طوائف کی ترمیم /یوحناجان

مشہور دانش ور اور مزاح نگار کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس کا کا تجزیہ اور مشاہدہ ہوتے ہیں۔ جو اس کے گردوپیش ہونے والی حرکات و سکنات کا ایک جامع لباس ہوتا ہے۔ اس لباس میں کچھ کالے رنگ کا بھی ہوتا ہے جو ایک طرح خالص پردے کا پہناوے ثابت ہوتا ہے۔ اس میں چاہے وہ کالی شلوار ہو یا قمیض۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں ان الفاظ کے عوض سعادت حسن منٹو کا افسانہ کالی شلوار یاد آ گیا ہو یا قمیض تیری کالی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایک پرانے گانے کو خراج تحسین پیش کرنا یاد ہو۔
پھول کا پہناوا ایک طوائف کے کوٹھے پر بھی اُتنا ہوتا ہے اور قبر پر بھی۔ ، رنگت ، بناوٹ ، خوشبو یہاں تک شکل بھی وہی ہے چاہے وہ قبروں کہ زینت ہو یا طوائف زینت کی کلائی ہو۔ ترمیم جگہ ، مقصد اور کرنے والے کی نیت میں ہوتی ہے۔
اب تو ترمیم اس حد تک ہو گئی کہ تحفظ تک دینے کے لیے جگہ ، نام ، مذہب ، عقیدہ اور جنس تک بدلتی ہوئی ملی۔
کبھی ایک بازار تھا ، ایک مقصد تھا مگر اب جگہ جگہ اور مقاصد ہیں۔ والدین نے بچپن سے ہی بات سمجھانا چاہی کہ بیٹا سگریٹ نوشی سے دور رہنا ہے کیونکہ یہ ایک بُری لت ہے۔ میں نے سُن کر سُنا ان سُنا کر دیا۔ کئی بار اسکول آتے جاتے دوستوں کو سگریٹ کی باتیں کرتے سُنا یہی ہونا تھا کہ ایک دن وہ سگریٹ پیتے پکڑے گئے۔ خوب دُرگت بنی۔ اسکول سے بھی نکال دیا گیا۔ اساتذہ نے دوبارہ داخلہ دینے سے انکار کردیا۔ اس واقعہ کے چند روز بعد وہ دوست گلی کی نکڑ پر ملے۔ پوچھا کہ کون سا ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے یہ سب دیکھنا پڑا۔ وہ ذرا سی ہلکی آواز میں بولے سالے کیپٹن کا سگریٹ پیا تھا۔
ان سے دریافت کیا کہ کہاں سے خریدا تھا۔ انھوں نے پھر نرم گوشی میں کہا مروائے گا کیا۔۔۔۔۔۔؟
دریافت کرنے کے اصرار پر بولا یہ فلاں کے جنرل سٹور سے۔
ایک دم قہقہہ لگا اور سن کر چل دیا۔ گھر والوں سے اس بات پر بات ہوئی۔ والد صاحب فرمانے لگے بیٹا سگریٹ کے دھواں سے بھی دور رہو۔ یہ جس کے منہ سے نکلتا ہے اُس سے بھی خطرناک زہر بن کر نکلتا ہے۔ جہاں سے ملے وہاں سے دس قدم دور گزرنے کی کوشش کرو۔ اپنے اندر ترمیم کیا کرو باہر خود بخود ہو جایا کرے گی۔
بات ہضم نہ ہونے والی تھی۔ والد صاحب سے پوچھا تو پھر طوائف بھی تو دور دور بھاگتی ہے پر ترمیم پر ترمیم کا جادو نون ، میم ، جیم اور کریم پر کیوں نہیں۔ وہ بھی تو کچھ یہی کام کی ہیں۔ خریدنے والے کی جیب کبھی بھی اور کسی بھی جگہ ترمیم کرتی ہوئی پائی جا سکتی ہے۔ چاہے وہ حُور ہو یا مجبور ، حیرت کی نگاہ یا غیرت ، فلاں بھی ناداں ، مستی گیٹ کے عقب ہو یا پھر سینوں میں جلتی ہوئی پیٹ کی چربی۔ چمن کی عریاں حوریں چاکِ گریباں کیے بیکرانہ فضا میں سانس لیے کُھوئی ہوئی نگاہ کو یقین کا ہاتھ دینے اپنے بدن کی ترمیم پیش کرتی ہیں۔ جس کو آتش کا نام ، صادق و امیں کی داستاں ، عشق و مستی کا طغیاں ، بے باکی کا ساماں اور مثل خزاں پیدا کیے جابجا برقعہ پوش کے روپ میں اُلٹ جائیں گے۔ حد ادراک سے باہر عین غین اور ہاتھوں میں ٹین ڈبہ اور کین۔ جس کے اوپر لیبل تو پیپسی ، کوک اور ڈیو ہے۔ خوشبو میں چہک ، بہک ، لہک اور آخر میں مہک ، چاہے اس میں کوئی ملٙک ہو یا مُلک دونوں میں کوئی نہ ہو تو پھر مِلک۔ ان تینوں اصطلاحات میں زیر، زبر اور پیش کا اہم کردار ہے۔ انحصار تو کرتا ہے قاری پر وہ زبر سے زیر ہوتا ہے یا نہیں ورنہ یہ تو بات تصدیق پر مبنی ہے پیش تو عدالت میں ہونا ہے۔
اس زیر ، زبر اور پیش کی ترمیم کو آپ کیا مطلب دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ؟
کہیں ذات پات کی تو کہیں پات کو الگ کرکے ترمیم کے ذریعے پتے کا نام بھی تو دیا جا سکتا ہے۔ اسی کے اول حصہ کو خداوند کریم کے ساتھ لگا دیں تو اس کی وحدانیت کا معانی بھی ہو سکتا ہے۔ اب یہی ترمیم بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ایک تر ( نمی) جو کسی کے پسینے ، طوائف کو دیکھ کر منہ سے نکلتی رال یا کسی کی آنکھوں سے نکلتے آنسو بھی ہو سکتے ہیں اور دوسرا میم ( مونث ) کی اصطلاح کا دامن لیے کروٹ بدلتے بدلتے بھاٹی گیٹ کے چوراہے سے کہیں سے کہیں چلی گئی۔ جگہ جگہ پڑاو ، راہ جاتے برقعہ پوش ، کنال کے کنارے دھمال اور تعلیم گاہ کے آمنے سامنے مُنا اور مُنی دونوں برسراقتدار ہوئے۔ وہیں سے چلتے چلتے یہ ہوا ، دوا ، گدھا اور پری کی ادا اپنے پٙر کھولتے ہوئے پارلیمان کی زینت ، حسینت اور بصد شوق کی ریستوان میں لگی اندھوں کے رحم پر کمینت جگہ جگہ منٹو پر اعتراض کرنے والوں کے کردار کی ہمہ وقت خوب صورت ہونے والی نیت پر فریفتہ کبھی دائیں اور کبھی بائیں کروٹ لیتی کیفیات کا تصور ہے۔ جو گوہرِ مقصود کو ڈھونڈتی شمشان گھاٹ کی راکھ کا نتیجہ ثابت ہوئی۔
ماں باپ کی منتیں ، چڑھاوے اور نیاز سب کی سب روحانی نقائص کی بھینٹ چڑھ گیا۔
رنگ زرد ، تبدیلی کا چہرہ ، میک اپ کا نور ، بیماری و یماری سمجھ کر دل میں کچھ پیدا کرنے لگی۔ یہی پیدا شدہ صورت حال بعض دفعہ بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ محبت ختم ہو گئی۔ محبت تو آج بھی پہلے پھول کو ہاتھوں میں ، بالوں میں ، چہرے پہ ، خوشبو میں ، رنگت میں ، سنگت میں ملتی ہے۔ بعدازاں وہی نظریہ ضرورت بن کر ٹھکرا دی جاتی ہے جس کے دلائل پاوں میں روندے جانے کی نشانی ثابت ہوتی ہے۔ شاید قاری یہاں یہ سمجھتا ہو کہ لکھنے والے کے اندر وٹامنز ختم ہو چکے ہیں ایسا ہرگز نہیں انھیں پروٹوکول ہی اتنا ملتا ہے جتنا ایک وقت میں دوسری بار ملاقات کرنے کو سنگ ملتا ہے۔
اس پھیکی مسکراہٹ اور لبوں پر پیدا ہونے والے ارتعاش نے کسی کو غم اور کسی کو خوشی کا احساس دیا۔ دونوں ایک ہی وقت میں رونما ہوئے چاہے اب کوئی خائف ہو کر اس کو طوائف کی ترمیم سمجھ لے یا ایک طویل فاصلہ زندگی کے ناکام پہلو ۔۔۔۔۔۔
جس کے عقب میں شراب ، کباب اور احباب جو سب مل کر ایک زندگی کا باب بن جائے گا۔ تاریخ دان ضرور حمل کے گر جانے کا ذکر کرئے گا۔ ممکن ہو تو راجکماری کی نظر میں محبت کے گرنے کا تذکرہ بھی ہو گا۔ جو صرف دلچسپ گفت گو کو بنانے کے حربے تلاش کرکے دیوار کے پلستر کو اُکھاڑ دے گا۔ وہی دیوار بدمزہ ، بے صورت اور خواہشات سے دور کہیں توجہ کا خلا پائے گی۔ بعض دفعہ بجے بڑی تکلیف سے پیدا ہوتے ہیں مگر یہی بچے کوئی ترمیم کے راستے کو اپناتے ہیں چاہے وہ لاہور کے علاقہ کا عام بازار ہو یا قانون دانوں کے قانونی راستے پھر بعد میں ہونے والا درد پہلے سے بھی شدید اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ میری توجہ محبت کی ترمیم ہے جو غلام محمد کے دل میں بھی پیدا ہونے والی ہو سکتی یا پھر بجلی کے قمقمے کی روشنی کو دیکھ کر تحت الشعور میں جاگنے والی کسی اجنبی کے بلا عنوان کی بابت بھی ہو سکتی ہے۔ میرا مطلب یہاں محبت بُری نہیں صرف طواِف کی ترمیم مُراد ہے جو جلتی ہوئی رسی کی مانند بل کھاتی ہوئی بھی اپنا نقش خامشی میں ماند کر لیتی ہے۔ ایک طرح ترمیم کرتی جاتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply