غالب نے کہا تھا:
وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو۔
درج بالا شعر کے پہلے مصرعے میں غالب نے کہا ہے ، راسخ ایمان کی لئے وفا اور پختہ یقین کی شرط یہ ہے کہ اس کے تقاضے پوری قوت اور ثابت قدمی سے پورے کئے جائیں۔ لیکن آج کے دور میں پوری وفاداری اپنے دین سے رہی، نہ اپنوں سے، اورنہ اہل سلوک بزرگوں سے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی وفا داریاں تمام وفا داریوں پہ غلبہ پا چکی ہیں۔ سیاست کاری کی وفاداریاں تو ہماری خواہشات کے تابع ہو کر تھالی کے بینگن کی طرح بدلتی رہتی ہیں۔ سیاسی وفاداریاں یعنی قلا بازیاں، اب سیاسی لوگوں میں پائی جانے والی اداکاری، فنکاری، گلو کاری، سہل انگاری اور بیکاری کی خصوصیات کے مطابق دانہ دنکا چگنے کے لئے ادھر سے ادھر ٹھونگیں مارتی رہتی ہیں۔
ہمارا ماننا ہے کہ پہلے وقتوں میں خود داری سرمایہ حیات ہوا کرتی تھی مگر بدلتے وقت کے ساتھ یہ خود داری، اب خود مختاری کی طلب میں ڈھل گئی ہے۔ جیسے جیسے دنیا داری، سرمایہ کاری کی طرح پھیلتی جا رہی ہے، نظام سرمایہ داری بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مزیداری کی بات یہ ہے کہ سرمایہ داری کے نظام کی چمک دمک اور گلکاری دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس میں شراکت داری کے لئے پر تولتے رہتے ہیں۔ اس طرح انہیں اپنے حصے کے پیسے تو ملتے رہتے ہیں، لیکن دن رات اپنے اسٹیٹس کو بڑھانے کی تگ دو میں ان کی خانه داری بہت متاثر ہو جاتی ہے۔ گھر داری اور گھر والی سے الجھنا معمول بن جاتا ہے۔ گھروں میں ان بن اور الجھن کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ ملک میں بے روزگاری ہے۔ گھروں پہ کیا موقوف ہے کم یا زیادہ پر جگہ منہ ماری یا مارا ماری ہے۔ شائد اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ گھروں میں روپوں کی کمی، اور زیادہ ریزگاری ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ ایسا پیسہ کس کام کا کہ جس کے آنے سے انسان رشتے داری کو بھول بیٹھے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اب آپس داری کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔ یہاں تک کہ سامنے بیٹھے معصوم بچے کی کلکاری بھی اچھی نہیں لگتی۔ سب مل جل کر رہیں تو خیر و برکت اور محبتیں بڑھتی ہیں اور اختلافات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ لیکن اگر کہیں قرابت داری نظر آ رہی ہے تووہ نوکریوں اور ملازمتوں میں ہے۔ قرابت داری نظر آنے کے باوجود رواداری اخلاقیات کا حصہ نہیں بن پا رہی۔ رہی بات وضع داری کی تو وہ تھوڑی بہت لکھنؤ والوں کے پاس بچی رہ گئی ہے۔
دیکھا جائے تو فی زمانہ ٹھاٹھ بھاٹ کے ساتھ رہنے والے لوگ دینی احکامات کی بجا آوری نہیں کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ دین پیش نظر رہا نہ دین داری ہے۔ اور تو اور ظاہر داری نے ایسی سحر انگیزی پیدا کر دی ہے کہ جسے دیکھو جدت پسندی اور فیشن پرستی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں غرق ہو کرسادگی اور متانت کو ترک کرتا نظرآرہا ہے۔ مال و دولت کی ہوس نے بیع و اشترا کو ایمان کی دولت سے ماورا بنا دیا ہے۔ اس میں ہماری، آپکی، سب کی حصے داری ہے۔ اگر یہی دنیا داری ہے تو یہ صریحآ گناہ گاری ہے۔ ہم تو اہل مشرق ہیں پھر اہل مغرب کی طرح کیوں ریا کاری ہے۔ ریا کاری ایسا سنگین گناہ ہے جیسے بدکاری ہے۔ ہمیں نفاست پسندی اور خاکساری کو اپنانا چاہئے نہ کہ گندگی پھیلانےکو۔ گندگی میں شامل جگہ جگہ تھوکنا اور پان کی پچکاری ہے۔
” تو مان نہ مان میں تیرا مہمان” کہہ کر زبردستی کسی کا مہمان بننے کے رجحان کی وجہ سے اب ایسی تبدیلی، آ نہیں رہی، بلکہ آچکی ہے، کہ مہمان داری صرف شادی بیاہ کے مواقع تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، نہ تواضع رہی ، نہ کہیں انکساری ہے۔ فرمانبرداری گھر والوں کی شان ہوا کرتی تھی۔ آنے والے مہمان کا اکرام کیا جاتا تھا۔ مگر کسے پتا ہے کہ کیا خاطر داری ہے۔ مہمان نوازی کے ذریعے مہمان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جاتا تھا۔ مگر کیا کریں کہ مہمان داری تو مہمان داری، کوئی ہمایوں کی قدر کرتا ہے اور نہ محلے داری ہے۔ اہمیت نہیں۔ حالانکہ ضرورت کے وقت اپنوں کے بعد ہمساۓ اور محلے دار ہی کام آتے ہیں۔ ہماری روائت ہے کہ ہم اپنے پیاروں کی نازبرداری کرتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ لیکن اپنے بچوں کے بے جا لاڈ پیار ہے اور ناز برداری ہے، جو اکثر ان کے کردار کو بگاڑ دیتی ہے۔ اکثر ٹی وی کے ڈراموں میں سرداری والے گھرانوں میں سرداروں کی اولاد کو بگڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ رعب داری کو جی جان سے پسند کرتے ہیں اور اپنی ساری رعیت سے تابع داری کی توقع کرتے ہیں۔ وہ اپنےعلاوہ کسی کی تھانے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔

اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دیہات اور قصبوں میں سختیاں کرنے والے ان ظالم زمین داروں کی مکاری کی آڑ میں زمینداری سے نجات کے لئے کسانوں میں آگہی اور بیداری پیدا کریں۔ سب انسان ایک سے ہوتے ہیں ان میں تفریق پیدا کرنے کوشش جاری ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف غداری ہے۔ یہی بات مالداروں کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ مالداری کے زعم میں غرباء کے ساتھ بدسلوکی نہ کریں۔ خاص طور پر بار برداری کرنے والے مزدوروں کی مزدوری، ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ضرور ادا کر دیا کریں۔ کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور ہماری طرح ان کی مالی حاجات بھی ضروری ہوتی ہیں۔ یہ ہمارا دینی تقاضہ بھی ہے اور اخلاقی زمہ داری ہے۔ علامہ اقبال نے ایک بندہ مومن کی خصوصیات سے متعلق کیا خوب صورت شعر کہا ہے، ملاحظہ کیجئے:
ع
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ایک اچھے مسلمان کا ذکر آیا ہے تو اور بھی بہت سارے اوصاف ہیں جن کا، دوسروں کے ساتھ پیش آنے کے لئے خیال رکھنا چاہئے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ ایمان داری کا نمونہ ہو، بے مثال دیانتداری سے کا م لیتا ہو، امانت داری کا خاص وصف رکھتا ہو، دوسروں کی دلداری کرتا ہو، وہ نمازی ہو، عبادت گزاری میں مصروف رہنے والا ہو، روزے داری کا پابند ہو۔ اس کا فیصلہ جانبداری اور طرف داری سےمبرا ہو، خواتین کے ساتھ پردہ داری کا اہتمام کرتا ہو اور کوئی پریشان، مغموم اور علیل ہو تو دوران ملاقات اسے منشی پریم چند کا افسانہ ” غم نہ داری بزبخر” سنا نے کی بجاۓ پروفیسر انور مسعود کی مزاحیہ شاعری سنا کر اسکی تیمار داری کرے۔ تاکہ بیمار کا غم غلط ہو۔ یہاں ہم ایک ناصحانہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ جب ہم گھر سے باہر نکلتے ہیں تو اردو گرد، آس پاس کے راستوں سے پیدل یا سواری پہ گزر رہے ہوتے ہیں۔ گزر گاہوں سے گزرتے ہوۓ یہ سوچ لیں کہ سب نے ہوں گزرتے گزرتے، ہمیں اس جہاں سے بھی گزر جانا ہے۔ کوئی آج اس دنیا سے جا رہا ہے اور کل ہماری باری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں