پاکستان میں آج نوجوانوں کے ذہن پر ایک ہی خیال سوار ہےکہ ملک سے باہر نکل جانا۔۔۔ یہ محض سیاحت یا بہتر مواقع کی خواہش نہیں، بلکہ ایک گہری اجتماعی بےچینی کا اظہار ہے۔ معاشی عدم استحکام، روزگار کے محدود دروازے، میرٹ پر عدم اعتماد، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مستقبل کی دھندلی تصویر نے نوجوان کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس احساس کو اور گہرا کر دیا ہے، جہاں بیرونِ ملک زندگی کو چمکتے شہروں، مضبوط کرنسی، آزادی، عزت اور کامیابی کے خواب کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ان تصویروں کے پیچھے چھپی تنہائی، بے شناختی، خوف اور جدوجہد کو شاذ ہی دکھایا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان ہجرت کو مجبوری نہیں بلکہ نجات سمجھنے لگے ہیںاورملک چھوڑنے کو ناکامی نہیں بلکہ کامیابی کی پہلی سیڑھی تصور کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ایک قوم کا نوجوان اپنی توانائی، صلاحیت اور امیدیں سمیٹ کر نکل جائے تو پیچھے رہ جانے والا معاشرہ کس سمت جائے گا؟ یہ جنون ایک فرد کا نہیں پورے نظام کا المیہ ہےاور اس المیے پر سنجیدہ غور کیے بغیر صرف نعروں، تقریروں اور حب الوطنی کے جذباتی نغموں سے نوجوانوں کو روکا نہیں جا سکتا۔
روزگار کی تلاش انسان کی بنیادی مجبوری ہے۔ جب اپنے وطن کی زمین روزی دینے سے قاصر ہو جائے، جب محنت کے باوجود گھر کا چولہا ٹھنڈا رہے، جب باپ کی پیشانی پر فکر کی لکیریں ہوں، ماں کی آنکھوں میں سوال ہوں اور بچوں کی خواہشیں ادھوری رہ جائیں، تب انسان اکثر وہ راستے بھی اختیار کر لیتا ہے جن کے انجام کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں خواب عقل پر حاوی ہو جاتے ہیں اور غیر قانونی ہجرت جیسے خطرناک فیصلے جنم لیتے ہیں۔
ہر سال سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں پاکستانی نوجوان یورپی ممالک کے خواب لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔ ان خوابوں میں خوشحالی ہے، عزت ہے، دولت ہے اور ایک بہتر زندگی کا تصور ہے۔ مگر ان خوابوں کے راستے کانٹوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ صحرا کی تپتی ریت، سمندر کی بے رحم موجیں، انسانی اسمگلروں کے بےرحم ایجنٹ، ٹوٹی ہوئی کشتیاں اور اندھے طوفان۔۔۔یہ سب اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان راستوں پر اٹھایا گیا ہر قدم انسان کو موت کے قریب لے جاتا ہے۔

غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کا خواب دراصل ایک ایسا فریب ہے جس کی قیمت اکثر جان سے چکانی پڑتی ہے۔ جو لوگ کسی طرح زندہ بچ کر وہاں پہنچ بھی جاتے ہیں، ان کی زندگی بھی ایک مسلسل خوف ہے۔ نہ قانونی حیثیت، نہ تحفظ، نہ عزت۔ ہر وقت پکڑے جانے کا ڈر، ہر لمحہ ڈی پورٹ ہونے کا خوف، معمولی اجرت پر سخت مشقت اور ایک ایسی زندگی جہاں انسان جیتا تو ہے مگر سائے کی طرح۔ نہ وہ وہاں کے ہوتے ہیںنہ اپنے وطن کے رہتے ہیں۔
تین سال قبل رانیوال سیّداں (گجرات) کے میرے دوست وحید شاہ دبئی سے واپس آئے تھے۔ایک محنتی، شریف اور اچھے مستقبل کاخواب دیکھنے والا نوجوان۔۔۔ دبئی میں برسوں کی محنت کے باوجود اس کی زندگی وہ موڑ نہ لے سکی جس کا وہ خواہاں تھا۔ چند جان پہچان والوں کی مثالیں اور ایجنٹوں کے دل موہ لینے والے دعوے نےیورپ کو اس کے لیے آخری امید بنا دیا۔روشن مستقبل کے نام پر دکھائے گئے خوابوں نے وحید شاہ کو غیر قانونی ہجرت کا راستہ چننے پر آمادہ کیا۔
وحید شاہ اور اس کے ساتھی پہلے لیبیا پہنچے۔ وہاں جو کچھ ان پر گزری، وہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ قید، تشدد، بھوک، پیاس اور مسلسل خوف۔ مگر اس سب کے باوجود دل میں ایک امید زندہ تھی کہ بس اب اٹلی پہنچنے والے ہیں، بس چند گھنٹوں کا سفر اور زندگی بدل جائے گی۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ کشتی، جس میں وحید شا ہ کے چند دوست سوار تھے، سمندر کے بے رحم طوفان کی لپیٹ میں آ گئی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیری رات کا راج تھا، بلند لہریں کسی زخمی درندے کی طرح چیخ رہی تھیں، انسانوں کی دہائیاں فضا میں گھل رہی تھیں اور خواب، جو کل تک روشن تھے، ایک ایک کر کے ٹوٹ رہے تھے۔ کمزور سی کشتی لمحہ بھر میں بے بس ہو گئی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔کشتی الٹ گئی۔ سمندر نے اپنی سرد آغوش میں کئی جوان زندگیاں خاموشی سے سمیٹ لیں۔سمندر کی بے رحم موجوں نے صرف کشتی نہیں الٹی، وحید شاہ کا دل بھی اس منظر کا بوجھ نہ اٹھا سکا اور زندگی کا سفر وہیں ختم ہو گیا۔ لمحوں میں ایک گھر کا چراغ بجھ گیا اور بیوی کے ساتھ بچوں کی پوری کائنات ایسی تاریکی میں ڈوب گئی جہاں امید کی کوئی کرن باقی نہ رہی۔
وحید شاہ کی موت کے بعد بھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ ایک مہینے کی طویل جدوجہد، کاغذی کارروائیاں، سفارتی مسائل اور بے بسی کے بعد وحید شاہ کی میت وطن واپس پہنچی۔ ذرا تصور کیجیے اس لمحے کا جب ایک ماں نے اپنے بیٹے کو تابوت میں دیکھا ہوگا۔۔۔وہ بیٹا جو خوشحال مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے گھر سے نکلا تھا۔ باپ کے مضبوط کندھے اس لمحے کیسے ٹوٹے ہوں گے۔ بہن بھائیوں کی سسکیاں،گھر میں پھیلا سوگ ، آنے والے کل سے انجان معصوم بچوں اور بیوہ کی خاموشی جو چیخوں سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔
یہ صرف وحید شاہ کی کہانی نہیں۔۔۔ ایسی سینکڑوں نہیں، ہزاروں کہانیاں ہمارے اردگرد بکھری ہوئی ہیں۔ ہر کہانی میں ایک نوجوان ہے، ایک خواب ہے، ایک خاندان ہے اور آخر میں ایک المیہ۔ کوئی سمندر میں ڈوب جاتا ہے، کوئی صحرا میں دم توڑ دیتا ہے، کوئی مافیا کے ہاتھوں مارا جاتا ہے اور کوئی زندہ رہ کر بھی ایک مردہ زندگی جیتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ لوگ بیرونِ ملک کیوں جانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غیر قانونی راستہ واقعی حل ہے؟ کیا چند سال کی ممکنہ کمائی ایک خاندان کی عمر بھر کی آہوں کا بدل ہو سکتی ہے؟ کیا یورپ کی سڑکیں واقعی سونے کی ہیں یا یہ صرف ہمارے ذہنوں میں بسایا گیا ایک فریب ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ نوجوانوں کو خواب نہیں بلکہ حقیقت دکھائی جائے۔ غیر قانونی ہجرت کے انجام سے آگاہ کیا جائے۔ ایجنٹ مافیا کے خلاف سخت اور عملی کارروائی کی جائے۔ سب سے بڑھ کر ملک کے اندر روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیںتاکہ نوجوان اپنی زمین پر رہ کر باعزت زندگی گزار سکیں۔زندگی بہت قیمتی ہے، اور خواب دیکھنا انسان کا حق ہے، مگر وہ خواب جو موت پر ختم ہوں، خواب نہیں المیہ ہوتے ہیں۔وحید شاہ جیسے نوجوان آج بھی ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ کب ہم اس جان لیوا فریب سے نکلیں گے؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں