• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مغربی میڈیا کے ایران مخالف پروپیگنڈے اور زمینی حقائق /شیر علی انجم

مغربی میڈیا کے ایران مخالف پروپیگنڈے اور زمینی حقائق /شیر علی انجم

آج کی دنیا میں میڈیا کو معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے، جو حقائق کو بے نقاب کرتے ہوئے عوام کو باخبر رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے یہ آئینہ اکثر طاقتور ممالک اور سرمایہ دارانہ نظام کی خدمت میں مصروف نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ایران فلسطین کی سیاسی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے مغربی میڈیا، بشمول بی بی سی اردو، مسلسل منفی پروپیگنڈوں پر مشتمل خبروں اور اسٹوریز کی اشاعت کرتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا نہ صرف ایران جیسے اسلامی دنیا کے واحد ملک جو استقامت کا استعارہ ہونے کے ساتھ فلسطینی عوام کیلئے عوام کی کرن ہے اور ناقابل تسخیر ہونے کا دعویٰ کرنے والا اسرائیل پر حملوں میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود داخلی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی حمایت میں سازشی کہانیوں کی اشاعت معمول کا حصہ بن گیا ہے ۔ بی بی سی اردو، جو برطانوی حکومت کی فنڈنگ سے چلتی ہے، ایران کی صورتحال پر رپورٹنگ کرتے ہوئے واضح طور پر جانبدارانہ رویہ اپناتی ہے۔ مثال کے طور پر، حالیہ احتجاجات کے دوران بی بی سی نے ایران کے اندرونی مسائل کو اس طرح پیش کیا کہ یہ حکومت کے خلاف ایک بڑی بغاوت کا رنگ دکھائی دے۔ ایک رپورٹ میں بی بی سی نے احتجاجات کو عوامی بغاوت قرار دیا، جبکہ یہ احتجاجات اقتصادی مسائل اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے تھے۔ مزید برآں، بی بی سی پر الزام ہے کہ وہ رضا پہلوی، جو ایران کے سابق شاہ کے بیٹے ہیں اور جلاوطنی میں رہ رہے ہیں، کی حمایت میں مواد نشر کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ہیش ٹیگز کو پروموٹ کیا جاتا ہے جو پہلوی کو ایران کا ممکنہ لیڈر پیش کرتے ہیں، جبکہ مخالفین کو بدنام کیا جاتا ہے۔ایرانی عوام کی جانب سے بی بی سی پر شدید تنقید کی جاتی ہے، جہاں اسے جھوٹا اور جانبدار قرار دیا جاتا ہے، خاص طور پر احتجاجات کی کوریج میں ریڈٹ جیسے پلیٹ فارمز پر بھی بحثیں چل رہی ہیں کہ بی بی سی کے رپورٹرز پہلوی کی حمایت کرنے والوں کو فریم کرتے ہیں، جو ایک واضح پروپیگنڈا ہے۔ یہ جانبداری کوئی نئی بات نہیں۔ الجزیرہ کے ایک آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ایران بی بی سی پر جنگ کا الزام لگاتا ہے، کیونکہ اس کی فارسی سروس نے تاریخی طور پر برطانوی انٹیلی جنس کے مواد کو نشر کیا، جو شاہ رضا پہلوی کو نشانہ بناتے تھے۔ آج یہ سروس ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے، جو برطانوی مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ ایک ایرانی اخبار نے بی بی سی فارسی کو تہران کے خلاف جنگ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ مغربی میڈیا کی ایران مخالف پروپیگنڈا کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1953 میں سی آئی اے کی حمایت سے ایران میں بغاوت ہوئی، جس میں امریکی میڈیا نے عوامی رائے کو شکل دی تاکہ مداخلت کو جائز قرار دیا جائے۔ اس وقت میڈیا نے نیشنلسٹوں کو بدنام کرنے کے لیے حکمت عملی اپنائی، جو آج بھی جاری ہے۔ کے سیکولر لیڈر صدام حسین کو شیطانی شکل دی گئی، جبکہ ایران کو دشمن پیش کیا گیا۔ 9/11 کے بعد مغربی میڈیا نے ایران کو منفی طور پر پیش کیا، اکثر قدیم سلطنتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر۔حالیہ اسرائیلی حملوں کو بھی دفاعی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ایران کو حملہ آور دکھایا جاتا ہے الجزیرہ کے مطابق، 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں احتجاجات کی ایک لمبی تاریخ ہے، لیکن مغربی میڈیا انہیں ہمیشہ حکومت مخالف بغاوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔یہ پروپیگنڈا ایران-اسرائیل تنازع میں بھی واضح ہے، جہاں میڈیا حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کر کے رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتا ہے۔انقلاب اسلامی کے وقت بھی مغربی میڈیا نے بھرپور پروپیگنڈا کیا، لیکن یہ ناکام رہے۔ آج بھی یہ سازشیں جاری ہیں، جیسے کہ حالیہ احتجاجات میں ایرانی حکومت خود کو بدنام کرنے کی الٹ حکمت عملی اپناتی ہے۔بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کا میڈیا بھی اس راہ پر چل پڑا ہے۔ نجی چینلز عوامی مسائل، سیاسی اور معاشی صورتحال کا صحیح جائزہ پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ وہ بھی مغربی میڈیا کی طرح ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی موقف کو پروموٹ کرتے نظر آتا ہے۔ دوسری طرف، ڈیجیٹل میڈیا مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے خلاف سازشوں اور پاکستان میں فسادات کو مکمل طور پر آشکار کر رہا ہے۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آزاد صحافی اور تجزیہ کار حقیقی خبروں کو سامنے لا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک ویڈیو میں رضا پہلوی کو ایران کی قیادت کے لیے تیار دکھایا گیا، جو پروپیگنڈا کا حصہ ہے،لیکن ڈیجیٹل میڈیا اسے چیلنج کر رہا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جعلی خبروں کی بحث میں ایرانی صارفین سابق بادشاہ کی واپسی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن یہ پروپیگنڈا ہے۔ ان تمام صورتحال کے باوجود یہ بات ایک تلخ اور تاریخی حقیقت ہے کہ مغربی میڈیا کی پروپیگنڈا ایران کی زمینی حقیقت پر کوئی فرق نہیں ڈال سکتی، لیکن یہ صحافت کی جانبداری کو عیاں کرتی ہے۔ صحافت کو سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے تاکہ یہ واقعی معاشرے کا آئینہ بن سکے۔ پاکستان اور دیگر ممالک کو اپنے میڈیا کو آزادانہ اور متوازن بنانا ہوگا، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایران کی طرح، جو انقلاب اسلامی کے بعد سے پروپیگنڈا کا سامنا کر رہا ہے، دیگر ممالک کو بھی اپنی خودمختاری کی حفاظت کرنی چاہیے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply