بس یہ ہی اصول بندگی ہے /محمد کوکب جمیل ہاشمی

استاد کلاس کے بچوں کو دانتے ہوئے کہہ رہا تھا، ” بچو! اب چپ کرو۔ میری بس ہو گئی ہے برداشت کی۔ شور ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے”.میرا تو سر پھٹا جا رہا ہے درد سے۔ میں اگر منع نہیں کر رہا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم دنگا فساد جاری رکھ۔و۔ میں کیا کروں۔ میرا بس نہیں چلتا”.( بے بسی کی ایک تصویر)۔

” سر! یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ مجھے اس کام کا تجربہ نہیں ہے”. دیکھو! تم کام کروگے تو تجربہ ہو جاۓ گا”. ” نہیں سر! میرے بس کی بات نہیں، میں مجبور ہوں, اور سر جب میں نے جاب کے لئے انٹرویو دیا تھا تو اسے اس وجہ سے رد کیا جا رہا تھا کہ میرے پاس کام کا تجربہ نہیں۔ اس لئے مجھے سب سے کم تنخواہ پر ملازمت دی گئی تھی۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہر بات میں، جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے”۔ (ہٹ دھرمی اور بات نہ ماننے کی دوسری تصوی)ر۔

مریض فریاد کرتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔ میں اپنا علاج کراتے کرا تے تھک گیا ہوں، میری تمام جمع پونجی صحت کی بحالی پہ خرچ ہو گئی۔ مگر وہی” ڈھاک کے تین پات”۔ اب کیا کروں۔” حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں”۔ (مایوسی کا یہ انداز کیسا ہے؟)

“اچھا بھئی اچھا! اب بس بھی کرو یہ رونا دھونا۔۔ کہہ دیا ہے تمہاری سالگرہ پر نیا جوڑا بنوا دونگا۔ چاہے چوری کروں یا ڈاکے ڈالوں۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔” دولت کی وہ پری کہاں سے لاؤں۔ کتنا بے بس ہوں میں”. (یہ باتیں ہر گھر کا قصہ ہیں)۔

” بس بھئی بس ذیادہ بات نہیں چیف صاحب۔ آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاحب”۔ آپ میری بات نہیں سنتے اور سارے کام التوا میں ڈال دیتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کیاحل نکالوں۔”
(ایسا غصہ اچھا نہیں ہوتا)
انسان کتنا بے بس ہے۔ کرنا کچھ چاہتا ہے، ہوتا کچھ اور ہے۔ (مایوسی کفر ہے۔)
“میری اب بس ہوگئی ہے، میں بہت تھک چکا ہوں۔ اب سونا چاہتا ہوں۔ مگر سڑک پہ چلتی گاڑیوں کے ہارن سونے نہیں دیتے” ۔ ( اب تو ہمیں اسکا عادی ہو جانا چاہئے۔)

” دیکھو میرے بس میں ہوتا تو میں تمہیں نوکری دلوا چکا ہوتا۔ میں کیا کروں مجبور ہوں۔ ( دوسرے کی مجبوری کو بھی سمجھنا چاہئے)

” اگر میری بس خراب نہ ہوتی تو میں آفس کے لئے لیٹ نہ ہوتا “. ( ایسا اکثر ہو جاتا ہے۔ گھر سے جلدی نکلیں تو وقت پر آفس پہنچ سکتے ہیں۔)

اوپر دیئے گۓ محاوروں اور جملوں میں انسان کی بے بسی، مجبوریوں، حدود قیود، بے چارگی، نا طاقتی کا رونا رویا جا رہا ہے۔ اس کارگہ ہستی میں کاموں کے دائرہ عمل کی حقیقتوں کی پرتیں ناچتے مور کے پروں کی طرح کھلتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان خواہ وہ کتنا ہی بڑا با اختیار اور طاقت ور کیوں نہ ہو وہ اپنی حدود کی دائرے سے باہر نکلنے کے قابل نہیں ہوتا۔ البتہ وہ اپنے آپے سے باہر ہونے پر اختیار ضرور رکھتا ہے۔ انسان کی مجبوری، لاچاری اور حدود نے اسے کمزوری اور بے بسی کا شکار بنا رکھا ہے۔ کیونکہ کبھی اس کے ہاتھ پاؤں قانون کی سخت گیری میں جکڑے ہوتے ہیں اور کبھی نظام قدرت کے اطلاق اور انضباط نے اسکو کچھ نہ کر سکنے کے احاطے میں رہنے کا پابند کر رکھا ہے۔ اگر انسان چاہے کہ وہ قدرت کی طرف سے مقررہ مواقیت حیات و ممات سے ماورا اپنی مرضی کے تا بع عمل کرے تو وہ خود کو نا ممکنات کی تحدید کے باعث مجبور پاۓ گا۔ جس وقت اس نے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے اس کو سر مو ٹال یا روک نہیں سکتا۔ وہ اس بات پہ بھی قادر نہیں ہوتا کہ اپنے پھیپھڑوں کی گہرائیوں میں اترے سانس کو باہر نکال سکے یا اپنی آنکھ کے ساکت ہوۓ پپوٹوں اور پلکوں کو اپنی منشاء سے جھپک سکے۔ اتنی بے بسی، بیچارگی اور بے بضاعتی کے باوجود وہ کس زعم اور غرور و تکبر اور طاقت کے گمان میں زمین پر سینہ پھلا کر، اکڑ کر چلتا ہے۔ اس کے بس میں کچھ نہیں ہوتا، اس کی سوچ بھی محدود ہوتی ہے، اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا۔ ہونے والا ہے۔ اکیلا انسان ہی نہیں کل کائنات مکمل طور پر قدرت کے تابع ہے۔ اللہ رب العزت کے حکم کے بغیر انسان اپنے ہاتھ میں پکڑے پانی کے گلاس کواپنی مرضی سے لبوں تک لیجا کر اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا۔ اسے اللہ کی قدرت اور مدد درکار ہوتی ہے۔

کون تھا جو طاقتور سیلابی پانی اور اس میں خس و خاشاک کی طرح بہتے، تباہی مچاتے، گاڑیوں اور انسانوں کو کاغذی ناؤں کی طرح بہاتے، غرق کرتے، ٹنوں وزنی حجر و شجر کے راستے کے پتھر بٹانے پر قادر تھا۔ کوئی نہ تھا۔ سب تماشبین تھے بے بس و لا چار اپنے پیاروں کو نہنگ اجل کے مونہہ میں جاتے، تکتے رہ گۓ۔ سب کے مونہہ سے نکلتی چیخوں سسکییوں اور آہوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں مگر سب بے بس تھے۔ بے چین تھے مگر وہ کارگر کوششوں سے عاری تھے۔ کچھ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ انکو اپنی عافیت کے لالے پڑے تھے۔ تدبیروں سے معمور ذہنوں اور سوچوں سے بھرے دماغوں میں دانش اور خیال کے منصوبے بیکار ہو گئے تھے۔

تمہاری،
” ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے بہت نکلےمیرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”۔ ارمان کم کیوں نکلے؟ اس لئے کہ بس میں نہیں تھے۔ اس پچھتاوے کی ایک جھلک اس مصرعے میں ملتی ہے کہ
” اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔”

آیک مسافر کو ریل کا ٹکٹ نہ مل سکا ۔ ریل چل پڑی۔ تب وہ بہت جز بز ہوا۔ بس میں یہی تھا کہ وہ بس پکڑ لے۔ بعد میں خبر آئی کہ ٹرین حادثے کا شکار ہو گئی۔ بس نے منزل پہ پہنچا دیا۔ جان بچی سو لاکھوں پاۓ۔ کیا اسے پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ جاننا تمہاری دسترس میں نہ تھا۔ تو پھر دعوی کیسا کہ مجھے سب معلوم ہے، مجھے سب کچھ پتا ہے۔ بس کردو بس۔ بس کر دوبس۔
کسان نہ اپنی بارانی زمینوں میں گندم بونے کے لئے ہل چلایا۔ یہی حل تھا سال بھر کے اخراجات پورے کرنے کا۔ خشک سالی نے اسکے ارمانوں پہ پانی پھیر دیا۔ وہ بارشوں سے امید باندھ بیٹھا۔ بارشیں ہوئیں تو بے قابو ہو گئیں۔ سیلاب آ گئے رہی سہی فصلیں بہہ گئیں۔ وہ کنگال ہوگیا۔ یعنی “سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں”۔

julia rana solicitors london

آللہ بڑا کا ساز ہے۔ وہی پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا۔ سب نفع و نقصان اس کے حکم سے ہوتے ہیں۔ آفات، حادثات، قحط و خشک سالی، بارشیں اور رزق ، ثمرات و فواکہ اسی ذات باری تعالٰی کی مرضی ومنشا کے محتاج ہیں۔ انسان اس کے احکامات کا پابند ہے۔ اور بس۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ0 بندہ عاجزی اختیار کرے۔ اور اپنے غرور و تکبر کو اپنے پیروں سے خود روند ڈآلے۔ بس یہی اصول بندگی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply