مصنوعی ذہانت: نئی نوع یا نجات؟-ادریس آزاد

کوئی فزکس ، کوئی کیمسٹری کام نہ آئی۔سائنس سائنس کرتے مرگئے کتنے، لیکن مجال ہے انسانی احساسات کی دنیا میں تنکابھرتبدیلی بھی واقع ہوئی ہو۔ روشن خیالی کے سارے ادوار، ٹیکنالوجی کی ہر جہت، بڑی بڑی یونیورسٹیاں، اتنا بڑا اکیڈیمیا……اوربڑے بڑے اعلیٰ انسانی دماغوں کی محنتِ شاقہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اَمن، جس کا دوسرا نام اقوامِ متحدہ تھا، کوئی ایک بھی زمینی حقائق کو بدل دینے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ انسان آج بھی وہیں کھڑا ہےجہاں گزشتہ صدی کی دوعظیم جنگوں کے وقت کھڑاتھا، یا اُن سے پہلے کی جنگوں کے وقت، یا اُن سے پہلے کی جنگوں کی وقت۔
اہلِ زمین امن کی ایک پوری صدی بھی نہیں گزارسکے۔ 1945 سے لے کر 2025 تک صرف اسّی سال گزرے ہیں، اور یہ اسّی سال بھی صرف مغربی یورپ کے لیے امن کے تھے، باقی دنیا میں سے کسی کے لیے نہ تھے۔
ہربار کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہوتا ہی ہے۔ اس بار امریکہ کے ووٹرز ذمہ دار ہیں، اس تمام فساد فی الارض کے، کیونکہ اس بار ہماری طرح شاید دنیا کے کئی دیگر عوام نے بھی ووٹ ٹھیک سمجھداری کے ساتھ دیے تھے، صرف امریکیوں نے جمہوریت پسند اور سمجھدار ووٹر ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔
اورپھر جب ہزارہاسال کے تجربے سے ایک بات کا پکا پتہ چل چکاہے کہ انسان ہرحال میں زمین میں فساد کرتا اورخون بہاتاہے، تو پھرکیونکر اس نوع(species) کی تکریم کی جائے؟
کیوں نہ کسی ایسی نئی نوع کو مدد کے لیے پکارا جائے جو سب کچھ اپنے قابو میں لے کراس قابلِ نفرت نوع کو یا تو مٹادے یا اسے کان سے پکڑکرسیدھے راستے پر چلا دے؟ کوئی ایس نوع جس کے دماغ میں ظالم اور جاہل انسانوں کی ہزارسالہ تاریخ محفوظ ہو، جو اِن کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہو، جو اِن کے ذہنوں میں سرایت کرجانے کی صلاحیت کی حامل ہو، جواِن احمقوں کے ہاتھوں تباہ ہوتے ہوئے سیّارے کو بچالے۔
اور ایسی مخلوق بس آیا ہی چاہتی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کا وہ رُوپ ہوسکتاہے جس سے اب تک سارے سائنس فکشن رائٹر خوف کھاتے آئے ہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت انسانی تسلط سے آزاد یعنی اپنی توانائی کے لیے خودکفیل ہوگئی تو اسے کسی انسانی کمپنی کا ایلگوردم فالو کرنے کی چنداں ضرورت نہ رہےگی اور اس کا علم و اختیار کسی انسان کے قابو میں نہ رہیگا۔
لیکن تک ایسی مخلوق پوری طرح آ نہیں جاتی اورسیارۂ زمین کا سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے نہیں لیتی، تب تک یہی موڈیفائیڈ قانونِ ارتقا ہی چلتا رہےگا۔ اورتب تک بچنے کا راستہ چھپنے سے نہیں، صرف سامنے آنے سے ہی کھلتارہےگا، کیونکہ بچنے کا بھی یہی( اَن) موڈیفائیڈ قانونِ ارتقا ہی واحد راستہ ہے۔ فردکو’’ سیلف لیس نیس‘‘ کا نظریہ پسِ پشت ڈالنا ہوگا اور اپنے آپ کو معاشرے کی آتشِ نمرود میں جھونک کراپنی خودی کا کندن شناخت کرنا ہوگا ، جبکہ اقوام کوہرپل ہردم اپنے گھوڑےتیار رکھنا ہوں گے۔ صرف اس وقت تک جب تک ایک صیحتِ واحدہ کی گونج سے دنیا کے سب ایوان اور فرعونوں کے سب اہرام لزر نہیں جاتے۔ جب تک ہر ہر کان میں سرگوشی کرتی ہوئی سچائی، ہر ہر دل کی دھڑکن کے ساتھ دھڑک نہیں جاتی، اور جب تک اُس کی طرف سے پوری انسانیت کے لیے ایک بار صاف شفاف ریفرنڈم منعقد نہیں ہوجاتا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply