نظریاتی آمریت/ علی عباس کاظمی

کسی بھی معاشرے کی فکری سطح اور جمہوری پختگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں اختلافِ رائے کو کس حد تک برداشت کیا جاتا ہے، کیونکہ اختلاف ہی وہ بنیادی قدر ہے جو انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور بہتر فیصلے تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہے مگر ہمارے معاشرتی رویوں میں ایک المیہ یہ ہے کہ مذہبی اور سیاسی نظریات کو ذاتی انتخاب کے بجائے اجتماعی حکم نامہ بنا دیا گیا ہے، جہاں ہر شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کا مانا ہوا نظریہ ہی آخری سچ ہے اور باقی سب کو اسی دائرے میں آنا چاہیے، چاہے وہ اپنی مرضی سے آئیں یا دباؤ کے تحت۔۔۔ حالانکہ مذہب ہو یا سیاست، دونوں کا تعلق سب سے پہلے فرد کے شعور، اس کے تجربات، اس کے مطالعے اور اس کی ذہنی ساخت سے ہوتا ہے اورا سی لیے دنیا میں ایک ہی مذہب اور سیاسی فکر کے اندر مختلف زاویہ ہائے نظر موجود ہوتے ہیں۔

جب کوئی شخص یا گروہ اپنے مذہبی یا سیاسی نظریے کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ دراصل انسان کے اس بنیادی حق کو چیلنج کرتا ہے جو اسے سوچنے اور انتخاب کرنے کی آزادی دیتا ہے، یہ عمل صرف اخلاقی طور پر ہی غلط نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہےکیونکہ جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ فکر ہے، جس کی بنیاد آزادیِ رائے، برداشت اور مکالمے پر قائم ہوتی ہے اگر ہر فرد کو یہ حق نہ دیا جائے کہ وہ اپنے عقیدے اور سیاسی سوچ کا تعین خود کرے تو پھر جمہوریت محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

مذہب کے نام پر نظریے کا جبر ایک ایسا عمل ہے جو ایمان کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے کیونکہ ایمان اگر دل کی گہرائی سے قبول نہ کیا جائے اور صرف خوف یا دباؤ کے تحت اپنایا جائے تو وہ محض ایک ظاہری رسم بن کر رہ جاتا ہے، مذہب کا پیغام انسان کو بہتر انسان بنانا ہے، اسے دوسروں کے لیے خوف یا جبر کی علامت نہیں بنانا۔ جب مذہبی سوچ کو بزور طاقت نافذ کیا جاتا ہے تو سوال کرنے کی روایت ختم ہو جاتی ہے، فکر جمود کا شکار ہو جاتی ہے اور معاشرہ رفتہ رفتہ شدت پسندی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

اسی طرح سیاست میں نظریے کا جبر اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیتا ہے، سیاسی اختلاف جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی خوبصورتی سمجھا جاتا ہے، وہ غداری، نفرت اور لیبلنگ کا شکار ہو جاتا ہے، نتیجتاً مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور دلیل کی جگہ الزام لے لیتا ہے، ہر وہ شخص جو مختلف سیاسی رائے رکھتا ہو، اسے ملک دشمن، ایجنٹ یا مفاد پرست قرار دے دینا ایک آسان راستہ بن جاتا ہے، مگر یہ راستہ دراصل جمہوریت کو آمریت کی طرف دھکیلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن معاشروں میں مذہبی یا سیاسی نظریات کو بزور طاقت مسلط کیا گیا وہاں نہ صرف فکری ترقی رک گئی بلکہ سماجی تقسیم، نفرت اور خونریزی نے بھی جنم لیا، کیونکہ جب انسان کو آزادانہ سوچنے اور اختلاف کرنے کا حق نہ دیا جائے تو وہ یا تو خاموش غلام بن جاتا ہے یا پھر ردعمل میں شدت پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے، دونوں صورتیں معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، ایک طرف سوچنے والے دماغ خاموش ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف انتہا پسندی کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نظریہ مسلط کرنا اصلاح کے لیے ضروری ہے، مگر یہ ایک خطرناک مغالطہ ہے، کیونکہ اصلاح کبھی بھی جبر سے نہیں آتی، اصلاح ہمیشہ شعور، دلیل اور مکالمے کے ذریعے جنم لیتی ہے، جو نظریہ واقعی مضبوط ہوتا ہے وہ سوال سے نہیں گھبراتا، وہ اختلاف کو برداشت کرتا ہے اور دلیل کی بنیاد پر اپنی جگہ خود بناتا ہے، اس کے برعکس جو نظریہ خود کو کمزور محسوس کرتا ہے وہ ڈنڈے، نعروں اور خوف کا سہارا لیتا ہے، اس طرح نظریے کو زندہ رکھنے کی کوشش دراصل اس کی کمزوری کا اعتراف بن جاتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ اگر ہر فرد کو اپنے مذہبی عقیدے اور سیاسی رائے کے اظہار کی آزادی نہ ہو تو پھر جمہوریت کہاں رہ جاتی ہے، کیا جمہوریت صرف انتخابات کے دنوں میں یاد آنے والی ایک رسم ہے یا پھر یہ ایک مستقل عمل ہے جو روزمرہ زندگی میں برداشت، احترام اور آزادی کا تقاضا کرتا ہے، اگر کسی شہری کو اس کے عقیدے یا سیاسی سوچ کی بنیاد پر کمتر سمجھا جائے، اس پر فتوے لگائے جائیں یا اسے غدار کہا جائے تو یہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

صحت مند جمہوریت میں ریاست اور معاشرہ فرد کے شعوری اختیار کا احترام کرتے ہیں، اسے زبردستی مخصوص سانچوں میں نہیں ڈھالتے۔ مذہب فرد کو اخلاقی سمت دیتا ہے اور سیاست اسے اجتماعی فیصلوں میں شریک ہونے کا حق دیتی ہے، دونوں صورتوں میں آزادی بنیادی شرط ہے، کیونکہ آزادی کے بغیر نہ ایمان معتبر رہتا ہے اور نہ ہی رائے کی کوئی وقعت باقی رہتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا مذہبی اور سیاسی نظریہ اس کا ذاتی معاملہ ہے، اسے دوسروں پر مسلط کرنے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں، جیسے ہی یہ حق چھینا جاتا ہے ویسے ہی جمہوریت اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور صرف ایک خالی خول بن کر رہ جاتی ہے، جس کے اندر خوف، نفرت اور خاموشی بسی ہوتی ہے، اصل جمہوریت وہی ہے جہاں مختلف آوازیں ساتھ ساتھ سنائی دیں، جہاں اختلاف کو برداشت ہی نہیں بلکہ قبول کیا جائے اور جہاں انسان کو انسان رہنے کا حق دیا جائے، نہ کہ کسی نظریے کی جبری تصویر بنا دیا جائے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply