لاہوری و ہمنوا درباری میڈیا چپ ساد ھ کر بیٹھا ہے،کیونکہ پارک ویو سٹی لاہور اب خطرے سے باہر آ چکی ہے۔ جبکہ اس وقت جنوبی پنجاب میں سیلاب کے باعث ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور مین اسٹریم میڈیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔
دریائے چناب و ستلج نے جنوبی پنجاب میں تباہی مچا دہی ہے۔ چینوٹ کے دیہاتوں کی تباہی پھیرنے کے بعد، جھنگ کے مین شہر کو چھوڑ کر ہر طرف سیلاب ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقے بلخصوص مظفر گڑھ، ملتان کے دیہی علاقے زیر آب ہیں۔ جلال پور پیر والا میں بستیوں کی بستیاں زیرآب آ کر صحفہ ہستی سے مٹ چکی ہیں ۔ لوگ گھروں کی چھتوں اور درختوں پر رہ رہے۔ ریسیکو کے کوئی آثار نہیں ۔
کمالیہ،چیچہ وطنی کے علاقوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ پنجاب میں ایک انسانی المیہ و غذائی بحران جنم لے چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی سے پیر محل تک پانی آ چکا ہے۔ جب پانچوں دریا ہیڈ پنجند پر جمع ہو کر دریائے سندھ میں گریں گے تو صوبہ سندھ میں جو قیامت برپا ہو گی وہ ناقابلِ بیان ہے۔
اب بارڈر پاس علاقوں کے یہ حالات ہیں کہ دریائے ستلج میں سیلاب کی وجہ سے بارڈر پر لگی باڑ تباہ ہو چکی ہے، پاکستانی کسان اپنے مال مویشیوں کے لئے چارہ،تیر کر بھارت کے سرحدی دیہاتوں سے کاٹ کر لا رہے ہیں ، سیلاب کی وجہ سے بارڈر عملی طور پر تباہ ہو چکا تو بھارتی کسان،پاکستانی کسانوں کو جانوروں کے لئے چارہ کاٹنے کی اجازت دے رہے ہیں ۔
ایک عام کسان کے مال مویشی اسکے بچوں کی طرح ہوتے ہیں، وہ انہیں بھوکا نہیں دیکھ سکتا اور اسکی عملی مثال دیکھی جا سکتی ہے کہ کسان رو رہے ہیں،دہائی دے رہے ہیں کہ انکے جانور بھوکے ہیں،اور ان کے لئے چارہ نہیں ہے۔
پاکستانی بکاؤ میڈیا یہ المناک واقعات نہیں دیکھا رہا۔ پنجاب میں جو سیلاب سے تباہی ہوئی ہے،وہ پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ ان بیچارے معصوم متاثرین کے لئے کوئی خبر تک نہیں ۔
پاکستان میں ایک شدید قسم کا غذائی بحران بھی جنم لے رہا ہے کیونکہ سیلاب نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ سرکاری ٹک ٹاکر افسر شاہی کو بس بکواس ویڈیوز سے فرصت ملے تو وہ سرکار کو بتائیں کہ یہ انسانی المیہ ہماری پہنچ سے اب دور ہے۔ فوری طور پر اقوام متحدہ کی مدد طلب کی جائے ۔۔لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ پوری دنیا یہ مان چکی ہے کہ پاکستانی حکومت سیلاب کے نام پر جو امداد لیتی ہے وہ سیلاب متاثرین کی بجائے حکومتی اشرفیہ کی جیبوں میں جاتی ہے اور کوئی بھی ترقی یافتہ ملک آگے بڑھتا نظر نہیں آ رہا۔
ایک چیز جو پورے پاکستان میں ناکارہ ہو چکی ہے،وہ ہے پاکستان کا سیوریج سسٹم ۔ پاکستان کے ہر گلی محلے سے لیکر،بڑے شہر کی لگژری کالونیوں تک میں یہ مسئلہ درپیش ہے۔ جونہی معمول سے ہٹ کر،زرا سی بھی زیادہ بارش ہوتی ہے،پورے پاکستان کا سیوریج سسٹم کولیسپ کر جاتا ہے۔
کل فیصل آباد و لاہور میں بارش کے بعد،سڑکیں تلاب کا منظر پیش کر رہی تھیں ۔ فیصل آباد لاہور جی ٹی روڈ پانی میں ڈوب کر رہ گیا تھا اور لاہور کے بھی بیشتر از میں یہی صورتحال تھی ۔۔گجرات شہر میں ابھی تک سیلابی اور بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی۔
ہمیں یہ لالی پاپ دیا جاتا ہے کہ بارش کیبعد سڑکوں پر پانی اس لیے جمع ہو جاتا ہے کیونکہ نکاسی کے لئے سیوریج کے پائپس نہیں ڈالے جاتے ۔ اب پہلے سڑک بنتی ہے،پھر سیوریج سسٹم ڈالنے کا خیال آتا ہے،پھر نئی سڑک دوبارہ کھود کر،سیوریج کے پائپ ڈالے جاتے ہیں پھر نئی سڑک اور چل سو چل ۔ یہ طریقہء واردات ہر حکومت و سرکاری ٹھیکے دار کا من پسندیدہ ہے۔
اب سیوریج کے پائپ ڈالنے کے باوجود،سڑکوں کو باربار کھودنے کے بعد بھی سڑکیں ہر بارش کے بعد تلاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسکی دو وجوہات ہیں۔ سیوریج سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے اور جان بوجھ کر سسٹم لائن کو صحیح نہیں ڈالا جاتا،دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ سیوریج کے پائپ ڈل جانے کے بعد،سارا گندہ پانی نکاسی ہو کر جائے تو جائے کہاں؟
وہی پرانے زمانے کے طریقہ کار کے مطابق،سارا سیوریج ہانی،ایک بڑے گندے نالے میں جا گرتا ہے،جو جا کر کسی دریا / نہر میں جا کر ختم ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سیوریج کے اپنی sewage treatment plant لگائے جاتے ہیں ۔جو اس گندے پانی کو صاف کر کے مختلف جگہوں پر دوبارہ استعمال کرنے کے لئے قابل استعمال بنایا جاتا ہے،اور جو پانی ناقابل استعمال ہو،اسے بھی صاف ستھرا کر کے دریاوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ سمندری و دریائی حیات پر کوئی اثر نا پڑے ۔
پاکستان کے مانچسٹر،فیصل آباد میں کتنے کو ایسے سیوریج ٹرینٹمنٹ پلانٹ ہیں؟ لاہور میں کتنے ہیں؟ کراچی و پشاور میں؟؟بلکل نا ہونے کے برابر۔ اسی لیے ہر سال،ہر موسم میں سڑکیں،نکاسی ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔
اسکا آسان سا حل یہ ہے کہ پاکستان بھر میں نیا سوریج سسٹم ڈالا جائے ۔ محکمہ بلدیات کو ہر صوبائی حکومت بااختیار بنائے ۔ سیوریج سسٹم کو صوبائی حکومت کی بجائے ضلعی لیول پر لے جا کر اسے کنٹرول کیا جائے ۔ ضلعی حکومت،سوریج کا کنٹرول متعلقہ چئرمین یونین کونسل کو دے جو کہ اپنی یونین میں سیوریج سسٹم ڈلوانے کا پابند ہو۔ اگر اس پر کوئی کرپشن کرے تو اسے الٹا لٹکا دیا جائے ۔ واسا جیسے ادارے کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ نہیں تو وہی حال ہونا ہے،جب گجرات کے ڈپٹی کمشنر نے بریفنگ میں کہا کہ جی شہر گجرات میں سیوریج سسٹم سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں