یہ محض کسی ایک امتحانی سال کی خبر نہیں، بلکہ ایک طویل پس منظر کے ساتھ سامنے آنے والی تشویش ناک حقیقت ہے۔ حالیہ میٹرک نتائج نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا کے قریب ایک ہزار سرکاری ہائی اسکول ایسے ہیں جہاں ساٹھ فیصد سے زیادہ طلبہ ناکام ہوئے۔ اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ، اصلاحات کے دعوے، اور کارکردگی کے سرکاری بیانیے کے باوجود یہ نتائج اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ محض نمبروں کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔ حکومت نے حسبِ روایت ایک کمیٹی قائم کی، پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کو طلب کیا گیا، وجوہات بھی گنوائی گئیں، مگر کچھ دنوں کی ہلچل کے بعد خاموشی نے پھر سب کچھ ڈھانپ لیا۔ یہی خاموشی اصل سوال ہے، اور یہی اس بحران کی اصل علامت بھی۔
یہ حقیقت ابتدا ہی میں مان لینی چاہیے کہ سرکاری اسکولوں کے کمزور نتائج کی کوئی ایک وجہ نہیں، اور نہ ہی تمام ناکام اسکول ایک ہی مسئلے کا شکار ہیں۔ ہر اسکول کی اپنی الگ کہانی ہے، اور اکثر جگہوں پر مسائل ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ کہیں اساتذہ کی کمی ہے، خصوصاً سائنس اساتذہ نایاب ہیں، اور لڑکیوں کے اسکولوں میں یہ کمی ایک مستقل بحران بن چکی ہے۔ کہیں تدریس پس منظر میں چلی گئی ہے اور اساتذہ سیاست، احتجاج، تنظیمی سرگرمیوں اور غیر تدریسی مصروفیات میں زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔
سیاسی مداخلت اس بگاڑ کی ایک ایسی وجہ ہے جس پر کم بات کی جاتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہیں۔ کئی اسکولوں میں بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی اساتانیاں عملاً اسکول آئے بغیر گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہی ہیں۔ جب احتساب کمزور اور نگرانی محض رسمی ہو تو قانون اور ضابطہ اثر و رسوخ کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں، اور اس کا خمیازہ براہِ راست طالب علم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خواتین اساتذہ کی غیر حاضری، باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے حاضریاں لگوانا، اور کلاس میں محض وقت گزارنا بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ استاد جب خود تدریس کو سنجیدگی سے نہ لے تو طالب علم سے محنت اور دلچسپی کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ کبھی اساتذہ غیر حاضر، کبھی طلبہ، کبھی چھٹیاں، کبھی ہڑتالیں، کبھی بجلی، سردی یا گرمی کے مسائل، کبھی اساتذہ کی ٹریننگ اور کبھی سرکاری اداروں میں غیر تدریسی کام، یوں تعلیم کا تسلسل بار بار ٹوٹتا رہتا ہے۔
طلبا کی غیر حاضری کے اسباب بھی کم نہیں۔ کہیں غربت بچوں کو کتاب کے بجائے مزدوری کی طرف دھکیل دیتی ہے، کہیں گھریلو ذمہ داریاں آڑے آتی ہیں، کہیں سزا اور بے عزتی کا خوف، اور کہیں اسکول کا فاصلہ اور کرایے کی عدم دستیابی۔ لڑکیوں کے اسکولوں میں یہ مسائل مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ اساتذہ اکثر دور دراز علاقوں سے آتی ہیں، چھٹیاں زیادہ ہوتی ہیں، اور مانیٹرنگ کا نظام کمزور رہتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں ایک نہایت اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو اسکول کی قیادت ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جس ادارے کے سربراہ کا جو رنگ ہوتا ہے، وہی رنگ رفتہ رفتہ اس ادارے کے اساتذہ اور طلبہ میں سرایت کر جاتا ہے۔ ایک اچھا استاد لازماً اچھا منتظم نہیں ہوتا۔ تدریس اور انتظام دو مختلف صلاحیتیں ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے نظام میں کئی اساتذہ ترقی پا کر پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر تو بن جاتے ہیں، لیکن وہ اسکول کو بطور ادارہ سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتے، جس کا اثر نظم و ضبط، ماحول اور نتائج تینوں پر پڑتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کمزور طلبہ کو سفارش یا مجبوری کے تحت ابتدائی جماعتوں ہی میں اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جاتی ہے، اور جب وہ ثانوی سطح پر پہنچتے ہیں تو سارا بوجھ سیکنڈری اساتذہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ذہین طلبہ کو اسکالرشپ، اعزازیہ اور مفت داخلوں کے نام پر نجی اسکول اپنے کاروباری مفاد کے لیے کھینچ لیتے ہیں، جس سے سرکاری اسکول مزید کمزور ہو جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا، موبائل فون اور دیگر مشغولیات نے بھی بچوں کی توجہ، یکسوئی اور مطالعے کی عادت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گھر، اسکول اور معاشرہ، تینوں سطحوں پر رہنمائی اور نگرانی کا فقدان ہو تو اس کے اثرات لازماً نتائج میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ نصاب اور تدریسی طریقے آج بھی فرسودہ ہیں، جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، اور تعلیم بچوں کے لیے بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود، جب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی محض رسمی سرزنش تک محدود رہے اور کوئی ٹھوس اصلاح سامنے نہ آئے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ نیت کا ہے یا ترجیحات کا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر اسکول کا آزادانہ، حقیقت پسندانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، پرنسپلز اور اساتذہ کو بار بار کے تبادلوں کے بجائے مناسب مدت دی جائے، اور تبادلے تعلیمی سال کے آغاز میں ہوں تاکہ تسلسل اور جواب دہی ممکن ہو سکے۔
آخر میں بات ایک پشتو محاورے پر ختم کرنا زیادہ بامعنی ہے: “سہ ابہ خڑے او سہ میان لانڑدہ”۔ مسئلہ ایک نہیں، کئی ہیں، اور ہر ایک کی جڑ الگ ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم کر کے مجموعی، سنجیدہ اور غیر سیاسی اصلاحات کی طرف نہیں بڑھتے، تب تک نتائج بدلیں گے نہیں، اور سرکاری اسکولوں کی یہ کہانی ہر سال نئے اعداد و شمار کے ساتھ خود کو دہراتی رہے گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں