موجودات کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے عقلیاتِ معاصر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ معقولات سے مراد واقعیت کا وہ بیان ہے جس پر ہمارے اپنے دور کے عقلاء کا اتفاق ہو۔ یہ باتیں عموماًیونیورسٹیوں کی درسی کتب میں جمع کی گئی ہوتی ہیں۔ یہ اتفاق سائنس میں زیادہ بہتر طور پر حاصل ہوتا ہے۔ سائنس کو ماضی میں طبیعیات کہتے تھے۔ جن باتوں پر عقلاء میں اختلاف رائے زیادہ ہو، جیسے نفسیات، لسانیات، اخلاقیات، تاریخ، سیاسی نظریات، معیشت، مذہب، وغیرہ، انکو ما بعد از طبیعیات میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سب انسان شناسی میں آتے ہیں۔ اسی لیے جوانی میں مذہبی اور سیاسی جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہئیے بلکہ اپنی عقل پختہ کرنے پر اپنا وقت صرف کرنا چاہئیے۔ عقلمند آدمی وہی ہے جو پہلے طبیعیات سیکھ لے تاکہ بعد میں دوسرے مسائل میں پڑتے ہوئے الجھن کا شکار نہ ہو۔ جو لوگ فلسفے کا شوق رکھتے ہیں ان کیلئے بھی جدید طبیعیات کی سمجھ بوجھ لازمی ہے، ورنہ وہ جدید فلسفے کی بنیادوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ یونانی طبیعیات پڑھ کر جدید مسائل پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔
جدید طبیعیات پر حال ہی میں ایک بہت اچھی کتاب آئی ہے۔ اس کتاب کا عنوان ہے، Foundations of Modern Physics، اور اسے پروفیسر سٹیون وائنبرگ Steven Weinberg نے لکھا ہے جو حال ہی میں وفات پا گئے ہیں۔ اسے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب انکی باقی کتابوں کی نسبت مختصر ہے۔ تاہم اس میں جدید طبیعیات کے بنیادی نظریات کو اتنی تفصیل سے ضرور بیان کیا گیا ہے کہ کوئی غلط فہمی ایجاد نہ ہو۔ عموماً عوام کیلئے لکھی گئی سائنسی کتابوں میں ریاضی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بہت غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اس کتاب کو بغیر استاد کے پڑھنا مشکل ہو گا مگر ناممکن نہیں ہو گا۔ اس کتاب کو پوری طرح حل کرنے کیلئے جدید ریاضی سے کچھ آشنائی ضروری ہے۔ پاکستان میں جو لوگ یونیورسٹیوں میں سائنس یا ٹیکنالوجی کے کسی شعبے میں پڑھتے رہے ہیں وہ اس کتاب کو مکمل طور پر حل کر سکیں گے۔ لیکن جو لوگ جدید ریاضی اچھی طرح نہیں جانتے وہ بھی کتاب کے انگریزی متن سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ کتاب میں انگریزی متن اس سطح کی باقی کتابوں کی نسبت بہت زیادہ ہے جسے انگریزی جاننے والے عام لوگ پڑھ سکتے ہیں۔
جہاں تک فزکس کے طالب علموں کا تعلق ہے تو ان کیلئے بھی یہ کتاب یوں مفید ہے کہ اس میں ہر باب کی ابتداء میں ایک تاریخی تناظر دیا گیا ہے۔ یوں وہ اس کتاب کو اصلی کتابوں کے ساتھ اضافی مطالعے کیلئے پڑھیں تو بہت فائدہ ہو گا۔ اس سے معلوم ہو گا کہ موجودہ نظریات تک پہنچنے میں کس قدر محنت صرف ہوئی اور کن دلائل کی وجہ سے ماضی کی طبیعیات کو ترک کرنا پڑا۔ اس کتاب کو کالجوں میں پڑھنے والے ایف ایس سی اور اے لیول کے بچے بھی خرید کر یا فوٹو کاپی کی دکان سے پرنٹ کروا کر پاس رکھیں تو یہ یقیناً لمبے عرصے تک ان کیلئے مفید رہے گی۔ تاہم اسے بی ایس کے دوسرے سال، یعنی تیسرے یا چوتھے سمیسٹر، میں ایک کورس کے طور پر بھی پڑھایا جا سکتا ہے۔
کتاب کے کل سات ابواب ہیں۔ پہلا باب ابتدائی ایٹمی تھیوری کے بارے میں ہے۔ چار سو قبل مسیح میں دی مقراطیس نے اس کی بنیاد رکھی تھی جسے ایپی کیورس نے آگے بڑھایا۔ عربی میں یونانی فلسفے کا ترجمہ ہوا تو صوفیوں نے اسے جھٹلایا لیکن اشاعرہ نے اسے اپنایا۔ رومیوں کے ہاں بھی اسکا ذکر ہوتا رہا۔ لیکن اس پر کوئی خاص پیشرفت اس وقت تک نہ ہوئی جب تک بدیہیات کی تطہیر کیلئے تجربے کو بنیاد نہ بنایا گیا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپ میں گیسوں کی صفات کو عدد کی شکل میں ماپنے اور ان پر نئی طرح کے تبادلۂ خیال کا آغاز ہوا۔ یاد رہے، طبیعیات میں تجربے سے مراد کسی شخص کا تجربہ نہیں بلکہ وہ تجربہ ہے جس پر عقلاء کا اتفاق ہو، یعنی کئی لوگوں نے اسے کر کے پرکھا ہو۔ بہرحال گیسوں پر تحقیق سے یورپ میں جدید کیمسٹری کی بنیادیں رکھی جا چکی تھیں۔ اس سلسلے میں مزید کیا ہوا، یہ آپ کتاب کے پہلے باب میں جانیں گے۔ پروفیسر سٹیون وائنبرگ کا انداز بیاں مسحور کن اور زبان سلیس ہے۔
کتاب کا دوسرا باب تھرمو ڈائنامکس پر ہے۔ اس میں آپ حرارت کے بارے میں جانیں گے۔ چیزیں کیوں گرم ہوتی ہیں اور کیسے ٹھنڈی ہوتی ہیں، کچھ چیزیں جلدی ٹھنڈی کیوں ہو جاتی ہیں؟ اس کا ایٹموں سے کیا تعلق ہے اور یہ تعلق کیسے دریافت ہوا؟ اس سے کائنات کے بارے میں کیا پتا چلتا ہے؟ یہ سب دوسرے باب کا موضوع ہے۔ دو صدیوں کی کہانی ان دو ابواب میں ختم ہو جاتی ہے۔
بیسویں صدی میں علمی دنیا میں جو دھماکہ ہوا، وہ باقی ابواب کا موضوع ہے۔ کوانٹم تھیوری، نسبیت، نیوکلئر فزکس، وغیرہ پر تیسرے سے ساتویں باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ انگریزی متن کے ساتھ ساتھ مختصر ریاضیاتی وضاحتیں شامل کی گئی ہیں۔ کتاب کے آخر میں کچھ سوالات بھی دیئے گئے ہیں جن کو حل کر کے قاری مزید بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ جو نوجوان طالب علم معقولات کا شوق رکھتے ہیں وہ ان سوالات کو ضرور حل کریں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست مل کر اس کتاب پر مباحثہ کریں اور اس کے سوالات کو حل کریں۔
کتاب تین سو دس صفحات میں ختم ہو جاتی ہے۔ آخر میں منابع کی فہرست اور انڈیکس بھی شامل کیا گیا ہے۔ اگر فزکس کے کوئی پروفیسر صاحب یوٹیوب پر اس کتاب کے سلسلہ وار دروس کا اہتمام کر سکیں تو بہت اچھا ہو گا۔ ہر فصل پر پندرہ سے تیس منٹ کے دورانیے کا مختصر درس ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔ اکثر پڑھے لکھے لوگ سائنس پر زبانی گفتگو سے آگے بھی کچھ سننا چاہتے ہیں۔ نیز اس کتاب کے دروس فزکس کے ابتدائی طالب علموں کے ذہن کو مشکل کتابوں کیلئے ہموار کرنے میں بھی مددگار ہونگے۔ اگر کوئی محترم پروفیسر صاحب سائنس کی کسی کتاب کا اردو ترجمہ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ایک بہترین انتخاب ہو گا۔ اردو سائنس بورڈ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔
آخر میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ سائنس کو الحاد کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں وہ اصل میں خالق کو مخلوق میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خالق اور مخلوق میں کوئی سنخیت نہیں ہے، وہ اشیاء سے بالکل الگ ہے۔ صوفیاء وحدت الوجود کی غلط فہمی کا شکار ہوئے تو مخلوقات کو خالق کا جلوہ قرار دیا۔ یوں وہ اشیاء کی ماہیت کو سمجھنے سے قاصر رہے اور معقولات میں کوئی حصہ نہ ڈال سکے۔ الٹا لا یعنی باتوں میں پڑ گئے۔ ملا صدرا نےایٹم کا انکار کیا۔ اس نے یہ بھی کہا: فواجب الوجود كل الاشیا ء لا یخرج عنہ شیء من الأشیاء، یعنی ”واجب الوجود اشیاء کا کل ہے، کچھ بھی اس سے باہر نہیں ہے“۔ (اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 368) یوں خالق و مخلوق کی بینونت کا سرے سے انکار کیا اور واجب و ممکن کا فرق مٹا کر کائنات کو ہی واجب الوجود قرار دیا۔ اگر غور کیا جائے تو یہی بات ملحدین بھی کہہ رہے ہیں کہ کائنات خود سے ہے۔ صوفی لوگ مخلوقات کو سرے سے نہ سمجھ سکے۔ ہمیں ان دونوں گروہوں سے دور رہنا ہے۔ صوفیوں کے ساتھ تو ویسے بھی ان کی پر اسراریت کی وجہ سے تبادلۂ خیال ممکن ہی نہیں ہوتا۔
خدا کی ذات کا علم حاصل کرنا تو ممکن نہیں لیکن یہ جاننا ممکن ہے کہ وہ کیا نہیں ہے۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا یکتا اور احد ہے، وہ اپنی مخلوق جیسا نہیں ہے۔ (سورہ شوریٰ، آیت 11) چنانچہ ہم حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ انہوں نے مختلف موجودات پر غور کرنے کے بعد اپنی قوم سے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی لائقِ عبادت نہیں ہے۔ (سورہ انعام، آیت 78) قرآن و حدیث میں جابجا اشیاء کو خدا کی آفاقی نشانیاں کہا گیا ہے اور ان کی پہچان کی ترغیب دی گئی ہے۔ (سورہ فصلت، آیت 53) اپنے بارے بھی غور کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہمارا دوسرے انسانوں سے تعلق اور ہماری زندگی میں ہمارے ارادے بار بار ٹوٹنا بہت حیران کن ہے۔ (نہج البلاغہ، کلمات قصار، 250) بے شک ہماری خواہشات بھی اندھی پیروی کے لائق نہیں اور ہمیں وہی کرنا چاہئے جو اخلاقی طور پر درست ہو۔(سورہ جاثیہ، آیت 23)
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں