تاریخی طور پر aesthetics ہمیشہ احساسات (feelings / ahsasiyat) سے جڑی رہی ہے۔ لفظ aesthetics خود یونانی aisthesis سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے محسوس کرنا، ادراک کرنا، اور تجربہ کرنا۔ قدیم روایت میں جمالیات صرف خوبصورتی نہیں بلکہ خوشی ، غم ، جذبہ ، خوف، حیرت، سکون….یعنی وہ سب کچھ تھا جو انسان کو اندر سے ہلا دے یا چھوے ۔ مثال کے طور پر گریک ٹریجڈی میں آرٹ کا مقصد خوبصورت منظر پیش کرنا نہیں بلکہ خوف اور ترس (pity and fear)جیسے جذبات کے ذریعے catharsis پیدا کرنا تھا، یعنی انسان کو احساس کے ذریعے بدلنا۔ اسی طرح لوک گیت، رزمیہ داستانیں اور صوفی شاعری بھی شکل یا فارم سے زیادہ اجتماعی احساس اور تجربے کا اظہار تھیں۔
یہ صورتِ حال اٹھارویں صدی میں بدلنا شروع ہوئی، جب Enlightenment کے دور میں aesthetics کو آہستہ آہستہ احساسات سے الگ کر کے form، beauty اور taste سے جوڑ دیا گیا۔ Kant جیسے مفکرین کے ہاں “disinterested beauty” کا تصور سامنے آیا، جہاں خوبصورتی کو احساس اور ذات سے الگ کر دیا گیا اور اسکو سیاست، جسم، درد اور جذبات سے پاک، ایک کنٹرولڈ اور آفاقی معیار بنا دیا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد صرف فلسفیانہ نہیں تھا بلکہ گہرا سیاسی اور سماجی تھا: احساسات کو بے قابو، خطرناک اور غیر عقلی قرار دیا گیا، جبکہ form اور beauty ایسی چیزیں تھیں جنہیں ناپا، سکھایا اور discipline کیا جا سکتا تھا۔
اس تبدیلی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ لوک موسیقی اور عوامی اظہار کو “جذباتی ” اور کم تر قرار دیا گیا، جبکہ کلاسیکی، درباری اور ایلیٹ فنون کو “aesthetic” مانا گیا۔ اسی طرح صوفی شاعری کے جذباتی، وجدانی اور مزاحمتی پہلو کو دبایا گیا اور اسے صرف روحانیت یا folklore تک محدود کر دیا گیا، کیونکہ اس میں موجود احساسات لوگوں کو جوڑنے اور سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
احساسات کو دبانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ احساسات آزادی اور مزاحمت سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب لوگ مشترکہ طور پر دکھ، ناانصافی یا محرومی محسوس کرتے ہیں تو وہ اجتماعی شعور میں بدل جاتا ہے، اور یہی شعور طاقت کے ڈھانچوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس form اور beauty ایسی چیزیں تھیں جنہیں قواعد، نصاب اور اداروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ aesthetics کو خوبصورتی تک محدود کر کے احساس کو طاقت سے الگ کر دیا گیا۔
نوآبادیاتی دور میں یہی تصور مزید مضبوط ہوا۔ foreign aesthetics کو “universal” اور “superior” قرار دے کر local aesthetics پر مسلط کیا گیا۔ مقامی زبانیں، لوک کہانیاں، دیسی فنون اور عوامی جذباتی اظہار کو غیر مہذب یا غیر فنی کہا گیا، جبکہ مغربی form، proportion اور visual harmony کو اصل جمالیات بنا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مقامی معاشروں میں اجنبیت، ثقافتی احساسِ کمتری اور جذباتی بے دخلی پیدا ہوئی ۔۔۔(اسی کی بنیاد پر لوکل آرٹ ، شاعری ، ڈرامہ ، فلم کو کمتر قرار دے کر مغربی آرٹ ، ڈرامہ ، فلم کو برتر کہا گیا )۔لوگ اپنی ہی ثقافت کو دیکھتے ہوئے بھی خود کو کم تر محسوس کرنے لگے۔
یوں جب aesthetics کو احساس کے بجائے صرف beauty اور form سے جوڑا گیا تو اس کے مضمرات صرف فن تک محدود نہ رہے بلکہ پورے social imagination کو متاثر کیا گیا۔ لوگوں نے دیکھنا تو سیکھ لیا، مگر محسوس کرنا آہستہ آہستہ خطرناک، غیر مہذب اور غیر عقلی سمجھا جانے لگا۔۔۔حالانکہ حقیقت میں محسوس کرنا ہی آزادی، تعلق اور مزاحمت کی بنیاد ہوتا ہے۔
آرٹ اور aesthetics کا اصل کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمارے احساسات اور جذبات کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ اصل فرق یہی ہے کہ local aesthetics ہمیں ایک اجتماعی، گہرا اور جڑا ہوا تجربہ دیتی ہیں۔۔جہاں ہم خود کو، اپنی یادوں، اپنی زبان اور اپنے لوگوں کو پہچان لیتے ہیں ، جبکہ foreign aesthetics اکثر ہمیں اپنی ذات سے ہی الگ، بے گانہ اور alienated کر دیتی ہیں، ایک ایسا fragmented experience دیتی ہیں جس میں جذبات تو ہوتے ہیں مگر جڑیں نہیں ہوتیں۔ اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔۔کولونائزرز کبھی نہیں چاہتے کہ ہم اپنے مقامی طریقے سے محسوس کریں، کیونکہ جب لوگ اپنے ہی احساس، اپنی کہانی اور اپنی جمالیات کے ذریعے جُڑ جاتے ہیں تو وہ اجتماعی شعور، مزاحمت اور سوال اٹھانے کی طاقت پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مفاد میں یہی ہوتا ہے کہ ہمارے احساسات کو بھی import کر دیا جائے تاکہ ہم دیکھیں، سوچیں اور محسوس بھی دوسروں کی عینک سے کریں، اور اپنی ہی ثقافت، درد اور خوبصورتی سے آہستہ آہستہ کٹتے چلے جائیں۔
معروف پوسٹ کولونیل expert ڈاکٹر مسعود راجہ صاحب نے ہماری اور پاکستان و بھارت کے کئی دوسرے لوگوں کی مسلسل اصرار اور درخواست پر یہ چینل اردو میں شروع کیا، تاکہ وہ لوگ ۔۔۔خصوصاً طلبہ۔۔جو انگریزی زبان پر عبور نہیں رکھتے، اہم فکری اور نظری مباحث سے محروم نہ رہیں۔ اس کا مقصد صرف علم کی ترسیل نہیں بلکہ نوآبادیاتی ساختوں (colonial structures) کی پہچان، ان کے اثرات کی سمجھ، اور اس کے ذریعے سیاسی شعور اور فکری بیداری پیدا کرنا ہے، تاکہ علم چند مخصوص طبقات تک محدود نہ رہے بلکہ اپنی زبان میں، اپنے تناظر میں عام لوگوں تک پہنچ سکے۔. جتنا ہو سکے اسکو پروموٹ کیجیے اور استفادہ کیجیے ۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں