسی ایک خدشے یا اس سے متعلقہ امور کے بارے میں سوچتے ہوئے گزار دینا۔
* دوسروں سے اپنے خدشے کے بارے میں یقین دہانی لینا لیکن پھر بھی پریشان ہونا نہ چھوڑنا۔
* مسلسل پریشانی جو ایک مسئلے سے ختم تو دوسرے کے متعلق شروع ہو جائے۔
پریشانی کا ظہور بچوں اور بالغ افراد میں مختلف طور پر ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ پریشانیاں مخصوص حالات و واقعات کے پیشِ نظر ہی ہوتی ہیں۔ مثلاً گھریلو حالات، صحت کے مسائل، معاشی تنگدستی، نوکری یا سکول کی تبدیلی وغیرہ
جنرلائزڈ انگزائٹی کے حامل افراد کے لیے پریشان کن خیالات پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان خیالات کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل جسمانی اور نفسیاتی علامات بھی ہوتی ہیں۔
1- بے چینی اور اضطراب
2-تھکاوٹ
3-قوتِ ارتکاز میں کمی اور حافظے کے مسائل
4-چڑچڑا پن
5-پٹھوں کا کھنچاؤ اور درد
6-بے خوابی اور بے سکون نیند
بہت سے مریضوں میں ان علامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی انگزائٹی کی دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مثلاً پسینہ آنا، معدہ کی خرابی اور دائمی سردرد۔
دائمی علامات؛ Symptoms Throughout Life
اضطراب ایک ایسی دائمی علامت ہے جو کہ ساری زندگی جنرلائزڈ انگزائٹی کے مریض کے ساتھ رہتی ہے. مختلف لوگوں میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اضطراب کی حالت تمام مریضوں میں ایک جیسی شدت سے ہی پائی جاتی ہے۔
نوجوانوں میں اضطراب تعلیمی کارکردگی کے پیشِ نظر ہو سکتا ہے جبکہ بالغ ادھیڑ عمر افراد میں یہ اضطراب صحت، معاشی اور سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہو سکتا ہے۔
گو کہ مرض کی شدت میں تخفیف Remission کی شرح بہت کم اور بہتری کا عمل بہت سست ہے تاہم سائیکوتھراپی Psychotherapy اور دواؤں کے استعمال سے علامات کی شدت پر بتدریج کمی لائی جا سکتی ہے۔
تشخیص؛ Diagnosis
انگزائٹی ایک ایسی جذباتی کیفیت ہے جس سے ہر انسان اپنی روز مرہ زندگی میں وقتاً فوقتاً گزرتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں عام انگزائٹی اور طبی متشخص انگزائٹی Clinically Significant Anxiety میں امتیاز کرنا ایک بڑا چیلینج بن کر سامنے آتا ہے۔
عام انگزائٹی بہت سی صورتوں میں مثبت طور پر بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً روزمرہ زندگی کے حقیقی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی تحریک ہو یا کوئی کام مقررہ وقت پر مکمل کرنے کا دباؤ، ان صورتوں میں انگزائٹی ایک نعمتِ غیر مترکبہ بن کر بروئے کار آتی ہے اور ہمیں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور جذبہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ انگزائٹی GAD کے زمرے میں اس وقت آتی ہے جب اس کی شدت ایک خاص حد (Threshold Excessiveness) سے بڑھ جاتی ہے اور ایک خاص وقت (6 ماہ) تک یہ کیفیت مسلسل طاری رہتی ہے۔ GAD کے دوران مسلسل اضطراب اور اداسی کی کیفیت مریض کے لئے روزمرہ معمولات اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی مشکل کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ازدواجی اور سماجی تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
جنرلائزڈ انگزائٹی (Generlized Anxiety Disorder) کی تشخیص عام طور پر ماہرِ نفسیات ہی کرتا ہے، جس کے لئے وہ آپ کے معمولاتِ زندگی، نفسیاتی اور جسمانی علامات کو طے شدہ معیاری پیمانے (Diagnostic and Statistical Manual) پر پرکھتا ہے. اس دوران ماہرِ نفسیات کو General Physician سے معائنہ کروانے کے لیے بھی کہہ سکتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا جسمانی علامات کی وجہ کوئی اور جسمانی مرض تو نہیں۔
اپنے ماہرِ نفسیات کو بلاجھجھک معلومات فراہم کرنا آپ کے تشخیص کے عمل کو آسان اور تیز تر کر سکتا ہے۔ جس سے بروقت علاج کی شروعات اور بہتر طریقہ علاج کے چناؤ میں بہت مدد ملتی ہے۔
تشخیصی عمل کے دوران ماہرِ نفسیات آپ سے علامات کے حوالے سے سوالات کرے گا۔ یہ سوالات عام طور پر آپ کے مزاج، کھانے، ادویات اور ماضی میں پیش آنے والے واقعات و سانحات کے بارے میں ہوتے ہیں۔
یہ علامات ماہرِ نفسیات کو معیاری پیمانے (DSM) کی مدد سے یہ طے کرنے میں مدد دیں گی کہ آیا یہ علامات انگزائٹی ہی کی وجہ سے ہیں یا کہ کوئی اور نفسیاتی مسئلہ درپیش ہے۔
مرض کی درست تشخیص ہی بہتری کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔ کیونکہ درست تشخیص درست طریقہ علاج منتخب کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں