• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آئی ایم ایف کی رپورٹ اور پاکستان کی معاشی زبوں حالی /شیر علی انجم

آئی ایم ایف کی رپورٹ اور پاکستان کی معاشی زبوں حالی /شیر علی انجم

 آئی ایم ایف نے نومبر 2025 میں پاکستان کے لئے ایک رپورٹ جاری کی ہے ، جس میں معاشی مسائل کی اصل وجہ بتائی گئی ہے۔ یہ رپورٹ صرف ایک کاغذ نہیں، بلکہ ایک وارننگ ہے کہ پاکستان میں کرپشن ایک ایسی بیماری بن گئی ہے جو ہر ادارے کو اندر سے کھا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشکل ٹیکس کا نظام، بغیر حساب کتاب کے بجٹ، کرپشن، سرکاری اداروں کی نگرانی نہ ہونا، عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور امیر لوگوں کا اثر و رسوخ معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگر فوری طور پر 15 نکاتی اصلاحاتی پیکج پر عمل کیا جائے، تو پانچ سالوں میں جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو، جو کہ عمران خان کی گرفتاری اور الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا۔آئی ایم رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں حکومت کا بڑا کردار، مشکل قوانین، کمزور ادارے اور نگرانی کا نہ ہونا کرپشن کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ ٹیکس دینے کی شرح اس لیے کم ہو رہی ہے کیونکہ لوگوں کو ٹیکس سسٹم پر یقین نہیں ہے، اور امیر طبقہ اپنے فائدے کے لیے پالیسیاں بنواتا ہے۔ نیب نے 2023-2024 میں 5.3 ٹریلین روپے برآمد کیے، جو کہ کرپشن کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ رپورٹ میں شوگر مافیا، پرائیویٹ سیکٹر میں سیاسی اثر و رسوخ اور SIFC جیسے اداروں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے اینٹی کرپشن اداروں کا استعمال لوگوں کا اعتماد ختم کر رہا ہے، جو کہ معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب آئی ایم ایف خود کہہ رہا ہے کہ کرپشن کی وجہ امیروں کا اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت ہے، تو حکومت عمران خان کو رہا کیوں نہیں کر رہی؟ 2022 میں عمران خان کی حکومت ختم کر کے ایک کمزور حکومت لائی گئی، جس کے بعد ملک میں سیاسی انتشار پھیل گیا، معیشت خراب ہو گئی اور ادارے تباہ ہو گئے۔ عمران خان پر 200 سے زیادہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے، اور انہیں توشہ خانہ، سائفر اور القادر ٹرسٹ کیسز میں سزائیں سنائی گئیں، حالانکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ اینٹی کرپشن ادارے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ وہی ناانصافی ہے جس پر آئی ایم ایف نے تنقید کی ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے عمران خان کو جیل میں ڈالنے کا  بنیادی مقصد نہ صرف پی ٹی آئی کو توڑنا تھا، بلکہ لوگوں کا حق چھین کر ملک کو ایک غیر مستحکم حکومت کے حوالے کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہنگائی خطرناک انداز میں بڑھ رہی ہے، روپیہ کی قیمت گر رہی ہے، سرمایہ کاری رک گئی ہے اور قرضے بڑھ رہے ہیں لیکن اس طرف توجہ دینے کیلئے حکومت وقت کے پاس نہ اختیار ہے نہ سوچ ،  2024 کے متنازعہ انتخابات کے بعد جو حکومت بنی ہے، اس پر نہ تو لوگوں کو اعتماد ہے اور نہ ہی وہ آئی ایم ایف کی تجاویز پر عمل کر سکتی ہے۔ کیونکہ اصلاحات کے لیے سیاسی طاقت چاہیے، جو کہ چوری شدہ مینڈیٹ والوں کے پاس نہیں ہے۔ عمران خان کی رہائی اور دوبارہ انتخابات ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ملک میں سیاسی سکون آ سکتا ہے، جس کے بغیر آئی ایم ایف کی کوئی بھی رپورٹ اور کوئی بھی پروگرام پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے نہیں بچا سکتا۔
دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ کرپشن صرف چند لوگوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک خراب نظام کی وجہ سے ہے۔ اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ عمران خان کو رہا کیے بغیر، ان کی پارٹی کو کچلے بغیر اور صاف انتخابات کرائے بغیر یہ ملک معاشی تباہی سے نہیں نکل سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکمران سمجھیں کہ پاکستان کی بقا ان کی ذاتی انا یا اقتدار سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ کو اب سمجھنا ہونا کہ عمران خان کا قید رکھنا اب ایک فرد واحد کا مسلہ نہیں بلکہ جمہوریت ،سیاست اور سب بڑھ کر انسانی حقوق کا قیدی ہونا ہے ۔ لہذا عمران خان کو رہا حقیقی جمہوریت بحال نہ  کیا تو عین ممکن ہے  آج عمران خان کو رہا کر کے اصل جمہوریت بحال نہ کی گئی، تو کل آئی ایم ایف کہے گا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ اللہ پاکستان کو اس مشکل سے نکالے اور اس ملک کے اندر حقیقی جمہوریت کا بول بالا ہو تاکہ جمہور کا بھلا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔

julia rana solicitors

آئی ایم ایف،قرضہ،معاشی مسائل،رپورٹ،کرپشن،ٹیکس،بجٹ

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply