دو ہاتھ۔۔۔ جن کی لکیریں مٹ چکی تھیں، وہ ایک مردہ جانور کی کھال پر زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔دائیں ہاتھ کی پوروں میں ایک قدیم تھکن جمی ہوئی تھی، اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ایک ان کہی داستان کا بوجھ تھا۔لکڑی کے خول پر منڈھی ہوئی یہ کھال (طبلہ) دراصل کھال نہیں تھی، یہ ان دونوں کے درمیان تنا ہوا ایک وقت تھا، جسے وہ دونوں اپنی اپنی جگہ سے پیٹ رہے تھے۔
سامنے۔۔۔ روشنیوں کے ہالے میں، وہ محض ایک حرکت تھی۔ گوشت پوست کی عورت نہیں، بلکہ گھنگھروؤں میں قید ایک تڑپتی ہوئی گونج۔ڈیڑھ سو پیتل کے چھوٹے چھوٹے گول دائرے اس کے ٹخنوں سے لپٹے ہوئے تھے، اور ہر دائرے میں ایک چیخ قید تھی جو چھنکتی تو موسیقی لگتی، مگر خاموش ہوتی تو بیڑی بن جاتی۔
تھا۔۔۔ دھن۔۔۔ دھا !
ہتھیلی کی چوٹ دل پر پڑ رہی تھی یا لکڑی پر؟ تمیز کرنا مشکل تھا۔کمرے میں دھوئیں کے بادل معلق تھے۔ سفید گدیوں پر ٹیک لگائے ہوئےبے چہرہ وجود (گاہک) نوٹ پھینک رہے تھے۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں تھے، یہ اس کے بدن کا معاوضہ تھا جو اس کے پیروں پر گر رہا تھا، اور وہ طبلہ نواز، جو کونے میں بیٹھا تھا، ہر گرتے نوٹ کے ساتھ اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
وہ دونوں ایک تال کے قید خانے میں تھے۔
تین تال کے سولہ ماترے۔
پہلا ماترہ۔۔۔ محبت۔
گیارہواں ماترہ۔۔۔ مجبوری۔
سولہواں ماترہ۔۔۔ امید۔
اور پھرسم۔۔۔ جہاں سب کچھ مل جانا چاہیے تھا، مگر وہ سم کبھی آتا ہی نہیں تھا۔
وہ ناچتی رہی۔ اس کے پاؤں زمین پر نہیں، اس طبلہ نواز کی پھیلی ہوئی ہتھیلیوں پر پڑ رہے تھے۔ وہ اسے روند رہی تھی، اور وہ اس روندے جانے میں ایک عجیب سی لذت کشید کر رہا تھا۔ یہ ایک روحانی مساج تھا، یا شاید خود اذیت پسندی کا معراج۔پھر اچانک۔۔۔ سناٹا۔موسیقی تھم گئی۔ مجمع چھٹ گیا۔ کمرہ خالی ہو گیا، جیسے قبرستان رات کے پچھلے پہر خالی ہوتا ہے۔اب وہاں صرف دو سائے باقی تھے۔
ایک سایہ(عورت)دیوار سے ٹیک لگائے ہانپ رہا تھا ۔
دوسرا سایہ(مرد) اپنی انگلیاں سہلا رہا تھا ۔
الفاظ، جودن کی روشنی میں معنی رکھتے ہیں، یہاں ہیرا منڈی کی اس مرطوب فضا میں اپنی لاشیں بن چکے تھے۔مرد نے چاہا کہ اپنے سینے کا قفس کھول کر دکھا دے کہ وہاں دھڑکن نہیں، صرف ایک خالی تِہائی بج رہی ہے۔ لیکن اس نے دیکھا کہ سامنے والی عورت اب عورت نہیں رہی، وہ ایک بت بن چکی ہے جس کی آنکھوں کا سرمہ بہہ کر گالوں پر ایک سیاہ ندّی بنا رہا ہے۔اس کے ذہن میں خیالوں کا ایک ملبہ گرنے لگا۔اگر میں بول پڑا، تو یہ طلسم ٹوٹ جائے گا۔ یہ جو ایک تار ہمارے درمیان بندھی ہے، جو ہمیں سر اورتال کی طرح جوڑے ہوئے ہے، یہ کٹ جائے گی۔ وہ ناچنے والی ہے، میں بجانے والا۔ ہمارا رشتہ صرف بجنے اور ناچنے تک ہے۔ رک گئے۔۔۔ تو اجنبی ہو جائیں گے۔
عورت نے سگریٹ سلگایا۔ دھوئیں کا ایک مرغولہ دونوں کے درمیان حائل ہو گیا۔اس نے طبلہ نواز کی طرف دیکھا۔ وہ اسے ایک درخت لگ رہا تھا جو جڑ سے کٹ چکا ہے مگر گرنے سے انکار کر رہا ہے۔ وہ چیخنا چاہتی تھی۔مجھے اپنی جڑوں میں چھپا لو۔مگر اس کے حلق سے صرف دھواں نکلا۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہیرا منڈی میں محبت کرنا منع نہیں ہے، محبت بتا دینا گناہ ہے۔ بتانے سے وجودی کرب کی وہ لذت ختم ہو جاتی ہے جو فنکار کا کل اثاثہ ہے۔
طبلہ نواز اٹھا۔ اس نے لکڑی کے اس بے جان پیٹ (طبلے) پر سفید کفن (غلاف) چڑھایا۔
اس نے ایک نظر اس عورت پر ڈالی جو اب قالین کے نقش و نگار میں گم ہو رہی تھی۔
کوئی مکالمہ نہیں ہوا۔
کوئی الوداع نہیں۔
صرف جوتوں کی گھسٹتی ہوئی آواز۔۔۔ اور سیڑھیوں کا لامتناہی اندھیرا۔
پیچھے کمرے میں، عورت نے اپنی کلائی پر بندھے دھاگے کو دیکھا۔
سم خالی گزر گیا۔
دائرہ مکمل ہو گیا، مگر نقطے کبھی نہ ملے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں