ریاض احمد ایک محنتی اور باکردار سرکاری ملازم ہے۔ محکمہ تعلیم میں برسوں سے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ زندگی کے شب و روز گزارنے میں مشکلات تو رہیں، لیکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ اس سال وہ خاص طور پر بجٹ کے اعلان کا بے چینی سے منتظر تھا۔ اس کی بیٹی کی شادی قریب تھی، اور وہ چاہتا تھا کہ کم از کم کچھ سامان مناسب قیمت پر میسر آ جائے، تنخواہ میں تھوڑا اضافہ ہو جائے تاکہ عزت سے رخصتی ممکن ہو سکے۔ اُس کی سوچ سادہ تھی: “اگر بجٹ عوام دوست ہوا، تو شاید زندگی کی گاڑی کچھ آسانی سے چلنے لگے۔”
بالآخر بجٹ کا دن آیا۔ قوم کی نظریں ٹی وی اسکرینوں پر تھیں۔ وزیر خزانہ نے خوبصورت الفاظ میں بجٹ کا خاکہ پیش کیا۔ معیشت کی بہتری، خسارے میں کمی، برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے جیسے دلکش دعوے سامنے آئے۔ لیکن جیسے جیسے تفصیلات سامنے آئیں، ریاض کے چہرے کی روشنی ماند پڑنے لگی۔ اس کی امیدوں پر پانی پھرتا جا رہا تھا۔ تنخواہ میں معمولی سا اضافہ بھی نہ ہوا، جبکہ ضروریاتِ زندگی کی اشیاء پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا۔
ریاض احمد نے جب بازار کا رخ کیا تو ہوش اُڑ گئے۔ آٹا، دال، سبزیاں، پھل، مصالحہ جات، سب پر اضافی ڈیوٹیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ آلو، پیاز، گاجر، شلجم، کھیرا، مٹر، لہسن، ادرک، تمام دالیں ان سب پر 5 فیصد ڈیوٹی لگا دی گئی۔ جن مصالحوں سے گھروں میں خوشبو پھیلتی تھی، جیسے زیرہ، دھنیا، الائچی، بادیان، سونف اُن پر بھی 5 فیصد ڈیوٹی۔ جن پھلوں سے بچوں کے چہرے کھل اُٹھتے تھے، جیسے انجیر، انگور، سیب، تربوز، سبز چائے ، اُن پر 10 فیصد۔ یہاں تک کہ دہی، کھجور، خوبانی، چیری، آڑو، اسٹرابری، اور آلو تک — جنہیں اکثر “غریب کا سہارا” سمجھا جاتا تھا اُن پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ دہی کے بغیر پرات، آلو کے بغیر سالن، اور سویوں کے بغیر عید؟ اب سب خواب بنتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ بچوں کی سائیکلوں پر بھی 20 فیصد ڈیوٹی لگا دی گئی۔ غریب کا بچہ اب خوشی کے بجائے حسرت سے سائیکل کو دیکھے گا۔
اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ چکے تھے، اُن کے پیروں میں مزید بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ جو افراد پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے تھے، اب اُن کے کچن سے ہانڈی کا دھواں بھی چھن گیا۔ ایسے وقت میں بجٹ ایک معاشی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک طبقاتی اعلان بن جاتا ہے جس میں سرمایہ دار، تاجر، اور بااثر طبقے کے مفادات محفوظ رہتے ہیں، جبکہ تنخواہ دار، دیہاڑی دار، اور کم آمدنی والا شخص اپنی بقا کے لیے مزید لڑتا ہے۔
اس بجٹ نے نا صرف عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے بلکہ اُن کے جذبات کا بھی مذاق اڑایا ہے۔ ریاض احمد جیسے لاکھوں افراد کے دل میں جو امید کا چراغ جل رہا تھا، وہ بجٹ کی دھندلی روشنی میں بجھ گیا۔ اب صرف آنکھوں میں نمی اور ہاتھوں میں خالی جھولیاں رہ گئی ہیں۔ معاشی پالیسیاں اگر واقعی عوام کے لیے ہوتی ہیں، تو اُن کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں آسانی لا کر ظاہر ہوتے، لیکن یہاں تو ہر سال بجٹ ایک نیا زخم لے کر آتا ہے اور وہ زخم صرف قیمتوں میں نہیں، عزتِ نفس، سکون، اور خوشیوں میں بھی محسوس ہوتا ہے۔
یہ سوال اب ہر اس شخص کے ذہن میں گونج رہا ہے جس نے اپنی بیٹی کی شادی، اپنے بچوں کی تعلیم، یا اپنے والدین کی دوا کے لیے کچھ امیدیں وابستہ کی تھیں ، کہ اگر بجٹ عوام کے لیے نہیں، تو پھر کس کے لیے ہے؟ اگر ٹیکس سب دیتے ہیں، تو سہولیات صرف مخصوص طبقے کو کیوں؟ اگر حکومت کا فرض عوامی فلاح ہے، تو ہر سال بجٹ عوامی تباہی کا پیش خیمہ کیوں بنتا ہے؟ شاید ان سوالات کا جواب صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو ہر سال ائیر کنڈیشنڈ اسمبلی ہالز میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آلو مہنگا ہو یا دہی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں