کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر ایک مفتی اور ملحد کے درمیان ہونے والے مناظرے پر تبصرہ جو ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵کو دہلی میں منعقد ہوا
گفت ”ایں غوغا و قیل و قال چیست
ایں قیاس و وہم و استدلال چیست؟“
خواہ مخواہ میں نے اپنی نیند خراب کی۔ کینیڈا میں خدا کے وجود پر مناظرہ رات کے ساڑھے تین بجے ختم ہوا تھا۔ لاحاصل، بے جہت، بے نتیجہ، اور جہالت کی فتح مبین پر منتج۔ سرقے، ڈھٹائی، اور جہل سے عبارت۔ سرقہ اور ڈھٹائی مفتی کی اور جہل میں دونوں برابر کے شامل۔ سرقہ یونانی مشرکوں کی کنٹن جنسی دلیل کا جو کائنات کو ابدی مانتے تھے۔ اگر معلوم نہ تھا کہ یہ دلیل ثابت شدہ باطل ہے تو جہل، اور اگر معلوم تھا تو اسکو پیش کرنا ڈھٹائی۔ اس باطل مشرکانہ دلیل کوخدائے واحد کے وجود کے ثبوت میں پیش کرنا بدترین جسارت۔ نہ مولوی نے الحاد قبول کیا، نہ ملحد نے خدا، نہ ہی اپنے اپنے موقف پر نظرثانی کا کوئی عندیہ۔ مناظرے میں استعمال ہونے والی فرسودہ اور باطل اصطلاحات سے سامعین کی دو طرفہ اکثریت بے بہرہ۔ مولویوں کا شعبۂ اطفال ہیجانی اہتزاز سے بے حال، گویا آیت کنٹن جِنسی اسی وقت نازل ہوئی تھی۔
ایک طبیب حاذِق کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ مرض کی اصل نوعیت کو جان کر علاج شروع کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر قسم کے دردِسر کو دردِ شقیقہ سمجھ کر اسی کی دوائیں کھلانا شروع کر دے۔ ایسے طبیب کو حاذِق نہیں پیدل گردانا جائے گا۔ کچھ یہی نوعیت تھی اس مناظرے کی۔ ملحد کے الحاد کی نوعیت دیگر، اور مفتی کا استدلال دیگر۔ اور وہ بھی باطل۔ مارے گھٹنا پھوٹے آنکھ کا مصداق۔
جس طرح خدا کو ماننے (آستِکتا یا (theism کی مختلف شکلیں ہیں، اسی طرح الحاد (ناستِکتا یا (atheism کی بھی مختلف شکلیں ہیں۔ پہلے آستِکتا کو لیجیے:
کسی کے نزدیک خدا کی ذات کائنات کو محیط ہے مگر بیک وقت اس سے ماوراء بھی ہے (Panentheism) ۔ کسی کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ضرور ہے مگر وہ اس کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا (deism) کہ وہ ایک non-intervening خدا ہے۔ کسی کے نزدیک ایک وراءالوراء خدا ضرور ہے مگر اسکے نیچے ذیلی خداؤں کی ایک لمبی قطار ہے (برہمنی، یونانی، رومی، مصری مشرکانہ مذاہب، یا Hedotheism )۔کسی کے نزدیک خدا جانور اور انسان کی شکل میں اوتار لیتا ہے (برہمنیت اور عیسائیت)۔ کسی کے نزدیک خدا بذات خود کائنات کی صورت جلوہ افروز ہے (برہمنی اَدُوَیت واد، فلاطینوس کی نوافلاطونیت، اورابن عربی کا ہمہ اوست یا وحدت وجود( monism ۔ کسی کے نزدیک خدا خود تو کائنات کی صورت مجسم نہیں ہے، مگر اسکی تجلی کائنات کے ذرے ذرے میں جاری و ساری ہے pantheism) ہمہ ازاوست یا وحدت شہود)۔ کسی کے نزدیک خدا بے خبر انسانوں کی طرح باغ عدن میں آدم کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے، انسانی صورت میں ابراہیم ؑکے پاس آکر ہمکلام ہوتا ہے، انسانی قربانی کا طالب ہوتا ہے، گھن گھرج، دھوئیں اور دھماکوں کے ساتھ طور پر اتر پڑتا ہے، اوربنی اسرائیل کے قافلے کے ہمراہ دھوئیں کے مینار کی شکل میں ساتھ ساتھ چلتا ہے (تورات)۔ کسی کے نزدیک خدا تثلیثی وحدت ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ کائنات کے اوپر کسی جگہ تخت پر بیٹھا حکومت کر رہا ہے، اور اسکے اوپر خدا کا اتیسرا اقلیم ” روح القدس“ بشکل فاختہ پھڑ پھڑا رہا ہے (پولوسی عیسائیت)۔ بعض ایرانی مسلم روایتوں میں خدا کائنات سے بہت اوپر ایک تخت پر براجمان ہے، جسکو سات بکرے اٹھائے ہوئے ہیں اور بکرے سمندر میں کھڑے ہیں، وغیرہ (ترمذی)۔ پھر مسلمانوں میں بعض کے نزدیک اسکا انسانوں جیسا جسمانی وجود ہے (اہلِ حدیثی ، وہابی سلفیت)۔ بعض کے نزدیک جہنم کی بھوک مٹانے کے لیے وہ اپنا پاؤں جہنم میں رکھ دے گا (بخاری، نعوذباللہ)۔ کسی کے نزدیک علی ؓ ہی خدا تھے۔ کسی کے نزدیک احمد ؐکے پردے میں احد تھا۔ ” عرش پہ کبریا بھی تم، فرش پہ مصطفیٰ بھی تم/اب رہنے دو یہ راز کھل گیا، بندے بھی تم خدا بھی تم“ (نعوذباللہ)۔
پھر قرآنی خدا ہے جو ان سب سے الگ اور یکتا ہے، اسکی مثل جیسی بھی کوئی شے نہیں (لیس کمثلہٖ شیء)۔ مطلقاً غیر منحصر یعنی’ الصمد’ (completely independent/ absolutely Incontingent) ہے۔ نہ وہ کسی کی اولاد نہ اسکی کوئی اولاد، نہ ہی اوتار، کائنات کا صورت گر، خالق اور پالن ہار، کائنات کے مرکزی نظام پر پوری طرح حاوی یعنی مستویٰ علی العرش، اور ہر انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب، یعنی شخصی خدا۔اسکا وجود انسانی حواس اور عقل سے ماورا، کُل موجودات اسکے ہونے کا اشاریہsignifiers، اور جس پر حکم بن دیکھےایمان یعنی ایمان بالغیب کا، ایمان بالثبوت کا نہیں۔
چنانچہ خدا کاکوئی ایک متفق علیہ تصور نہیں ہے جس کو ثابت کر دینے سے قرآنی خدا آپ سے آپ ثابت ہو جائے گا، جس میں مفتی صاحب یقین رکھتے ہیں اور بطور مسلمان باقی تمام خداؤں کے ملحد ہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر تصورِ خدا دوسرے تصور خدا کی نفی ہے۔اور قرآنی تصور خدا تمام دوسرے تصورات خدا کی مجموعی ،حتمی، اور کامل نفی۔
اگر آپ قرآنی تصور خدا پر یقین رکھتے ہیں اور باقی گروہوں میں سے کسی کو اسکا قائل کرنا چاہتے ہیں تو آپکو اسکے مخصوص عقیدۂ خدا کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا استدلال مرتب کرنا ہوگا۔ مطلب یہ کہ اگر مُخاطَب تثلیث میں ایمان رکھتا ہے تو تثلیت پر استدلال کرنا ہوگا۔ اور اگر وہ اَدُوَیت واد (لا ثنویت) یا ہمہ اوست کے تصور پر یقین رکھتا ہے تو اپنا استدلال صرف ہمہ اوست پر مرتکز رکھنا ہوگا۔ لیکن اگر آپ تثلیثی عقیدے والے سے مجادلہ کرتے ہوئے سارا استدلال ہمہ اوستی کے خلاف کرنا شروع کردیں تو آپکا مخاطَب کہے گا کہ یہ میرا تصور خدا ہی نہیں۔ اسی طرح اگر ہمہ اوستی سے بحث کرتے ہوئے سارا استدلال تثلیث کے خلاف کرنا شروع کردیں تو وہ بھی یہی کہے گا کہ میں تو تثلیث میں یقین نہیں رکھتا۔ پہلے مرض کی درست تشخیص کیجیے اور پھر علاج شروع کیجیے۔ یعنی پہلے یہ معلوم کیجیے کہ مُخاطَب کا تصور خدا ہے کیا، اور پھر اسکا اثبات یا ابطال کیجیے تو اِسکا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ورنہ سارا استدلال بیکار، بے محل، مبنی بر جہل یا فریب، اور وقت کا ضیاع۔
اب الحاد کو لیجیے۔ ناستِکتا یا الحاد کوئی جدید شے ہے نہ جدید ہونے کی علامت۔ یہ خدا پرستی ہی کی طرح ہزاروں سال پرانا ہے، مثلاً قدیم بھارت میں بدھ مت، جین مت، اور چارواک اور قدیم یونان میں Epicurus ، Socrates ، Protagoras وغیرہ کے تصورات۔ جدید لفظ atheism قدیم یونانی Aetheos کی انگریزی ہے جسکا اصلاً مطلب تھا ناپاک یا فاسق جو بعد میں ’بے خدا‘ کا مفہوم دینے لگا۔ جس طرح تصور خدا کی مختلف شکلیں ہیں، اسی طرح الحاد کی بھی مختلف شکلیں ہیں:
۱۔ایک فلسفیانہ الحاد ہے:
یعنی کسی نے قدیم و جدید الحادی فلسفیانہ تصورات و مباحث کا مطالعہ کیا اور انکے زیر اثر آکر ملحد ہوگیا۔ ایسے ملحد سے فکری اور فلسفیانہ بحث کی جائے گی۔ اور منطقی و فلسفیانہ استدلال کے ذریعے ہی اسکو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
۲۔ایک عقیدے کا الحاد ہے:
جیسے جین دھرم ،بدھ دھرم یا چارواک۔ انکے عقیدۂ الحاد کی نوعیت سے پوری واقفیت حاصل کی جائے گی اور انکا اصل الگ الگ موقف معلوم کر کےاسی سطح پر استدلال کیا جائے گاتا کہ وہ انکو اپیل کرے۔ یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جینیوں والا استدلال بودھوں سے نہ کیا جائے، نہ بودھوں والا جینیوں سے، اور نہ بودھوں اور جینیوں والا چارواک سے۔ اور نہ ان سب کا آج کےذہین ترین اور عالم ترین ملحدین مثلاً ڈلا ہنتی ،ڈاکنس، اور بارٹ ارمن سے۔ نہ انکا آپس میں کہ دراصل ان تینوں کے الحاد کی نوعیت بھی الگ الگ ہی ہے۔ دقیق تخصص super specialization کے اس زمانے میں یہ خیال رکھنا ہو گا ، ورنہ آپکا استدلال فضول، مجہول ، اور غیر متعلق irrelevant ثابت ہوگا، اور بے نتیجہ رہے گا۔ بلکہ ہر سطح پر شدیدمنفی ردعمل بھی پیدا کرے گا۔ جیسا کہ بدقسمتی سے یہ مناظرہ کر رہا ہے۔
۳۔ایک الحاد سیاسی،نظریاتی ہے:
جیسے اشتراکی مارکسی۔ انکے الحاد کی معاشرتی ، معاشی، تاریخی، مادی جدلیاتی نوعیت کو پوری طرح سمجھ کر پھر اسکے بارے میں استدلال کیا جائے گا، تا کہ بحث غیر متعلق اور لایعنی ہو کر نہ رہ جائے اور خلط مبحث نہ ہو۔ پیش نظر رکھنا ہو گا کہ یہ نظریہ الحاد سے برآمد نہیں ہوا، نہ اسکا مرکزی خیال الحاد کی ترویج ہے، بلکہ یہ کہ وجود خداوندی کا رائج عقیدہ انکے اشتراکی نظام کے لیے غیر موزوں ہے، اور اسکے قیام میں حائل۔
۴۔ایک الحاد مشاہدات، شدتِ احساس، جذبات، اور نفسیاتی ردِّعمل کا پیدا کردہ:
جب ایک حساس ذہن سیاست یا خصوصاًمذہب کے نام پر کیے جانے والے جرائم، سفاکیت، اور مذہبیت کے علمبرداروں کے سخت منافقانہ کردار کو دیکھتا ہے، اورظلم و بربریت کو روکنے کے لیے خدائی مدد کے نہ آنے کا مشاہدہ کرتا ہے، تو وہ منفی ردعمل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اس نتیجے پر پہونچتا ہے کہ اگر مذہبی معاشروں میں یہ سب ہوتا ہے، مذہبی ایسے بے حِس ہوتے ہیں، اور مظلوموں کے لیے کوئی خدائی مدد نہیں آتی، تو یہ خدا وغیرہ سب تخیلانہ مفروضات ہیں۔ اور ایک شاعرانہ ذہن تو حد سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایٹم بم گرانے والوں کو ایک عیسائی مولوی نے برکت دے کر بھیجا تھا، اور بم گرانے کے بعد بمباروں نے خداوند مسیح کا شکر ادا کیا تھا۔ ہٹلر کیتھولک عیسائی تھا۔ حافظ، فقیہ، پنج وقتہ نمازی اور روزوں کے پابند تیمور نے لاکھوں انسان تہِ تیغ کیے تھے۔ لاکھوں بنگالیوں، یمنیوں اور سوڈانیوں کے قاتل مسلمان ہیں، آدی شنکر آچاریہ کی تحریک پر پورے بھارت میں بودھوں کو نیست و نابود کیا گیا تھا۔ بعض مسلمان ملکوں میں جبر کے نظام تھوپنے والے اور انکی شخصی آزادیاں سلب کرنے والے اسلام کے سب سے بڑھ کر علمبردار ہیں، جیسے ایران و افغانستان و عربستان۔ مزید برآں، قدرتی آفات کی برپا کی ہوئی بے پناہ تباہی اور انسانوں کا کیڑوں مکوڑوں کی طرح مرنا بھی انکے اس خیال کو مہمیز دیتا ہے کہ کوئی خدا نہیں، کہ اس میں تو انسانی آزادئ ارادہ یا free will کا بھی کوئی عمل دخل نہیں۔ (یہ پریشانی شکسپیر کو بھی تھی: “As flies to wanton boys are we to the gods;/ They kill us for their sport” )۔الحاد کی یہ قسم بھی جاوید اختر تک محدود نہیں، بلکہ امریکی عالم پروفیسر بارٹ ارمن بھی اسی سبب کٹر تبلیغی عیسائی سے ملحد بنے۔ یہ ”عیسائی بائبل“ (عہد نامۂ جدید) کے چوٹی کے علماء میں سے ہیں، اہم ترین محققین اور عالمی شہرت یافتہ مصنفین میں انکا شمار ہے۔ لوگوں نے گمان کیا کہ چونکہ اپنی تحقیق کے نتیجے میں انھوں نے بائبل کو ہر قسم کی دانستہ و نادانستہ غلطیوں سے پُر پایا، اسلیے ملحد ہو گئے۔ لیکن اس گمان کی وہ باربار پرزور تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انکے الحاد کی وجہ صرف دنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی بے انتہا suffering ہے۔ اگر خدا موجود ہوتا تو اسکو روکنے کے لیے ضرور کچھ کرتا، یا ہونے ہی نہ دیتا۔ بعینہٖ یہی وجہ جاوید اختر کے الحاد کی بھی نظر آتی ہے۔
اس سب پر مستزاد مذہبی گھرانوں کے اندر پایا جانے والا گھٹن کا ماحول، پست بدویانہ معاشرت، درشتی، یبوست، خشونت، تقشف، منافقت، سوال پوچھنے پر قدغن، نماز نہ پڑھنے پر پٹائی، اور بے عقلی کی باتوں پر اصرار۔ایسے تمام عوامل جدید ذہن میں سخت منفی ردعمل پیدا کرتے ہیں۔ جاوید اختر بھی مولوی فضل امام خیرآبادی اور مولوی فضل حق خیرآبادی (وفات ۱۸۶۱) جیسے جید علماء ِ دین کے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ مذہبی گھرانوں کی نئی نسل بددین یا ملحد کیوں ہو جاتی ہے؟ اسکی خاص وجہ آیتِ کنٹن جِنسی سے بے خبری یا فلسفیانہ مطالعہ نہیں، بلکہ بیشتر مولویت اور اس کے مظاہر کے خلاف نفسیاتی ردعمل ہے۔ الحاد کی سب سے بڑی وجہ ہمارے زمانے میں مولویوں کا طبقہ ہے۔ قرآن نے مولویت کی بیخ کنی کر دی تھی، مگر بدقسمتی سے اس طبقے نے نمودار ہو کر نہ صرف اسلام میں اپنی جگہ بنا لی، بلکہ حاوی ہو کر اصل اسلام کو منظر سے غائب کردیا۔ مولویت کا ہر پہلو جدید فکری ذہن کو بیزار کرتا ہے، مولویوں کی بدویانہ ہیئت کذائی سے لے کر انکے منافقانہ کردار تک۔
اگر آپ يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْض وَ … فَسَادًا کی قبیل سے نہیں بلکہ واقعی ایک بابصیرت اور پرخلوص مصلح ہیں، وجادِلھُم بِالَّتی ھِیَ اَحسَن کے حکم خداوندی پر عمل پیرا ہیں، اور بے نتیجہ لفظی کُشتی کی بجائے فی الواقع دوسروں کی بھلائی چاہتے ہیں توپہلے آپکو بڑی احتیاط سے یہ تشخیص کرنی ہوگی کہ آپکا مُخاطَب کس قسم کا ملحد یا دہریہ ہے؟ اور اسکے ذہن میں کیا سوالات، تصورات، دلائل، یا ردعمل ہے جسکی وجہ سے وہ ملحد بن گیا۔ پھر ایمانداری سے آپکو ان سوالات اور تصورات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا نوک پلک سے درست استدلال مرتب کرنا ہوگا تا کہ اسکو اپنے سوالات کا جواب مل سکے۔ اور وہ اپنے الحاد پر غور کر سکے۔ یا آپ غلط ہیں تو آپ اپنے خیالات پر نظر ثانی کر سکیں۔ لیکن اگر آپ اشتراکی ملحد کو سامنے بٹھا کر بدھسٹ الحاد کا ابطال شروع کر دیں، یا ایک شعری حسیت اور جذباتی ردعمل والے ملحد سے منطقی استدلال شروع کردیں تو یہ لایعنی، فضول، اور غیر مفید حرکت ہوگی جو آپکی نا پختگی یا پُر فریبی پر دال ہو گی۔اورتوقع کے برعکس نتیجہ پیدا کرنے والی ہوگی، جسکا نہ آپکو فائدہ، نہ مخاطَب کو، نہ ہیجانی اہتزاز میں مبتلا آپکے شعبۂ اطفال کو۔ بلکہ الٹا نقصان۔ جس بے نتیجہ اور بے سمت مناظرے کے لیے افسوس میں نے اپنی نیند خراب کی، وہ اسی طرح کا تھا۔
جاوید اخترایک شاعر اور تخلیقی ادب کے معروف فنکار ہیں۔ ایسے لوگ شدت احساس سے مغلوب ہوتے ہیں۔ منطق کا منشور پڑھنے کی بجائے وہ کتاب انسانیت پڑھتے ہیں۔ معمولی باتیں انکو پریشان کرتی ہیں جنکی طرف ایک عام آدمی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ انسانوں کا دکھ درد انکو چبُھتا ہے۔ وہ اس تکلیف کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور وہی بے قابو شدت ِ احساس انکو شعر و نغمہ یا نثری فن پارے کی تخلیق پر مجبور کرتا ہے ۔ میں نے انکو ملحدانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بارہا سنا ہے۔ انکے تبصروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انکے الحاد کی نوعیت جذباتی اور حسّاسی ہے، فلسفیانہ نہیں (جیسے عظیم امریکی محقق پروفیسر بارٹ ارمن کی بھی)۔ دنیا میں ہر طرف پھیلے ہوئے ظلم، زیادتی، قتل و غارت، تباہی، خاص طور سے مذہبی طبقے کی سنگدلی، بے حسی، عدم برداشت، بد ویت، عقل و ترقی دشمنی، اوہام و عجوبہ پرستی، معجزہ گرویدگی، زوال پسندی، منافقت ، اور اس پر مستزاد قدرتی آفات نے انکے اندر چند پریشان کن سوالات پیدا کیے اور مذہبی بیانیوں میں انکا اطمینان بخش جواب نہ ملنے پریا غیر عقلی اور مضحکہ خیز جواب ملنے پر وہ اپنے الحادی رد ِّعمل تک پہونچ گئے۔ ایسے لوگ پر خلوص ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مفتی نے جاوید اختر کے الحاد کی نوعیت پر ہمدردانہ غور اور اصل مرض کی تشخیص کیے بغیرخود اپنی طرف سے فرض کرلیا کہ انکا علاج منطقی استدلال سے کیا جا سکتا ہے۔ یا شاید قصداً ایسا کیا کہ مقصد اصلاح نہیں، بولتی بند کرنا تھا۔ جن مشاہدات، احساسات اور جذبات نے جاوید اختر کو الحاد تک پہونچایا ہو گا، ان میں سے کسی کو مفتی نے اپنے استدلال کا موضوع نہیں بنایا، انکے کسی اہم سوال کا جواب بھی نہیں دیا، بعض کو سمجھا بھی نہیں، بلکہ ایک منطقی استدلال میں خود کو محصور کر لیا۔ اور استدلال بھی محض مبتدیانہ اور انتہائی سطحی، سوا دو ہزار سال پرانا، اور صدیوں پہلے کا مسترد شدہ۔
وجود خدا کے ضمن میں یہ کنٹن جِنسی (سلسلۂ انحصار باہمی) اور اِنفِنِٹ ریگرس (لامتناہی رجعت قہقری) کے دلائل صدیوں پرانے، ازکار رفتہ، اور غیر مؤثر ہیں اور اصلاً ’کونی استدلال‘ cosmological argument کے اجزاء ہیں۔ یہ کسی مسلمان کلامی یا فلسفی یا مولوی کے انکشاف کردہ نہیں بلکہ یونانی مشرک فلاسفہ سے چوری شدہ ہیں جو کائنات کو ابدی مانتے تھے۔ plagiarized یعنی سرقے سے عبارت ہیں۔ انکا مُسکِت ابطال خود مغربی دنیا میں بار بار کیا جا چکا، خصوصاًتسلسل ِانحصار باہمی (contingency argument) کا استدلال جو اپنی تردید آپ ہے (’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘)۔
جب آپکا بنیادی اصول یہ قرار پایا کہ ہر معلول یا موجود کے لیے علت یا سبب cause ضروری ہے، چنانچہ کائنات کے لیے بھی ایک ’سبب‘ کا ہونا ضروری ہے۔ تو اس اصول کے تحت از خود لازم آیا کہ پھر اُس سبب کا بھی کوئی سبب ہونا چاہیے جس نے کائنات کو خلق کیا۔ یعنی اگر کائنات بغیر بنانے والے کے وجود پذیر نہیں ہو سکتی، اسکے خالق کا ہونا از بسکہ لازم ہے، تو پھر اسی اصول کے تحت لازم آیا کہ اس خالق ِکائنات کا بھی کوئی خالق (یعنی خالقِ خالق) ہونا چاہیے، اور پھر اسکا بھی اور پھر اسکا بھی ۔۔۔۔۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ نہیں ، نہیں۔ اسطرح یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اور ہم ابدی رجعت قہقری کا شکار ہو جائیں گے۔ چنانچہ ہم اس سلسلے کو خالق کائنات پر اچانک arbitrarily روک دیں گے۔اس سے پیچھے نہیں جائیں گے۔ یعنی، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کائنات موجود ہے تو اسکا موجِد ہونا لازم ہے، لیکن خالق کائنات موجود ہے مگر اسکا موجد ہونا لازم نہیں مانیں گے۔ کائنات تو خود نہیں بن سکتی، مگر خالق کائنات خود بن سکتا ہے۔ چلیے مان لیا۔ لیکن یہاں آپکے اُس اصول کا کیا ہوا کہ ہر موجود کے لیے سبب ضروری ہے؟ سبب اول کو غیر مخلوق قرار دینے کے لیے آپکو خود اپنا اصول توڑنا ہو گا کہ ہر موجود کا کوئی سبب ہونا چاہیے، جسکی بنیاد پر آپ کائنات کے لیے خالقِ کائنات کا ہونا لازم قرار دیتے ہیں۔ پھر خالق کائنات کو سبب اول کسی اصول پر قرار نہیں دیتے بلکہ ابدی رجعت قہقری کے خوف سے قرار دیتے ہیں۔ اگر آپکا اصول absolute ہے کہ ہر موجود کا سبب لازم ہے تو پھر ’خالقِ موجود‘ کا بھی کوئی سبب ہونا چاہیے۔ لیکن اگر اُسکا کوئی سبب نہیں تو پھر ثابت ہوا کہ ہر موجود کا کوئی سبب ہونا لازم نہیں۔ بغیر سبب کے بھی وجود ممکن ہے، اور وہ بھی کائنات سے زیادہ پیچیدہ۔ لیکن اگر کائنات سے بھی پیچیدہ تر خدا از خود موجود ہو سکتاہے توکم پیچیدہ کائنات بھی از خود موجود ہو سکتی ہے۔ یوں آپکا بنیادی اصول ہی باطل قرار پاتاہے (جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے)۔ دونوں باتیں بیک وقت absolute truth نہیں ہو سکتیں۔ دونوں میں سے ایک صحیح ہے یا دونوں باطل ہیں، یعنی یا تو کائنات بھی از خود بن گئی یا خالقِ کائنات کا بھی بنانے والا ہونا چاہیے۔ دوسرے، اس ’پس روی‘یا regress کو خالقِ کائنات پر ہی کیوں اچانک روک دیا؟ اگر لامتناہی رجعت قہقری کا ہی خوف دامن گیر تھا تب بھی تھوڑا اور پیچھے جانے میں کیا حرج تھا؟ چار پانچ قدم اور پیچھے چلے جاتے، اور وہاں اچانک روک دیتے۔ اور اُسی پانچویں کو ابدی واجب الوجود قرار دے لیتے، باقی چار کو اسکے ماتحت ’ممکن الوجود‘ ذیلی خدا، اور ان چار میں سے آخری کو خالق ِ کائنات۔ آخر پہلے پر بھی تو اچانک اور زبردستی ہی رکے تھے۔ مطلب یہ منطقی دلیل ہی بودی اور کنٹن جِنسی استدلال اپنی اصل میں ناقص، غیر حتمی، غیر مفید، اور غیر مؤثر ineffective ، جوخالقِ کائنات کا وجود و عدم وجود ثابت کرنے میں عاجز ِ محض اور اپنی تردید آپ۔ آئیے دیکھیں کہ واجب الوجود خالِق کی کیا کوئی بہتر تفہیم بھی ممکن ہے!
کچھ سوال اپنی اصل میں غلط ہوتے ہیں۔ آپ نے سنا ہوگا کہ کسی سے پوچھا گیا ”کیا تم نے اپنے ابا کی پِٹائی بند کر دی؟ ہاں یا نہیں؟“ اب وہ بیچارہ شریف انسان اگر کہے ’ہاں‘ تو مطلب ہوا کہ ابا کی پٹائی کرتا تھا۔ اور کہے ’نہیں‘ تو مطلب ہوا کہ اب بھی ابا کی پٹائی کرتا ہے۔ دونوں جواب غلط کہ سوال ہی غلط تھا۔ بلکل اسی طرح اپنی اصل میں یہ سوال ہی غلط ہے کہ پھر خالقِ کائنات کو کس نے بنایا؟ یہ ’نوعی خطا‘categorical error ہے۔ اسکو دو مثالوں سے سمجھیے۔
پہلی مثال: یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے پوچھا جائے کہ ”اگر قورمہ باورچی نے پکایا، بریانی باورچی نے پکائی، کھیر باورچی نے پکائی، نان باورچی نے پکائی تو باورچی کو کس نے پکایا؟ اگر کسی نے نہیں پکایا تو قورمے اور بریانی کو بھی کسی نے نہیں پکایا، وہ از خود پک گئے۔ اور اگر از خود نہیں پکے بلکہ کسی باورچی نے پکایا تو پھر لازم ہے کہ اس باورچی کو بھی کس نے پکایاہو“۔ کنٹن جِنسی والے یہاں ’ابدی پس روی‘ کے خوف سے پھنس جائیں گے۔ اسکا درست جواب یہ ہے کہ “باورچی کو کسی نے نہیں پکایا، نہ وہ از خود پکا، اسلیے کہ وہ پکنے والی چیز نہیں ہے۔ پکنے والی چیز کو پکایا جاتا ہے، نہ پکنے والی چیز کو نہیں۔ باورچی پیدا ہوا، بواسطۂ حیوانی عملِ تولید،کہ وہ پیدا ہونے والا انسان ہے۔ اورپکنے والی چیزوں کو پکاتا ہے، خود نہیں پکتا۔ انسانوں کو پیدا کیا جاتا ہے، اور کھانوں کو پکایا جاتا ہے۔ اگر وہ پکایا ہوا ہوتا تو کھانا ہوتا، باورچی نہ ہوتا۔ اور اگر باورچی ہے تو پکانے والا ہے، خود پکا ہوا نہیں۔ دونوں باتیں بیک وقت ممکن نہیں۔ کھانا اور باورچی دو الگ ‘انواع‘ categories ہیں۔ ان پر سوال بھی الگ نوع کے ہونگے۔ کھانوں کے بارے میں درست سوال ہے کہ انھیں کس نے پکایا؟ جواب، باورچی نے۔ اور باورچی کے بارے میں درست سوال ہے کہ اسے کس نے تَولُّد (پیدا) کیا؟ جواب، اسکے والدین نے۔
دوسری مثال: جیسے کہا جائے کہ ”اگر عمارت کی تیسری منزل دوسری منزل پر رکھی ہے، دوسری منزل پہلی منزل پر رکھی ہے، اور پہلی منزل زمین پر رکھی ہے، تو زمین کس چیز پر رکھی ہے؟ اگر زمین کسی چیز پر نہیں رکھی تو منزلیں بھی کہیں نہیں رکھیں، اور اگر منزلیں تَلے اوپر رکھی ہیں تو زمین بھی کسی چیز پر رکھی ہونی چاہیے“۔ یہاں بھی کنٹن جِنسی والا وہی ناقص جواب دے گا کہ اسطرح تو یہ سلسلہ کہیں رکے گا نہیں، اسلیے ہم زمین کو بلا سبب اور اچانک ’بغیر رکھا ہوا ‘ مان لیتے ہیں۔ لیکن اسکا درست جواب بھی وہی کہ یہ دو الگ ’انواع ‘ ہیں۔ منزلوں کی نوعیت الگ ہے اور زمین کی نوعیت الگ۔ زمین کسی عمارت کی منزل نہیں ہے جو کسی اور منزل پر یا کسی اور زمین پر دھَری ہو۔ بلکہ ایک کرہ ہے جو فضا میں تیز رفتاری سے گردِش کر رہا ہے۔ منزلیں ایک کے اوپر ایک قائم ہوتی ہیں، گردش نہیں کرتیں، اور کرہ گردِش کرتا ہے، رکھا نہیں ہوتا۔ ہر دو انواع پر سوال بھی الگ الگ ہوں گے۔ منزلوں کے بارے میں درست سوال یہ ہے کہ وہ کس پر قائم ہیں، پہلی منزل کہاں، اور دوسری منزل کہاں؟ جبکہ زمین کے بارے میں درست سوال یہ ہے کہ کیونکر گردش پذیر ہے، کہاں گردش پذیر ہے؟ نہ کہ کہاں رکھی ہے۔ (دلچسپ بات یہ کہ قدیم انسان نے دور جہالت میں اسی منطقی مغالطے کے سبب یہ تصور کیا بھی تھا کہ زمین سانپ کے پھن یا گائے کے سینگ پر رکھی ہے۔)
بعنیہٖ خدا کے بارے میں یہ سوال ہی باطل ہے کہ اسے کس نے بنایا یا خلق کیا؟ اسلیے کہ وہ بنائی ہوئی یا خَلق کی ہوئی چیز نہیں ہے۔ وہ بنانے والا یا خَلق کرنے والا ہے۔ جس طرح باورچی پکایا ہوا نہیں ہے، اسی طرح خدا خلق کیا ہوا نہیں ہے۔ باورچی اگر پکایا ہوا ہوتا تو کھانا ہوتا، باورچی نہ ہوتا۔ خدا اگر خلق کیا ہوا ہوتا تو مخلوق ہوتا، خالق نہ ہوتا۔ بنایا ہوا ہوتا، بنانے والا نہ ہوتا۔ اب رہی یہ بات کہ پھر کیا ماہیت یا کُنہ ہے اسکی ’نوع‘ کی؟ تو یہاں ایک دشواری حائل ہے جسکا کوئی منطقی حل نہیں۔ اسلیے کہ ہم باورچی کے بارے میں تو بربنائے مشاہدہ جانتے ہیں کہ پیدا کیا ہوا ہے، پکایا ہوا نہیں، منزل کے بارے میں جانتے ہیں کہ رکھی ہوئی ہے، گردش پذیر نہیں، لیکن خالق کے بارے میں کچھ نہیں جانتے او رکچھ نہیں کہ سکتے، بلکہ اسکی نوع کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ سمجھایا جائے تب بھی۔ اسلیے کہ ہمارے مشاہدے میں اسکی نوع کی کوئی مثل موجود، نہ مثل جیسی کوئی شےموجود۔ اُسی طرح جیسے مرغی خود کو قورمے میں تبدیل کردینے والے باورچی کی ماہیت کو نہیں سمجھ سکتی، جبکہ وہ تو باورچی کو دیکھتی بھی ہے۔ یا آپکے بطن میں زندگی کرنے والے بیکٹریا آپکی ذات شریف کا عرفان حاصل نہیں کرسکتے۔ ممکن ہی نہیں۔ کوئی طریقہ نہیں کہ اپنے پیٹ میں موجود جرثومے کو آپ اپنی شخصیت کا شائبہ بھی سمجھا سکیں حالانکہ بیکٹریا کی لاکھوں، کروڑوں نسلیں آپ کے اندر ہی پیدا ہوتی اور مرتی رہتی ہیں۔وہ یہ سوال پوچھیں تو غلط ہوگا کہ کہ اگر ہم کسی کے پیٹ میں رہتے ہیں تو وہ ہمیں دکھائی کیوں نہیں دیتا ، یا یہ کہ اچھا اگر ہم کسی شخص کی آنتوں میں رہتے ہیں تو وہ شخص کس کی آنتوں میں رہتا ہے؟ لیکن اپنے عدم فہم کی بنیاد پر وہ بیکٹیریا یہ نہیں کہ سکتے کہ آپ موجود ہی نہیں۔ اور اگر کہیں تو غلط ہو گا۔ اسی لیے قرآن کا مطالبہ بھی ایمان بالغیب کا ہے، ایمان بالثبوت یا ایمان بالمنطق کا نہیں۔ اور یہ تاکید بھی کہ ”ولا تقف مالیس لک بہ علم“ یعنی اس بات پر نہ کھڑے ہو جسکا تمھیں علم نہیں don’t stand by what you know not ( ۶:۱۷)، اور قرآن اسکو شیطانی حرکت سمجھتا ہے کہ ”تقولوا على الله ما لا تعلمون“ یعنی تم خدا کے متعلق وہ کہو جسکا تمھیں علم نہیں (۱۶۹:۲)۔ کنٹن جنسی والوں کا خدا کو کھینچ کر ”سبب اول“ یا ”علت اولیٰ“ کی سطح پر لے آنا اسی بدبختانہ زمرے میں آتا ہے۔
کائنات کبریٰ macrocosm سے لے کر ایٹمی اور تحت ایٹمی subatomic وجود تک ہمارے مشاہدے میں آنے والی کائنات کی پیچیدہ اشیاء یا مظاہرِ وجود جو معجزاتی انضباط اور خیرہ کن ریاضیاتی درستگی mathematical precision کے ساتھ مصروف بہ کار ہیں انکو دیکھ کر ہم عقلی سطح پر بس یہ قوی اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ انکا ضرور کوئی باشعور بنانے یا خلق کرنےوالا ہوگا، اور عقیدے کی سطح پر ایمان بالغیب رکھ سکتے ہیں۔ مگر چونکہ بنانے والے کے بذات ِخود بنی ہوئی چیز ہونے کا کوئی عقلی، نقلی، یا مشاہداتی ثبوت نہیں، اسلیے اس کے بارے میں یہ سوال ہی باطل ہے کہ اسکو کس نے بنایا؟ یہ سوال اٹھانے سے پہلے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کائنات کی دیگر اشیاء کی طرح ایک بنی ہوئی یا خلق کی ہوئی چیز ہے۔ اور یہ ثابت کرنا ناممکن ِمحض ہے۔
اب میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ استدلال حتمی ہے، مگر کنٹن جِنسی استدلال کا ناقص، باطل، اور فضول ہونا یقیناً حتمی ہے۔ اور اُس کے مقابلے یہ استدلال یقیناً زیادہ معقول، واضح اور قابل فہم ہے۔ اور قرآنی بصیرت سے قریب تر کہ قرآن نے بھی آفاق و انفس میں چہار سو بکھری ہوئی آیات یعنی نشانیوں پر غوروفکر کی اور عقل سے کام لینے کی مسلسل اور شدید تاکید کی ہے۔ وجود کے ثبوت میں کچھ نہیں کہا، مگر ناقص تصورات خدا کی بیخ کنی کی ہے اور درست تصور خدا کی وضاحت اور تنقیح۔ قرآن میں ”اللہ لا الٰہ الا ھو“ (اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ) موجود ہے، مگر”ان اللہ ھو موجود“ (یقیناً اللہ موجود ہے) نہیں۔”لاموجود الا اللہ“ (کچھ موجود نہیں سوائے خدا کے)تصوف کا کلمہ ہے قرآن کا نہیں۔”موجود“ کو قرآن تسلیم شدہ مان کر چلتا ہے۔ ثابت نہیں کرتا۔
مفتی کی ایک دلیل کو جاوید اختر نے رسل (Bertrand Russell) کی گردشی کیتلی کی ایک مثال سے توڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ خدا کو مانتے ہیں تو اسکو ثابت کرنا آپکی ذمے داری ہے، نہ ماننے والے کی نہیں۔ اس مثال کو مفتی سمجھے ہی نہیں۔ اس سے وہ سِرے سے ناواقف نظر آئے۔ اسلیے کہ پرانی کلامی کتابوں میں رسل موجود ہی نہیں۔ یہ نکتہ انکی فہم سے پرے تھا۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ جیسے میں کہوں کی میری جیب میں دنیا کا قیمتی ترین ہیرا موجودہے۔ آپ کہیں کہ میں تو نہیں مانتا، ہے تو دکھاؤ۔ لیکن میں کہوں کہ نہیں، اگر تم نہیں مانتے تو تم ثابت کرو کہ نہیں ہے۔ دوسرے،جاوید اختر نے دنیا میں جاری ظلم، ناانصافی، تباہی اورقتل و غارتگری کے حوالے سے سوالات اٹھائے (جو انکے الحاد کی اصل وجہ معلوم ہوتی ہے)، جن میں سے کسی کا مدلل اور قائل کن جواب مفتی نے نہیں دیا۔ بلکہ انجکشن کی فضول، غیر متعلق اور بے رحما نہ مثال دے بیٹھے۔ مفتی سمجھے ہی نہیں کہ جاوید اختر کے استدلال کی نوعیت کیا ہے۔ جاوید اختر کے لہجے میں انسانیت کے لیے درد تھا، اور مفتی کے لہجےمیں سفاکانہ لاتعلقی۔ ”آزادیٔ ارادہ و عمل“ اسکا جواب اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ خدا نے تاریخ میں کبھی انسانی یا دنیوی معاملات میں دخل اندازی (intervention) نہ کی ہوتی۔ لیکن نہ صرف انسانی معاملات میں بلکہ خود اپنے قوانین فطرت میں خدائی دخل اندازی کی ایک پوری تاریخ ہےجسکا سب سے بڑا ثبوت مذہبی معجزے ہیں۔ کبھی اس نے بنی اسرائیل کو سمندر پھاڑ کر نجات دی، تو کبھی ہزاروں فرشتے نازل کرکے، کبھی اصحاب فیل کو کھایا ہوا بھوسا بنا کے، کبھی عاد و ثمود، لوطیوں اور فرعون پر عذاب بھیج کر، اور کبھی بذات خود کرشن اور رام کی صورت میں زمین پر اتر کر اور مفسدوں کا صفایا کر کے، کبھی ہمالیہ کا ہتھیلی پر لنکا لے جانے کو ممکن بنا کر، کبھی نبی یشوعا کی صرف دعا سے اریحہ کا شہر نیست و نابود کر کے، اور کبھی اپنا اکلوتا بیٹا بن کر اور مصلوب ہو کردخل اندازی کا بار بار ثبوت دیا، وغیرہ۔ مذہبی ادب ان مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس پس منظر میں ایک ملحد کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہے کہ آخر جب دخل دیتا ہی ہے تو اب سوڈان، یوکرین اور غزہ وغیرہ میں ہزاروں معصوم بچوں کو مرنے سے کیوں نہیں بچاتا؟ نہ صرف یہ بلکہ قرآن صریحاً حکم دیتا ہے کہ مومنین پر لازم ہے کہ اٹھ کر ظلم و زیادتی کو مٹا دیں (النساء :۷۵)، عدل قائم کریں (المائدہ: ۸، النساء: ۱۳۵)، اور مجرمین کو قرار واقعی سزائیں دیں، جن میں سے کچھ بڑی شدید ہیں (المائدہ: ۳۳)۔ اگر عراق، افغانستان، سوڈان، یمن، یوکرین، اور غزہ کی تباہیاں اور مظالم ارادے کی آزادی free will کا مظہر ہیں تواس آزادی کے خلاف جدوجہد کا اور جرم کے خلاف سزا کا خدائی حکم کس لیے ہے؟ اسکے اپنے ہی عطا کردہ آزادئ ارادہ کو مٹانے کے لیے؟ آزمائشی مرحلے کی نفی کے لیے؟ اس مرحلے کو لایعنی بنانے کے لیے؟ فتنہ و فساد کے سد باب والی قرآنی آیات کی تنسیخ کے لیے؟ مفتی کواسکا سنجیدہ اور معقول جواب معلوم نہ تھا۔ جاوید اختر نے یہ بھی کہا کہ اگر دنیوی زندگی صرف آزمائشی دور ہے جس میں خدا دخل نہیں دیتا تو پھر دعا کا کیا مطلب ہے؟ (دعا یعنی intervention کی درخواست)۔ مفتی سے اسکا کوئی تشفی بخش جواب نہیں بن پڑا۔ زمان و مکاں کے حوالے سے جاوید اختر نے نکتہ اٹھایا کہ جب کہا جائے کہ خدا ’ہمیشہ‘ سے ہے، تو اس لفظ ہمیشہ میں لا متناہی تسلسل زمان کا تصور آگیا۔ زمان کا لامتناہی ہونا اور زمان کا نہ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ”هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ“ (وہی پہلے ہے وہی بعد میں، وہی ظاہر ہے وہی باطن، الحدید:۳)۔ اس میں ’اول و آخر ‘زمان کے اشاریے ہیں اور ’ظاہرو باطن‘ مکان کے۔پھر یہ کیسے کہا جاتا ہے کہ وہ زمان و مکان سے باہر ہے؟ مزید یہ کہ قرآن میں انسانی زمان اور خدائی زمان کا موازنہ کئی جگہ ہے، جسکا مطلب کہ خدائی زمان بھی ہے مگر اسکی ماہیت جدا ہے، جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انکی ہمیشگی والی بات کو مفتی سمجھے ہی نہیں اور اسکا کوئی جواب انکے پاس نہیں تھا۔ فاتحانہ آگے بڑھ گئے۔ گو جاوید اختر کا انداز مناظرانہ نہیں تھا، مگر انکے اٹھائے گئے بیشتر نکات بہت اہم تھے جو فلسفیانہ جہت بھی رکھتے تھے لیکن غیر جارحانہ ادبی انداز میں۔ ان نکات کے تئیں مفتی کی تہی دامنی اور فکری خلا ایک غیر جانبدار اور واقف حال پر روز روشن کی طرح عیاں تھا۔
مفتی نے موضوعی اور معروضی اخلاقیات subjective and objective morality میں پہلے فرق قائم کیا، اور پھر معروضی اخلاقیات کے مصدر کے بطور ’صرف الہام ‘ کو ناگزیر قرار دیا۔ جاوید اختر اگر صاحب مطالعہ ہوتے تو پوچھتے کہ پھر الہام کی معروضی اخلاقیات آپس میں متعارض کیوں ہیں؟ یکساں کیوں نہیں؟ تورات کا خدا کہتا ہے کہ “۔۔۔ جو کوئی یوم سبت کی بےحرمتی کرے اسکو ضرور مارڈالا جائے ” (خروج ۳۱: ۱۴-۱۵)۔ اب دیندار یہودیوں کے علاوہ سارے انسان جیسے عیسائی، مسلمان، برہمنی، بودھ وغیرہ یوم سبت (سنیچر) کو کام کرتے ہیں، یعنی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اب اگر یہودی اپنی الہامی معروضی اخلاقیات پر دنیا میں عمل پیرا ہوجائیں تو آبادی یکلخت کتنی کم ہو جائے گی؟ مزید، ”جو اپنے والد یا والدہ کی بے احترامی کا مرتکب ہو اسکو لازمن قتل کر دیا جائے“ (احبار ۹:۲۰)۔ اس معروضی الہامی اخلاقیات پر عمل شروع ہو جائے تو بیشتر بوڑھے ہی زندہ بچیں گے۔ مزید،”اب جاؤ اور عمالقہ کو اچھی طرح کچلو، ان کی تمام املاک کو نیست و نابود کر دو، اور انکو چھوڑو مت، بلکہ قتل کردو مردوں اور عورتوں کو، شیر خوار اور نوزائیدہ بچوں کو، بیلوں اور بھیڑوں کو، اونٹوں اور گدھوں کو“ (اول سموئیل ۳:۱۵)، یعنی وہی الہامی معروضی اخلاقی حکم جس پر غزہ میں زور شور سے عمل ہو رہا ہے۔ مسیحی بائبل میں عیسیٰ یعنی خدا خودکہتا ہے کہ ”یہ مت سوچو کہ میں اسلیے آیا ہوں کہ دنیا میں امن لاؤں۔ میں امن لانے کے لیے نہیں آیا ، بلکہ تلوار لایا ہوں۔ میں اسلیے آیا ہوں کہ میں آدمی کو اسکے باپ کے خلاف کردوں، اور بیٹی کو ماں کے خلاف کردوں، اور بہو کو ساس کے خلاف کردوں۔۔۔“ (متیٰ۱۰ : ۳۴ -۳۶)۔ عیسیٰ مزید فرماتے ہیں کہ ”میرے وہ دشمن جو نہیں چاہتے کہ میں ان پر حکومت کروں، انھیں یہاں لاؤ اور میرے سامنے ذبح کردو“ (لوقا ۲۷:۱۹)۔ دوسری جانب، ویدوں کا الہام کہتا ہے کہ برہما نے خود انسانوں کے چار پست و بالا طبقے اپنے جسم کے مختلف حصوں سے پیدا کیے، اور خدا بشکل کرشن اپنے خطبے بھگود گیتا میں خود تاکید کرتا ہے کہ اب انسانوں کا دھرم ہے کہ وہ صرف اپنے اپنے طبقے کے فرائض پر کاربند رہیں۔ ویدی الہام مزید معروضی اخلاق سکھاتا ہے کہ ”اے عالم انسان! جس طرح میں خدا کے ویدی کلام کی مدد سے بد کرداروں کی گردن کاٹتا ہوں… ویسے تو بھی کر“ (یجروید۔ ۵:۲۳)۔ مزید، “تو چیر ڈال، پھاڑ ڈال، ریزہ ریزہ کر دے۔ اچھی طرح قیمہ بنا دے۔ جھلسا دے، جلا دے، جلا کر خاک کردے۔ آپ اس برہمن کے بدخواہ کو کاٹ ڈالیں، بوٹی بوٹی کر دیں،خوب اچھی طرح کاٹیں۔ جلائیں، اور زیادہ جلائیں، خوب اچھی طرح جلائیں“ (اتھر وید، کانڈ ۱۲، سوتر ۵، منتر۶۲)۔ مزید، ”جس شخص میں غرور نہ ہو، جسکی قوت استدلال متاثر نہ ہو وہ آدمیوں کو قتل بھی کرے تو قاتل نہیں اور نہ قید و بند میں ہے“ (کرشن گیتا میں ،۱۷ : ۱۸)۔ خدا سے براہ راست ہدایت یافتہ مہدی جب غار سے برآمد ہوگا تو مدینے جائے گا اور ابوبکر و عمر و عائشہ رضی اللہ عنھم کی میتوں کو قبر سے نکالے گا، انھیں زندہ کرے گا، صلیب دے کر مارے گا، پھر جلائے گا اور انکی راکھ کو ہوا میں اڑا دے گا، اور ایسا بار بار کرے گا (ملا باقر مجلسی، حق الیقین، جلد دوم، دیکھو ابتدائی ۵۰ صفحات)، تقیہ یعنی مقدس جھوٹ نہ صرف جائز ہے بلکہ باعث ثواب۔ نکاح مؤقت یعنی عارضی نکاح ِمتعہ کے بارے میں چھٹے امام جعفر نے فرمایا کہ یہ میرا اور میرے آباء کا دین ہے۔ یہ معروضی الہامی اخلاقیات ہیں؟
اسکا دوسرا عملی پہلو یہ ہے کہ وہ معاشرے یا ممالک جہاں مذہب کا کوئی چلن نہیں جیسے مارکسی چین، انتہائی سیکولر اسکینڈی نیویائی ممالک اور مغربی یورپ، کینڈا و امریکہ کی اکثریت جو کسی بھی مذہب کے تئیں بے اعتنا ہے، کیا وہ اخلاقیات سے عاری ہیں؟ میں اسلامی ممالک میں رہا ہوں اور جب انکا مقابلہ ان غیر مذہبی ممالک کی معاشرتی اخلاقیات سے کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ انسانی اخلاقیات میں دونوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اِن ملکوں میں بھی کمزور بلکہ پست اخلاقیات کا مظاہرہ زیادہ تر وہی لوگ کرتے ہیں جو مذہبی ملکوں سے تشریف لائے ہیں، یا وہ مقامی لوگ جو سخت مذہبی ہیں، جیسے ترمپ اور اسکے پیروکار ۔ چنانچہ معروضی اخلاقیات کے لیے مفتی کو بہتراور ایماندارانہ جواب سوچنا ہوگا، جو صرف قرآنی بصیرت کی رہنمائی میں مل سکتا ہے، قرون وسطیٰ کی یونانی منطق کی متروکات میں نہیں۔ عمل کی دنیا میں جو منظر نامہ ہے وہ انکے خیال کا عملی ثبوت مہیا نہیں کرتا۔ اخلاقیات کا تعلق جرائم سے نہیں، عام معاملات زندگی سے ہے۔ جرم و سزا کا نظام ہر معاشرے کے اپنے اخلاقی نظریے سے برآمد ہوتا ہے۔
غرضیکہ کہ جاوید اختر کے کسی اہم سوال کا جواب مفتی سے نہ بن پڑا۔لے دے کے تسلسلِ انحصارِباہمی (کنٹن جِنسی) کے تصور پر اڑے رہے گویا یہ کوئی ایسی دلیل ہے جو انھیں کی فطانت کی پیداوار ہے اور حتمی ہے۔ جبکہ اسکو بھی انھوں نے کہیں دیکھ کر رٹ لیاتھا، ہضم نہیں کیاتھا۔ اسلیے کہ جب جاوید اختر نے ”ہائے میں مر جاواں“ والے بھولپن سے اسکا اردو میں مطلب پوچھا تو وہ لمبی وضاحت کرنے لگے کہ اسکا فوری اردو مترادف انھیں معلوم نہ تھا۔ کیسی وِدَمنا irony ہے کہ ایک مؤحد کو اپنا خدا تسلیم کرانے کے لیے یونانی مشرکوں اور عیسائی مولویوں کی دلیل سے کام چلانا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی باطل اور صدیوں پہلے کی مسترد شدہ۔ اسکے موجد ارسطو اور اسکے خوشہ چین اکویناس ،غزالی اور ابن سینا کو چھوڑیے، مفتی نے اگر صرف معتبر ترین مسلم فلسفی علامہ اقبال کی۱۹۳۰ کی شائع شدہ Reconstruction of Islamic Thought کے دوسرے خطبے کا بس پہلا صفحہ ہی پڑھ لیا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ علامہ یونانی مشرکوں کی اس پیچیدہ دلیل کو کس صفائی ، کس چابکدستی، اور کس حتمی انداز سے باطل قراردے چکے ہیں۔ فرماتے ہیں ”لہٰذا دلیل کونی ۔۔۔ منطقی اعتبار سے غلط اور سرتاسر بے نتیجہ ہے“۔ انکی بحث انھیں کی کتاب میں آنلائن بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
میں تو یہ سوال پوچھنا چاہوں گا کہ کیا قادر مطلق خدا کوئی ایسی کائنات پیدا کرسکتا ہے جو سلسلۂ علل و معلولات یا اصول انحصار باہمی contingency principle کے بغیر ہو۔ اگر جواب ہے ’ہاں‘ تو نتیجہ یہ نکلا کہ سلسلۂ علل و معلولات (جسکو مفتی کنٹن جِنسی کہنے پر مصر تھے، حالانکہ اس میں جِنسی کا وہ مطلب نہیں ہے) غیر مفید اور غیر ضروری ہے، کہ اسکے نہ ہونے کی صورت میں یہ علت اولیٰ کی موجودگی کا ثبوت یا کم از کم اسکا اِشارہ signifier کیونکر ہو گا؟ اور اگر جواب ہے ’نہیں‘ تو وہ مجبور ہے متناہی معلولات کو وجود میں لانے کے لیے جس کے ذریعے اسکا علت اولیٰ ہونا معلوم کیا جا سکے۔ بایں صورت، لامتناہی خدا اپنے اثبات کے لیے معکوسی طور پر خود منحصر ہو جاتا ہے متناہی معلولات پر، یعنی Thus, God is Himself invertedly contingent upon His finite creation. ۔اسطرح وہ غیر منحصر علت اولیٰ یعنی incontingent یا ‘واجب الوجود’ یا Necessary Being نہ ہوا بلکہ سلسلۂ علل و معلولات ہی میں کا ایک contingent ہو گیا۔ قرآن کے مطابق خدا کسی ادنیٰ شائبے میں بھی ’منحصر‘ ہو نہیں سکتا کہ وہ ’الصمد‘ یعنی absolutely independent ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے اثبات کے لیے بھی کسی پر منحصر نہیں۔ جبکہ سلسلۂ ِعلل و معلولات کے ذریعے اگر اسکو دریافت کیا جائے تو وہ اپنے علت اولیٰ ہونے کے لیے معلولات پر منحصر نظر آتا ہے۔ (مجھے ویدانت کی یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ ثبوت تو چھوڑیے، خدا کے لیے لفظ ”ہے“بھی استعمال نہیں کر سکتے کہ اس میں بھی ایک نوع کی تحدید limitation ہے، یعنی ”ہونے“ کی تحدید، اور وہ ہر تحدید سے بالا ہے)۔ دوسری زیادہ بڑی دشواری یہ کہ کنٹن جِنسی استدلال سے خدا حد سے حد ’علت اولیٰ‘ یا ’مسببِ اسباب‘ یا ’محرکِ اول‘ ہی ثابت ہوتا ہے۔ ایک زندہ، باشعور اور شخصی خدا نہیں۔ بایں صورت، وہ سادہ خدا بھی ثابت نہیں ہوپاتا، چہ جائیکہ خاص قرآنی خدا۔ نہ وہ علیم و بصیر و باری و بدیع وفاطر و مصور و خالق یا المَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ (۲۳:۵۹) ثابت ہوتا ہے، نہ اوتار لینے والا، نہ اپنے بیٹے کی شکل میں آکر مصلوب ہونے والا، نہ خود کائنات کا روپ دھارن کرنے والا، نہ ظلم وتعدی کو روکنے والا۔ کچھ ثابت نہیں ہوتا سوائے محض ایک مفروضہ ’سبب اول‘ کے جو کائنات سے باہرہے۔ اگر اسکو ’محرک اول‘ یا ’علت اولیٰ‘ مان بھی لیا جائے تب بھی اسکے با شعور، حی و قیوم، اور ہادی خدا ہونے کا ثبوت باقی رہتا ہے جو بقول قرآن کائنات سے کہیں باہر نہیں بلکہ آپ کی رگِ گلو سے بھی قریب ہے(وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ،ق:۱۶)، اور أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ (تم جدھر بھی اپنا رخ کرو، ادھر خدا کا ہی چہرہ ہے۔ البقرۃ:۱۱۵)، اور وَ ھُوَ مَعَکُم اَینَماَ کُنتُم (وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو۔ الحدید:۴)۔ واضح ہو کہ یہاں ”وَ عِلمُہُ مَعَکُم“ (اسکا علم تمھارے ساتھ ہے) نہیں کہا گیا، بلکہ ”وَ ھُوَ مَعَکُم“ (وہ تمھارے ساتھ ہے) کہا گیا۔ وہ اندر اور باہر کی تحدید سے ماوراء ہے۔ وہ اسباب میں کا ایک ’سبب اول‘ نہیں، خالقِ مطلق ہے۔ مفتی نے نہیں بتایا کہ کنٹن جِنسی کا مفروضہ ’سبب اول‘ آپ ہی آپ خاص قرآن کا خدا بھی کیسےثابت ہوگیا؟ جبکہ ابھی تو اُسکا سادہ خدا ہی ثابت ہونا باقی ہے۔ قرآنی خدا اور ’سبب اول‘ میں ناقابل تصور فاصلہ حائل ہے۔ ظاہر ہوا کہ مناظرے کا موضوع ہی غلط تھا، ہونا چاہیے تھا Does the First Cause Exist? ، وہ نہیں جسکا اعلان کیا گیا۔ مزید یہ کہ، لامتناہی خدا سے جو بھی صادر ہوتا ہے وہ متناہی کیوں ہوتا ہے؟ لامتناہی کی داخلی فطرت کا تقاضا ہونا چاہیے کہ اس سے جو بھی صادر ہو وہ لامتناہی ہو۔ اُسی طرح جیسے متناہی سے متناہی کا ہی صدور ہوتا ہے، لا متناہی کا نہیں۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ فلاں شاعر انتہا درجے کی شاعرانہ صلاحیت کا حامل ہے، اس سے بڑا کوئی شاعر نہیں، شاعری کا ملکہ اس پر ختم ہے، وہ خاتم الشعراء ہے۔ لیکن اُس سے جو اشعار سرزد ہوتے ہیں وہ سب ناقص ہوتے ہیں، کوئی ایک مصرعہ بھی نقص سے پاک نہیں، موزوں نہیں۔ تو سوال اٹھے گا نا کہ اگر وہ خاتم الشعراء ہے تو اسکے اشعار ناقص کیوں ہیں اور اگر اشعار ناقص ہیں تو کس بنیاد پر آپ نے اسے اعلیٰ ترین شعری صلاحیت کا حامل خاتم الشعراءقرار دیا؟ جاوید اختر نے یہ سب پوچھا نہیں کہ انکے الحاد کی نوعیت فکری یا فلسفیانہ ہے ہی نہیں۔ وہ فلمی ہیں، علمی نہیں۔ وہ ان مباحث سے ناواقفِ محض نظر آئے۔ Ignorance is bliss ۔
ملحد جاوید اختر کی انتہائے سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا، لڑنے کو آئے ہاتھ سے تلوار چھوڑ دی۔ مفتی نے شروع ہی میں کچھ شرائط عائد کر دیں جنکو جاوید اختر نے بلا چون و چرا مان لیا۔ حالانکہ شرائط اور گفتگو کا دائرہِ کار دونوں کے اتفاق رائے سے طے ہونا چاہیے تھا اور اسکا اعلان ناظم مناظرہ کو کرنا چاہیے تھا۔ اسطرح مفتی نے کمالِ شاطری سے انکو اپنے میدان میں محصور کر دیا جسکے وہ آدمی نہیں تھے، یعنی قرون وسطیٰ کی ازکارِ رفتہ منطق۔ سائنس کی برطرفی کو کیوں مان لیا؟ سائنس خدا کی تخلیق کردہ کائنات میں جاری و ساری اٹل قوانین فطرت کے یقینی اور قابل تصدیق verifiable مطالعے کا نام ہے۔ خدا کا ادراک حاصل کرنے کے لیے اس سے اچھا کوئی ذریعہ ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن نے خواہ مخواہ اعلان نہیں کیا کہ ”اللہ کے بندوں میں سے اسکی خشیت وہی اختیار کرتے ہیں جو سائنسدان ہیں (۲۸:۳۵)“۔ واضح رہے کہ قرآن میں لفظ ’علماء‘ قوانین فطرت کے جاننے والوں یعنی سائنسدانوں کے لیے آیا ہے، احبار و رہبان یا مولویوں کے لیے نہیں ٭۔اس سے قبل کی آیات خود پڑھ کر دیکھ لیجئے۔ خدا کی تفہیم بغیر کتاب فطرت (سر سیدؒ کے بقول (Work of God کے کرنے پر اصرار ایسا ہی ہے جیسے غالب کی تفہیم بغیر دیوان غالب کے۔ جاوید اختر نے چپ چاپ یہ بات مان لی۔ یا للعجب! انکی یہ سادگی اسوقت عروج پر نظر آئی جب انھوں نے اپنے حریف سے ہی مطلب پوچھنا شروع کردیا۔ حالانکہ ایک چالباز مناظر اپنی ناواقفیت حریف کو کسی اور نکتے میں الجھا کر چھپا جاتا۔ لیکن انکی سادگی کے ساتھ ایمانداری بھی نظر آئی کہ انھوں نے کیتلی کی مثال کو اپنے نام سے پیش نہیں کیا بلکہ رَسل کا نام لیا، جبکہ مفتی نے کنٹن جِنسی کو اپنے نام سے پیش کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ سترھویں صدی کے ولیم پیلی کی گھڑی کی مثال کو بھی گلابی گیند کی ناقص مثال سے بدل کر، اور اس عمدہ مثال کا ستیا ناس کر کے، اپنے نام سے پیش کر دیا۔ یعنی سرقے کی ایک اور بھونڈی مثال۔ گھڑی ایک ڈیزائن کردہ نظام کا نام ہے جو کائنات کے لیے خاصی معقول مثال ہے، اور اسکو پُھلا کر بڑا کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مگر گلابی گیند کسی نظام کا نام نہیں۔ وہ اندر سے خالی، کائنات اندر سے خالی نہیں۔ اسکو پُھلا کر کائنات کے برابر نہیں بنایا جا سکتا، وہ پھٹ جائے گی اور اسکے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ گیند میں کوئی پیچیدگی نہیں، کائنات انتہائی پیچیدہ اور حیران کن کاریگری کی مثال۔ گیند سنسان جزیرے پر پڑی ہے، کائنات کسی سنسان جزیرے پر نہیں پڑی، بلکہ حرکت پذیر اور وسعت پذیر ہے۔ گیند اپنے بنانے والے کی نظروں سے اوجھل ہے اور وہ نہیں جانتا کہ کہاں اور کس حال میں پڑی ہے، جبکہ کائنات ہر لحظہ اپنے بنانے والے کی راست نگرانی میں ہے۔ یعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْأَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیهَا وَهُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں اوپر چڑھتی ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو، اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے ۔الحدید:۴)۔ کائنات کے لیے گیند کی مثال کیسی بیہودہ مثال ہے۔ پھر برائے بیت یہ بھی فرمایا کہ “ہو بھی سکتی ہے،نہیں بھی ہو سکتی”‘۔ اگر نہیں ہوسکتی تو اسکا بنانے والا کیسے ثابت ہو گا؟
جاوید اختر نے وہ سوال بھی نہیں پوچھے جنکا کسی مولوی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، بلکہ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ شاید انھیں وہ سوال معلوم ہی نہیں تھے۔(اب یہ توقع نہ کیجیے کہ میں یہاں انھیں درج کرونگا۔) انکی ہمہ گیر علمی ناواقفیت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ باعتبار کیفیت وہ بھی مولوی ہی ہیں، الحاد کے مولوی۔ جو اپنے خاندانی یا سیاسی ماحول کی وجہ سے خود کو ملحد گمان کرتے ہیں۔ جس طرح ابا مولوی تو بیٹا مولوی، اسی طرح ابا ملحد تو بیٹا ملحد، ابا اشتراکی تو بیٹابھی اشتراکی۔ پتا کچھ نہیں کہ الحاد اور اشتراکیت ہے کیا۔ ثابت ہوا کہ اندھ بھگت صرف مودی کے ہی نہیں، مارکس کے بھی ہوتے ہیں۔ مفتی اور ملحد دو نوں کی ناواقفیت سے یہ بھی پتا چلا کہ جہل اعلا درجے کا اعتماد پیدا کردیتا ہے۔ مفتی کا اعتماد ‘کونی استدلال’ کے جُملہ ابعاد سے اور اسکی long-established retraction سے مکمل جہل کا نتیجہ۔ اگر کوئی باخبر قسم کا ملحد ہوتا تو مناظرہ واقعی پانچ منٹ میں ختم ہو جاتا۔ دوسری طرف، ملحد جاوید اختر کا اعتماد الحاد کی فکری اساس سے جہل کا نتیجہ، کہ بے سوچے سمجھے ’مناظرہ لڑنے‘ چلے آئے۔ یعنی وہ کام کرنے جسکے وہ اہل نہیں تھے۔ غالبن مناظرے کے ماحول کو وہ فلمی شائقین اور مداحین کاہجوم سمجھے جہاں انکی ہر بات پر داد وتحسین کا غُلغُلہ بلند ہوتا ہے۔ وہ ”لکھے“ تو ہیں، مگر ظاہر ہوا کہ ”پڑھے“ زیادہ نہیں۔ اور ایک جگہ انھوں نے رکاکت کاثبوت بھی دیا جب خالق کائنات کامقابلہ (نعوذباللہ) ایک شقی الاشقیاء سے کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اچھے تو ہمارے پردھان منتری ہیں۔ اس میں اوچھے پن اور بدترین درجے کی خوشامد دونوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
اس مناظرے کے نقصانات :
چونکہ خدا کا وجود یا عدم وجود ثابت نہیں ہو سکا، اور نہ کبھی ہو سکتا ہے، اسلیے اس مناظرے کا فائدے سے کہیں زیادہ نقصان ہوا، جسکا سلسلہ افسوس ہنوز تھما نہیں۔ کسی ملحد کے زیر ہوجانے سے خدا ثابت نہیں ہوجاتا اور کسی مولوی، پنڈت، یا پادری کے زیر ہوجانے سے الحاد ثابت نہیں ہو جاتا۔ ایسی شکست و فتح ایک فرد کی ہار یا جیت ہوتی ہے، نظریے کی نہیں۔ بلکہ ہارا ہوا مزید ضد پکڑتا ہے اور جیتا ہوا وقتی خوش گمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس مناظرے کا فوری نتیجہ یہ سامنے آیا کہ مولوی طبقہ اہتزازی ہیجان کی انتہائی کیفیت سے بے حال ہوگیا۔ یہانتک کہ بعضے سرشاری میں بر سر عام بوس و کنار کی حد تک چلے گئے۔ اور انکے شعبۂ اطفال کے اہتزازی ہیجان میں وہ شدت آئی کہ انکی الہامی معروضی اخلاقیات کی باریک پرت فورن اتر گئی۔ انھوں نے ۸۰ سالہ عالمی شہرت یافتہ بزرگ شخصیت کی، جو اپنی ذات میں ایک نہایت شریف النفس اور بے ضرر انسان ہیں، سوشل میڈیا پر طرح طرح سے اہانت شروع کر دی۔ اپنے معتقدین کے حلقوں میں معتبر سمجھے جانے والے مولوی ان کا نام بصیغۂ واحد لینے لگے۔ انکے رعشے کا مذاق اڑانے لگے۔ ان خدا پرستوں کی اخلاقی “پستی کاکوئی حد سے گزرنا دیکھے”۔ ایسی حرکتوں سے دوسرے آپ سے قریب ہونگے یا مزید متنفر؟ دوسرے اس میں اسلام کی تخفیف کا بہانہ ڈھونڈھیں گے۔ یہاں مغرب میں بھی دانشوروں کے درمیان بڑے زبردست علمی مناظرے ہوتے ہیں، مگر اسکے بعد نہ تو مرد جوشِ مسرت سے آپس میں بوس و کنار کرتے ہیں، نہ کوئی نفرتی مہم چلائی جاتی ہے۔ کتنا فرق ہے الہامی معروضی اخلاقیات میں اور سیکولر اخلاقیات میں؟ اگر جاوید اختر ملحد ہیں تو ہوا کریں۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ انسانی عزت و احترام کے مستحق نہیں رہے۔ اگر انکے الحاد کا بُرا مانناہے تو وہ مانے جسکا وہ انکار کرتے ہیں۔ آپ سے کیا مطلب؟ وہ تو انھیں ہر نعمت سے نواز رہا ہے۔ آپ خواہ مخواہ پریشان گھوم رہے ہیں۔ آپ بھی تو ہندؤں کے تینتیس کروڑ دیوی دیوتاؤں کے اور عیسائیوں کے تثلیثی خدا کے ملحد ہیں۔ وہ اس بنیاد پر ایسا ہی سلوک آپکے ساتھ کریں تو۔۔۔؟
اس مہمل مناظرے نے سوئی ہوئی فرقہ پرستی کو یکلخت زندہ اور متحرک کردیا۔ اور خواہ مخواہ دنیا پر یہ ظاہر کر دیا کہ ہماری صفوں میں زیر سطح کس قدر انتشار، پراگندگی اور باہمی منافرت موجود ہے۔ اور اسکو بھڑکادینا کس قدر آسان۔
بریلوی دیوبندی منافرت :
پہلے بریلوی فرقہ اس سے جز بز ہوا اور انھوں نے کہا کہ ہمارے مولوی صاحب اعلٰی حضرت کے عطا کردہ دلائل کی مدد سے صرف پانچ منٹ میں مقابل کو شکست دے کر مناظرہ ختم کر سکتے تھے، دیوبندیوں کی طرح دو گھنٹے ضائع نہ کرتے۔ دیوبندیوں کی ہمارے آگے کیا اوقات۔ ”سُنیوں“ کو متنبہ کیا گیا کہ وہ وہابیوں سے گمراہ نہ ہوں۔ اس طعن و تشنیع میں جو زبان استعمال کی گئی اس سے ایک دوسرے کے لیے تحقیر، منافرت اور معاندت کا بھرپور اظہار ہوا، جواِدھر کچھ عرصے سے دبا ہوا تھا۔
ندوی دیوبندی چشمک:
پھر اسکے بعد ندوی اور دیوبندی فرقوں کے مولویوں کی چپقلش سامنے آئی۔ مناظرے کا کریڈٹ دیوبندیوں نے لیا کہ انکے بقول دلائل انکی کتابوں کے تھے اور تربیت انھیں کے مدرسے کی (حالانکہ دلائل مشرک یونانیوں اور عیسائی مولویوں سے سرقہ شدہ تھے، چاہے جہاں لکھے رکھے ہوں)۔ جبکہ ندویوں کا کہنا تھا کہ مُناظِر انکے فرقے کا تھا اور وہ ان معاملات پر دیوبندیوں کے مقابلے کہیں زیادہ عبور رکھتا تھا۔ دونوں کے درمیان اختلافات بلکہ تحقیری جذبات کھل کر سامنے آئے۔ اورلفظی گولہ باری ہنوز جاری ہے جسکی اخلاقی سطح خاصی پست ہے۔ یہ تو معلوم تھا کہ شبلی اور سید سلیمان مرحوم کے زیر اثر ندوی مولوی علیگڑھ اور سر سید ؒسے کد رکھتے ہیں۔ لیکن اس مناظرے کے طفیل، کم از کم مجھے، زندگی میں پہلی بار پتا چلا کہ دیوبندیوں اور ندویوں میں زیر ِسطح اتنی منافرت پائی جاتی ہے!
ملحدین و معاندین اسلام کا سخت ردعمل:
اس بے نتیجہ مناظرے نے، جو جاوید اختر کی عالمی شہرت کے سبب ملکوں ملکوں دیکھا گیا، پوری اردو دنیا میں صاحب علم، مفکر اور فلسفی قسم کے ملحدین کو مہمیز دی۔ چنانچہ، یوٹیوب پر مفتی کے دلائل کے بخیے ادھیڑے جا رہے ہیں، بلکہ پرخچے اڑائے جا رہے ہیں۔ ساتھ میں اسلام کی تخفیف۔ انا للہ۔ بھارت میں اسلام مخالف ہندو اور بودھ ملحدین بھی متحرک ہو گئے اور انھوں نے یوٹیوب پر گھنٹوں لمبے لائیو شو کرنا شروع کردیے۔ میرے لیے صدمے کی بات یہ کہ ہندو اور بودھ ملحدوں کی گفتگو میں کتاب اللہ اور رسول اللہؐ کے کردار کے حوالے سے وہ باتیں بتکرار کہی جارہی ہیں اور ایسے لہجے اور الفاظ میں جنکو سننا ایک مسلمان کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔ اسکے ذمے دار اس غیر ضروری مناظرے کو برپا کرنے والے کوتاہ اندیش مولوی ہیں۔ اس مناظرۂ ضرار سے پہلے یہ باتیں ایک محدود حلقے تک ہی سنی جاتی تھیں۔ مفتی کو تو کوئی جانتا نہیں، مگر عالمی شہرت یافتہ جاوید اختر کے حوالے سے اب ساری دنیا ان میں دلچسپی لے رہی ہے۔ اور یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ زور پکڑ رہا ہے۔ بعید نہیں کہ مفتی کو ایک اور بلکہ کئی اور مناظروں میں بلایا جائےجن میں جانے سے یا وہ انکار کر دیں گے یا گئے تو منظر کچھ دوسرا بھی ہو سکتا ہے۔
مسلمانوں کا اصل مذہبی مسئلہ:
ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مذہبی مسئلہ خدا کا وجود و عدم وجود نہیں ہے، بلکہ نا قابل معافی شرک ہے جو غیر مسلموں اور مسلمانوں دونوں میں پھیلا ہوا ہے، اور توہمات و خرافات کا بنیادی سبب۔ مسئلہ الحاد نہیں ہے بلکہ مذہبی جنونی اور انتہا پسند ہیں جنھوں نے مذہب کی بنیاد پر ہر طرف فتنہ و فساد پھیلا رکھا ہے۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ دنیا کے اور حصوں میں بھی۔ نفرت پھیلانے والے، لنچنگ کرنے والے، مسجدیں توڑنے والے، آگ لگانے والے، قتل و غارتگری کرنے والے، رسول اکرمؐ، قرآن اور اسلام کے خلاف دن رات ہرزہ سرائی کرنے والے ،سب سخت مذہبی لوگ ہیں۔ اور اپنے خداؤں کا حکم ماننے اور اپنی الہامی کتابوں میں لکھی معروضی اخلاقیات پر عمل کرنے کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے جانی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ انکے دین اور انکی تمام دینی اور تاریخی علامات کو مٹا ڈالنا چاہتے ہیں۔الحاد نہیں، انتہائے مذہبیت کے سبب مسلمانوں کو وجودی خطرہ لاحق ہے۔ خود مسلمان ایک دوسرے کے درپے آزار الحاد کے سبب نہیں بلکہ مذہبی و مسلکی منافرت کی وجہ سے ہیں۔ افلاس، بیماری، جہالت، پسماندگی وغیرہ تو ایک متعدی مرض کی طرح پہلے سے ہی موجود چلے آتے ہیں۔ ضرورت ان امراض کی طرف توجہ دینے کی ہے، نہ کہ فضول فلسفیانہ مسائل کو چھیڑنے کی جنکو مفتی، انکے ملکی و غیر ملکی نفوسِ امارہ، انکا اہتزازی ہیجان سے مغلوب شعبۂ اطفال ،اور انکے حواری خود پوری طرح نہیں سمجھتے، اور عوام الناس تو بلکل نہیں سمجھتے۔ وجود و عدم وجود فلسفے کا مسئلہ ہے، اسلام یا قرآن کا نہیں۔ قرآن نے کہیں وجود کو ثابت نہیں کیا، الحاد پر بحث نہیں کی، نہ ملحد کو دوزخ کی وعید سنائی۔ وجود کو ثابت کر دینے سے ایمان بالغیب لایعنی ہو جاتا ہے۔ قرآن کا مسئلہ توحید و شرک ہے۔ الحاد مولوی کا میدان نہیں، فلسفی کا ہے۔ اگر مولوی اس موضوع پر بات کرے گا بھی تو فلسفے کے میدان میں آکر، نہ کہ مذہب کے میدان میں رہ کر۔
ہمدردوں کو برگشتہ کرنا:
بھارت میں ملحد، سیکولر، سوشلسٹ اور اشتراکی عمومن دبے کچلے مظلوم لوگوں (قرآنی لفظ ’مستضعفین‘)کے ہمدرد ہوتے ہیں اور استحصالی و انتہا پسند افراد یا قوتوں (قرآنی لفظ ’مستکبرین‘)کے سخت ترین ناقد۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف انکی آواز سب سے پہلے اٹھنے والی اور سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اور عملی اقدامات میں بھی وہ آگے آگے رہتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی یہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں (۔مثلاً، بھارت میں لادین آرون دھوتی روئے، امریکہ میں لادین سوشلسٹ برنی سینڈرس، اور برطانیہ میں ملحد سوشلسٹ جیریمی کوربِن، وغیرہ)۔مسلمانوں کو بھی انکی ہمدردی حاصل رہتی ہے، اسلیے نہیں کہ وہ مسلمان ہیں، بلکہ اسلیے کہ وہ مستضعفین oppressed ہیں۔ مسلمانوں سے سب سے زیادہ نفرت کرنے والے اور انکی جان و مال اور انکی ثقافت کے دشمن وہ ہیں جو خدا کو حد سے زیادہ ماننے والے اور بے انتہا مذہبی ہیں، بھارت میں بھی اوربھارت کے باہر بھی۔ افسوس کہ یہ ناعاقبت اندیش مولوی اپنے ہمدرد ملحدوں کے تئیں اشداء اور اپنے دشمن مشرکوں کے تئیں رحماء نظر آنا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے خود کُشی کا فیصلہ حتمی ہے۔ قرآن مشرکوں کا ابطال کرتا ہے اور متنبہ کرتا ہے کہ ”۔۔۔ شرک کرنے والوں کو تم عداوت میں سب سے آگے پاؤ گے (المائدہ: ۸۲)“۔ یہی بات یہود کے بارے میں کہی جو مؤحدین ہیں۔ ملحدوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ اسلام اور الحاد میں خداؤں کا انکار مشترک ہے، مگر اسلام اور شرک میں کچھ مشترک نہیں، ایک بعد المشرقین ہے۔ مثلاً ملحد سو میں سے سو خداؤں کا انکار کر دیتا ہے، اور اسلام سو میں سے ایک کو چھوڑ کر ۹۹ کا انکار کردیتا ہے۔ ننانوے کے انکار والے الحاد میں دونوں مشترک ہیں اور ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلامی کلمے کی ابتدا انکاری فقرے ”لا اِلٰہ“ سے ہوتی ہے۔اور اس الحادی دروازے میں قدم رکھے بِنا، یعنی تمام خداؤں کا انکار کیے بِنا، ”اِلاّاللہ“ کی توحیدی کائنات میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ یہ سمجھنا خام خیالی ہے کہ مذاہب کی زندگی میں ہی اسلام کی بقا ہے۔ نہیں، اسلیے کہ قرآنی اسلام کوئی انسان ساختہ، غیر معقول، پیچیدہ مذہب نہیں ہے، بلکہ نہایت سادہ الہامی دین ہے جسکا بنیادی وظیفہ انسانیت کو مذہب نامی استحصالی، مشرکانہ، اور توہمانہ نظام سے چھٹکارا دلانا ہے: هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۔ یعنی ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے پورے دین (نظام زندگی) پر غالب کردے ۔۔۔“ (الصف:۹)، نہ کہ اسے دیگر ادیان کی صف میں کھڑا کر دے۔
اسلام کا خدا خالص قرآنی خدا ہے ۔ اپنے اثبات کے لیے اسکو نہ ما قبل اسلام کے مشرک ارسطو ئی مشائی (Peripatetic) فلسفے کی حاجت، نہ عدم اثبات کے لیے رَسل کے فلسفے کا خوف۔ وہ ایسے ہرناقص فلسفے کی پہونچ سے بالا تر ہے۔ قرآنی خدا ارسطوئی، افلاطونی، نو فلاطونی، صوفیانہ، ویدانتی، ہمہ اوستی، مانوی، اور زرتشتی خیالات کا ملغوبہ نہیں ہے۔ وہ ان سب سے منزّہ ہے۔ اسکو براہ راست قرآن سے دریافت کرنا اور اسی ’الصمد‘ پر ایمان بالغیب قائم رکھنا مطلوب ہے۔ اس تصور کو واضح کرنے کے لیے مناظرے کی نہیں، پہلے سنجیدہ تفکر، اور پھرمخلصانہ، شریفانہ، اور ہمدردانہ مکالمے کی ضرورت ہے۔تنقیدی فکری صلاحیتوں کے حامل جدید تعلیمیافتہ روشن دماغ مسلمان یہ فرض ادا کرسکتے ہیں۔ قدامت پرست یہ کام کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے کہ انکی تعلیم و تربیت اور ذہنی سانچے میں وہ عناصر شامل نہیں جو اسطرح کے کاموں کے لیے ناگزیر ہیں۔
چونکہ اس مناظرے کے پس منظر میں کچھ غیر ملکی عناصر بھی ملوث تھے، اسلیے کچھ بعید نہیں کہ بعض غیر ملکی و ملکی نادیدہ قوتوں کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو اصل مسائل سے بھٹکانا مقصود ہو اور انکے ہاں زیر سطح موجود مسلکی آگ کو بھڑکانا، اور انکے خلاف ہمدرد سیکولر طبقات کو بھی برانگیختہ کردینا، جیسا کہ افسوس دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس پہلو پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
بڑی باریک ہیں ’ملّا ‘ کی چالیں
لرز جاتا ہے ’ملحد‘ کے بیاں سے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں