دکھ کے موسموں کے گاؤ دان/ مسلم انصاری

داخلی یا خارجی طور پر، تخلیق کاروں کے موسم اپنے پڑھنے والوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں، قریب اسی قضیے سے مترجمین کی عالمی ادب سے پسند نا پسند کا بڑا حصہ، ترجمہ پسند قاریوں کے حصے میں چھاپ چھوڑتا ہے
تخلیق کار اپنے کینوس، آرٹ، چاک، پینٹنگ، خطاطی، تصاویر، دھن اور قلم غرض ہر طرح کے سوبھاؤ سے دیکھنے، پڑھنے، سمجھنے اور سننے والو کو کھینچ کر اس موسم کا نظارہ کرواتا ہے جس کی کمی اسے کائنات میں دکھتی ہے اور جس کمی کو مکمل کرنے کے لئے وہ آرٹ تخلیق کرتا ہے
ترجمہ سہل پسند مشقت نہیں ہے، اس کے لئے ایک عطار کا تجربہ اور امانت داری کا ہنر لازمی جزو ہیں
ایک عطر کی شیشی سے دوسری عطر کی شیشی میں عطر بھرتے ہوئے اپنے جسم کی تمام حسوں کو چوکس رکھنا، تاکہ بیش قیمت عطر کا ایک قطرہ بھی شیشے کی دیوار سے باہر گر ضائع نہ ہو اور اس میں امانت داری کا ہاتھ، ہاتھ سے جائے بھی نہیں!
ایک سنجیدہ مترجم ایک زبان کے ادب کا عطر دوسری زبان کے قالب کی شیشے میں انڈیلتے ہوئے وہ بیش قیمت عطر گرنے نہیں دیتا ہے

(غالباً اب تک لکھی گئی سطریں تمہید کا کام کر رہی ہوں مگر میرا بیانیہ پہلی سطر سے ہی شروع ہو چکا تھا)

پاکستان میں مترجمین کی شناخت، ان کا اسلوب و ڈھب، عارضی و استمراری استعمال، نام اور شہرت کا المیہ پھر درست اور غیر درست ترجمہ ایک عمیق اور طویل بحث سے جڑا ہوا موضوع ہے جو آج کی تحریر کا کسی صورت حصہ نہیں البتہ جن افراد و اشخاص نے اس میں اپنا حصہ بطورِ رضاکارِ ادب شامل کیا ہے ان کے دنیا میں موجود ہونے یا دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی خلا پُر کرنے کی کوشش تاحد ازل ناکام ہی ہے!

تراجم کے اس باب میں، مختلف اصناف میں کام کرنے والے، جن میں حسن عسکری، آصف فرخی، یعقوب یاور، سید کاشف رضا، قربان چنا، اجمل کمال، عاصم بٹ، انعام ندیم، ندیم اقبال، شیخ نوید، زینت حسام، نعیم کلاسرا، اسماء حسین، زیف سید، جون ایلیا، خورشید عالم، شاہد حمید، ہما انور، جمیل جالبی، الطاف فاطمہ اور ان گنت (یہ فہرست خاصی طویل ہے مگر میں نے انہیں شامل کیا ہے جو زیر مطالعہ رہے ہیں) افراد اپنے کام اور شناخت میں یکتا اور برسرِ ادب انسان ہیں
ایسے میں ایک کم عمر مگر زیادہ مطالعے والے لڑکے اسد اللہ میر الحسنی (جسے عربی زبان پر مکمل عبور اپنی صنف میں مزید اہم فرد بناتا ہے) کا اس فہرست میں شامل ہونا ہم عصر اور ہم فکر قارئین کے لئے غنیمت کے سوا کچھ نہیں!
اسد اللہ میر الحسنی ان بہت ہی کم بلکہ انگلیوں پر گنے جانے والے افراد میں سے ایک ہے جو عربی ادب سیدھا عربی زبان سے اردو کے قالب میں ڈھال رہے ہیں نہ کہ عربی ادب کو انگلش زبان کے قالب سے اردو میں منتقل کرنے کا ذمہ رکھتے ہیں، اب تک 5 ترجمہ شدہ کتب سمیت قریب 12 کتب کی تصنیف اس لڑکے کی عمر اور کام میں خارجی امور کے لئے نکالے جانے والے اوقات منفی کرتے معلوم ہوتے ہیں
(مزید یہ کہ اگر ہم اس جوان پر خود ہی تعریفات کی سطریں بُنیں، گو کہ جن کا یہ حق بھی رکھتا ہے، پھر بھی اس سے کہیں بہتر ہے اس کا کام پڑھ کر طے کیا جائے کہ یہ تعریف و تحسین کے کس حصے کا مترجم ہے، یاد رہے “مترجم” کیونکہ بطورِ انسان یہ ایک غیر مضر انسان ہے)

گزشتہ برس کے آخر میں فکشن ہاؤس سے اس نوجوان کی شائع ہونے والی بطور مترجم پانچویں کتاب “شبِ ارزاں” عرب ادب کے آٹھ مصنفین کے 26 چھوٹے بڑے افسانوں اور کہانیوں کا مجموعہ ہے جو دراصل اسداللہ میر الحسنی کے چناؤ کا وہ موسم ہے جس کی سمت اس نے اپنی قاری کا ہاتھ تھامے سفر کرنا چاہا، سلیس اور رواں مگر مزین ترجمے کا وہ گاؤ دان جس پر اس نے دکھوں اور مرہموں کی پشت ٹیک رکھی ہے، معتبر کام ہے!
نفسا نفسی کی اس دوڑ میں، جب یہ نوجوان تنہائی پسند اور کم گو ہونے کے ساتھ محفل کا آدمی بھی نہیں ہے، جلد اپنے عہد کے نامور تخلیق کاروں کے اذھان میں کھٹکنے اور رہ جانے والا ہے (الحمدلله بہت حد تک یہ ہو بھی چکا ہے) میں سمجھتا ہوں اس نوجوان نے اپنے امر ہونے کا سارا سامان مکمل کرلیا ہے!

عرب ادب کا معاشرہ ہمارے معاشرے سے اس قدر مشابہ ہے کہ بیشتر سے زائد کہانیاں ہمیں ہمارے اطراف کی معلوم ہوتی ہیں، اس کی بڑی وجہ دونوں جگہوں کا جنگ زدہ اور مذھب کا پرچارک ہونا، زمینی حدود کی ناکہ بندی، بھوک اور اسلحے سمیت ایک سے مسائل کا شکار ہونا ہے

julia rana solicitors london

ترجمے کے لئے منتخب کی گئیں یہ 26 کہانیاں اسداللہ میر الحسنی کے وہ موسم ہیں جو دکھوں، غموں، حقیقی اداسی، سوالات، المیوں اور بارود کی بو سے مزین ہیں، خاص کر محمد تیمور، غسان کنفانی، نجیب محفوظ اور زکریا تامر، جن کی لکھت سوچوں اور سوالوں کے ستونوں پر ہتھوڑے کی چوٹ کا کام کرتی ہے
گوکہ ابھی اس کتاب کا مکمل تبصرہ کماحقہ نہیں ہوسکا مگر شاید کسی بھی سنجیدہ قاری کو اس کتاب کے مطالعے کے لئے آمادہ کرنے پر کہیں کافی اور مکمل ہے
یہاں بہت سے موضوعات ابھی باقی ہیں (خاص کر اس مترجم کا اس شعبے سے منسلک ہونا اور پھر کل وقتی ہونا، عرب معاشرے کے ادب میں نشیب و فراز وغیرہ) مگر سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ اس نوجوان کا نیا ترجمہ “حیفا کی طرف واپسی : غسان کنفانی” زیر اشاعت ہے
کیا ہی بھلی خبر ہے!!

Facebook Comments

مسلم انصاری
مسلم انصاری کا تعلق کراچی سے ہے انہوں نے درسِ نظامی(ایم اے اسلامیات) کےبعد فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب بعنوان خاموش دریچے مکتبہ علم و عرفان لاہور نے مجموعہ نظم و نثر کے طور پر شائع کی۔جبکہ ان کی دوسری اور فکشن کی پہلی کتاب بنام "کابوس"بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مسلم انصاری ان دنوں کراچی میں ایکسپریس نیوز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply