پاکستانی سیاست میں بعض معاملات ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ قانونی دائرے سے نکل کر جذبات، نفرت اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیانیے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ، الطاف حسین کے خلاف الزامات اور ان کے گرد گھڑا گیا سیاسی و ریاستی رویہ اسی المیے کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل لندن میں ہوا، جو کسی بھی لحاظ سے محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنگین فوجداری جرم تھا۔ اس قتل کی تحقیقات برطانیہ کے معتبر ترین ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کیں۔ یہ تحقیقات برسوں پر محیط رہیں، جن میں ہزاروں افراد سے پوچھ گچھ، مالی، سفری اور دستاویزی ریکارڈز کی جانچ اور ہر ممکن پہلو سے تفتیش شامل تھی۔ اس طویل، جامع اور ہمہ جہت تحقیق کے باوجود کسی برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو اس قتل میں مجرم قرار نہیں دیا۔ یہ حقیقت کسی سیاسی دفاع یا ہمدردی کا نتیجہ نہیں بلکہ برطانوی عدالتی نظام اور اس کے ریکارڈ کی عکاسی ہے، جہاں صرف شواہد کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
برطانیہ میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف قوانین دنیا کے سخت ترین قوانین میں شمار ہوتے ہیں۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ابو حمزہ المصری کو گرفتار کر کے طویل قید دی گئی اور بعد ازاں امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ انتہا پسند مبلغ انجم چودھری کو برسوں قید کا سامنا کرنا پڑا۔ القاعدہ اور طالبان سے وابستہ متعدد افراد کی شہریت منسوخ کی گئی، انہیں ملک بدر کیا گیا یا سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ برطانیہ میں نہ شہرت، نہ سیاست اور نہ کسی بیرونی دباؤ کو قانون پر فوقیت حاصل ہے۔ اگر الطاف حسین واقعی دہشت گردی یا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہوتے تو وہ نہ آزاد گھوم رہے ہوتے اور نہ ہی بغیر کسی پابندی یا قید کے لندن میں زندگی گزار رہے ہوتے۔
اس کے برعکس، زمینی حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین اس وقت لندن میں انتہائی محدود مالی وسائل کے ساتھ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر وہ کسی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ ہوتے تو ان کے حالات اس کے بالکل برعکس ہوتے۔ دولت، سہولتیں اور تحفظ ان کا مقدر ہوتیں، نہ کہ معاشی تنگی اور تنہائی۔
سیاسی بیانیے کی کمزوری اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب مصطفیٰ کمال جیسے رہنما ایک ہی سانس میں الطاف حسین کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور اسی بیانیے میں ڈاکٹر عمران فاروق کو بھی ’’را‘‘ سے جوڑ دیتے ہیں۔ یعنی ایک ہی کہانی میں مقتول بھی ایجنٹ اور الزام بھی ایک اور پر۔ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ الزامات قانونی کم اور سیاسی نوعیت کے زیادہ ہیں۔ مزید یہ کہ ایک وقت میں خود ریاستِ پاکستان نے ڈاکٹر عمران فاروق کو مطلوب قرار دیا اور ان کے سر کی قیمت مقرر کی، جو آج بھی ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے۔ ایسے میں سارا ملبہ صرف الطاف حسین پر ڈال دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قانونی اصولوں سے ہم آہنگ۔
دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مصطفیٰ کمال نے قومی میڈیا پر براہِ راست نشریات کے دوران الطاف حسین کے خلاف نہ صرف الزامات لگائے بلکہ انتہائی گندی اور غلیظ زبان استعمال کی، جسے پاکستانی میڈیا نے بغیر کسی سنسر کے نشر کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی الفاظ کوئی عام شہری یا کمزور سیاسی آواز استعمال کرتی تو کیا وہ اسکرین پر دکھائے جاتے؟ پیمرا کی خاموشی اس پورے معاملے میں نہایت تشویشناک ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کا کام اخلاقی حدود، ضابطۂ اخلاق اور نشریاتی معیار کو برقرار رکھنا ہے، وہ اس کھلی بدزبانی پر مکمل طور پر خاموش نظر آیا۔ یہ خاموشی صرف جانبداری ہی نہیں بلکہ میڈیا ریگولیشن کے دوہرے معیار کی واضح مثال ہے، جہاں کچھ افراد کے لیے ہر حد جائز اور کچھ کے لیے ہر لفظ جرم بن جاتا ہے۔
الطاف حسین کی سیاسی جدوجہد چار دہائیوں پر محیط ہے۔ ایم کیو ایم محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ کراچی اور اندرونِ سندھ کے شہری حلقوں کی شناخت، آواز اور نمائندگی کا نام ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ ایم کیو ایم کا ووٹ بینک آج بھی الطاف حسین سے جڑا ہوا ہے۔ جو دھڑے بعد میں وجود میں آئے، وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ الطاف حسین نے کراچی اور شہری سندھ کے عوام کو پہلی بار سیاسی شناخت دی، ان کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا اور تعلیم، صحت، روزگار، پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل پر مسلسل آواز بلند کی۔
آج کراچی ٹوٹتی سڑکوں، بکھرتے انفراسٹرکچر، پانی و بجلی کے بحران، ناکارہ ٹرانسپورٹ اور صحت کے مسائل کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اندرون سندھ کے شہری علاقے بھی بدانتظامی، بے روزگاری اور محرومی کا شکار ہیں۔ موجودہ سیاسی دھڑے نہ عوامی اعتماد رکھتے ہیں اور نہ ہی مسائل حل کرنے کی صلاحیت۔ ایسے حالات میں عوام کی نظریں آج بھی الطاف حسین پر جمی ہوئی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ 22 اگست کو لگایا گیا پاکستان مخالف نعرہ ناقابلِ دفاع تھا۔ ریاست نے اس پر سخت ردعمل دیا اور پابندیاں عائد کیں، جو آج تک برقرار ہیں۔ تاہم یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ الطاف حسین نے بارہا ریاستِ پاکستان سے معافی مانگی، اپنے الفاظ کو غلط اور نقصان دہ قرار دیا اور ندامت کا اظہار کیا۔ ریاست کی اصل طاقت صرف پابندیوں میں نہیں بلکہ اصلاح، مکالمے اور قومی مفاد کے لیے راستے نکالنے میں ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست الطاف حسین کی معافی کو سیاسی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاہمت کا موقع سمجھے۔ آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے انہیں قومی سیاست میں واپس آنے کا راستہ دیا جائے۔ یہ اقدام نہ صرف ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو مستحکم کرے گا بلکہ کراچی اور اندرون سندھ کے شہری مسائل کے حل کے لیے بھی عملی پیش رفت کا سبب بنے گا۔ قومیں شور، نفرت اور انتقام سے نہیں بلکہ انصاف، تدبر اور مفاہمت سے آگے بڑھتی ہیں۔
کراچی اور اندرون سندھ کے عوام آج بھی اسی امید میں ہیں کہ الطاف حسین ایک بار پھر اپنی آواز سے انہیں شناخت دیں گے۔ وہ آج بھی ایک “ہیلو” کے منتظر ہیں۔ الطاف حسین کی قیادت ان کے لیے محض ایک سیاسی نام نہیں بلکہ شناخت، امید اور شہری حقوق کی علامت ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں