ماں جی/خالد قیوم تنولی

کالونیل عہد کے نائب صوبیدار ہمارے نانا’ امیر خان’ جنہوں نے جنگِ عظیم اوّل و دوم میں بلجیئم، فرانس اور مصر کے محاذوں پر اپنے بدیسی آقاؤں کی خاطر نہایت دیانتداری سے دادِ شجاعت دی تھی، 1949ءکے اوائل میں جب فوت ہوۓ تو لواحقین میں چار بیویاں اور انیس اولادیں تھیں۔ ہماری سگی نانی سے صرف تین بیٹیاں تھیں ، بیٹا کوئی  نہ تھا۔ ہماری ماں جی تب سات برس کی تھیں، ان سے بڑی بہن بارہ برس کی اور چھوٹی پانچ سال کی۔ نانا کی وفات کے بعد سارے کنبے کا شیرازہ بکھر گیا۔ متنوع مسائل نے خانہ ء انوری کے مصداق ان کے گھرانے پر نظر ِانتخاب رکھ لی۔ نانا کی سبھی بیوائیں معاشی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے باعث آہستہ آہستہ اپنے اپنے میکے پلٹ گئیں۔ ہماری نانی جو نانا کی آخری محبت اور اپنی سوتنوں میں سب سے زیادہ حسین و جمیل تھیں ، نے مخدوش حالات اور تپ دق کے عارضے کے ہاتھوں تین یتیم بچیوں کو لے کر میکے کا رخ کیا ،لیکن چند ماہ بعد عدم آباد کی طرف چل نکلیں۔

بڑی خالہ (جو ہماری ساس بھی ہیں) نے بتایا : ”ننھیال والوں کی بھی حالت اتنی پتلی تھی کہ ہم تین بچیوں کی کفالت ان پر بارِ گراں ہوگئی  تھی۔ ہم تین بہنوں کو تین مختلف گھروں کے سپرد کر دیا گیا۔ صفیہ (ہماری ماں جی) کو ایک ماموں لے گیا اور چھوٹی ثریا کو رشتے کی ایک پھوپھی لے  گئی  اور میں اپنی خالہ کے حصے میں آئی ۔“

ماں جی کبھی کبھی عمر ِرفتہ کی سرد راکھ کریدنے لگتیں تو بتاتی تھیں : ”بڑی خواہش تھی کہ مدرسے جاؤں مگر کسی نے بھیجا ہی نہیں۔ گھر کے اندرونی و بیرونی کام اتنے ہوتے تھے کہ صبح اذان سے پہلے جاگنا پڑتا اور رات گئے  بستر نصیب ہوتا۔ ماموں کے گھر سے متصل مسجد تھی جس میں ہم عمر بچے اور بچیاں قرآن کا آموختہ دہراتے تو اپنے شوق کے وسیلے سے میں بھی محض سن کر ہی ازبر کر لیتی تھی۔ پہلے پارے کے تین رکوع اور تیسویں پارے کی سترہ سورتیں لفظی شناخت کے بغیر ہی حفظ ہو  گئیں ۔ بہت بعد میں جب شادی ہوئی  تو باقاعدہ ناظرہ و قرأت کی تحصیل ممکن ہو سکی۔ لالچی ممانی نے شادی کے نام پر مجھے اپنے کسی دور پار کے عزیز خاندان کو بیچنے کی مذموم حرکت کی، مگر عین وقت پر سازش پکڑی  گئی  اور بڑی بہن مجھے اپنے ساتھ خالہ کے ہاں لے گئیں  اور جب ان کی شادی ہوئی  تو کچھ دن بعد ہم دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے سسرال بلوا لیا۔“

اپنے دورِ یتیمی کی ابتلاؤں اور گوناگوں مصائب کو یاد کر کے ماں جی کے رخساروں پر اشکوں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔ وہ اپنے خداداد سلیس و بے تصنع اسلوب میں جزئیاتی باریکیوں کو بھی فراموش نہیں کرتی تھیں۔ ہمارے کئی افسانوں کے منظرنامے ان کے بیانیوں سےعبارت ہیں۔ کہا کرتیں  ،جو سبق ، تربیت اور تجربہ ماں باپ نہ دے سکیں ، وہ دنیا اور زمانہ اپنے رنگ ڈھنگ، شرائط ، قیمت اور تیور سے دیتے ہیں ۔ ماں جی مگر شکوے کی بجائے  اپنے ان ”اساتذہ“ کی شکرگزار رہیں۔ حضرت رحمان بابا کے شعری قول کے مطابق : تجربہ د ژوند لویہ فلسفہ دہ / مریضان ہُم طبیبان شی کلہ کلہ ۔۔۔ یعنی تجربہ ، زندگی کا بہت بڑا فلسفہ ہے/ مریض بھی کبھی کبھی طبیب ہو جاتے ہیں۔

ناخواندہ اور جاہل ہونے میں زمین و آسمان جتنا فرق ہوتا ہے۔ ماں جی ناخواندہ ضرور تھیں مگر جاہل ؟ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔

ہمیں بخوبی یاد ہے جب ہمارے افسانوں کی پہلی کتاب شائع ہوئی تو اتفاق سے ان دنوں وہ کراچی سے ہمارے ہاں واہ کینٹ آئی ہوئی تھیں اور جس دن کتاب کی کاپیاں پریس سے گھر پہنچیں تو پہلا نسخہ ہم نے ان کی خدمت میں بصد ادب پیش کیا۔ اس وقت ان کی دونوں آنکھوں پر موتیے کے آپریشن کے بعد کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کتاب کو ٹٹول پرکھ کر پوچھا : ”کلام پاک کا نسخہ ہے کیا؟“
ہم نے بتایا : ”میری کہانیوں کی پہلی کتاب ہے ، تریاق نام ہے ، اس کے لیے دعا کر دیں۔“
کہنے لگیں : ”اگر کہانیاں سچی ہیں تو کردوں گی دعا اور اگر جھوٹ موٹ کی گھڑت ہیں تو مجھے گناہگار نہ کرنا۔“

julia rana solicitors

ہم ہنس پڑے اور دعا کے لیے واقعی اصرار نہیں کیا، البتہ مختلف اوقات میں انھیں اس کتاب میں شامل ہر افسانہ پڑھ کر ضرور سنایا۔ بعد میں جب وہ کراچی جانے لگیں تو دیکھا شنیل کے غلاف میں لپٹی ایک کتاب اٹیچی کیس میں نئے  سوٹوں کے درمیان احتیاط سے رکھ رہی ہیں تو ہم نے پوچھا : ”ماۓ ! ایہہ کے اے ۔۔۔ ؟“
ہنس کر بولیں : ”تُڑا کُوڑ کباڑ۔۔  “

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply