• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جبری فیصلوں کا عہد اور اخلاقی سیاست کی آخری صدا/محمد امین اسد

جبری فیصلوں کا عہد اور اخلاقی سیاست کی آخری صدا/محمد امین اسد

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، ان کے بعض سیاسی اتحاد، وقتی فیصلے اور عملی حکمتِ عملیاں ہمیشہ اختلافِ رائے کا موضوع رہی ہیں، اور یہ اختلاف بجا بھی ہے۔ سیاست میں اتفاقِ رائے ایک غیر فطری شے ہے۔ مگر اس اختلاف کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ لاہور میں پنجاب ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے ان کا حالیہ خطاب محض ایک جماعتی موقف یا وقتی سیاسی ضرورت کا اظہار نہیں تھا۔ یہ تقریر ان کی طویل سیاسی، دینی اور فکری زندگی کا نچوڑ تھی۔ اس میں ایک تجربہ کار سیاست دان نہیں بلکہ ایک عمر رسیدہ مبصرِ زمانہ بول رہا تھا، جو میڈیا کے اخلاقی زوال، جمہوریت کے کھوکھلے پن، ریاستی طاقت کے ارتکاز، مذہب کے نام پر تشدد، اور پاکستان کے ادارہ جاتی بحران کو ایک مربوط فکری تناظر میں رکھ کر دیکھ رہا تھا۔ یہ خطاب اس عہد میں، جب شور دلیل پر اور طاقت اصول پر غالب آ چکی ہے، اخلاقی سیاست کی شاید آخری مگر سنجیدہ صدا بن کر سامنے آیا۔

مولانا نے گفتگو کا آغاز میڈیا کے اخلاقی بحران سے کیا، اور یہ بات نہایت معنی خیز ہے کہ انہوں نے میڈیا کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی قوت کے طور پر مخاطب کیا۔ ان کے نزدیک آج کا میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، خبر کے بجائے تضحیک، کردار کشی اور منفی سنسنی کو فروغ دے رہا ہے۔ وہ بجا طور پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیوں ایک عالم دین کے گھنٹوں کے سنجیدہ درس پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور چند لمحوں کا ایک مذاق پوری دنیا میں وائرل ہو جاتا ہے۔ یہ صرف میڈیا کی ترجیحات نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ذوق اور اخلاقی زوال کی علامت ہے۔

مولانا اس رویے کو قرآن و سنت کے واضح اصولوں کے مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق خبر کی تحقیق، احتیاط، عیب پوشی اور وقار اسلامی اخلاقیات کی بنیاد ہیں، جبکہ آج کا میڈیا عیبوں کی تلاش اور سنی سنائی باتوں کی اشاعت کو کامیابی سمجھتا ہے۔ وہ حدیث کا حوالہ دے کر یہ اصول یاد دلاتے ہیں کہ بغیر تحقیق ہر سنی ہوئی بات آگے پہنچانا خود جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ محض مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ڈیجیٹل عہد میں فیک نیوز اور پروپیگنڈا کلچر پر ایک مضبوط اخلاقی فردِ جرم ہے۔

یہاں سے مولانا کی گفتگو ایک گہرے سیاسی اور ریاستی تناظر میں داخل ہوتی ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ جس منفی ذہنیت نے میڈیا کو آلودہ کیا ہے، وہی سیاست اور ریاستی اداروں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ اختلافِ رائے برداشت کرنے کے بجائے فائلیں بنانا، پرانی تقریروں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا، اور کردار کشی کو سیاسی ہتھیار بنانا، اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ مولانا اس طرزِ عمل کو بدنیتی پر مبنی سیاست قرار دیتے ہیں، جہاں نظریے اور دلیل کی جگہ نیت پر حملہ اصل ہدف بن جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر مولانا کی تمثیل نہایت بامعنی ہے۔ وہ پرانے دیہاتی حجروں اور بیٹھکوں کو یاد کرتے ہیں جہاں بے ترتیب گفتگو ہوتی تھی، کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تھا، ہر شخص اپنی رائے دے دیتا تھا۔ ان کے مطابق آج وہی بیٹھک موبائل فون میں منتقل ہو چکی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ گفتگو پوری دنیا کے سامنے ہے۔ مگر وہ اس ہجومِ رائے میں الجھنے کے بجائے ایک اصولی نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی بات پر اعتماد رکھو، دلوں کو بدلنا اللہ کا کام ہے۔ یہ جملہ ڈیجیٹل دور کے ہر کارکن، صحافی اور سیاسی ورکر کے لیے ایک مکمل اخلاقی رہنمائی ہے۔

تقریر کا ایک بڑا اور نہایت اہم حصہ عالمی نظام کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ مولانا تاریخ کے طویل تسلسل میں یہ واضح کرتے ہیں کہ بادشاہت، نوآبادیات، سرمایہ دار جمہوریت اور اشتراکی نظام سب اپنے اپنے دعوؤں کے باوجود آخرکار طاقت کے سامنے بے نقاب ہو گئے۔ ان کے نزدیک جمہوریت اب عوامی حاکمیت کا نہیں بلکہ طاقت اور سرمائے کا پردہ بن چکی ہے، جبکہ کمیونزم مساوات کے نعرے سے آمریت تک پہنچ چکا ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور یوکرین جیسے واقعات ان کے لیے عالمی دوہرے معیار کی مثالیں ہیں، جہاں طاقتور کا جرم انصاف اور کمزور کا دفاع جرم بن جاتا ہے۔

اسی عالمی پس منظر میں مولانا پاکستان کی داخلی صورتحال کو رکھ کر دیکھتے ہیں۔ وہ نہایت دو ٹوک انداز میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت بطور نظام ناکام نہیں ہوئی، بلکہ اسے ناکام بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اصل بحران ووٹ کا نہیں بلکہ اختیار کا ہے۔ اگر ووٹ کے بعد فیصلہ کہیں اور ہو، اور پارلیمنٹ محض رسمی ادارہ بن جائے، تو جمہوریت ایک ڈھانچہ تو رہتی ہے مگر روح کھو دیتی ہے۔ اسی لیے وہ موجودہ اکثریت کو “جعلی” کے بجائے “جبری” قرار دیتے ہیں۔ یہ محض لفظی فرق نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی تشخیص ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کے توازن کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ نتیجہ پہلے سے طے ہو۔

مولانا کے نزدیک اب پاکستان میں جنگ نظریات کی نہیں رہی بلکہ اتھارٹی کی ہے۔ وہ اس نکتے کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہیں کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور قانون کہیں اور پاس کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں سول سپریمیسی اور پارلیمانی بالادستی محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی عالمی رجحان ہے جہاں جمہوریت کی جگہ طاقت لے رہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ مغرب میں یہ عمل کھلے سامراج کی صورت میں ہے اور پاکستان میں اندرونی انتظامی غلبے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آئینی ترامیم، خصوصاً چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک سال میں دو تہائی اکثریت کا پیدا ہو جانا محض عددی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے کھیل کی علامت ہے۔ ان کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سیاست کا میدان نظریے سے نکل کر محض اختیار کے تحفظ تک محدود ہو چکا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ احتساب کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور طاقتور طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔

یہاں مولانا اسلامی تاریخ کی مثالیں دے کر واضح کرتے ہیں کہ اسلامی روایت میں اقتدار سب سے زیادہ جواب دہ ہوتا ہے، مستثنیٰ نہیں۔ نبی کریم ﷺ اور حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل اس کی روشن مثال ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ نظام میں زندگی بھر کے لیے قانونی استثنا دینا ریاست کے اخلاقی وجود پر حملہ ہے۔ مولانا کا اعتراض کسی ایک شخصیت پر نہیں بلکہ اس پورے ریاستی فلسفے پر ہے جو طاقت کو جواب دہی سے آزاد کر دیتا ہے۔

تقریر کا ایک اور نہایت اہم پہلو مذہب کے نام پر تشدد اور تکفیر کے خلاف ان کا واضح اور غیر مبہم موقف ہے۔ وہ ان گروہوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو جمہوریت کو کفر قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر کہنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں۔ مولانا تاریخی اور حدیثی دلائل کے ساتھ یہ واضح کرتے ہیں کہ ضعیف اور موضوع روایتوں کی بنیاد پر عقائد اور احکام قائم نہیں کیے جا سکتے، اور یہی سوچ بالآخر خونریزی اور فتنہ پیدا کرتی ہے۔

مدارس کے حوالے سے مولانا کی گفتگو دفاعی نہیں بلکہ تہذیبی شعور پر مبنی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ دینی مدارس ڈیڑھ صدی سے اس خطے میں موجود ہیں اور یہ محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایک مکمل رفاہی نظام ہیں، جو رہائش، خوراک، تعلیم اور علاج تک فراہم کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب ریاست خود اپنے سکول نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے تو مدارس پر اعتراض کس بنیاد پر ہے؟ ان کے نزدیک یہ اعتراض دراصل دینی علوم سے خوف اور مغرب کی خوشنودی کی سیاست ہے۔

تقریر کے اختتام پر مولانا کسی رومانوی ماضی کی واپسی کی بات نہیں کرتے بلکہ ایک متبادل فکری سمت کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کے ناکام نظاموں کے مقابلے میں اسلام ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جو اخلاق، عدل، معیشت اور انسانی حقوق کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ شورائیت کو عوامی شراکت کے ساتھ جوڑ کر جمہوریت کی اصلاح شدہ صورت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں آزادی بھی ہو اور اخلاقی حدود بھی۔

julia rana solicitors london

اگر اس پوری تقریر کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس خطاب میں اپنی جماعت سے زیادہ اپنے عہد سے مخاطب تھے۔ اختلاف اپنی جگہ، تنقید کا حق بھی برقرار، مگر یہ تقریر پاکستان کے فکری، سیاسی اور اخلاقی بحران پر ایک سنجیدہ دستاویز ہے۔ ایسے وقت میں جب سیاست گالی، جھوٹ اور پروپیگنڈا تک محدود ہو چکی ہو، یہ خطاب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت سے حکومت تو چل سکتی ہے، مگر ریاست اور معاشرہ صرف سچ، انصاف اور اخلاق سے ہی زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments

Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔ بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔ ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply