ٹیوشن مافیا /علی عباس کاظمی

اگر پاکستان میں کبھی یہ جانچنا ہو کہ ہمارا تعلیمی نظام زندہ ہے یا مردہ، تو کسی اسکول کا نتیجہ دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف کوچنگ سینٹرز کی تعداد گن لیجیے۔ جس ملک میں گلی گلی ٹیوشن سینٹر ہوں وہاں سمجھ لیجیے کہ اسکول صرف عمارتیں ہیں اور تعلیم ایک الگ، خفیہ اور مہنگا کاروبار بن چکی ہے۔ ٹیوشن کلچر دراصل ہمارے تعلیمی نظام کا پوسٹ مارٹم ہے، جس میں ہر عضو فیل اور ہر دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔
آج پاکستان میں ٹیوشن لینا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ بچہ اگر ٹیوشن نہ لے تو والدین خود کو مجرم سمجھتے ہیں اور استاد بچے کو نااہل۔ سوال یہ نہیں کہ بچے کمزور کیوں ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اسکول آخر کیا کر رہے ہیں؟صبح سے دوپہر تک بچے اسکول میں ہوتے ہیں، مگر شام کو وہی سبق دوبارہ فیس کے عوض پڑھایا جاتا ہے۔ اگر اسکول میں تعلیم مکمل دی جا رہی ہوتی تو شام کا یہ بازار کیوں سجتا؟
ٹیوشن کلچر کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ اس نے استاد کے کردار کو بری طرح مسخ کر دیا ہے۔ وہ استاد جو کبھی معاشرے میں علم، کردار اور رہنمائی کی علامت سمجھا جاتا تھا اب ایک ایسا تاجر بن چکا ہے جو کلاس میں علم ناپ تول کر دیتا ہے اور باقی شام کے وقت فروخت کرتا ہے۔ کئی سرکاری اور نجی اسکولوں میں یہ کوئی راز نہیں کہ اساتذہ جان بوجھ کر کلاس میں پورا نہیں پڑھاتے، سوالات ٹال دیے جاتے ہیںاور بچوں کو اشاروں کنایوں میں بتایا جاتا ہے کہ “باقی سب ٹیوشن میں ہو جائے گا۔” یہ تعلیم نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
اس پورے کھیل کا مالی بوجھ والدین اٹھاتے ہیں، خاص طور پر متوسط طبقہ، جو نہ مکمل نجی نظام خرید سکتا ہے اور نہ ناقص سرکاری نظام پر بھروسا کر سکتا ہے۔ ایک باپ، جس کی تنخواہ پہلے ہی مہنگائی کی بھینٹ چڑھی ہوتی ہے، بچے کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کے بعد جب ٹیوشن کی فیس سنتا ہے تو حساب کتاب کرنے کے بجائے خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے انکار کیا تو اس کا بچہ مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ یوں تعلیم، جو حق تھی، اب زبردستی کی سرمایہ کاری بن چکی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم اس سب کو بھی “تعلیم میں سرمایہ کاری” کا نام دے کر ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ نظام کی ناکامی پر جرمانہ ہے۔ریاست دعویٰ کرتی ہے کہ اسکول مفت ہیں، اساتذہ حاضر ہیں اور نصاب فراہم کیا جا رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بغیر ٹیوشن کے بچہ آگے نہیں بڑھ پاتایوں لگتا ہے جیسے تعلیم نہیں، صرف اس کا سرٹیفکیٹ بیچا جا رہا ہو۔
ٹیوشن کلچر نے تعلیمی برابری کے تصور کو بھی دفن کر دیا ہے۔ اب کامیابی ذہانت سے نہیں بلکہ والدین کی جیب سے مشروط ہے۔ جو بچہ تین تین ٹیوشن، کوچنگ سینٹر اور اکیڈمی افورڈ کر سکتا ہے، وہ “ذہین” کہلاتا ہے اور جو یہ خرچ برداشت نہیں کر سکتا وہ “کمزور”۔ یہ نظام غریب اور امیر کے درمیان تعلیمی خلیج کو اتنا گہرا کر چکا ہے کہ اب صلاحیت بھی غربت میں دب کر رہ جاتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس اور زمینی حقائق دونوں بتاتے ہیں کہ ٹیوشن لینے والے بچوں کی اکثریت رٹّا سسٹم کی اسیر ہوتی ہے۔ انہیں سوال کرنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی، بلکہ صرف امتحان پاس کرنے کی تکنیک سکھائی جاتی ہے۔ یوں ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو نمبر تو لے آتی ہے مگر سوچ نہیں سکتی، ڈگری تو حاصل کر لیتی ہے مگر مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں، قومی مسئلہ ہے۔
اس نظام کا ایک اور خطرناک پہلو بچوں کی ذہنی صحت ہے۔ اسکول، ہوم ورک، ٹیوشن، ٹیسٹ، پھر اگلی ٹیوشن۔۔۔ بچے کے پاس نہ کھیل کا وقت ہے، نہ سوچنے کا، نہ سانس لینے کا۔ نتیجہ۔۔۔ ذہنی دباؤ، خوف، عدم اعتماد اور تعلیم سے نفرت۔ ہم بچپن کو علم کے نام پر قربان کر رہے ہیں، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان مایوس کیوں ہیں۔
ریاستی سطح پر اس مسئلے پر یا تو خاموشی ہے یا رسمی بیانات۔ قوانین موجود ہیں، مگر عملدرآمد ندارد۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر ایک استاد سرکاری تنخواہ لے رہا ہے تو وہ علم کیوں بیچ رہا ہے؟ کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ اسکول آٹھ گھنٹے بچے کو رکھنے کے بعد بھی اسے پڑھانے میں ناکام کیوں ہیں؟ وجہ واضح ہےکہ ٹیوشن کلچر ایک پورے نظام کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔۔۔ استاد، اسکول، اکیڈمی، حتیٰ کہ امتحانی نظام کو بھی۔
حل مگر ناممکن نہیں۔ مگر اس کے لیے نیت، جرات اور دیانت درکار ہے۔ اسکول میں پڑھائی مکمل کرانا ہوگی،ٹیوشن کے کلچر کا خاتمہ نعروں سے نہیں، اساتذہ کی کارکردگی کے بے رحم احتساب سے ممکن ہے،امتحانات کو رٹّا کے بجائے فہم اور تجزیے سے جوڑنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ نظام تعلیم نہیں، ایک منافع بخش انڈسٹری ہے۔
اس سچ سے آنکھیں موند کر ہم جتنا چاہیں بہانے بنا لیں، ہر گلی کا ٹیوشن سینٹر اور والدین کی خالی جیب ہمیں بتاتی رہیں گی کہ علم پاکستان میں مفت نہیں اور ناکام تعلیمی نظام بچوں کے بچپن کو بھی قیمت ادا کروا رہا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply