• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایران کی غیر یقینی سیاسی صورتحال اور پاکستان پر ممکنہ اثرات/شیر علی انجم 

ایران کی غیر یقینی سیاسی صورتحال اور پاکستان پر ممکنہ اثرات/شیر علی انجم 

امریکی ہٹ دھڑمی اور صہیونی سازشوں کے نیتجے میں دنیا میں امن کو ایک بار پھر نظر لگ گئی ہے۔عالمی سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ ایران میں جاری سیاسی غیر یقینی اور امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کی پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ اس کے پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
تاریخ اس بات کا شاہد ہے کہ ایران پر بیرونی مداخلت کوئی نئی بات نہیں۔ 1953 میں امریکن  سی آئی اے نے چند ملین ڈالر خرچہ کرکے ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کو ہٹا کر  رضا شاہ پہلوی کے اقتدار پر بٹھایا جس کی بنیادی وجہ امریکی مفادات سے ٹکراؤ کے تحت محمد مصدق کا ایران کے تیل کو قومی تحویل میں لینے کی کوشش کرنا تھا۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے اور امریکہ کے ساتھ عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔  آج ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل اپنے مفادات کی تحفظ کیلئے شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کو ایران کا حاکم بنانے کی کوشش کرتے نظر آرہا ہے اور انہوں نے باقاعدہ خود ساختہ قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی سپورٹ کے ساتھ وہ جلد ایران میں ہونگے۔ اسی تناظر میں گزشتہ روز ‏ایرانی وزارت خارجہ نے مختلف ممالک کے سفیروں کو طلب کیا اور حالیہ احتجاجات کی فوٹیجز بطور ثبوت دکھائیں جن میں بلوائیوں کو اسلحہ کے ساتھ کارروائیاں کرتے اور جلاو گھیر کے مناظر دکھائے گئے، اس بریفننگ میں برطانیہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی کے سفیر بھی شامل تھے، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا یہ کارروائیاں پرامن مظاہرے کے دائرے سے نکل کر منظم پرتشدد کی گئیں۔ تہران نےبرطانیہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی کے سفیروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ ریکارڈ شدہ دستاویزی مواد براہِ راست اپنے ممالک کے وزرائے خارجہ تک پہنچائیں اور پرتشدد مظاہرین کی حمایت کے سرکاری بیانات واپس لیں۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کی کھلی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
دیکھا جائے تو ایران کی موجودہ صورثحال بھی اس وقت کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔  امریکہ کے تمام صدور کا ایران کے حوالے سے پالیسی دوہری نوعیت کے حامل رہی ہے  آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے، ایک طرف سخت گیر اقدامات، پابندیاں، فوجی دھمکیاں اور ایرانی قیادت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات، تو دوسری طرف خلیجی ممالک کے ذرائع سے بالواسطہ رابطوں کی کوششیں اور ایک ممکنہ بڑی ڈیل کی خواہش کا اظہار۔ یہ تضاد خود امریکہ کی جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے کہ ایران کو کمزور کرتے ہوئے اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے لیکن ایران کا ہمیشہ سے اصولی اور دو توک موقف رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوسکتا ہے ایک کمزور ملک کے طور پر نہیں۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کیلئے یہ سب کچھ انتہائی نازک اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، جو زیادہ تر بلوچستان سے گزرتی ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف جغرافیائی بلکہ نسلی، لسانی اور ثقافتی اعتبار سے بھی دونوں ممالک میں مشترک ہے۔ اگر ایران میں سیاسی عدم استحکام بڑھا یا کوئی بڑی داخلی کشمکش جنم لی تو اس کے اثرات فوری طور پر پاکستان کے بلوچستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کا متحرک ہونا خارج ازامکان نہیں۔ اسرائیلی حکام نے کئی بار کھلے عام بلوچستان کو اپنے اسٹریٹجک مفادات سے جوڑ کر بیانات دیے ہیں۔ یہ سب کچھ ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان بدترین سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، جس سے دشمن بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف کسی سازش میں شامل ہونے حماقت کریں۔کیونکہ ایسا کرنا ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔  مشرق وسطی میں جاری اس گریٹ گیم کو عالم اسلام کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال محض ایران یا پاکستان تک محدود نہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، شام  جیسے ممالک میں عالمی طاقتوں کی مداخلت، اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی اور طاقت کے توازن کا بے رحمانہ استعمال نظر آتا ہے۔ جو آنے والے وقتوں میں خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہذا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھل کر سفارتی محاذ مخالفت کرنا ہوگا کیونکہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں یہ رشتہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ باہمی مشاورت، اعتماد سازی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے ذریعے کسی بھی ممکنہ منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔  کیونکہ جب پڑوس میں آگ لگتی ہے تو سب سے پہلے دھواں اپنے گھر میں ہی داخل ہوتا ہے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply