ممنوع کتابیں/محمد امین اسد

کتاب، محض صفحات پر بکھرے الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب کا آئینہ، ایک فکر کا دریا، اور سوال کی شکل میں اُبھرتی ہوئی روشنی ہے۔ یہ روشنی جب بھی اندھیروں سے ٹکرائی، جب بھی روایت، طاقت یا مذہبی اختیار کو چیلنج کیا، تو اسے دبا نے کی کوشش کی گئی۔ تاریخِ انسانی اصل میں انہی کتابوں کی تاریخ ہے جن پر پابندیاں لگیں جو جلائی گئیں، ان کے مصنفین کو سولی چڑھایا گیا، یا جلا وطن کیا گیا۔ لیکن کتاب کی فطرت یہ ہے کہ وہ جلا دی جائے تو راکھ سے جنم لیتی ہے، دبا دی جائے تو لبوں سے نکلتی ہے، اور بند کی جائے تو خوابوں میں آ بسیرا کرتی ہے۔

قدیم یونان سے لے کر جدید امریکہ، کلیسا سے لے کر کمیونسٹ ریاستوں تک، اور سعودی عرب سے ایران و پاکستان تک، جہاں کہیں طاقت نے خود کو کمزور محسوس کیا، وہاں سب سے پہلے حملہ کتاب پر ہوا۔ افلاطون کی ‘ریپبلک’ ایک ایسا خواب پیش کرتی ہے جو مثالی ریاست کا خاکہ بناتی ہے۔ لیکن خواب جب زمینی حقیقتوں سے ٹکرائے، تو یہی کتاب جلا دی گئی۔ کارل مارکس کا ‘کمیونسٹ مینی فیسٹو’ جب یورپ میں مزدور تحریکوں کا منشور بنا، تو بیشتر بادشاہتوں نے اس پر پابندی لگائی۔

مذہبی سنسر شپ کی فہرست تو صدیوں پر محیط ہے۔ ولیم ٹنڈال کو بائبل کے انگریزی ترجمہ پر زندہ جلا دیا گیا۔ جان ہس نے صرف یہ “جرم” کیا کہ انہوں نے بائبل کو عوام کی زبان میں پڑھنے کی اجازت دے دی، اور چرچ نے اسے چرچ کے دروازے پر زندے آگ لگا دیا۔ اس طرح گلیلیو نے جب کوپرنیکس کے اس نظریے کی تصدیق کی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، تو اسے اپنی کتاب ‘مکالمات’ سے توبہ کرنا پڑی، مگر وہ عدالتی کمرے سے نکلتے ہوئے سرگوشی میں کہہ گیا: “پھر بھی زمین گردش کرتی ہے۔

ڈین براؤن کی ‘دی ڈاونچی کوڈ’ کو لبنان اور بھارت میں مذہبی توہین کے الزام میں بین کیا گیا۔ دوستووسکی کا ‘برادرز کرامازوف’ کویت میں ممنوع قرار پایا کیونکہ اس میں خدا اور انسان کے رشتے پر ایسے سوالات اٹھائے گئے جو روایتی عقائد کو جھنجھوڑتے تھے۔ ہندوستان میں ‘کرشن پرشاد پرتاب کی کتاب’ اس وجہ سے بین ہوئی کہ یہ ایک متنازعہ طنزیہ رسالہ تھا، اس کے جواب میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مقدّس رسول کےعنوان سے 1924ء میں ایک مستند اور سنجیدہ مذمتی کتاب لکھی تھی۔ سعودی عرب میں علامہ یوسف القرضاوی کی تمام کتابوں پر پابندی اس لیے لگی کہ وہ حکومتی بیانیے سے مختلف نقطہ نظر پیش کرتے تھے۔ ایران میں صادق ہدایت، صادق چوبک، غلام حسین ساعدی اور شہریار مندنی پور جیسے ادیبوں کی کتب پر پابندیاں صرف اس لیے لگیں کہ ان کے تخلیقی بیانیے حکومتی نظریاتی فریم میں نہیں آتے تھے۔

کتابوں کو صرف مذہبی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر بھی سنسر کیا گیا۔ شیکسپیئر کا ڈرامہ ‘رچرڈ دوم’ سے وہ منظر نکالا گیا جس میں بادشاہ کو تخت سے اتارتے دکھایا گیا تاکہ اس سے حقیقی بادشاہت کو خطرہ پیدا نہ ہو۔ کنگ جیمز نے ‘دی ہسٹری آف دی ورلڈ’ کو صرف اس لیے بین کیا کہ اس میں شہنشاہوں پر تنقید تھی۔

نئی آزاد ریاستوں نے بھی اس روایت کو اپنایا۔ فاطمہ جناح کی ‘مائی برادر’ کئی دہائیوں تک پاکستانی ریاست کی نظرِ کرم کا شکار رہی۔ افغان طالبان نے 400 سے زائد کتابیں ممنوع قرار دیں، جن میں جدید حکمرانی، احمد شاہ مسعود اور مزاحمتی سیاست پر مباحث شامل تھے۔ چین میں جنرل ہو چیئن نے ایک کتاب کو اس لیے بین کر دیا کیونکہ اس میں جانور انسانی زبان بولتے تھے۔

اخلاقی اساسوں پر بھی سینکڑوں کتابیں بین ہوئیں۔ امریکہ میں ‘یولیسس’ کو فحاشی قرار دے کر جلایا گیا۔ گوئٹے کے ‘ورتھر’ نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان کا ذمے دار سمجھا گیا۔ جیک لندن کی ‘دی آئرن ہیل’ اور ‘کال آف دی وائلڈ’ فاشزم کے دور میں جرمنی اور اٹلی میں ممنوع ہوئیں۔

سنسر شپ کے نسلی اور ثقافتی بنیادوں پر بھی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ‘انکل ٹامز کیبن’ کو جنوبی امریکہ میں بین کیا گیا، ‘ہکل بیری فن’ پر مستقل تنقیدات رہیں۔ پاکستان میں نصابی کتابوں میں اقلیتوں کی منفی تصویر کشی اور ہندوستان میں ‘راما ری ٹولڈ’ جیسی تحریروں پر پابندیاں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جاپان، جرمنی، روس اور شمالی کوریا، سب نے کسی نہ کسی شخص یا حالات میں کتابوں کو اپنے نظریاتی، سیاسی یا اخلاقی دائرے میں قید کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ میں اب بھی بچوں کے تحفظ کے نام پر بیسیوں کی تعدادمیزن کتابیں ہر سال بین کی جاتی ہے۔ کینیڈا میں نسلی بیانیے کی بنیاد پر، جاپان میں شہنشاہ پر تنقید کے وجۂ، اورشمالی کوریا میں کسی بھی آزاد تخلیقی اظہار پر پابندیاں ایک معمول ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سچ کو بین کیا جا سکتا ہے؟ کیا سوال کو زنجیروں میں جکڑا جا سکتا ہے؟ ملٹن نے کہا تھا: “اچھی کتاب کو تباہ کرنا ایسے ہے جیسے ایک جیتے جاگتے انسان کو قتل کرنا۔” اور طاہری کے بقول: “کتاب کو جلا دینا اتنا خطرناک نہیں جتنا اسے پڑھا نہ جانا۔”

julia rana solicitors london

اس لیے کتاب پر پابندی صرف ایک قانونی فعل نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی جرم ہے۔ نہ صرف ایک مصنف کی تخلیق کو دفن کرتا ہے، بلکہ ایک قاری کی دریافت، ایک معاشرے کی خود احتسابی، اور ایک نسل کی فکری آزادی بھی سلب کر لیتا ہے۔ اور تاریخ نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سماج جو کتاب سے ڈرتے ہیں، وہ بالآخر سچ کے قیدی بن جاتے ہیں۔
بشکریہ فیسبک وال

Facebook Comments

Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔ بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔ ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply