سن 1914 میں برطانوی سفارت کار آرتھر نکلسن نے کہا “جب سے میں فارن آفس میں آیا ہوں، میں نے عالمی حالات کو کبھی اتنا پُرسکون نہیں دیکھا۔” اس کے محض چند ہی ہفتوں بعد پورا یورپ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ آج، 2026 کے ان ابتدائی ایام میں، ایسی کسی خوش فہمی کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

وینزویلا میں امریکی مہم جوئی کہ جہاں ایک صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر لیا گیا سے لے کر یورپ کو ملنے والی روسی ایٹمی دھمکیوں تک، اور عربوں کی باہمی چپقلش اور اسرائیل سے تنازعات سے لے کر جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تک، عالمی امن کے تمام ستون ایک ایک کر کے چٹخ رہے ہیں۔
جب ہم پہلی عالمی جنگ کے بعد کی “عالمی نقشہ گری” (Remapping) کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایک ہولناک سوال سر اٹھاتا ہے: کیا ہم ایک بار پھر اسی “عظیم جنگ” کی قیمت چکانے جا رہے ہیں جسے کبھی “تمام جنگوں کا خاتمہ کرنے والی جنگ” کہا گیا تھا؟
وہ عوامل جنہوں نے پہلی عالمی جنگ کا ایندھن فراہم کیا تھ، یعنی عسکریت پسندی، بین الریاستی اتحاد، سامراجیت اور قوم پرستی، اب ڈیجیٹل ہائی ڈیفینیشن روپ میں واپس آ چکے ہیں۔ عالمی سیاست ایک بار پھر بارود کا ڈھیر بن چکی ہے۔ عسکریت پسندی اب محض روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ اور وسائل پر قبضے کی دوڑ بن چکی ہے۔ 1914 کی “مختصر جنگ کی خوش فہمی” (Short War Illusion) کی جگہ اب “سرجیکل سٹرائیک کی خوش فہمی” نے لے لی ہے۔ یہ ایک خطرناک سوچ ہے کہ سائبر وارفیئر یا جدید ڈرونز کے ذریعے بھرپور جنگ چھیڑے بغیر فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ 2025 میں اسرائیل-ایران اور پاک-بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر جھڑپیں اسی سوچ کا شاخسانہ تھیں۔
موجودہ “عالمی اتحاد” بھی اتنے ہی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور یورپ ایک مشترکہ منصوبے کے تحت چین-روس گٹھ جوڑ کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ حلیف اکٹھے کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ دوسری طرف، ٹرمپ کی نیٹو اور گرین لینڈ سے متعلق خانہ فرسائیوں نے یورپ کو خوفزدہ کر رکھا ہے، جبکہ روس افغانستان کے معاملے پر چینی اندازِ فکر سے نالاں ہے۔ 1914 میں بلقان کے ایک مقامی تنازع نے عالمی اتحادوں کی مجبوری کے باعث پوری دنیا کو جنگ میں جھونک دیا تھا۔ آج 2026 میں، ہر جانب معاہدوں کا ایسا جال بچھا ہے کہ ایک معمولی سی غلط فہمی جنگ کا وہ لامتناہی سلسلہ شروع کر سکتی ہے جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
1914 میں دو عظیم سلطنتیں، عثمانی اور آسٹریا- ہنگری، ابھرتی ہوئی قوم پرستی کے سامنے بے بس ہو رہے تھے اور برطانیہ جیسی نئی طاقت عالمی چوہدراہٹ سنبھالنے کے لیے بے تاب تھیں مگر جرمنی اس سارے منظر نامے میں اپنا حق طلب کر رہا تھا۔ آج 2026 میں، خود امریکہ “ڈونرو ڈاکٹرائن” (جو کہ پرانی منرو ڈاکٹرائن کی جدید ڈونلڈ ٹرمپ کی دی تشکیل ہے) کے تحت اپنا نیا کردار وضع کر رہا ہے۔ روس-چین اتحاد اپنی تمام تر داخلی کمزوریوں کے باوجود اس خلا کو پُر کرنے کی گھات میں ہے۔ قوم پرستی ایک بار پھر وہ میٹھا نعرہ بن چکی ہے جو ہر کان کو بھلا لگتا ہے۔
اگرچہ 1918 میں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے میں روسی انقلاب اور امریکی مداخلت کا بڑا ہاتھ تھا، مگر جیت کا سہرا برطانیہ کے سر سجا۔ امریکہ نے جنگ کے بعد اپنے براعظم تک محدود ہونے کا فیصلہ کیا تو برطانیہ کو عالمی نقشہ گری کا کھلا میدان مل گیا۔ برطانیہ نے “ورسائی” اور “سائیکوس پیکو” (Sykes-Picot) جیسے معاہدوں کے ذریعے دنیا کو اپنی ضرورت کے مطابق تقسیم کیا۔ کئی قوموں جیسے پولینڈ کو اپنا ملک مل گیا جبکہ کئی سرزمینوں، جیسے فلسطین کو “مینڈیٹ سسٹم” کے تحت دے دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس کا مقصد برطانوی سلطنت کی حدود میں سورج کو کبھی غروب نہ ہونے دینا تھا۔ مگر یہ عظیم جنگ کوئی حل ثابت نہ ہوئی بلکہ اس نے وہ خلا پیدا کیے جو محض بیس سال بعد دوسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بنے۔ دوسری جنگ عظیم نے نہ صرف ہیروشیما کو ایٹم بم سے راکھ کیا بلکہ یورپ کی روح بھی کچل دی۔ اب یورپ نئی عالمی طاقت، امریکہ، کا زیردست خطہ بن کر رہ گیا تھا۔ برطانیہ نے بڑی دانائی سے اپنا عالمی کردار امریکہ کو سونپا اور خود “مشیرِ خاص” (جسے کچھ لوگ “پوڈل” جیسے القاب سے بھی پکارتے رہے ہیں) کے منصب پر فائز ہو گیا۔ اس عمل میں اس نے اپنی نوآبادیات تو چھوڑ دیں، مگر “نقشہ گری” کا ایسا جال بچھا دیا جو اس کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، یہودیوں کے لیے اسرائیل کی ریاست بنائی گئی، اور خلیج کے تیل کو پائپ لائنوں کے نقشے کے مطابق بانٹ دیا گیا۔ اس نقشہ گری کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ سرحدوں کے اندر اور باہر “مستقل تنازعات” کی گنجائش چھوڑی گئی تاکہ یہ تمام ممالک برطانیہ کے محتاج رہیں۔ کشمیر، اسرائیل، عراق کا سنی شیعہ فساد ہو یا افغانستان کی ڈیورنڈ لائن— آپ آج کے کسی بھی سلگتے ہوئے مسئلے کا نام لیں، اس کی جڑیں ماضی کی اسی نقشہ گری میں ملیں گی۔
مثال کے طور پر مشرق وسطیٰ گزشتہ ایک صدی سے اس نقشہ گری کی “خطرناک تجربہ گاہ” بنا ہوا ہے۔ سو سال سے یہ خطہ برطانیہ اور فرانس کی کھینچی ہوئی ان مصنوعی لکیروں (سائیکوس پیکو) کے درمیان سانس لے رہا ہے جنہوں نے نسلی اور مذہبی حقیقتوں کو تیل کے مفادات پر قربان کر دیا تھا۔ 2026 تک پہنچتے پہنچتے یہ لکیریں دھندلا رہی ہیں۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی اور اسرائیل “بفر زونز” کے ذریعے نقشہ دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب محاذ کا روایتی تصور پاش پاش ہو چکا ہے۔ سوڈان، صومالی لینڈ اور یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مختلف مہروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ایک طرف قطر، ترکی اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اور یو اے ای ایک صفحے پر ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل کی انتہا پسندانہ پالیسیاں اب ‘دو ریاستی حل’ کو دفن کر کے جغرافیائی توسیع کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس سے شام، اردن اور لبنان کی موجودہ سرحدوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
آج کی صورتحال میں سب سے نمایاں فرق امریکہ کا رویہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی “ڈونرو ڈاکٹرائن” کا تمام تر ارتکاز اپنے نصف کرہ پر غلبہ حاصل کرنے پر ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایشیا کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس رویے نے علاقائی طاقتوں میں ایک افراتفری پیدا کر دی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے مطابق نئے نقشے ترتیب دیں۔ افواہیں ہیں کہ سودان، افغانستان، صومالیہ اور یہاں تک کہ ایران کی بندر بانٹ کے لیے بھی دسترخوان بچھائے جا چکے ہیں۔ اس نئی “نقشہ گری” کے پیچھے یہ منطق دی جا رہی ہے کہ اثر و رسوخ کے علاقوں (Spheres of Influence) کو تسلیم کر کے تیسری عالمی جنگ سے بچا جا سکتا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جنگ سے بچنا اب کوئی اخلاقی مجبوری نہیں بلکہ جنگ حد درجہ مہنگا سودا بن چکا ہے۔
جنگ کبھی بھی ناگزیر نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ اس وقت ایک انتخاب بنتی ہے جب طاقتوروں کے پاس متبادل ختم ہو جائیں۔ مگر اب متبادل سکڑ رہے ہیں۔ ایک کمزور ہوتی عالمی طاقت جو سب کچھ لٹنے سے پہلے دنیا کو ری ڈیزائن کرنا چاہتی ہے، اور وہ ابھرتی ہوئی طاقتیں جو چوہدراہٹ سنبھالنے کے لیے بے تاب ہیں، ان کے ٹکراؤ نے دنیا کو کسی بھی حفاظتی حصار سے محروم کر دیا ہے۔
اگر تیسری عالمی جنگ سے بچنا ہے، تو یہ سمجھنا ہوگا کہ اثر و رسوخ کے حلقے صرف تبھی کارگر ہوتے ہیں جب ان میں بسنے والے انسانوں کے جذبات کا احترام کیا جائے۔ پرانے نقشے سیاہی سے کھینچے گئے تھے، نئے نقشے ڈیٹا اور تجارتی ٹیرف سے کھینچے جا رہے ہیں۔ ہم ایک بار پھر 1914 والے موڑ پر کھڑے ہیں، مگر اب ہماری رفتار بہت تیز ہے۔ ہمارا مستقبل اس بات پر ہے کہ کیا ہم یہ سبق سیکھ پاتے ہیں کہ وہ عالمی نظام جو عوامی مفاد کو نظرانداز کر کے مصنوعی لکیروں پر استوار کیا جائے، وہ آخر کار ٹوٹ ہی جاتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں