سوال: حامدیزدانی صاحب! میں جانتا ہوں کہ آپ نے ایک ممتاز ادبی گھرانے میں آنکھیں کھولیں اور پرورش پائی۔یہ فرمائیے کہ آپ کی تحریریں دو ناموں سے کیوں شائع ہوتی ہیں؟ کہیں سید حامدیزدانی لکھا دیکھتا ہوں اور کہیں صرف حامدیزدانی۔ ایسا کیوں ہے؟
جواب: پہلی بات تو یہ کہ میرا نام میرے والد گرامی حضرت یزدانی جالندھری نے رکھا۔دوسری بات یہ کہ میرا مکمل نام کنیت کے ساتھ ابو بصیرسید حامدیزدانی الگیلانی ہے مگر میری تمام تر تعلیمی اسناد پر میرا نام ” سید حامدیزدانی“ درج ہے اور اسی نام کے ساتھ ابتدا سے میں لکھ اور چھپ بھی رہا تھا۔ مگر بعد ازاں ادبی زندگی کے لیے اسے مختصر کرلیا اور “ حامدیزدانی” کے نام ہی سے جرائد میں شائع ہوتا رہااور میری بیشتر کتابوں پر بھی یہی نام درج ہے۔ مگر میرے اساتذہ اور قریبی احباب شاید محبت سے ” سید“ بھی ضرور لکھتے۔ تو کچھ کتابیں سید حامدیزدانی کے نام سے بھی شائع ہوئیں جیسے “ بہار قبول” اور “ گل توصیف”۔ اب بھی احباب اپنے اپنے “ذوق” کے مطابق مجھے پکار لیتے ہیں۔ میں کسی کو روکتا نہیں۔ مگر یقین مانیے یہ دونوں نام میرے ہی ہیں اور ان ناموں سے شائع شدہ تخلیقات بھی میری ہی ہیں۔

سوال: اس وضاحت کے لیے بہت شکریہ آپ کا۔اور اب مجھے یہ جاننا ہے کہ سید حامد یزدانی یا حامد یزدانی نے پہلی غزل کب کہی؟
جواب: پہلی غزل سید حامدیزدانی ہی کے نام سے سامنے آئی تھی۔ اور یہ ہائی سکول کے دور میں غالباً نویں یا دسویں جماعت میں کہی تھی جس کا مطلع کچھ یوں تھا:
اتنا نہ بیقرار، دل بیقرار کر
آئیں گے وہ ضرور مرا اعتبار کر
اچھا، میں یہ آپ کو بتا دوں کہ میں نے سکول کی بزم ادب کے لیے چھوٹی چھوٹی نظمیں تو پہلے سے شاید ساتویں آٹھویں جماعت میں کہنا شروع کردی تھیں۔ پہلی نظم “میرا وطن” تھی۔ افسوس، اس نظم کا کوئی شعر یاد نہیں ۔ پھر کسان پر، برسات یا بارش کے موسم پر بھی نظمیں کہیں۔ ان دنوں کی ایک نظم کے دوشعر:
ہمیشہ خدا کی عبادت کرو تم
سدا خدمت آدمیت کرو تم
محبت خدا ہے، محبت خدائی
ہر انساں سے دل سے محبت کرو تم
سوال: آپ نے تو شاعری اور نثر دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی ہے تو آپ کا ذوق کس صنف کی طرف زیادہ مائل ہے؟
جواب: پہلے تو زیادہ رجحان اور توجہ شاعری کی جانب تھی۔ اب نثر بھی تواتر سے لکھ رہا ہوں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے افسانوں کا مجموعہ” خالی بالٹی اور دوسرے افسانے” بھی چھپ چکا اور اس کے بعد میرا یادنامہ “سوسن کے پھول” آیا۔ ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے ساتھ مل کر پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کی فن و شخصیت کے حوالہ سے ایک کتاب شائع ہوچکی اور انھی کے اشتراک سے کتاب “ مشترکہ محبوبہ” بھی حال ہی میں منظر عام پر آئی جو مضامین، مکتوبات اور منتخب کالموں پر مشتمل ہے۔ میں ویب سائٹ “ ہم سب” اور “ مکالمہ” پر کالم بھی لکھتا رہتا ہوں۔ تو نثر بھی اب باقاعدہ لکھ رہا ہوں۔ ابھی ابھی عالمی نظموں کے تراجم والی میری کتاب بھی شائع ہوئی ہے اور میرا نعتیہ کلیات “ گل توصیف” بھی۔ تو دونوں اصناف ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔
سوال: آپ نظم غزل کہتے کہتے دینی شاعری کی طرف کیسے آگئے؟
جواب: دیکھیے، حمد و نعت اور منقبت تو میں شروع سے کہہ رہا ہوں کیوں کہ یہ اصناف بھی ہمارے ادبی اور سماجی ماحول کا اہم حصہ رہی ہیں اور ہیں۔ ہاں، یہ کہ ابتدا اس تواتر سے نعتیں اور منقبتیں نہیں ہوئیں جس تسلسل سے گذشتہ دس بیس برس میں ہوئیں۔پہلے میرا نعتیہ مجموعہ “ اطاعت” شائع ہوا، پھر سلام رضا کی تضمین “ بہار قبول” اور اب دینی شاعری کا کلیات۔ حقیقت یہ کہ دینی شاعری ہمیشہ سے ہماری اردو شاعری کا حصہ رہی۔ میں بھی لڑکپن سے والد صاحب کے ساتھ نعتیہ مشاعروں میں شرکت کے لیے جایا کرتا تھا۔ لاہور میں میرے لگ بھگ سبھی شاعر دوست خاص کر خالد احمد صاحب اور خالد علیم صاحب باقاعدہ نعت کہتے تھے۔ مگر یہاں کینیڈا آکر جب کینیا سے تشریف لائے استاد مکرم پروفیسر صدیق نور محمد صاحب کی علمی صحبت سے استفادہ کا موقع ملا تو مختلف تقاریب کے لیے نت نئی تخلیقات بھی ہونے لگیں۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ کلیات تیار ہوگیا جسے میرے مہربان شاعر دوست جناب صبیح رحمانی نے نہایت اہتمام سے شائع کیا ہے۔
سوال: نظم اور نثر میں آپ کے پسندیدہ لکھاری کون ہیں؟
جواب: اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ مشرق اور مغرب کے بہت سے تخلیق کاروں کو پڑھا اور ان سے استفادہ کیا۔ کسی انداز سے کوئی اچھا لگا اور کسی رخ سے کوئی۔ تاہم نظم میں ن م راشد، مجید امجد، میرا جی، فیض احمد فیض، اختر حسین جعفری، عارف عبدالمتین، منیرنیازی،انیس ناگی، جیلانی کامران، آفتاب اقبال شمیم، ثروت حسین،نصیر احمد ناصر، ابرار احمد اور کتنے ہی اور نام ہیں۔ غزل میں بھی فیض صاحب، احمدندیم قاسمی، شہزاد احمد، ظفر اقبال،توصیف تبسم، افتخار عارف، خالد احمد ، نجیب احمد، لیاقت علی عاصم، عباس تابش، رحمان حفیظ، نوید صادق اور کئی اور دوست ہیں۔ نعت میں یزدانی جالندھری، عبدالعزیز خالد، حفیظ تائب، خالد بزمی، صوفی افضل فقیر، علیم ناصری،عارف عبدالمتین،حافظ لدھیانوی،ریاض مجید، خالد احمد اور خالد علیم کے نام یاد آرہے ہیں۔
افسانے اور ناول مجھے قراہ العین حیدر، عبداللہ حسین، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، انور سجاد، مستنصر حسین تارڑ، حمید شاہد، اور امجد طفیل کے پسند آئے۔
سوال: آپ نے پنجابی میں بھی تو لکھا۔
جواب: جی، لکھا تو ضرور مگر کم کم۔ چند تحریریں نثر میں، کچھ غزلیں، کچھ نظمیں۔ بس ایک شعری مجموعہ ہے میرا پنجابی “ رات دی نیلی چپ”۔ افسوس، پنجابی زیادہ لکھنے کا موقع نہیں ملا۔
سوال:پہلے تو نمایاں ہونا خاصا مشکل ہوتا تھا۔ عمریں لگ جاتی تھیں پہچان بنانے میں مگر آج کل سوشل میڈیا کا دور چل رہا ہے۔ پہلے والی بات تو رہی نہیں۔ راتوں رات بھی شہرت مل سکتی ہے۔ آپ سوشل میڈیا کے اس کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب: میرے نزدیک یہ خطرناک رجحان ہے کہ ادھر آپ نے شعر کہا اور ادھر سوشل میڈیا پر ”دے مارا“۔ میں نے والد صاحب اور ان کے دوست شعرا کو بھی دیکھا کہ طبیعت میں ایک تحمل تھا، جلد بازی نہیں تھی۔ شہرت کی طمع نہ تھی۔ خالد احمد صاحب بھی کہا کرتے تھے کہ “خیال” رب کی نعمت کی طرح قلب شاعر پر نازل ہوتا ہے۔ اس لیے اس قدر لازم ہے۔ اس سے محبت کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے اور اچھے سے اچھے پیرایہ میں اظہار کرنا چاہیے۔ ایسی ہی بات ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں کی کہ ضروری ہے کہ بیج کچھ عرصہ اندھیرے میں رہے، چھپا رہے۔ یہ اس کی نشو و نما کے لئے ضروری ہے۔ فوری اور سستی شہرت کا شوق بھی کسی روگ سے کم نہیں۔جہاں تک ہوسکے اس خود نمائی سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
سوال: سر ، نئے لکھاریوں کو پڑھتے ہوئے اور ان سے بات کرکے آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟ وہ آپ کے ابتدائی دنوں سے کیا مختلف ہیں؟
جواب: مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت جلدی میں ہیں۔ جیسے انھوں نے کسی مادی منزل کا تعین کررکھا ہو اور اب جلد از جلد اسے پالینا چاہتے ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ فن ایک درویشانہ کام ہے اور یہ یک گونا وارفتگی اور بے اعتنائی کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔ یہ دو جمع دو چار سے مختلف “ حساب” ہے۔ اس میں کچھ کھو دینا ہی کچھ پالینے کا لطف دیتا ہے اور ظاہری شکست ہی باطنی فتح کا پیش خیمہ ٹھہرتی ہے۔ یہ میرا خیال یا احساس ہے۔ آپ کو اس سے اختلاف کا مکمل حق ہے۔

سوال: آپ تو لاہور میں بھرپور ادبی زندگی گزاررہے تھے۔ حلقہ ارباب ذوق تھا، ریڈیو پروگرام تھے، لیکچرار شپ تھی، دوست احباب تھے۔تو یہ سب چھوڑ کر آپ نے ترک وطن کا ارادہ کیوں کیا؟
جواب: پہلے تو یہ اعتراف سُن لیجیے کہ مجھے لاہور یعنی پاکستان سے محبت ہے اور رہے گی۔ وہ خطہ،وہ رشتے، وہ گھر، وہ گلیاں، بازار، وہ تعلیمی ادارے، وہ دوست جو زندگی کے ابتدائی دنوں سے آپ کے ہم ۔ قدم رہے ہوں انھیں کوئی چاہتے ہوئے بھی دل سے نہیں نکال سکتا۔ یہ ایک فطری سی بات ہے۔ لاہور سے میری محبت میری تخلیقات میں آپ کو جابجا بکھری دکھائی دے گی۔ایک طرف تو رہی یہ حقیقت اور دوسری جانب یہ کہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے مستحکم معاشی اور معاشرتی زندگی کا اہتمام ہر انسان کا ایک خواب ہوتا ہے۔ پاکستان میں معاشی وسائل کی کمی ہی نہیں بدعنوانی، رشوت ستانی، بد نظمی، عدم تحفظ اورنا انصافی کے معاملات بھی قلب و احساس کو شل کرنے لگے تھے۔
ہم یہ بھی تو سنتے آئے ہیں کہ ’سفر وسیلہِ ظفر‘ ہوتا ہے۔
کینیڈا آنے سے قبل میں تین برس سے کچھ زیادہ عرصہ جرمنی میں گزار کر آیا تھا اور وہاں قیام کے دوران میں یورپ کے دیگر ممالک دیکھنے کے مواقع بھی ملے۔ تو وہاں ماحول کی صفائی ستھرائی اور زندگی کے معمولات میں نظم اور ترتیب کی صورت میری طبیعت کو بہت بھائی۔ وہاں سے پاکستان لوٹا تو بے ترتیبی اور ہر طرف کھینچا تانی کی صورتِ حال میرے لیے ذہنی کوفت کا باعث بننے لگی۔ اس دوران میں شادی بھی ہوچکی تھی، بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داریاں بھی سراٹھانے لگی تھیں۔۔مختصر یہ کہ بیگم سے مشورہ کے بعد نقل مکانی کا فیصلہ کرلیا۔ میرا جرمنی کا سفر تعلیم کے حصول کے لیے تھا جو وہاں ریڈیو ڈوئچے ویلے ، دی وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کے شعبہ میں ملازمت تک لے گیا۔ پاکستان واپس آکر میں نے اسی ادارہ کے لیے بطور نمائندہ کام جاری رکھا اور اپنی پرانی ملازمت یعنی سوشیالوجی کی لیکچرار شپ کی بھی تجدید کی۔ مگر ایک وقت میں دو کاموں کے ساتھ انصاف کرنا مشکل تھا اس لیے براڈکاسٹ جرنلزم ہی زیادہ وقت لیتا رہا۔ چناں چہ پھر سے رختِ سفر باندھنے کا مرحلہ آیا تو ارادہ جرمنی ہی جانے کا تھا مگر بیچ میں کینیڈا آن پڑا۔
سوال: اچھا، پہلے کچھ یادیں، کچھ باتیں ہمیں اپنے قیام جرمنی کی سنائیں۔ پھر کینیڈا کے بارے میں بات کریں گے۔
جواب: جی ضرور۔ تو ۱۹۹۰ میں جب میں جرمنی پہنچا تو ابتدائی عرصہ اداسی میں گزرا۔ ایک تو اس دوران میں والد گرامی قبلہ یزدانی جالندھری صاحب کے انتقال کی خبر موصول ہوئی اور دوسرے لاہور میں احباب کے ساتھ شام ڈھلے کی محفلوں اور حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس اور رنگا رنگ ادبی تقاریب کی یادیں بھی ستانے لگیں۔ یورپ کے معروف اور مصروف دریائے رائن کے کنارے آباد جرمنی کے شہر کولون میں، جہاں میں نے تین برس سے کچھ زیادہ عرصہ بسلسلہ تعلیم و ملازمت قیام کیا، وہاں میرا حلقہ احباب ساتھ کام کرنے والوں یعنی رفقائے کار تک محدود تھا۔ تو زندگی میں اچانک ایک عجیب خلا سا محسوس ہونے لگا۔ اس خلا کو پر کرنے کی غرض سے شہر کولون میں حلقہ ارباب ذوق، جرمنی کے قائم کی سوجھی۔ حلقہ قائم کیا اور اس کا پہلا تنقیدی اجلاس بھی وہیں ہوا۔ بعد ازاں لاہور سے والد گرامی یزدانی جالندھری صاحب کے دوست ، سینئر شاعر، ادیب اور صحافی جناب قمر اجنالوی وہاں تشریف لے آئے تو حلقہ کا با قاعده ملک گیر آغاز ہوگیا۔ میں اس کا پہلا سیکریٹری منتخب ہوا۔ یوں حلقہ کے تحت جرمنی کے مختلف شہروں میں ادبی تقاریب کا اہتمام ہونے لگا جن کی کارروائی میں ہفتہ وار نوائے وقت لاہور کے ہفت روزہ میگزین کو بھیجنے لگا۔ اس طرح وہاں دل لگنے کا سامان ہو گیا۔
سوال: جرمنی قیام کا کوئی دل چسپ واقعہ یا مشاہدہ؟
جواب: جرمنی میں تین سالہ قیام کے دوران میں کسی ایک دل چسپ کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ وہاں ذاتی زندگی تھی، خانگی زندگی تھی، پیشہ ورانہ زندگی تھی، ادبی زندگی تھی، “پردیسی ” زندگی تھی، متعدد پہلو ہیں وہاں گزارے دنوں کے۔تو واقعات تو ان گنت ہوں گے۔ چلیے، ایک مشاہدہ یا احساس شئیر کرلیتا ہوں۔ یہ نوے کی دہائی کا وہ دور تھا جب مشرقی اور مغربی جرمنی کا نیا نیا اتحاد ہوا تھا اور ان کے درمیان قائم دیوار برلن منہدم ہوئی تھی۔ میں نے اپنی بیگم طاہرہ اورریڈیو میں اردو، ہندی زبان کے پروگراموں کے ڈائرکٹر ڈاکٹر گوئبل گروس کے ساتھ مشرقی جرمنی کا سفر بھی کیا اور اس مشہور شہر لائپ سش بھی گیا جہاں سے جرمن اتحاد کی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ یہ بات شاید آپ کے لیے دل چسپی کا باعث ہو کہ اس شہر میں ڈاکٹر گوئبل گروس کے جانے کا مقصد اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنا تھا۔ مگر جب ان کی کار شہر کی حدود میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے انھوں نے دوسری عالمی جنگ میں جان دینے والے جرمن فوجیوں کی یادگار پر حاضری دی۔یعنی پہلے اپنے قومی ہیروز کو سلام کیا اور پھر اپنے ذاتی تعلق داروں کو ملنے گئے۔ گویا انھیں اپنے ملک اور اپنی قوم سے گہری محبت تھی جو ان کے لیے ذاتی رشتوں سے بھی اہم تھی۔ تو یہ بات میرے
لیے کچھ مختلف سی تھی۔ شاید ان کی قوم پسندی کی جانب اشارہ کرتی ہو۔ آپ اسے وطن سے محبت بھی کہہ سکتے ہیں۔
ایک مشاہدہ میں نے اور میری بیگم نے مشرقی جرمنی کے سفر اور قیام کے دوران میں یہ کیا کہ مشرقی جرمنی کے باشندے جن کی معاشی حالت کمزور تھی وہ مغربی جرمنی کے خوش حال افراد کے مقابلہ میں زیادہ مہمان نواز، ملن سار، ہنس مکھ اور فراخ دل تھے۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں لوگ ہیں۔ سادہ طبیعت اور کم وسائل کے مالک مگر دل کے بڑے اور مہربان۔
سوال: جرمنی کے بعد جب آپ کینیڈا آئے توکیا ادھر بھی ادبی سرگرمیاں قائم رہیں؟
جواب: جی بالکل۔ جب ۱۹۹۹ میں مستقل سکونت اختیار کرکے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کینیڈا پہنچا تو ویسے تو یہاں کئی ادبی تنظیمیں سرگرم عمل تھیں مگر حلقہ ارباب ذوق موجود نہ تھا۔ چناں چہ لاہور سے اپنے دوست طاہر اسلم گورا کے ساتھ مل کر یہاں بھی حلقہ ارباب ذوق، ٹورنٹو کی داغ بیل ڈالی اور اس کا پہلا سیکرٹری بنا۔ یہاں حلقہ کے تحت کئی بھر پور ماہانہ اجلاس منعقد کروائے جن میں بیرون ملک سے مہمان لکھاریوں نے بھی شرکت کی۔
ان ادبی سرگرمیوں نے مجھے پاکستان سے دوری کے باوجود اردو ادب کے مرکزی دھارے سے منسلک رکھا۔
سوال: یہاں میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے کینیڈا ہی کا انتخاب کیوں کیا؟
جواب: دراصل میری بیگم طاہرہ کی ایک قریبی بنگالی سہیلی اپنے اہل خانہ کے ساتھ جرمنی سے کینیڈا منتقل ہورہی تھیں۔انھوں نے جرمن کے بجائے انگریزی زبان کی اہمیت اور کینیڈا کے کثیرالثقافتی حُسن کے حوالہ سے اسے بالخصوص بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت بہتر قرار دیا اور ہمیں بھی جرمنی کے بجائے کینیڈا کو اپنا وطن بنانے کا مشورہ دیا۔ میرے چچا سید عبدالرحمان رضوانی بھی عشروں پہلے سوشیالوجی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کینیڈا آچکے تھے۔انھی کی وجہ سے سوشیالوجی کا مضمون ہمیشہ ہی مجھے پسند رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا یہ سفر بھی گویا اُن کے نقشِ قدم پر چلنے ہی کی ایک صورت ہوگا۔ میری بیگم صاحبہ میرے سیروسیاحت کے شوق سے بھی واقف ہیں اس لیے انھوں نے مجھے قائل کرنے کے لیے یہ بھی کہا کہ جرمنی رہتے ہوئے یورپ تو دیکھ ہی چکے۔کیوں نہ ایک نیا خطہ یعنی شمالی امریکا بھی دیکھ لیا جائے۔ تو یہ ترغیب بھی کام کرگئی۔پھر پتا چلا کہ کچھ جاننے والے بھی کینیڈا میں مقیم ہیں اور وہاں اردو پنجابی ادبی فضا بھی بھرپور ہے تو ان تمام ’’ترغیبات‘‘ نے مجھے کینیڈا آنے پر قائل کرلیا۔ چناں چہ کینیڈا امیگریشن کی باقاعدہ درخواست جمع کروادی اور اس کی منظوری پر بیگم اور بچوں کے ساتھ دنیا کے اس آخری اور سردترین کونے میں آبسا۔
سوال: کچھ اپنے اہل خانہ کے بارے میں بتائیے۔
جواب: جب ہم کینیڈا آئے تھے اُس وقت ہمارے تین بیٹے تھے: زرناب، عمید اور اریب۔یہاں آکر اللہ پاک نے ہمیں رابعہ بیٹی سے نوازا۔ یہ سب بچے، ماشاللہ، اب بالغ ہیں اور تعلمی مدارج طے کرنے کے بعد اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے شعبوں میں کام یاب زندگیاں بسر کررہے ہیں۔ الحمد للہ۔
سوال: کیا اور کسی ملک میں بھی قیام رہا؟
جواب: سیروتفریح کے لیے ضرور دوسرے ممالک جاتے رہے مگر طویل یا مستقل قیام کہیں اور نہیں کیا۔ میں پھر بتاتا چلوں کہ میں جرمنی پہلے انیس سو نواسی میں گیا تھا جرمن زبان کی تعلیم کے لیے اور پھر انیس سو نوے سے ترانوے تک بسلسلہ ملازمت وہاں مقیم رہا۔ کینیڈا کا سفر انیس سو ننانوے کے اگست میں پیش آیا اور یہاں آکر یہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی۔ اب میں پاکستان اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھتا ہوں۔ اور تاحال یہیں قیام پزیر ہوں۔
سوال: پاکستان میں آپ بھرپور ادبی زندگی گزار رہے تھے۔تو کینیڈا کا ماحول آپ کو کیسا لگا؟
جواب: جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسان کے لیے ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل ہونا بھی آسان نہیں ہوتا۔تو ایک ملک سے دوسرے میں جا آباد ہونا کیسے آسان ہوسکتا ہے؟ سو، ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا رہا۔بنیادی ضروریات کا اہتمام، ایک نئی آب و ہوا میں سانس لینا اورنئے معاشرتی ماحول سے ہم آہنگی پیدا کرنا کچھ مشکل ضرور تھا مگر ہم جانتے تھے کہ یہ سب ناممکن نہیں۔چناں چہ، تعلیمی اسناد کی تصدیق اور مقامی تعلیمی معیار کے حصول سے لے کر ایک مختلف معاشی اور سماجی نظام کا حصہ بننے تک تمام مراحل طے کیے۔یہاں سے پہلے سوشل سروسز میں آنرز کے ساتھ ڈپلوما حاصل کیا اور پھر یونی ورسٹی سے سوشل ورک میں ماسٹرز ڈگری بھی حاصل کی۔سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں اور اب بھی برسر روزگار ہوں۔ الحمد للہ۔
ہاں، ادبی ماحول میں رچنے بسنے میں کچھ وقت لگا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا زندگی کے لیے بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا میری اولین ترجیح تھی۔ میں لکھتا تو رہا مگر تقاریب میں شرکت کم کم رہی۔ پھر جیسے ہی اس طرف سے ذرا فراغت ملی میں یہاں کی ادبی فضا میں بھی سرگرم ہوگیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، سن دوہزار آٹھ میں حلقہ ارباب ذوق، ٹورانٹو کا آغاز کیا اور ایک سال اس کا سیکرٹری رہا۔ بھرپور تنقیدی اجلاس اور مشاعرے منعقد کروائےجن میں کینیڈا اور امریکا کے ساتھ ساتھ یورپ کے تخلیق کار بھی شریک ہوئے۔ میرے شعری مجموعوں کی تعارفی تقریبات بھی ہوئیں۔میرے اعزاز میں ادبی شام بھی بپا کی گئی۔ یہاں رہتے ہوئے میری درجن بھر کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہوئیں۔
سوال: اچھا ادبی دنیا سے ہٹ کر مجھے یہ بتائیے کہ پاکستان اور کینیڈا کے ماحول میں، لوگوں کی زندگی میں عمومی اور بڑا فرق کیا ہے؟
جواب: ماحول کئی طرح کا ہوسکتا ہے۔ ادبی، سیاسی، سماجی، موسمیاتی۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ مگر مجموعی طور یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کا ماحول پُر امن اور پرسکون ہے۔ سرکاری دفتر ہویا ادبی اجلاس، رسمی ملاقات ہو یا غیررسمی دوستانہ مکالمہ لوگ وقت کی پابندی کو لازم سمجھتے ہیں۔ دیر سے آنے کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ مجھے گذشتہ دنوں کینیڈا کے ایک دوسرے صوبہ ’’کیوبک‘‘ کے شہر مانٹریال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کے مقامی افراد سے مل کر یہ تاثر ملا کہ وہ مقررہ وقت سے بہت پہلے پہنچنے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں۔ تو یہ وقت کی قدر کا عالم ہے یہاں۔ پھر میں نے دیکھا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹ نہیں بولتے، غلط بیانی نہیں کرتے۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیتے۔معذرت طلب کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، دوسروں کے لیے جگہ بنانے میں پہل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فضا بالعموم صاف ستھری رہتی ہے۔ شہر، قصبے اور دیہات ہر جگہ صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
جغرافیاتی لحاظ سے دیکھیں تو کینیڈا رقبہ کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور اپنی لاکھوں چھوٹی بڑی جھیلوں اور دل کش قدرتی مناظر کے لیے بھی مشہور ہے۔
پولیس اورعدلیہ قوانین کے مطابق اپنےفرائض انجام دیتی ہے۔سیاسی ادارے آئین سازی کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہر چار سال بعد انتخابات ہوتے ہیں جو انتہائی پرامن اور منصفانہ ہوتے ہیں۔ انتخاب کے روز زندگی کا سارا کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے ؛ دفاتر، بنک، تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں۔ کوئی تشدد آمیز جلسے جلوس نہیں ہوتے۔ لوگ اپنے فارغ وقت میں ووٹ ڈال آتے ہیں۔اگر پولنگ اسٹیشن جانا ممکن نہ ہو تو ووٹ ڈاک کے ذریعہ بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ذرائع آمدو رفت بھی عمدہ اور موثر ہیں۔ہاں ، ایک اور بات: یہاں مالی بے قاعدگی کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔رشوت وغیرہ کا تصور مشکل ہے۔ معمولی سی مالی بےضابطگی پر ملک کا وزیراعظم بھی اپنے عہدہ سے محروم ہوسکتا ہے۔
سوال: اور یہاں کا ادبی ماحول؟
جواب: جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو میں کہوں گا کہ متعدد تنظیمیں بڑے شہروں میں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ شہر ٹورنٹو میں کئی ادبی تنظیمیں پروگرام منعقد کرتی ہیں جن میں شاعری اور نثر دونوں پیش کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی طرح یہاں بھی معاصرانہ چشمکیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ادبی گروہ بندیاں بھی ہیں اور درپردہ کچھ ذاتی اور شخصی تعصبات بھی۔۔۔مگر ملتے سب ایک دوسرے کو ادب احترام سے ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی چینلز پر بھی اردو پنجابی پروگرام ہوتے ہیں۔ اردو زبان میں اخبارات و جرائد بھی شائع ہوتے ہیں۔میں یہاں ’’فیملی آف دی ہارٹ‘‘ نامی ادبی تنظیم کی تقاریب میں شریک ہوتا رہتا ہوں۔
سوال: کینیڈا میں پہلے کس شخصیت سے دوستی ہوئی؟
جواب: کینیڈا پہنچ کر جس ادبی شخصیت سے سب سے پہلے میری ملاقات ہوئی وہ میرے گورنمنٹ کالج لاہور کےشاعر دوست افضال نوید تھے۔ ان کی وساطت سے ارشاد حسین صاحب سے تجدید ملاقات ہوگئی جو امریکا سے ہوتے ہوئے کینیڈا پہنچ گئے تھے۔ ان سے تعارف ریڈیوپاکستان لاہور کے زمانے سے تھا۔ ہم سب انھیں پیار سے ارشاد بھائی کہتے تھے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ دیگر اہم لکھاریوں سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ان لکھاریوں میں اکرام بریلوی، اشفاق حسین، نسیم سید، منیر سامی، نزہت صدیقی، عرفان ستار، شاہد حسن، تسلیم الہیٰ زلفی،امیر حسین جعفری،احمد رضوان، فیصل عظیم، ڈاکٹر بلند اقبال اور بہت سے دوسرے شعرا و ادبا شامل ہیں۔ تخلیق کار دوست طاہر اسلم گورا کے ساتھ مل کر تو حلقہ ارباب ذوق بھی قائم کیا اور ان کے ٹیگ ٹی وی کے لیے ادبی پروگرام بھی کیے۔یہ سب میرے لئے قابل احترام ہیں۔ تاہم جس ادبی شخصیت کے ساتھ مل کر مجھے بھرپور ادبی کام کرنے کا موقع ملا وہ والد گرامی قبلہ یزدانی جالندھری صاحب کے دوست پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کے بھتیجے ڈاکٹر خالد سہیل ہیں جو ممتاز شاعرو ادیب بھی ہیں اور ایک ماہرِ نفسیات بھی۔ انھی کی حوصلہ افزائی نے مجھ سے ویب سائٹ ’’ہم سب‘‘ اور ’’مکالمہ‘‘ پر کالم اور یادداشتیں لکھوائیں اور پھر ہم نے مل کر دو اہم کتابیں بھی مکمل کیں اور اب تیسری پر کام کررہے ہیں۔
سوال: کینیڈا میں شاعری کا ازسر نو آغاز کیسے کیا؟
جواب: شاعری کا سلسلہ کو لڑکپن سے لاہور میں آغاز ہوا تھا وہ کبھی کہیں رُکا ہی نہیں۔ یہ سانسوں یا دھڑکنوں کی طرح سدا میرے ساتھ ساتھ رہا۔نہ اس نے جرمنی میں میرا ساتھ چھوڑا اور نہ کینیڈا میں۔جرمنی میں رہتے ہوئے میراپہلا شعری مجموعہ ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ منصہِ شہود پر آیا جب کہ کینیڈا قیام کے دوران میں شاعری اور نثر کی درجن بھر کتابیں شائع ہوچکیں۔ جن میں نعتیں، غزلیں، نظمیں، افسانے، مضامین، کالم اور تراجم سبھی شا مل ہیں۔ یہاں گاہے گاہے منعقد ہونے والے مقامی اور عالمی مشاعروں میں شرکت سے بھی کچھ نہ کچھ لکھنے کی ترغیب ملتی رہتی ہے اور پھر ’’بیاض‘‘، ’’ادب لطیف‘‘ اور’’نیرنگِ خیال‘‘ سے معیاری ادبی جرائد کے مطالعہ سے اور عالمی ادب سے رابطہ کے طفیل بھی تخلیقِ ادب کی ترغیب و تحریک ملتی رہتی ہے۔
سوال: آپ کی عالمی نظموں کے تراجم پر مشتمل کتاب “ کسی اور ساحل سے” پر میں نے تحقیقی مقالہ بھی قلمبند کیا تھا۔ یہ بتائیے تراجم کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: مجھے تخلیقی کام کا ترجمہ کرکے بہت لطف آتا ہے۔ اس کتاب میں شامل نظمیں اس بات کی گواہ ہیں۔ میں نے محبت اور محبت سے یہ کام کیا۔ ہر نظم میرے لیے ایک نئے خطے کی سیاحت کی طرح تھی۔ ایک نیا ظاہری منظر اور گہرا داخلی سفر۔ تو بہت اچھا رہا یہ تجربہ جو کئی برس پر محیط تھا۔
سوال: آپ کی آنے والی تصانیف کون کون سی ہیں؟
جواب: ان دنوں افسانوں کا دوسرا مجموعہ ترتیب دے رہا ہوں اور اس کے بعد نیا اردو شعری مجموعہ مرتب کروں گا۔ ایک ناولٹ بھی شروع کررکھا ہے۔ شاید وہ بھی آنے والے دنوں میں مکمل ہوجائے۔ میں والد صاحب کی نایاب کتابوں کے نئے یعنی پاکستانی ایڈیشن بھی چھپوا رہا ہوں۔ اس سلسلہ میں ان کی دو کتابیں آچکیں۔ ابھی آٹھ دس رہتی ہیں۔ ان کا اہتمام بھی ایک مکمل ذمہ داری ہے۔ خواہش ہے کہ یہ اہم کام میں اپنی زندگی میں کرجاؤں۔
سوال: آخر میں کیا آپ اپنی کوئی نظم یا غزل سنانا پسند کریں گے؟
جواب: جی ضرور۔ ایک غزل سُن لیجیےجو کینیڈا کے موسمِ سرما کی ترجمانی بھی کرتی ہے اور اور میرے احساسات کی بھی:
تا ابد ایک لمحہ گزرتا رہا برف گرتی رہی
کوزہ عمر خالی کہ بھرتا رہا برف گرتی رہی
اک صدی بیتے دن کی خبر کی طرح بے خبر سو گئی
عہد نو دھجی دھجی بکھرتا رہا برف گرتی رہی
یاد کے باب میں ، چپکے چپکے سے تہ خانہ خواب میں
کون یوں زینہ زینہ اترتا رہا برف گرتی رہی
جھیل کے ساے میں وقت چلتا رہا ، دل پگھلتا رہا
اک سکوت آئنے سے گزرتا رہا برف گرتی رہی
اک سفید اجلی چادر پہ دو کاسنی پھول جلتے رھے
چاند گہرے سفر میں ٹھٹھرتا رہا برف گرتی رہی
عکس در عکس خواہش چمکتی ہوئی ،رت مہکتی ہوئی
آئنہ آئنہ وہ سنورتا رہا برف گرتی رہی
تا بہ حد نظر، ایک ہی کینوس ، ایک ہی رنگ تھا
تا ابد ایک لمحہ گزرتا رہا برف گرتی رہی
***
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں