پاکستان کا مستقبل: بقا، جمود یا تحلیل؟- محمد امین اسد

پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی و سیاسی تجربہ ہے جو تاریخ کے ایک خاص سیاق و سباق میں ابھرا۔ اس کی پیدائش ایک ایسے وقت میں ہوئی جب عالمی سامراج بکھر رہا تھا اور نوآبادیاتی اقوام خودمختاری کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ مگر ریاست کے قیام کے بعد جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ محض علیحدہ ریاستی ڈھانچے کا قیام کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایک مربوط عمرانی معاہدہ، مضبوط ادارے، سماجی ہم آہنگی اور عوامی شرکت بھی ناگزیر عناصر ہیں۔

آج اگر پاکستان کے سماجی و سیاسی ڈھانچے پر نگاہ ڈالی جائے تو ان میں شکست و ریخت کی علامات نمایاں ہیں۔ عمرانیات کے مطابق جب کوئی معاشرہ اپنے اجتماعی شعور سے محروم ہو جائے، جب فرد اور ادارے ایک مشترکہ مقصد کے بجائے باہمی مفادات کی کشمکش میں الجھ جائیں، اور جب سماجی انصاف چند طبقوں کی اجارہ داری بن جائے، تو وہ معاشرہ اندرونی طور پر تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت صرف سماجی انتشار تک محدود نہیں رہتی بلکہ ریاستی وحدت کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بڑی سلطنتیں، بادشاہتیں یا ریاستیں زوال کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی بنیاد عام طور پر اندرعنی تضادات ، ادراوں کی سطح پر تنزل ،بدعنوانی، اور عوام سے بڑھتی ہوئی بیگانگی میں رکھی جاتی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ، صفویہ اور مغلیہ کے مانند عظیم الشان اسلامی اقتدار، جنہوں نے صدیوں تک علم، تمدن اور تہذیب کے چراغ جلائے، اس وقت زوال پذیر ہو گئے جب عدل کو ترک کر کے ذاتی و شاہی مفادات کو فوقیت دی گئی، اور ریاستی ادارے محض نمائشی ڈھانچوں میں تبدیل ہو گئے۔ یہی انجام سویت یونین، یوگوسلاویہ اور مشرقی یورپ کی کئی طاقتور ریاستوں کا بھی ہوا، جہاں سیاسی اقتدار اور عسکری طاقت تو موجود تھی، مگر جب ان نظاموں میں عوامی شمولیت، مساوی شہری حقوق، اور ثقافتی تنوع کو جگہ نہ دی گئی، تو وہ ریاستیں اپنے ہی تضادات کے بوجھ تلے بکھر گئیں۔ تاریخ کا فیصلہ واضح ہے کہ طاقتور ریاستیں صرف توپ، بندوق یا جھنڈے سے نہیں، بلکہ عدل، شفافیت، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی بعض حوالوں سے تشویشناک ہے۔ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا خاتمہ بڑھ رہا ہے۔ احساس محرومی بلوچستان میں چند دہائیوں پر محیط ہے، اور اب وہ سیاسی ناراضی سے ایک قدم اگےآ کر مکمل اجنبیت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ گلگت بلتستان آئینی ابہام کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی لسانی، ثقافتی، مذہبی شدت پسندی اور سیاسی بنیادوں پر مرکز سے فاصلہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام رجحانات اگر برقرار رہے تو وفاقی نظام کی پائیداری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی نظام کی زبوں حالی، اور عوامی اعتماد کا فقدان، عدالتی و انتظامی اداروں عدم استحکام جو ریاست میں کسی بھی داخلی استحکام کو متزلزل کرتی ہیں۔ نوجوان نسل جسے معمار قرار دیا جاتا ہے، آج نظام سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں وہ جس متبادل بیانیے میں حصہ ڈال رہی ہے، وہ قومی سطح پر پائے جانے والے بیانیے سے مناسبت نہیں رکھتی۔

سیاسی نظام مسلسل اور غیر شفافیت کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ کی سرگرمی برائے نام ہے، سیاسی جماعتیں موروثی نظام میں جکڑی ہوئی ہیں اور ریاستی ادارے اکثر ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں۔ فرانسس فوکویاما کے مطابق کسی بھی ریاست کا استحکام کے لیے تین عناصر ضروری ہیں, ایک فعال ریاستی ڈھانچہ، دوسرا قانون کی بالادستی اور تیسرا جوابدہی پر مبنی سیاسی نظام۔ پاکستان میں یہ تینوں ستون یا کمزور ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال۔

ان سب عوامل کے تناظر میں یہ سوال اب محض مفروضاتی یا نظریاتی نہیں رہا کہ کیا پاکستان موجودہ صورت میں برقرار رہ سکے گا۔ بلکہ یہ ایک عملی سوال بن چکا ہے، جس کا جواب زمینی حقائق میں چھپا ہے۔ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ وفاقی ڈھانچے کو صرف آئینی شق کے طور پر نہیں بلکہ حکمتِ عملی کے طور پر اپنائے۔ تمام اکائیوں کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دے، جہاں سیاسی خودمختاری، مالی شفافیت، اور ثقافتی احترام کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔

اداروں کو اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا، تاکہ ایک ہم آہنگی کی فضا قائم ہو جائے اور باہمی تصادم کے بجائے۔ تعلیم، تحقیق، آزاد صحافت جیسی شعبوں کو مضبوطا بنانا ہوگا تاکہ ایک علمی باشعور معاشرہ تعمیر دیا جا سکے۔ اگر ان بنیادی اصلاحات کو سنجیدگی سے نہ اپنایا گیا تو پھر یہ امکان قوی ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست بن جائے جہاں جغرافیہ تو برقرار ہو، لیکن اس کے اندرونی ڈھانچے بکھر چکے ہوں ، ایک ایسی ریاست جو رسمی طور پر موجود ہو، مگر عملی طور پر اپنی افادیت کھو چکی ہو۔

julia rana solicitors

وقت ابھی مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلا، لیکن اگر یہ موقع بھی گنوا دیا گیا تو شاید بعد میں کوئی بڑا بحران اصلاح کا موقع ہی باقی نہ چھوڑے۔

Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔ بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔ ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply