مذہب کہاں رہ گیا ہے؟ -علی عباس کاظمی

ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہاں مذہب ایک زندہ حقیقت کم اور ایک مسلسل موضوعِ بحث زیادہ بن چکا ہے۔ منبروں پر، سوشل میڈیا پر، محفلوں میں اور سیاست کے ایوانوں تک مذہب زیرِ گفتگو ہے مگر عملی زندگی میں اس کی روشنی مدھم پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کا یہ جملہ کہ جو مذہب انسان کو مرنے سے پہلے فائدہ نہ دے وہ مرنے کے بعد بھی کچھ نہیں دے سکتا، دراصل ہمارے اجتماعی رویے پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ یہ جملہ مذہب پر نہیں بلکہ ہمارے بنائے ہوئے مذہبی تصور پر تنقید ہے، اس مذہب پر جو ہم نے وراثت میں تو پایا مگر شعوری طور پر سمجھنے اور جینے کی زحمت کم ہی کی۔

ہم میں سے اکثر نے مذہب کو ایک موروثی شناخت بنا لیا ہے۔ جس طرح خاندانی نام، زبان یا علاقہ وراثت میں ملتا ہے، اسی طرح مذہب بھی بغیر سوال، بغیر تلاش ہمارے حصے میں آ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل مسئلہ جنم لیتا ہے۔ کیونکہ جو چیز تلاش سے نہ ملی ہو وہ ذمہ داری بھی نہیں مانگتی۔ ہم نے مذہب کو رسموں، عادتوں اور چند ظاہری اعمال تک محدود کر کے اسے آسان تو بنا لیا مگر بامعنی نہیں رہنے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مذہب نہ ہماری دنیا سنوار سکا اور نہ ہی ہمیں آخرت کی کسی واضح سمت سے جوڑ سکا۔

ڈاکٹر علی شریعتی اسی تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی مرضی سے بہت سی نعمتوں کو خود پر حرام اور بہت سی قباحتوں کو حلال کر لیا۔ یہ جملہ دراصل ہمارے خود ساختہ مذہبی فلٹر کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں مفاد ٹکرائے، وہاں اصول لچک اختیار کر لیتے ہیں اور جہاں ذمہ داری آئے وہاں دین کو مشکل یا غیر عملی قرار دے دیتے ہیں۔ اس طرح مذہب ایک مکمل نظامِ حیات ہونے کے بجائے ایک سہولت کار نظریہ بن جاتا ہے جو صرف ہماری مرضی پر چلتا ہے۔

دین کو ہم نے نماز، روزہ، چند مخصوص عبادات تک محدود کر دیا، حالانکہ دین انسان کو ذمہ دار بناتا ہے۔ انسان اپنے کہے کا بھی جواب دہ ہے، اپنے کیے کا بھی، اپنے اختیار کا بھی اور اپنے اثرات کا بھی۔باشعور انسان جانتا ہے کہ اس کی ایک غلط بات بھی معاشرتی سچائی اور اعتماد کو متزلزل کر سکتی ہے۔ دین صرف عبادت کا نام نہیں، اس کی سچائی کا امتحان معاشرے، روزگار کی جگہ اور خاندان کے دائرے میں ہوتا ہے۔

یہی بات رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے مخصوص فکری انداز میں کہی تھی کہ انسان مذہب کے لیے بحث کرتا ہے، لڑتا ہے، حتی کہ قتل تک کر دیتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔ ایک نوبل انعام یافتہ ادیب کی یہ بات کسی ایک مذہب یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ انسانی فطرت کے اس المیے پر ہے جسے ہم منافقت کہتے ہیں۔ ہم اصولوں کو دوسروں پر لاگو کرنے میں ماہر اور خود کو ان سے مستثنیٰ سمجھنے میں عادی ہو چکے ہیں۔

ہم مذہب کے نام پر حساس ہیں مگر اخلاق کے نام پر بے حس۔ ہمیں گستاخی کا شور تو سنائی دیتا ہے مگر بھوک، ناانصافی اور ظلم کی چیخیں اکثر ہماری سماعت سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب بطورِ بحث زندہ اور مذہب بطورِ عمل مردہ نظر آتا ہے۔ حالانکہ اصل مذہب وہی ہے جو انسان کو بہتر انسان بنائے، جو اس کے رویے میں نرمی، اس کے فیصلوں میں انصاف اور اس کے اختیار میں امانت پیدا کرے۔

ڈاکٹر علی شریعتی کا یہ کہنا کہ خدا کے لیے جینا خدا کے لیے مرنے سے زیادہ مشکل ہے، ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔ مرنا ایک لمحے کا عمل ہے مگر جینا ایک مسلسل جدوجہد۔ خدا کے لیے جینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر دن، ہر فیصلے اور ہر تعلق میں خدا کو حاضر ناظر سمجھیں۔ یہ شعور آسان نہیں، اس کے لیے نفس سے ٹکراؤ، مفاد سے انکار اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ چاہیے۔

ہم نے مذہب کو ایک محفوظ دائرے میں قید کر دیا ہے تاکہ وہ ہماری دنیاوی ترجیحات میں مداخلت نہ کرے۔ ہم عبادت کے لیے وقت نکال لیتے ہیں مگر دیانت کے لیے کردار نہیں بناتے۔ ہم دعاؤں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ہاتھ روک لیتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو ہمیں مذہبی تو بناتا ہے مگر اخلاقی نہیں۔

اصل دین سوال کرنے سے نہیں گھبراتا بلکہ سوال کو شعور کی سیڑھی بناتا ہے۔ مگر ہم نے سوال کو بغاوت اور سوچ کو خطرہ قرار دے دیا۔ نتیجتاً مذہب جامد ہو گیا اور زندگی متحرک۔ جب مذہب زندگی کے ساتھ چلنا چھوڑ دے تو وہ محض ایک یادگار بن جاتا ہے، ایک روایت جسے سینے سے تو لگایا جاتا ہے مگر جیا نہیں جاتا۔

اگر مذہب ہمیں مرنے سے پہلے فائدہ نہیں دے رہا تو اس کی ذمہ داری مذہب پر نہیں بلکہ ہم پر ہے۔ کیونکہ فائدہ کسی مافوق الفطرت معجزے کا نام نہیں بلکہ ایک واضح اخلاقی تبدیلی کا دوسرا نام ہے۔ وہ تبدیلی جو انسان کو انسان کے قریب لائے، جو طاقت کو امانت اور اختلاف کو برداشت میں بدل دے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مذہب کو دوبارہ بطورِ عمل دریافت کریں، بطورِ کردار، بطورِ ذمہ داری۔ عبادت کو اخلاق سے، عقیدے کو انصاف سے اور ایمان کو انسانیت سے جوڑیں۔ ورنہ یہ مذہب صرف بحثوں میں زندہ رہے گا، کتابوں میں محفوظ رہے گا مگر زندگی سے کٹ کر اپنی تاثیر کھو دے گا۔مذہب کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم کیا کہتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ اگر ہمارا مذہب ہمیں بہتر شہری، بہتر پڑوسی، بہتر والدین اور بہتر انسان نہیں بنا رہا تو ہمیں اپنے مذہبی فہم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ دین جو زندگی کو نہ سنوار سکے، موت کے بعد کسی نجات کا وعدہ بھی۔۔۔ کھوکھلا ہی محسوس ہوتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply