زورین نظامانی صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد جواب میں کچھ تحاریر بھی پڑھی ہیں۔ ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی ایک فقرے کو مکمل رد یا مکمل اپنا لینے میں فراٹ ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ بٹوین دا لائنز، پری و پوسٹ ٹیکسٹ حقائق بھی ہوتے ہیں گویا ایک کالم بڑی حقیقت نہیں ہوتی بلکہ وہ کالم کتنی بڑی حقیقت سموئے ہوئے ہے یا کتنی جابر حقیقت کی بنیاد پہ کھڑا ہے یا کتنی بڑی حقیقت کو مستقبل کے حوالے سے ایڈریس کر رہا ہے نگاہِ بندہ میں آ جانی چاہیے۔ ہر دور میں تین نسلیں ہوتی ہیں۔ ان تمام نسلوں میں جہاں گیپس موجود ہوتے ہیں وہیں ان گیپس کو جوڑنے کی بھی تاریں موجود رہتی ہیں یعنی گیپس بھی فطرت کے مطابق ہیں اور گیپس ایک یونیٹری حیثیت سے پراڈکٹیوٹی کا بھی باعث ہوتے ہیں لہذا جین زی یا الفا جین ہر دور میں اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ جین زی کسی مخصوص نسل زبان یا قبیلہ یا سیاسی حیثیت سے آگے ہے گویا تمام قبائل و کلچرز یا جماعتوں میں موجود یہ نسل اس حیثیت میں کامن ویلتھ ہے اور ہمیں یہ نسل اور الفا جین دنیا کے کونے کونے میں نظر بھی آرہے ہیں جو پرانے وطیروں جو زنگ آلود ہو چکے ہیں کو تیل کی مالش سے قابل ذکر و حیثیت بنانے میں کردار نبھا رہے ہیں۔ یہ تینوں ہی نسلیں دراصل ماضی و حال و مستقبل کے موتیوں سے بنی مالا ہے جو اون بھی کرتی ہے اور ڈس اون بھی کرتی ہے۔ عمل بھی کر رہی ہے ردعمل بھی دے رہی ہے۔ سوال بھی کرتی ہے جواب بھی دے رہی ہے۔ سنبھل بھی رہی ہے سنبھال بھی رہی ہے۔ تمیز سے بھی رہتی ہے اور گستاخی بھی سرزد ہو جاتی ہے لہذا یہ ہمیشہ سے چلتا ہوا ایک سلسلہ ہے جسے ‘تسلسل’ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایک تھیوری ہے۔ اُسے ٹریس تھیوری کہتے ہیں۔ مطلب جب ایک حصہ یا اکائی اپنی جگہ چھوڑتی ہے اور نئی جگہ لیتی ہے تو ان دونوں جگہوں کا تعلق پھر بھی برقرار رہتا ہے جسے سوشل نیٹ ورکنگ ویب بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کا ایک گھر ہے لیکن آپ نے نیا گھر لے لیا ہے تو ان دونوں گھروں کا تعلق بن جاتا ہے۔ آپ کی کھٹارا گاڑی اب بھی گٹار بجاتی گاڑی سے منسلک ہے۔ کیوں؟ چونکہ دونوں ہی تجربات ہیں اور ان دونوں تجربات کا تعلق اصل حقیقت ہے۔ ایک تجربے کو کاٹنے سے نئی شناخت نہیں بن جاتی بلکہ پچھلا تجربہ اور اگلا تجربہ دونوں ہی منسلک ہیں اور یہ انسلاک مکمل دو سوچوں یا مماثل سوچوں کی کڑی ہو سکتی ہے۔ یہ عمل اور عمل کی جمع بھی ہو سکتی ہے اور عمل و ردعمل کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ ان دونوں کو جوڑنے والی اکائی سوچ یا نظریہ نہیں ہے بلکہ تعلق ہے۔ اب آتے ہیں اس طرف کہ کیا یہ نسلیں نکمی ہیں؟ جی ہاں! جی نہیں! ممکن بھی ہے نا ممکن بھی ہے کیونکہ یہ امکانات کی دنیا ہے اور ان امکانات میں خیر بھی ہے اور خیر نہیں بھی ہے۔ اگر خیر ہے تو خیر چلتی ہوئی آرہی ہے اور نہیں ہے تو یہ نسلیں ہی کوشش کر رہی ہیں اور لیگیسی ایک نسل کی ذمہ داری نہیں ہے سب کی مشترکہ ہے لہذا بلڈ پریشر برابر ہی مناسب ہے۔ کیا یہ نسل صرف کسی مخصوص خطے سے منسلک ہے؟ نہیں! کیا صرف پڑھے لکھے یا ڈگری ہولڈرز ہی اس نسل میں دخل دے سکتے ہیں؟ نہیں! ایک خام مال مہیا کرنے والا یا کسان کا کھیت میں کام کرنے والا لڑکا بھی یہی جین زی ہے جیسے ایک ویل کوالیفائیڈ ماہر زراعت کا لڑکا ہے۔ یہ مشترکات کا نام ہے۔ یہ تمام نسلوں میں موجود جوانان اور نوجوانان کی نسل ہے جو روایتی بیانیوں سے آزاد ہو چکے ہیں اور سوال کر رہے ہیں؟ کیا سوال کرنے کے لیے علمی کتابی ہونا ضروری ہے؟ ضروری نہیں ہے۔ محض عملی تجربات کی بنیاد پہ بھی عقل چل سکتی ہے۔ لازمی نہیں ہے کہ جو ڈگری والا ہے وہی عقل مند ہے اور باقیوں کی عقل پیدل بھاگ رہی ہے! یہ محض جوڑنے والی اصطلاح ہے جو ہاری کے لڑکے کو نیو یارکر انقلابی سے جوڑ سکتی ہے! ہاں تقسیم اپنی جگہ موجود ہے۔ سہولیات یا وسائل اپنے اپنے ہی ہیں لہذا مقابلہ بازی اگر صحت مند نہیں ہے تو یہ انرجیز توڑتی ہے۔ اس کی جگہ کولیبریش ضروری ہے اور اس چشمے کا پانی زیادہ میٹھا ہے اور اس جگہ سے کئی ندیاں پھوٹتی ہیں۔ کیا ایک مخصوص سیاسی جماعت کے کھلاڑی ہی جین زی ہیں؟ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی پارٹیوں یا کلٹس سے آگے کی دنیا ہے تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ مہذب دنیا میں جو مسلسل سیکھ لیکھ کے بعد اب نسلوں کی کشمکشِ زندگی سے آزاد ہیں اور ہر رنگ و روغن و گل کے لڑکے لڑکیاں بیک آواز گازنز اور وینیزویلنز یا یوکرینینز یا انڈونیشیا کے مظلوموں کی آواز بن جاتے ہیں۔ جب بڑے پیمانے پہ یہ جنسی و رنگ و نسل کے تضادات جمع ہو گئے ہیں تو لازماً نتیجتاً انرجیز پیدا ہو جاتی ہیں! اب یہ بومرز کون ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ نظامانی صاحب سے مراد یہ لڑکوں لڑکیوں کے والدین ہیں۔ وہ کسی مخصوص روایتی ذہنیت کو ٹارگٹ کر رہے ہیں کہ وہ روایت جو بلا شک و شبہ بہت خوبصورت ہے یا ممکن ہے خوبصورت نہیں بھی ہے البتہ جین زی اور الفا جین کی سمجھ یا کھوپڑی میں فٹ نہیں ہو رہی! وہ شاید آمرانہ سوچ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں! اس جین زی سے ان کی جو بھی مراد ہے میں یہ سمجھتا ہوں اب جو بھی سوچ ہے وہ گلوبلی پرورش پا رہی ہے۔ پاکستانی کانٹیکسٹ میں بھی ہر وہ کارکن جو ستانوے سے دو ہزار بارہ اور دو ہزار پچیس کے بیچ میں ہے وہ جین زی و الفا کہلاتی ہے اور اس کا کوئی بھی قبیلہ زبان نسل یا سیاسی جماعت ہو سکتی ہے۔ وہ کسی بھی ثقافت یا تہذیب کا نمائندہ ہو سکتا ہے بنا کسی فیس یا ٹکٹ کے اس کیمپ میں شامل ہے۔ اس نسل کی خوبیاں ان کی خامیوں سے زیادہ ہیں۔ وہ سب سمجھنے کے لیے ایک دنیا پڑی ہے اور کئی کئی تجربات ہیں۔ لازمی نہیں ہے کہ یہ ہزار کتابیں پڑھ کے ہی باشعور ہو سکتے ہیں ، ایسا بھی ممکن ہے کے بھاری بستوں والے بنا بستہ کھولے جب واپس گھر آجائیں تو بھی کسی نہج پہ شعور ڈھونڈ ہی لاتے ہیں۔ ان کا انداز مختلف ہے۔ یہ وہ کام کرتے ہیں جو انھیں مناسب لگ رہا ہے۔ کیلکیولیٹر پہ چلتے ہیں۔ گھر بیٹھے چھاپ لیتے ہیں۔ انھیں بے شمار شکایات ہیں جب ازالہ نہیں ہوتا تو خود ہی شکایت کی راکھ سے ایجادات کر لیتے ہیں! اپنے غم یا پین کو ضائع نہیں ہونے دے رہے۔ نشہ پلا کے گرا نہیں رہے بلکہ گرتوں کو تھام لینے والے ساقی ہیں! ان کی نگہ میں دنیا گلوبل ویلج ہے اور یہ کامن ایجنڈے پہ آرہے ہیں! انسانیت کی آواز بن رہے ہیں! یہی وجہ ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا تمام تفریقات سے آزاد تھی اور لڑکے لڑکیاں مساوانہ طور پہ قیادت کر ہے تھے! یہ نسل بھڑک بھی سکتی ہے لیکن خاموشی اور شور شرابے دونوں سے مخاطب ہے۔ رہی یہ بات کہ ایک مخصوص خطے میں کوئی مخصوص سیاسی قبیلے کے لوگ جین زی ہیں تو اس مخصوص جماعت کی مخصوص لوگوں کو قیادت بھی اپنے اندر ہی سے چننی چاہیے اور ظرف بڑھا کر باقی جین زیوں کو بھی خوش آمدید کہنا چاہیے چونکہ افراد کے ہاتھوں میں ہی دراصل اقوام کی تقدیر ہوتی ہے۔۔۔ کہیں لکھا تھا کہ شاعر لوگ قوم بناتے ہیں اور سیاسی بازیگر قومیں نیست و نابود کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے ریچھوں نے دیگر جنگلی جانوروں سے مل کر جین زی کے گھڑ کو نیست و نابود کیا ہے اور آگے بھی ایسے ہی حرکتیں کرنے کے لیے سیاست دان تیار ہیں لیکن ہم نے اور چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ شاعروں نے کس طریقے سے رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کیا اور ایسے شعراء پوری دنیا میں متحرک ہیں۔ یہی شعراء نے جن تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ، طرح طرح کی رقص و سرور کی محافل بنائی ہیں ، جس طور احتجاج کیے ہیں اور جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اور جیسے رنگوں کا استعمال کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ شعرائے عجم و عرب و مسجد و کلیسا نے بہترین اہتمام کیا ہے۔۔ یہی وہ سیاسی کلٹ ہے اور عسکری کلٹ ہے جنہیں بومرز کہتے ہیں اور ان کا مقابلہ شاعروں ادیبوں اور انسان دوست نسلوں کے ساتھ ہے جس میں بچے بوڑھے جوان سب شامل ہیں! تو کیا کتابوں کا غیر منظم مطالعہ ہی عقل و دانش پیدا کرتا ہے؟ جی ایسا ہی ہے لیکن کتابوں کا مطالعہ منظم ہونا چاہیے اور ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن کیا باقی سب غیر متعلق ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ سب کا اپنا اپنا کردار اور ذوق ہے! ذوقِ نظر ہے۔ ذوقِ سخن ہے۔ پڑھنے کی بھی بلا مبالغہ ضرورت ہے لیکن منصوبہ بندی بھی اہم ہے۔ ہمارا ایک کورس تھا۔ ای، ایس، پی یعنی انگلش فار سپیسفک پرپزز یعنی انگریزی کیوں سیکھنی ہے؟ جب یہ پتہ چل جائے کہ اس مقصد کے تحت سیکھنی ہے تو اس سے متعلقہ موضوعات اور ڈیزائن کافی و شافی ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ ہم سب کچھ نہیں کر سکتے ، ہم وہی کر سکتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں لیکن جب سب ہی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں تو ان سب کے بیچ کولیبریش کا نام انسانیت ہے! ہمیں شکوے و الزام تراشیوں سے اگلے مرحلے پہ اپنے حصے کی شمع جلانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ یہی جین زی کر رہی ہے۔ یہی الفا جین کر رہی ہے۔ آگے بھی ایسا ہی ہو گا۔ پہلے بھی ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔ پہلے بھی بومرز تھے۔ اب بھی ہیں۔ آگے بھی مقابلہ ٹف ہے لیکن جیت ان کی ہو گی جو قومیں بناتے ہیں اور قومیں شعراء اور فلسفی بناتے ہیں اور سیاست دان ہمیشہ نیست و نابودیت پہ یقین رکھتے ہیں۔ اہل سیاست کو چاہیے کہ شاعرانہ انداز میں سیاست کریں اور خدمت خلق کو شعار بنائیں اور اس دھرتی کو اس قابل بنائیں کہ شاعر و ادیب و خالق ‘تعاون علی البر’ پہ اپنی صلاحیت صرف کر پائیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں