• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دوحہ- قطر کا خوبصورت اور چمکتا دمکتا شہر/محمد کوکب جمیل ہاشمی

دوحہ- قطر کا خوبصورت اور چمکتا دمکتا شہر/محمد کوکب جمیل ہاشمی

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ اس کا مزا بھی ایسا ہوتا ہے جیسے شادیوں میں تناول ما حضر ہوتا ہے۔ مگر اب اس درویش کو سفر در پیش ہوا تو ہمارا ضعف رد و کد میں پیش پیش ہوا. عوارض بھی پس و پیش سے کام لینے لگے۔ مگر باہر مقیم ہمارے برخوردار کی محبت و اصرار کے پیش نظر، اور ہمارے اور ہماری اہلیہ کے بڑھتے ہوئے امراض کو اپنی قربت اور دیکھ بھال کے ذریعے ریلیف دینے کی خواہش کو دیکھتے ہوۓ ہم نے کچھ دنوں کے لئے بیٹے کے پاس قطرجانے کا ارادہ کر لیا۔ گویا سفر کی آزمائشوں سے گزرنے پہ خود کو آمادہ کر لیا۔ صاحب زادے نے میرے لئیے اسلام آباد ائر پورٹ اور دوہا ائر پورٹ پر وہیل چیئر کی سہولت فراہم کروا دی تھی۔ اس وجہ سے ہمیں بالکل پیدل چلنا نہیں پڑا ۔ گٹھنوں کی تکلیف کے ساتھ ہوائی اڈے کی طویل راہداریوں میں پیدل چلنے پر ہم پہ پیدل ہونے کا الزام بھی لگ سکتا تھا جس سے ہم بفضل تعالی بچ گۓ۔ بھلا ہو فرزند نیک ارجمند کا کہ انہوں نے ہماری یہ مشکل دور کر دی۔ اہلیہ اور دختر کے ساتھ ہم 4 اپریل کی صبح ساڑھے تین بجے روانہ ہو کر 4 گھنٹوں کی مسافت طے کر کے ساڑھے سات بجے دوحہ پہنچ گئے۔۔ دوحہ کا وقت دیکھا تو وہ دو گھنٹے پیچھے تھا۔ وہاں صبح کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ مگر سفر کی تکان کی وجہ سے شائد ہمارے منہ پہ بارہ بجنے کو تھے۔

julia rana solicitors london

دوحہ ایئر پورٹ پر ہمارے بیٹے اور بہو استقبال کے لئے موجود تھے۔ الحمد للہ ائیر پورٹ پر تمام مراحل بلا دقت و پریشانی مکمل ہوگئے۔ گاڑی میں ںیٹھ کر دوحہ کے ایک علاقے بروا سٹی روانہ ہوئے ۔ ہمارے یہاں ہونہار بروا کا لفظ بولا اور پڑھا جاتا رہا ہے۔ ہم نے خوش گمانی میں بروا سٹی کے علاقے کو ہونہار بروا کا مسکن ہی سمجھا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ گزشتہ مرتبہ مسقط میں ہماری قیام گاہ جس علاقے میں تھی اس کا نام ممتاز ایریا تھا۔ اس تناظر میں اب ہم کچھ نہ بھی ہو تے ہوئے، ممتاز بروا ٹہرے۔ بروا سٹی ایک انتہائی خوبصورت، کشادہ اور صاف ستھرا علاقہ پے۔ یہاں ایک جیسے جدید انداز تعمیر کے پانچ منزلہ اپارٹمنٹ ہیں۔ یہاں کی آبادی وسیع و عریض پوش علاقے پرمشتمل ہے۔ ایک طرح کے پینٹ ہونے کی وجہ سے یہاں کی خوبصورتی دیدنی ہے۔ یہاں موجود تمام بلڈنگز بروا نامی تعمیراتی شرکہ (کمپنی) نے بناۓ ہیں، اسی نسبت اس جگہ کا نام بروا سٹی رکھا گیا ہے۔ یہاں کی سڑکیں بہت چوڑی اور ٹریفک کے ضروری نشانوں سے مرصع ہیں۔ صفائی ستھرائی میں یہ علاقہ چمکتا دمکتا اپنی مثال آپ محسوس ہوا۔ اس علاقے کے علاوہ پورے دوحہ شہر میں صفائی اور نفاست کا ناصرف اچھا اہتمام ہے بلکہ لوگوں میں صفائی کا شعور پیدا کرنے کے لئے سخت قواعد و ضوابط کا نفاذ بھی ہے۔ گند پھیلانے اور سڑکوں پہ تھوکنے پر بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔ یہاں ہر کام، موجود نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔ ثریفک کے قوانین کی پاپندی سختی سے کی جاتی ہے۔ دیکھنے میں ایا ہے کہ پورے دوحہ میں کسی بھی جگہ، شایراہوں پر، ٹریفک کے اشاروں پر یا تجارتی مراکز پر کوئی بھکاری بھیک مانگتا نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ گلیوں، بازاروں میں کوئی آوارہ کتا پھرتا دکھائی دیتا ہے، نہ کہیں سے بھونکنے کی اواز سنائی دیتی ہے۔ لگتا ہے وہ بھی یہاں کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ یہاں کی مساجد کی تزئین و آرائش قابل دید ہوتی ہے۔ تمام مساجد وسیع و عریض ہیں، خوبصورت کارپٹس، ضروری سہولتوں، اور برقی قمقموں سے آراستہ ہوتی ہیں۔ ان مساجد میں سب سے نمایاں چیزوں میں اعلیٰ نمونے کی خوبصورت تعمیر اور دیدہ زیب روشنی برساتے فانوس ہیں۔ روشن اور نور سے مرصع اور دیکھنے سے تعلق رکھنے والی ایک مسجد پرل آئی لینڈ پہ واقع ہے۔ اس کانام مسجد حمد بن جاسم بن الجابر بن محمد الثانی ہے۔ پرل آئی لینڈ ایک ایسا وسیع و عریض جزیرہ ہے جو مصنوعی طور پر سمندر میں بھرائی کر کے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس پر شاندار بلند و بالا عمارتیں، بازار، ہوٹلز، ریسٹوران اور رہائشی بنگلے ہیں۔
قطر مین عمومآ بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ مگر جس دن ہم دوحہ پہنچے اس سے اگلے روز ہم نے قطر میں مطر( بارش) برستی دیکھی۔ یہاں ہمارے قیام کے دوران دو بار مطر ہو چکی ہے۔ یہاں تمام رہائشی، تجارتی اور سرکاری عمارتیں سارا سال موسم گرما جاری رہنے کی وجہ سے ائیر کنڈیشنڈ ہوتی ہیں۔ گھروں کے اندر کولنگ کے مرکزی نظام کے تحت گھروں کے اندر کی فضا کافی سرد ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں گھر میں سویٹر اور گرم کپڑے پہننا پڑ رہے پیں۔ تاہم یہاں کے لوگوں کے لئے شائد یہ عام بات ہے۔ ان دنوں محسوس کیا جا رہا ہے کہ اس سال عالمی موسمی تبدیلی کے باعث ماضی کے برعکس موسم اور ہوا میں ابھی تک ٹھنڈک ہے۔
ہر رہائشی عمارت کے گراؤنڈ فلور پر داخلی دروازے کے ساتھ کرسی میز پر ایک سیکیوریٹی ملازم براجماں ہوتا ہے جو آنے والے پر اجنبی کے کوائف رجسٹر میں درج کرنےاور ضروری تصدیق کرنے کے بعد عمارت میں داخلے کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ الیکٹریشن، پلمبر اور کارپینٹر جو مرمت کے لئے بلائے جاتے ہیں، ان کا تفصیلی اندراج کیا جاتا ہے۔ ہمیں بھی عمارت میں داخل ہونے پر اپنے پاسپورٹ نمبرز کا اندراج، رجسٹر میں کروانا پڑا۔ یہ بات سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے بہت سود مند ہے۔یہی وجہ ہے ہہاں گھروں میں چوری چکاری کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوحہ کا بیشتر حصہ خوبصورت اور جدید طرز تعمیر پر مبنی، نکھرا نکھرا دکھائی دیتا ہے، یہاں رات ہوتے ہی رنگ اور روشنیوں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ بلکہ عصرکے ںعد سے ہی ہر شاہراہ، عمارت اور سیر گاہ، برقی قمقموں، نیچے سے اوپر تک جھلمل کرتے کھمبوں اور مختلف رنگوں والی لائٹوں سے مزین درختوں کے تنوں کو روشن کر دیا جاتا ہے۔ اس چکا چوند میں رات میں دن کا سماں ہوتا ہے۔ نظر پڑتے ہی انکھوں کو خیرہ کرتی، من بھاتی، دل لبھاتی چمک دمک اس سحر انگیزی کو تکتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ دوحہ کا اندرون شہر جہاں کا دھیرے دھیرے ہلکورے لیتا اور روشنیوں سے منعکس جگمگاتے سمندری پانی والا علاقہ، جو الکورنش کہلاتا ہے، اور جس کے اطراف میں درختوں کےجھنڈ کی مانند خوبصورت اوربلند و بالا عمارتوں کا وجود ہے جو حسن کو دوبالا کرتا دکھائی دیتا، اور نظارہ کرنے والے سیاحوں کے لئے کورنش بجا لاتا دکھائی دیتا ہے۔۔ یہان دن رات انے والے سیر بین تفریح کےان مناظر کو کیمرے کی انکھ میں محفوظ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انجن سے چلنے والی کشتیوں میں سوار ہو کر دیدہ زیب مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قظر کی کل آبادی تقریبآ 2.7 ملین ہے جبکہ اس میں دوحہ کی ایک ملین آبادی بھی شامل ہے۔ یہاں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ملازمین، اور کاروبار سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تعڈاد میں انڈین واصح برتری رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں سری لنکن، بنگلہ دیشی، پاکستانی، فلپائینی، تیونسی، یمنی، نیپالی اور افریقی ممالک لے لوگ بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔انڈین کمیونٹی ذیادہ تر تجارتی اور کاروباری اداروں میں کام کرتی ہے۔
قطر میں رابطے کے لئے زبان (بولی) کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بیشتر لوگ اردو اور انگریزی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ دوحہ میں مختلف سیر گاہیں اور تجارتی و کاروباری مراکز ہیں۔ دوحہ کی خوبصورت جگہ الکورنش (سممندری ساحلی علاقہ) ایک معروف سیر گاہ ہے، جہاں سیر و تفریح کے شائقین کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس مرکز تفریح کی ایک خوبصورتی اس کی اطراف میں موجود بلند و بالا عمارات کا جھرمٹ ہے جو رات کے وقت روشنی اور برقی تزئین کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ دوحہ کا ساحل سمندر جو سوق وکرا بھی کہلاتا ہے، انتہائی خوب صورت اور نفیس ہے۔ ساحل کے ساتھ پھیلی ہوئی پٹی میں وکرا بازار ہے جو سارا کا سارا دیہات کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں ہر طرح کی مٹیالی کیمو فلاجڈ دکانیں ، دفاتر، ریستورنٹس اور کپڑے وغیرہ کی ائر کنڈیشنڈ دکانیں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہیں۔ اور بھی ںہت ساری تفریح گاہیں ہیں جن کی تفصیل بعد میں پیش کی جائیے گی۔ انشاء اللہ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply