ہم کسی نہ کسی حوالے سے ہمیشہ خود کو بڑا بنانے کے متمنی ہوتے ہیں۔۔ کوئی عمر میں بڑا، کوئی مال و دولت میں بڑا، کوئی خاندان میں سب سے بڑا، کوئی سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت میں بڑا، کوئی اقتدار و اختیار کے اعتبار سے بڑا اور کوئی پہلوانی اورجسمانی طاقت کے زعم میں قوی لوگوں میں سب سے بڑا۔ آخر یہ کون سی ایسی قوتیں ہیں جو ہمیں بڑا کہلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ آئیے ان کا جائزۃ لیتے ہیں۔ کیا پہلی قوت پورے خاندان میں بڑی عمروالے کی ہوتی ہے؟ جی ہاں! جو انسان عمر میں سب سے بڑا ہوتا ہے، ہمارے خاندانوں میں اسے بڑا تسلیم کیا جاتا ہےاس کا رعب اور دبدبه سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے انکی کمر جھکی ہوتی ہے مگر لوگ ان کے سامنے جھکے چلے جاتے ہیں۔ انکی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ ان کا ادب احترام ایسا ہوتا ہے کہ سب ان کے احکام کی بجا آوری خوش دلی سے کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی عمر رسیدہ ہوتا ہے، وہ گرم و سرد چشیدہ ہوتا ہے۔ وہ تجربے کار ہوتا ہے اور متین و سنجیدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سب کا پسندیدہ ہوتا ہے۔ کچھ اچھا گمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ معمر صرف بزرگ ہی نہیں بلکہ برگزیدہ ہوتا ہے۔ لہٰذہ ہانپتا کانپتا اور چکراتا بوڑھا انسان بھی سر پہ پگڑی پہنے خود کوطاقتور سمجھتا ہے۔ وہ پورے خاندان یا قبیلے کا سردار، ملک ، شیخ اور چوہدری بن کردوسرے معدودے چند لوگوں پہ حکومت کرتا ہے۔
دوسری قوت جو کسی کے بڑے ہونے کی گواہی دیتی ہے وہ انسان کا بلند قد کاٹھ ہوتا ہے۔ کسی شخصیت کے عالی قد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لمبا اور طویل قامت ہو۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لمبے ترین قد کا مالک شخص مشہور و معروف تو ہوتا ہے، لیکن وہ بہت پریشانی والی زندگی بسر کرتا ہے۔ تماشبین اس کے ارد گرد اکٹھے ضرور ہوتے ہیں لیکن اسکا مذاق اڑاتے ہیں۔ کوئی اسے لمبا کہتا ہے اور کوئی کھمبا۔ بھلا جس کا یہ کہہ کر گلی گلی میں مذاق اڑایا جاتا ہو کہ لمبے قد والوں کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے۔۔ وہ شخصیت بڑی کیسے ہو سکتی ہے۔ عالم چنا مرحوم کی مثال سامنے موجود ہے۔ ؤہ طویل قامت ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا، مگروہ نہ تودلوں میں بستا ہے اور نہ ذہنوں میں۔ البتہ کوئی فرد پستہ قد ہی کیوں نہ ہو، بڑی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے آگروہ کمال درجے کی خوبیوں، قابلیت اور اور اچھے اوصاف کا حامل ہو اور لوگ اسے پسند بھی کرتے ہوں۔۔ یا اس نے ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہو کہ لوگ اسے یاد کرتے ہوں۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کو انکی اصول پسندی، بیباکی، قانون دانی، انصاف پسندی اور استقامت جیسی خوبیوں کی وجہ سے انکے مخالفین بھی انکے معترف تھے۔ اس کے علاؤہ انہوں نے پاکستان بنانے میں جو کردار ادا کیا، اس کی وجہ سے وہ بانی پاکستان کہلائے، جس سے پوری دنیا میں انکے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا۔ وہ آج بھی قد آور شخصیت کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہیں۔۔ وہ اور شاعر مشرق علامہ اقبال جیسی قد آور شخصیات ہمارے دلوں پہ راج کرتی ہیں۔
کوئی شخص اپنے علوم، حکمت اور دانش میں یکتا ہو تو اس کی ساکھ اور شہرت کی ایسی دھاک دلون میں بیٹھتی ہے کہ سب لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھتی ہیں۔ انکے علم کا شہرہ چہاردانگ عالم میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ حرمین شریفین کے امام حضرات کا دینی مرتبہ اور رتبہ حرمین شریفین کی نسبت سے تمام عالم اسلام میں لائق احترام ہے۔ اسی طرح دینی علوم کے میدان میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی جیسی قد آورشخصیت اور ا ن جیسے دیگر علماء دین شخصیات اور دلوں کو چھو لینے والی قرات کرنے والے قاری عبد الباسط عالم اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں مقبولیت کے اعتبار سے سبقت کی حامل رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فیلڈ مارشل کی شخصیت اس وقت پوری دنیا میں ہر دلعزیزاور مقبول ہے۔ قدرت نے انہیں وہ مقام دیا ہے جس کی وجہ سے عالمی برادری پاکستان کو پر وقار، عظیم اور دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے مضبوط ترین ملک سمجھ رہی ہے۔ یہ بات قوت اور عہدے کے حوالے سے شخصیت کے بڑے پن کی عکاس ہے۔
مال و متاع اور کثیر سرمایہ رکھنے والوں کے پاس روپے پیسے کی قوت ہوتی ہے جو بظاہر دوسروں کی نظرمیں شخصیتوں کو بڑا بناتی ہے۔ کہنے کو ان گنت مالی وسائل فقط ہاتھ کی میل ہوتے ہیں، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہل ثروت ارب اور کھرب پتی لوگ روپے پیسے کی بنیاد پر انتہائی پرتعیش زندگی بسر کرتے ہیں۔ آسانیاں اور سہولتیں ان کے دروازے پہ دستک دے رہی ہوتی ہیں۔ پیسہ ہی انکا دبدبہ بن کر انہیں دوسروں پر برتر بناتا ہے۔ ایسی بڑی شخصیات انسانی خصوصیات سے مالا مال ہوں یا نہیں۔ انکی شہرت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی پے۔ تاہم اہل دولت انسانی خصوصیات کے حوالے سے تہی دست ہوں اور وہ صرف اور صرف دولت کومحض اپنی طاقت سمجھتے ہوں۔ وہ اپنے مال کو دوسروں پر خرچ نہیں کرتے، بلکہ سینت کر جمع کرتے کرتے دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ وہ بھی دوسروں کی طرح خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ انکے جانے کے بعد کوئی انہیں امیر ترین انسان کی حیثیت سے یاد نہیں رکھتا۔
مقتدر اور صاحب اختیار نفوس کے پاس بھی بڑے پن کی قوت و طاقت ہوتی ہے۔ کوئی بادشاہ، سلطان، امیر ریاست، صدر اور وزیر اعظم ہو، وہ جب تک بر سر اقتدار رہتا یا رہتی ہے، دنیا میں اسکی شناخت و پہچان بام عروج پہ ہوتی ہے۔ اس کے پاس اختیار بھی ہوتا ہے اور حکومتی وسائل بھی۔ لیکن جب وہ ظالم و جابر ہن جاتا ہے، آمرانہ انداز سیاست کا حامی ہوتا ہے، قتال و نسل کشی کے ذریعے مجبور و بے قصور لوگوں کو سفاکانہ طریقوں سے گولیوں، بموں، ڈرونز اور دہشت گردی کے مہلک ہتھیاروں سے نشانہ بناتا ہے تو وہ شدید مخالفتوں کی وجہ سے بڑے منصب پہ زیادہ دیر متمکن نہیں رہتا۔ اسرائیل کے صدر بنجمن نیتن یاہو اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا شمار ایسی ہی مقتدر شخصیات میں ہوتا ہے جو حکومتی اقتدار اور اختیارکے مالک اور شہرت کے حامل ہو کر بھی تیزی سے تنزلی اور زوال کی شکار ہیں۔
اللہ رب العزت نے نبی مکرم ختم المرسلین، محبوب الٰہی ،حامل جامع صفات و خصائل و کمالات، سرور دوجہاں، رحمت دو عالم، طاہر وطیب، صاحب قرآن کریم، داعی اسلام و وحدانیت باری تعالیٰ اور شافع محشر محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں میں رحمت لقب پانے والا – مرادیں غریبوں کی بر لانے والا، بنا کر بھیجا ہے آپ کو جہانوں میں ممتاز و منفرد مقام عطا فرمایا اور جسے معراج سبع سماوات سے مشرف کیا، اللہ نے آپکی ذات اقدس کو وہ بالیدگی عطا فرمائی جو نہ اس سے پہلے کسی کو ملی اور نہ آئندہ کسی کو نصیب ہوگی۔ یہ وہ برتری اور بزرگی ہے جس نے آپ کو رتبے میں سب سے افضل، پیکر انسانیت اور محسن خلائق بنا دیا۔ آپ رہتی دنیا تک تکریم و تعظیم کے منصب پر فائز رہیں گے۔ لہٰذا آپ ہر زمانے کی سب سے بڑی، مقبول شخصیت ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ،
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، کے درجہ پر فائز ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں