ماضی میں پاکستان کے سکول علم کے قلعے ہوا کرتے تھے جیسے ستارے جھلملاتے ہیں۔ ان کی شکلیں جو بھی تھیں، معلم وہاں دانش کی صورتیں تھے۔ ان مدرسوں سے جو پڑھ کے گئے، انہوں نے ملک کو بنانے میں مدد کی خوب۔ دفتروں سے عدالتوں تک، فوج سے مدرسوں تک، ہر جگہ وہ نمایاں تھے۔ تب علم کا مطلب نوکری نہیں، لوگوں کی سوچ بدلنا تھا۔ یعنی قیام پاکستان کے تین دہائیوں تک تعلیم سرکار کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ سرکار نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں سکول کھولنے، کتابیں لکھنے اور ماسٹروں کو سکھانے پر خوب محنت کی۔ تب فیض احمد فیض، پطرس بخاری، ڈاکٹر محمود حسین اور قاضی فضل الحق جیسے استادوں نے کہا تعلیم لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ تب سرکار کے سکول ملک کے ذہین بچے پیدا کر رہے تھے اور وہاں سے پڑھے لوگ تحقیق، ادب، سائنس اور لیڈری میں ملک کا نام چمکا رہے تھے۔ افسوس کی بات ہے، یہ سنہری دور پلک جھپکتے ہی رخصت ہو گیا اور سرکاری سکول زوال پذیر ہونا شروع ہو گئے۔ ذولفقار علی بھٹو نے نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لیے نجی سکولوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا، لیکن بدقسمتی سے ان کے اس اقدام سے تعلیم مزید تنزلی کا شکار ہو گئی۔ سرکاری سکولوں میں سیاسی مداخلت بڑھ گئی، اساتذہ کی مہارت میں کمی آئی، اور وسائل بھی کم ہوتے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سکولوں کی تعداد گھٹنے لگی، بچوں کی حاضری کم ہونے لگی، اور استاد اور شاگرد کے درمیان وہ خاص رشتہ ختم ہو گیا جو تعلیم کی جان ہوا کرتا تھا۔ نوے کی دہائی میں وہ سُنسان جگہ بھرنے کے لیے کچھ عجيب سکول کھلنے لگے۔ بیکن ہاؤس،سٹی سکول،روٹس، ایجوکیٹرز جیسے ناموں نے تعلیم کو ایک منافع بخش دکان کی طرح چلانا شروع کر دیا۔ ان دکانوں کا دائرہ کار اب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کراچی جیسے شہر کی ہر گلی میں کوئی نہ کوئی پرائیویٹ اسکول نظر آتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان اسکولوں کو عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے بنایا گیا ہے ، فکری اور ذہنی تربیت ان اسکولوں کے پالیسی میں شامل ہی نہیں ۔ بس انگریزی کی تعلیم، نئی طرز کی عمارتیں، اور چمکدار اشتہاروں نے والدین کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب اصلی تعلیم صرف ان سکولوں میں ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ علم کی اصلیت دھیرے دھیرے کم ہونے لگی۔ بلکہ بچوں بچیوں کے جسم سے کپڑے بھی کم کردئے ، تعلیم بس ایک کاروبار بن گئی، استاد صرف ڈیاری دار پڑھانے والا، طالب علم ایک خریدار، اور سکول صرف ایک نام اور حقیقت میں دکان بن کر رہ گیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت تعلیم کو اس کے پوشیدہ مقصد سے جوڑے، یعنی تعلیم برائے تجسس۔ سرکاری اسکولوں میں عجیب و غریب سہولیات لائی جائیں، اور بڑے نجی تعلیمی اداروں جہاں طبقاتی فرق کو مسلسل پروان چڑھایا جارہا ہے اس روکیں اور ان تعلیمی اداروں میں غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کیلئے کوٹہ مختص کریں۔ سرکاری اسکولوں کو جدید دنیا سے استوار کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں ، میرٹ اور معیار پر اساتذہ کی بھرتیوں کو یقینی بنائیں اور اساتذہ کو انوکھا تربیت دی جائے، نصاب میں کھوج، سوال اور اچھے اخلاق کو شامل کیا جائے۔ نجی اسکولوں کے لیے سخت اصول بنائے جائیں تاکہ تعلیم کو دکان بننے سے بچایا جا سکے۔ یاد میں رہے، قومیں دیواروں یا بندوقوں سے نہیں، علم سے ابھرتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے تعلیم کے ڈھانچے کو نہ سنبھالا تو ہماری نسلیں سند یافتہ تو ہوں گی، لیکن سوچ کے لحاظ سے مقید۔ تعلیم وہ شعلہ ہے جو محض شخص نہیں، پوری قوم کی تقدیر پلٹ دیتا ہے۔ لازمی ہے کہ اس شعلے کی چمک کو سودا نہ بنایا جائے، بلکہ نئی نسلوں کے احساس میں پیوست کیا جائے۔ یہی پاکستان کی زندگی اور ترقی کا اکلوتا وسیلہ ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں