یہ تحریر نہ کسی فرد کی مدح سرائی ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کی تشہیر، اور نہ ہی اسے کسی عقیدت نامے کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ یہ دراصل اعتماد کی ایک کہانی ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جس پر لوگوں نے اپنی زندگی کے سب سے کٹھن لمحے میں بھروسا کیا، اور جس نے اس اعتماد کو نعروں، دعوؤں یا تصویری مہمات میں نہیں بدلا بلکہ خاموش، مسلسل اور عملی خدمت کے ذریعے نبھایا۔ بونیر کے سیلاب کے بعد جو کچھ ممکن ہوا، وہ کسی عمومی امدادی نظام کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مولانا مفتی فضل غفور کی ذاتی قیادت، انتھک محنت اور مسلسل موبلائزیشن کا حاصل تھا، جس کے پیچھے مولانا فضل الرحمٰن کا اعتماد اور حوصلہ افزائی ایک مضبوط اخلاقی سہارا بن کر موجود رہی۔
کلاوڈ برسٹ کے بعد جب پانی اترا تو تباہی صرف اینٹ، پتھر اور لکڑی کی نہیں تھی۔ گھروں کے ساتھ لوگوں کا سکون بہہ گیا، دکانوں کے ساتھ برسوں کی محنت، اور چار دیواریوں کے ساتھ نجی زندگی کا تحفظ۔ ایسے میں سب سے پہلا عملی قدم ملبہ ہٹانا تھا، اور یہ فیصلہ خود بخود نہیں ہوا۔ مفتی فضل غفور خود میدان میں اترے، رضاکاروں کو منظم کیا، وسائل اکٹھے کیے اور کام کی براہِ راست نگرانی کی۔ نتیجتاً 546 گھروں، 400 دکانوں اور 18 مساجد سے ہزاروں ٹن وزنی ملبہ اور لکڑی ہٹائی گئی، تاکہ بند راستے کھلیں اور زندگی دوبارہ چل سکے۔
اسی دوران ہنگامی انسانی ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ مفتی صاحب کی براہِ راست ہدایات پر 163 افراد کو بروقت ایمبولینس سروس فراہم کی گئی۔ 297 گھرانوں کو خیمے دیے گئے اور 5,000 گھرانوں تک راشن پہنچایا گیا۔ 177 گھرانوں کو چارپائیاں، رضائیاں اور مچھر دانیاں فراہم ہوئیں، جبکہ 263 گھرانوں کو نقد مالی امداد دی گئی۔ بعض مکمل بے سہارا یتیموں اور بیواؤں کے لیے گھر کے پلاٹس بھی خریدے گئے تاکہ انہیں محض وقتی آسرا نہیں بلکہ مستقل چھت میسر آ سکے۔
یہاں مفتی فضل غفور کا وژن روایتی ریلیف سے واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ کچھ ایسے یتیم بچے، جن کا کوئی کفیل باقی نہیں رہا تھا، ان کے لیے رکشے خرید کر ماہانہ رینٹ پر دیے گئے تاکہ تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کے لیے ایک مستقل ذریعۂ کفالت پیدا ہو سکے۔ یہ امداد نہیں تھی، یہ خودمختاری کی طرف پہلا قدم تھا۔
سیلاب کے بعد پانی اور صفائی سب سے بڑا بحران بن کر سامنے آئے۔ مفتی صاحب نے اسے ترجیحی مسئلہ قرار دیا اور فوری فیصلوں کے ذریعے 50 گھروں کے پانی کے کنکشن بحال کروائے، 223 گھروں میں پانی اور سینیٹیشن کی مرمت ہوئی، اور 170 گھروں کے لیے 7 بور ہولز اور واٹر ٹینکس فراہم کیے گئے۔ پانی کی قلت نے بحران کو مزید گہرا کر دیا تھا، اس لیے کوٹ، گوکند، کلیل، جانو، سوڈھیر، پھلواڑی اور خونہ خپہ تک واٹر سپلائی اسکیموں کا جال بچھایا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق 35 دیہات میں صاف پانی کی اسکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی اسی سوچ کے تحت کام ہوا۔ کئی دیہات کو سولرائز کیا گیا، جبکہ ٹانٹا میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو دوبارہ تعمیر اور مرمت کر کے مفت بجلی کی فراہمی شروع کی گئی۔ اسی بجلی سے آٹے کی مشین بحال ہوئی اور پورے ٹانٹا میں آٹے کی سپلائی ممکن ہوئی۔ یہ ایک اسکیم نہیں بلکہ مقامی معیشت کی بحالی تھی۔
بحالی کا کام صرف مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں تک محدود نہیں رہا۔ 200 ایسے گھر جو جزوی طور پر منہدم تھے، ان کی چاردیواری، مرمت اور بحالی کے لیے ایک بڑا اور منظم پراجیکٹ شروع کیا گیا، تاکہ لوگ دوبارہ محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں اور ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔
یہی وسعتِ نظر مذہبی اور سماجی مقامات کی بحالی میں بھی نظر آئی۔ بلوخان روڈ پر جماعت اسلامی کا مدرسہ، ملکپور میں جماعت اشاعت التوحید کا مدرسہ، جامع مسجد پیر بابا اور اس کا لنگر خانہ، حتیٰ کہ سکھ مت کے شمشان گھاٹ کی تعمیر نو تک، یہ سب اقدامات مذہبی ہم آہنگی اور سماجی رواداری کی عملی مثال بنے۔
پہاڑی علاقوں میں خدمت کا دائرہ انسان تک محدود نہیں رکھا گیا۔ مفتی صاحب کی ہدایت پر جنگلی حیات کے لیے چھوٹے آبی ذخائر بنائے گئے تاکہ جانور پانی سے محروم نہ ہوں۔ یہ وہ پہلو ہے جو عموماً آفات کے بعد نظر انداز ہو جاتا ہے، مگر یہاں اسے شعوری طور پر شامل کیا گیا۔
روزگار کی بحالی اس پورے ماڈل کی بنیاد رہی۔ 73 دکانوں کی شٹرز اور گیٹس مرمت ہوئے، 620 دکانداروں میں نقد رقوم تقسیم کی گئیں، 28 ہوٹلوں اور 10 چائے کیفوں کا کاروبار بحال کیا گیا۔ 12 ترکھانوں، 3 لوہاروں، 8 موچیوں، 8 گیلکاروں اور 16 دیگر چھوٹے کاروباروں کو اوزار اور سامان فراہم کر کے دوبارہ کھڑا کیا گیا۔
نوجوانوں کی بحالی کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا گیا۔ 12 اسپورٹس کمپلیکس اور کھیل کے میدان بحال کیے گئے، فٹ بال، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کی کٹس تقسیم کی گئیں، اور یوں مرجھائے ہوئے چہروں پر دوبارہ خوشیاں لوٹ آئیں۔ یہ محض کھیل نہیں تھے بلکہ نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے کا ایک نفسیاتی عمل تھا۔
تعلیم، صحت اور کمیونٹی سہولیات کے معاملے میں بھی جہاں موقع ملا، فوری ریلیف پہنچایا گیا۔ کمیونٹی گرلز اسکولز ہوں، پرائیویٹ اسکولز، ہسپتال یا تھانے،ہر جگہ خدمت کو ترجیح دی گئی تاکہ معاشرے کے یہ بنیادی ستون دوبارہ مضبوط ہو سکیں۔
اسی تسلسل میں مفتی فضل غفور کی ذاتی دلچسپی سے یتیم بچوں کے لیے خصوصی میلے کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جہاں بچے اپنی پسند اور سائز کے مطابق کپڑے، جوتے اور کھلونے خود منتخب کریں گے۔ یہ شاید چھوٹی سرگرمی لگے، مگر آفت کے بعد بچوں کے نفسیاتی زخموں پر یہ ایک گہرا مرہم ہے۔
ان تمام اقدامات کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ یہ کسی حکومتی فنڈ کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر عوام اور خیر خواہوں کے تعاون سے، بلا تفریق مذہب، فرقہ، نسل، رنگ یا سیاسی وابستگی کے جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مدد کرنے والا کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔
اگر بونیر میں کسی سے پوچھا جائے کہ اس مشکل وقت میں کس نے سہارا دیا، تو جواب میں کسی پارٹی یا نظریے کا نام نہیں آتا، صرف ایک نام آتا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا مفتی فضل غفور کی قیادت اور مولانا فضل الرحمٰن کے اعتماد نے مل کر خدمت کو سیاست سے بلند کر دیا۔
جاپان نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کو چند برسوں میں تعمیر میں بدلا تھا۔ بونیر میں، مفتی فضل غفور نے اسی مثال کو بدل کر چند مہینوں میں اُجڑے ہوئے گلستان کو پھر سے آباد کر دیا۔ اور تب بے اختیار یہی مصرع یاد آتا ہے:
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں