جاپان کی تاریخ – ابتدائی تعارف اور تاریخِ جاپان کا ماخذ(1)-انیس رئیس

جاپان برِاعظم ایشیا کے مشرق میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے جو تقریباً 6,500 جزائر پر مشتمل ہے۔ ان میں سے چار بڑے جزائر ہیں، جن میں Honshu بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جاپان کے مشہور شہر ٹوکیو، کیوتو، اوساکا، یوکوہاما اور ناگویا اسی جزیرے پر واقع ہیں۔
سن 1868ء میں جاپان کا دارالحکومت کیوتو سے ایدو (Edo) منتقل کیا گیا، جو بعد ازاں ٹوکیو کہلایا۔ یوں دنیا کے بڑے اور خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہونے والا ٹوکیو، 1868ء سے قبل کی تاریخی کتب اور قدیم ریکارڈز میں تلاش کرنا ایک سعیٔ لاحاصل ہوگا۔

اگرچہ جاپان کی تہذیب و تمدن کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہاں انسانی آبادی کے آثار 30,000 قبل مسیح تک ملتے ہیں، تاہم جاپان کے پاس اپنا کوئی قدیم تحریری تاریخی ریکارڈ موجود نہیں۔
جاپان کے قدیم ترین تحریری ماخذ Kojiki اور Nihon Shoki ہیں، جو آٹھویں صدی عیسوی میں مرتب کیے گئے۔ ان کتب میں جاپان کی مذہبی اساطیر، شاہی خاندان کی پیدائش، جزیرہ نما جاپان کی تخلیق، اور تاریخی و نیم تاریخی واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ یہی دونوں کتب جاپان کے مقامی مذہب Shintoism کا بنیادی ماخذ بھی ہیں۔

جاپان میں تحریری تاریخ کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب جاپانیوں نے چینی طرزِ تحریر اختیار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین سے کنفیوشس اور لاؤتزے کے اخلاقی و فکری نظریات بھی جاپان منتقل ہوئے۔ بدھ مت سے جاپانی قوم کی شناسائی بڑھی اور یوں جاپان بین الاقوامی دنیا میں پہچانا جانے لگا۔

جب جاپان کا ابتدائی تاریخی ماخذ Nihon Shoki سن 720ء میں تحریر کیا گیا، تو اسی زمانے میں عالمِ اسلام میں علوم و فنون کا عروج تھا۔ مدینہ میں امام مالک اور کوفہ میں امام ابو حنیفہ پیدا ہو چکے تھے، علامہ ابن سیرین تعبیرالرؤیا کے حوالے سے مشہور تھے اور امام محمد باقر کی فقہ و فراست کا چرچا تھا۔اسی سال حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی وفات ہوئی اور اسلامی ریاست کی حدود افریقہ میں مراکش، ایشیا میں ہندوستان اور یورپ میں فرانس کی سرحدوں کو چھو رہی تھیں۔

اردو زبان کے قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ جاپان کی تاریخ کو اس عہد کے ساتھ جوڑ کر سمجھ سکیں جس کے نقوش ان کے ذہنوں میں پہلے سے موجود ہیں۔

جاپان کے تاریخی ماخذ کوجیکی اور نی ہُن شوکی کے مطابق جاپان کا شاہی خاندان سورج دیوتا کی اولاد ہے، اور پہلے شہنشاہ Jimmu Tenno، سورج دیوی Amaterasu Omikami کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
شہنشاہ جِمّو نے 660 قبل مسیح میں جاپان میں حکومت قائم کی، اور تب سے لے کر آج تک انہی کی نسل سے شہنشاہ جاپان کی شاہی روایات کو آگے بڑھاتے آ رہے ہیں۔ موجودہ شہنشاہ Emperor Naruhito اس سلسلے کے 126ویں جانشین ہیں۔

جاپان کا کل رقبہ تقریباً 3 لاکھ 43 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے لگ بھگ نصف کے برابر ہے، جبکہ آبادی 12 کروڑ 34 لاکھ کے قریب ہے۔ یوں پاکستان کی آبادی جاپان سے دوگنی بلکہ اس سے بھی کچھ زائد ہے۔
آبادی کے لحاظ سے ٹوکیو، اوساکا، یوکوہاما اور ناگویا بڑے شہر ہیں۔

جاپان میں غیر ملکیوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہے، جن میں اکثریت چینی، ویتنامی، کورین، فلپائنی، برازیلین اور انڈونیشی باشندوں کی ہے۔ جاپان میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 30 ہزار ہے۔ سب سے زیادہ پاکستانی سائتاما پریفیکچر میں آباد ہیں، اس کے بعد ٹوکیو، کاناگاوا، آئیچی اور چیبا پریفیکچرز میں ان کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے 200 سے کچھ زائد پاکستانیوں نے جاپانی شہریت بھی حاصل کر رکھی ہے۔

شمالی بحرالکاہل میں واقع جاپان انتظامی طور پر 47 پریفیکچرز پر مشتمل ہے، جن کا سربراہ گورنر کہلاتا ہے۔ یہ گورنر براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر شہر کا میئر بھی براہِ راست منتخب کیا جاتا ہے، اور کسی قومی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بلدیاتی نظام کو معطل کرے یا شہری انتظامیہ میں بے جا مداخلت کرے۔

سن 1868ء میں جاپان میں Meiji دور کا آغاز ہوا، جو ملک و قوم کے لیے ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا۔ اسی دور میں جاپان کا پہلا آئین مرتب ہوا اور برِاعظم ایشیا کا پہلا پارلیمانی نظام قائم کیا گیا۔شہنشاہ کو ریاست کا سربراہ قرار دیا گیا اور ان کے وجود کو قومی وحدت اور یکجہتی کی علامت بنایا گیا۔جاپان کی قومی اسمبلی The National Diet کہلاتی ہے، جو ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں پر مشتمل ہے۔ دونوں ایوانوں کے ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ٹوکیو یونیورسٹی، کیوتو یونیورسٹی، ہوکائیدو یونیورسٹی، اوساکا یونیورسٹی، ناگویا یونیورسٹی اور کیوشو یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی ادارے بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔

سن 1904ء کی Russo-Japanese War میں جاپان کی فتح نے اسے ایک عظیم مشرقی طاقت بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں جاپانی امپیریل ازم کی حدود کوریا اور چین سے ہوتے ہوئے برما، انڈونیشیا اور فلپائن تک پھیل گئیں، اور 1941ء تک جاپان برطانوی سلطنت کے بعد دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

julia rana solicitors london

یوں جاپان کی تاریخ کا یہ ابتدائی تعارف ہمیں دکھاتا ہے کہ یہ ملک ایک طرف مذہبی اساطیر، شاہی روایات اور قدیم تہذیب کا امین ہے، تو دوسری طرف جدید ریاست، آئینی نظام اور جمہوری اقدار کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔کوجیکی اور نی ہُن شوکی اگرچہ حقیقت اور اساطیر کا حسین امتزاج ہیں، مگر یہی ماخذ جاپانی قومی شناخت، ریاستی تسلسل اور فکری ارتقا کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply