پاکستان کی سیاست کو اگر شور، نعروں اور وقتی بحثوں سے ہٹا کر ٹھنڈے دل و دماغ سے دیکھا جائے تو ایک بنیادی تضاد صاف نظر آتا ہے۔ ایک طرف مورثی قیادت پر تنقید ہے، دوسری طرف تنظیمی اور نظریاتی سیاست پر فخر۔ مگر جب کسوٹی عملی کارکردگی، عوامی قبولیت اور پیغام کی ترسیل کی ہو تو یہ تقسیم اپنی سادگی کھو دیتی ہے۔ سیاست کتابی اصولوں سے نہیں، سماجی نفسیات سے جیتی جاتی ہے، اور یہی نکتہ ہماری بیشتر جماعتوں کی کمزوری بھی ہے۔
عملی تجربہ بتاتا ہے کہ جہاں قیادت میں تسلسل ہوتا ہے، وہاں فیصلوں میں استحکام اور ڈلیوری میں بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی قیادت، چاہے اس پر مورثی ہونے کا الزام ہی کیوں نہ ہو، اگر اہل مشیروں کا انتخاب کرے اور اپنی ٹیم کے ساتھ ہم آہنگی رکھے تو ریاستی و عوامی سطح پر نتائج دکھا سکتی ہے۔ عوام بھی اسی قیادت سے مانوس رہتے ہیں جسے وہ وقت کے ساتھ دیکھتے، پرکھتے اور سمجھتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں وہ جماعتیں جو بار بار مرکزی قیادت بدلتی ہیں، تنظیمی طور پر تو متحرک دکھائی دیتی ہیں مگر سمت کے تعین میں کمزور رہتی ہیں۔ ہر نئی قیادت نیا لہجہ، نئی ترجیحات اور نیا بیانیہ لے کر آتی ہے۔ یوں جماعت ایک مسلسل سفر کے بجائے آزمائشوں کی ایک قطار بن جاتی ہے۔ منزل کا ذکر تو رہتا ہے، مگر وہاں پہنچنے کی حکمتِ عملی ہر چند سال بعد ازسرِنو ترتیب پاتی ہے۔
اس عدم تسلسل کا سب سے گہرا اثر سیاسی کارکن پر پڑتا ہے۔ کارکن صرف ضابطے اور ہدایات نہیں مانگتا، وہ قیادت کے ساتھ ایک فطری جذباتی رشتہ بھی چاہتا ہے۔ جب قیادت بدلتی رہتی ہے تو یہ رشتہ جڑ ہی نہیں پاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظم تو باقی رہتا ہے، مگر دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ یوں تنظیم چلتی رہتی ہے، تحریک دم توڑ دیتی ہے۔
یہ فرق عوامی رویّوں میں بھی واضح ہو جاتا ہے۔ کہیں سیاسی کارکنوں کے بچوں کا اپنے لیڈر کی تصویر کو بے ساختہ محبت سے چھونا ایک خود رو عمل بن جاتا ہے، اور کہیں اسی منظر کی نقالی ہدایات کے تحت کی جاتی ہے، جو فطری نہیں لگتی۔ بچوں کے تاثرات خود بتا دیتے ہیں کہ کہاں جذبہ ہے اور کہاں محض مشق۔ سیاست میں مناظر نقل ہو سکتے ہیں، مگر احساس نہیں۔
اسی طرح جلسوں میں جذباتی نعروں کا معاملہ بھی ہے۔ کسی کارکن کا بے اختیار ہو کر اپنے لیڈر سے محبت کا اظہار ایک انسانی ردعمل ہو سکتا ہے، مگر جب یہی جملہ دوسری جماعت میں محض تقلید کے طور پر دہرایا جائے تو وہ اپنائیت کے بجائے بناوٹ کی علامت بن جاتا ہے۔ عوام اس فرق کو لفظوں سے نہیں، احساس سے پہچانتے ہیں۔
یہاں ایک اور بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی رسمی تعلیم سے محروم یا محدود ہے۔ اس طبقے تک بات نظریات اور پالیسی دستاویزات سے نہیں پہنچتی۔ وہ فرد کو دیکھتا ہے، چہرہ پہچانتا ہے، لہجہ سنتا ہے اور رویّہ پرکھتا ہے۔ نظریات اس کے لیے مجرد تصورات ہیں، جنہیں سمجھنا نہ اس کی ترجیح ہے اور نہ ہی اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ۔
اسی لیے سیاست میں پیغام کی ترسیل کا سوال فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ اگر قانون سازی کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کی زندگی میں محسوس نہ ہو تو وہ قانون اس کے لیے بے معنی رہتا ہے۔ پارلیمان میں منظور ہونے والا ہر اچھا بل عوامی مقبولیت کی ضمانت نہیں بنتا۔ ووٹر اس قانون کو مانتا ہے جو اس کے روزگار، علاج، تعلیم یا تحفظ میں عملی بہتری لائے۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے سمت کا مستقل ہونا ناگزیر ہے۔ بیانیہ، قیادت اور ترجیحات میں تسلسل ہو تو آہستہ آہستہ بات عوام تک پہنچتی ہے۔ بار بار رخ بدلنے سے نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سادہ ذہنوں میں کنفیوژن بھی جنم لیتی ہے۔ نظریہ تبھی مؤثر بنتا ہے جب وہ انسانی تجربے میں ڈھل کر سامنے آئے۔
آخرکار سیاست کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ معاشرے کی نفسیات کو کتنا سمجھتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں فرد نظریے سے پہلے آتا ہے، جہاں قانون سے زیادہ اس کا اثر دیکھا جاتا ہے، اور جہاں محبت، وابستگی اور تسلسل ووٹ سے پہلے دل جیتتے ہیں۔ جب تک ہماری جماعتیں اس حقیقت کو قبول نہیں کرتیں، تب تک منظم ڈھانچے، شاندار منشور اور عمدہ قانون سازی کے باوجود، عوامی دلوں تک پہنچنے کا راستہ ادھورا ہی رہے گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں