پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قیام سے لے کر آج تک ہونے والے عام انتخابات میں سے کسی ایک کو بھی مکمل طور پر شفاف اور دھاندلی سے پاک قرار دینا مشکل ہے۔ کوئی بھی ذمے دار مبصر دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ عوامی مینڈیٹ کو بغیر کسی مداخلت کے تسلیم کیا گیا ہو۔ واحد استثنا 1970 کے عام انتخابات تھے، جو شفاف مانے جاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ یہ حقیقت ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا ہمارے طاقت کے مراکز واقعی آزاد عوامی فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ غیر سیاسی اداروں کی مداخلت نے نہ صرف جمہوری ارتقا کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کے ووٹ کی حرمت کو بھی مجروح کیا۔ اس مسلسل عمل کے نتیجے میں آج ایک سنگین خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ ووٹ کی اہمیت اور جمہوریت پر عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے۔
2024 کے عام انتخابات اسی بحران کی ایک واضح مثال ہیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت دی گئی، پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ اور بلوچستان میں اقتدار ملا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حکومت ملی۔ تاہم ملک کے دیگر حصوں میں پی ٹی آئی کو فارم 47 کے ذریعے پارلیمانی اکثریت سے محروم رکھا گیا، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
اس سیاسی بندوبست کا ایک غیر متوقع نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان تحریک انصاف مزید منظم ہو کر سامنے آئی۔ پختونخوا میں حکومت ملنے کے بعد پی ٹی آئی نے صوبائی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ مقتدر حلقوں کو بھی کھل کر چیلنج کیا۔ بظاہر پی ٹی آئی کی طرزِ سیاست فیصلہ سازوں کے لیے قابلِ قبول نہیں، مگر اس کی عوامی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر کسی جماعت کو مسلسل دبانے کے باوجود عوامی حمایت حاصل رہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ آزاد اور شفاف انتخابات کی صورت میں وہ دوبارہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے—اور یہی بات بعض طاقتور حلقوں کے لیے ناقابلِ قبول دکھائی دیتی ہے۔
ایسے میں اصل سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی مقبول ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر سیاست عوامی رجحان کے مطابق کی جائے تو طاقت کے موجودہ توازن کا کیا بنے گا؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آئندہ عام انتخابات کے لیے متبادل سیاسی قوتیں تیار کرنے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں۔
میری رائے میں اس وقت فیصلہ سازوں کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی ایک موزوں آپشن کے طور پر ابھرتی ہے۔ ایک طرف بلاول بھٹو زرداری واضح طور پر وزیرِاعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت کارکردگی کے شدید بحران کا شکار نظر آتی ہے، جس نے عوامی سطح پر اپنی ساکھ خاصی حد تک کھو دی ہے۔
اسی تناظر میں پختونخوا کو پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی تجربہ گاہ سمجھا جاتا ہے، اور وہاں پی ٹی آئی کے متبادل کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی کو آگے لانے کی کوششیں دکھائی دیتی ہیں۔ اے این پی اور پی پی پی نظریاتی اور سیاسی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ ماضی میں 2008 کی اتحادی حکومت اور بعد ازاں پی ڈی ایم میں مشترکہ فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ سیاست کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگر حالیہ سیاسی طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں دونوں جماعتوں کی کھلی حمایت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو غیر معمولی استثنیٰ دینا اور ایک مخصوص عہدے کو قانونی تحفظ فراہم کرنا پارلیمانی بالادستی اور آئین کی روح کے منافی محسوس ہوتا ہے۔
خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی کا کردار حیران کن نظر آتا ہے۔ ایمل ولی خان نے 27ویں آئینی ترمیم کی بھرپور حمایت کی، حالانکہ اس ترمیم کی متعدد شقیں آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ یہ وہی آئین ہے جس کی تشکیل میں ان کے دادا، خان عبد الولی خان، نے تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ مزید یہ کہ خود اے این پی کے اندر سے بھی اس ترمیم کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں، جو اس حمایت کو مزید سوالیہ نشان بنا دیتی ہیں۔
ایسے موقع پر اردو کے عظیم شاعر اسد اللہ خان غالب کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے:
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
میرے ناقص خیال کے مطابق، انہی سیاسی حالات کے تناظر میں آئندہ مرحلے پر مرکزی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کو اور پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کو حکومت مل سکتی ہے۔ امید ہے کہ پی پی پی اور اے این پی مقتدرہ کے بجائے عوام کی طرف دیکھے گی ۔
اگر اے این پی اور پی پی پی عوامی حمایت کے بجائے طاقتور حلقوں کے سہارے اقتدار میں آتی ہیں تو انہیں لازماً اپنی بنیادی سیاست پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ اس سمجھوتے میں صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے جائز حقوق، جمہوری اقدار، پارٹی منشور، اور عوامی نیشنل پارٹی کے لیے خاص طور پر “خپلہ خاورہ خپل اختیار” جیسے نظریاتی نعروں سے اندرونی طور پر دستبرداری شامل ہو سکتی ہے۔ یوں اقتدار تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر اس کی قیمت نظریاتی شناخت اور عوامی اعتماد کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔
نوٹ: یہ پورا کالم اور اس میں پیش کیا گیا تجزیہ ایک شہری اور لکھاری کے طور پر میری ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد کسی حتمی حقیقت یا فیصلہ سنانا نہیں بلکہ موجودہ سیاسی حالات پر ایک فکری زاویہ پیش کرنا ہے۔ یہ رائے درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں