پیار،دھوکہ اور خود شناسی/ندا اسحاق

میرا ایک بہت ہی پسندیدہ نیوز لیٹر (newsletter) ہے جو نفسیات سے منسلک ہے، میں تقریباً روز اس پر شائع ہونے والے آرٹیکل پڑھتی ہوں، اس بار کا ایک دلچسپ آرٹیکل ”My Swindler Sweetheart“ ایک صحافی نے لکھا تھا، مجھے آرٹیکل بہت پسند آیا تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ آج خود کے خیال رکھنے (self-care) اور خود سے محبت (self-love) پر بات کی جائے۔

میں ذاتی طور پر ان دونوں معاملات میں ہمیشہ جدوجہد کرتی رہی ہوں، مجھے اسے مختلف مراحل اور جدوجہد سے گزر کرسیکھنا پڑا، یہی وجہ ہے کہ آج مجھے لگتا ہے کہ میں اس قابل ہوچکی ہوں کہ اس موضوع پر بات کرسکوں!

آرٹیکل میں لکھاری اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کیسے انکی زندگی میں زیادہ تر جھوٹے، فریبی، لت میں مبتلا نرگسیت پسند اور دھوکے باز مرد آئے لیکن ایک آخری لڑکا جس نے ان سے بھاری رقم قرض لے کر انہیں دھوکا دیا تو اس حادثے نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا، اور وہیں سے انکی زندگی میں بدلاؤ آیا— انکی خود-آگاہی (self-awareness) کا سفر شروع ہوا۔ اگرچہ انکے والدین شراب کی لت میں مبتلا رہے تھے اور بچپن خوشگوار نہیں تھا، اس لیے نرگسیت پسند، جھوٹ اور فریب کا سہارا لینے والوں سے محبت ہونا بہت فطری سی بات ہوجاتی ہے!

میڈیا اور سوشل میڈیا سے ہمیں سیلف-کیئر کا ایک بہت ہی سرمایہ دارانہ ورژن دیکھنے کو ملتا ہے، خاص کر خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ مہنگے اسکن کیئر پروڈکٹ خریدیں گی یا جو بھی کپڑے میک اپ وغیرہ— یہ انہیں خوشی پیار اور دوسروں سے توجہ دلوائے گا اور یہی سیلف-کیئر ہے، اب تو مردوں کو بھی ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ اپنا خیال رکھنا غلط نہیں یقیناً، میک اپ کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں…… لیکن سیلف کیئر ایک بہت ہی مختلف سرگرمی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس آرٹیکل کی لکھاری پیٹریشیا کی طرح والدین سے ملنے والی توجہ اور محبت سے محروم رہے ہیں، وجہ یہ نہیں کہ ہمارے والدین برے لوگ ہیں، بلکہ انکے شعور اور حالات کے مطابق وہ جو بہتر جانتے تھے انہوں نے ہمیں فراہم کیا— لیکن جب محبت، توجہ اور جذباتی کنیکشن موجود نہ ہو تو ہم ادھورے رہتے ہیں، چونکہ والدین سے رابطہ قائم نہ ہوسکا تو نتیجتاً خود سے بھی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور یوں ہم اس رابطے کو دنیا میں تلاشنا شروع کرتے ہیں۔

رشتوں کو تلاشنا غلط نہیں لیکن اکثر لوگ باہر کئی لوگوں سے رشتے اس لیے جوڑتے ہیں کیونکہ خود کی ذات کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے انہیں دوسروں کی ضرورت رہتی ہے، یہ ضرورت اتنی اشد ہوتی ہے ایسے لوگوں کی کہ نرگسیت پسند، دھوکے باز، فریبی، لت سے جھونجھ رہے افراد کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دے دیتے ہیں جن کی صحبت میں اپنی ذات سے رابطہ مزید منقطع ہونے لگتا ہے۔

آرٹیکل میں پیٹریشیا لکھتی ہیں کہ انکا آخری بوائے-فرینڈ جو انہیں بھاری رقم کا چونا لگا کر گیا؛ جب وہ اسکی تحقیقات کررہی تھیں تو یہ جان کر انکا سر چکرا گیا کہ وہ ایک سیریل دھوکے باز (serial fraudster) تھا اور کئی خواتین نہ کو صرف ٹھگ چکا تھا بلکہ کئی چھوٹے بڑے مختلف جرائم میں بھی ملوث تھا، اور وہ اس شخص سے مستقبل میں شادی کرنے کے متعلق بھی سوچ رہی تھیں! اس دھوکے نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ ڈھونڈ تو پیار اور جذباتی تعلق، رہی ہیں، لیکن بہت ہی غلط جگہ اور غلط طریقے سے— اب کوئی نیا بوائے فرینڈ ڈھونڈنے کی بجائے ”خود کو تلاشنا اورسمجھنا“ ضروری ہے۔

آپ میں سے کتنے لوگ ایک بریک-اپ کے بعد دوسرا تعلق بناتے اور کتنے ہی تعلق وقت گزاری یا دل کو بہلانے کے لیے یا پھر کتنے ہی دوسروں کے ہاتھ دھوکہ کھاتے ہیں نقصان اٹھاتے ہیں….. کیونکہ آپ کو پیار، کنیکشن اور اپنائیت چاہیے، آپ میں سے کوئی بھی اپنا برا نہیں چاہتا لیکن ایک خالی پن اور بےچینی بہت سے لوگوں کو ٹیکسٹ میسج، فون کالز، سیکس چیٹ، سائیبر سیکس میں باندھ کر رکھتی ہے، ان سب کا کوئی انت نظر نہیں آتا آپ کو لیکن اس بات کی بھی سمجھ نہیں کہ یہ بےچینی اور خالی پن کیسے ختم ہوگا؟

سیلف-کیئر اور سیلف-لو کا مطلب ہوتا ہے…….
”اپنے ساتھ وقت گزارنا“

جیسے ہی آپ اپنے ساتھ وقت گزارتے ہیں، نہ کہ کسی نئے دوست/گرل گرینڈ/بوائے فرینڈ کی صحبت کو ایک مرتبہ پھر خود کی ذات اور زندگی کے تلخ تجربات سے فرار حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ وہی لمحہ ہوتا ہے جہاں سے آپ سیلف-کیئر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں اور حقیقی محبت کو محسوس کرنے کا راستہ یہیں سے ہوتا جاتا ہے۔

کتنے لوگ اپنے اکیلے پن سے بھاگنے کے لیے کئی خواتین سے تعلقات رکھتے ہیں، اور خواتین مختلف مردوں سے جذباتی تعلق رکھ کر اس بات کی امید رکھتی ہیں کہ انہیں وہ پیار، عزت، تحفظ، جذباتی کنیکشن اور محبت ملے گی جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ بچپن میں والدین ہوں یا معاشرہ خواتین کو زیادہ نظراندازی کا سامنا رہتا ہے مردوں کی نسبت، تبھی وہ مردوں کی توثیق حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں، کیونکہ ہر انسان توثیق، توجہ، سراہے جانا چاہتا ہے؛ جب بچپن میں یہ سب نہ مل سکے تو پھر ساری زندگی اسے غلط جگہ اور غلط لوگوں سے حاصل کرنے کی ایک جدوجہد شروع ہوجاتی ہے جسکا انجام تکلیف دہ ہوتا ہے۔

سیلف-کیئر کے لیے خود-آگاہی (self-awareness ) ضروری ہے، اپنے والدین کے رشتے اور بچپن کے ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جتنا زیادہ وقت خود کے ساتھ گزاریں گے، خود کو جانیں گے، خود میں دلچسپی لیں گے اتنا ہی خود سے محبت ہوگی۔ جب والدین بچوں کی ذات، جذبات اور تجربات میں دلچسپی نہیں لیتے تو ایسے بچے خود کا خیال رکھنے کی بجائے خود-متروکی (self-abandonment) سے کام لیتے ہیں۔

اپنی ذات، جذبات، تجربات، رویوں اور نظریات میں دلچسپی لینا ہی حقیقی سیلف-کیئر ہے۔

آپ چاہے جتنا بھی اپنی اسکن کا خیال رکھ لیں، جتنے مہنگے کپڑے پہن لیں، لیکن اکثر زخم یا نشان روح (emotional body) پر ہیں تو کچھ بھی اثر نہیں دکھائے گا۔

julia rana solicitors london

اگر واقعی میں خود سے محبت کرنی ہے اور حقیقی محبت کو محسوس کرنا ہے تو پہلے خود کے ساتھ وقت گزاریں، خود کو جانیں، خد میں دلچسپی لیں، آپ کو ایسے لوگ ضرور ملیں گے جو واقعی میں آپ کو حقیقی توثیق سے نوازیں گے، آپ کے ذات اور تجربات میں حقیقی دلچسپی لیں گے، کیونکہ آخر کو کم سماجی مخلوق ہیں— ہم قبول ہونا، توجہ حاصل کرنا اور چاہے جانا چاہتے ہیں— لیکن پہلے اپنی ذات کو جاننا، سمجھنا اور خود کے ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے۔

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply