آزادی کا باطنی مفہوم /ڈاکٹر مختیار ملغانی

آزادی سے پہلے دیکھ لیا جائے کہ انسان کن مقامات پر آزاد نہیں ہے ، جبر کا سب سے بیرونی دائرہ وہ ہے جسے دہر کہتے ہیں جس کے آگے ہر جری اور فقیہ بے بس رہا ہے، جیسے بدو نے پیغمبر سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے، ہم پیدا ہوتے ییں، زندہ رہتے ہیں اور پھر یہ دہر (وقت ) ہمیں مار ڈالتا ہے، یونانی جانباز بھی اسے دہر سے لڑتے ہوئے شکست سے دوچار رہے ۔ جبر کا دوسرا دائرہ تقدیر ہے، دانشور نے کہا کہ جغرافیہ تقدیر ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا، اسی طرح پیدائش کا مقام، خاندان، جنس اور اردگرد کا سماج ایک تقدیر ہے، یاد رہے کہ درخت سے پھل کا گرنا دہر نہیں بلکہ تقدیر ہے کہ کشش ثقل اور دیگر آفاقی قوانین تقدیر کے زمرے میں آتے ہیں، دیر یہ ہے کہ پھل آج ہے مگر کل نہیں ہوگا۔ جبر کا آخری دائرہ انسان کی جبلتیں ہیں ، ان جبلتوں کے مطالبات یا ضرورتوں کو پورا کرنا بھی جبر ہے، کیا کھانا ہے کی آزادی تو انسان کو میسر ہو سکتی ہے، لیکن اگلے دو مہینے کچھ کھانے کا پروگرام بنائیں یا بحر اوقیانوس کی سیر کو نکل جائیں والی سہولت انسان کو میسر نہیں ۔
اب جبر کی ان تمام صورتوں کو یکجا کیا جائے تو آسٹریا کے لکھاری گستاو میئرنگ نے ایک شاندار پلاٹ پیش کیا ہے جہاں وہ ملکہ الیزبتھ کے مشیر اور ایک سائنسدان و دانشور جون ڈی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات وہ شراب کے نشے میں دھت گھر پہنچے، ہال میں قد آدم آئینہ موجود تھا، آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر جون ڈی نے اس عکس کو مارنا شروع کر دیا ہے، اس لئے نہیں کہ وہ اپنے بھدے عکس سے نفرت کرتے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے عکس سے مسلسل مطالبہ کرتے رہے کہ کوئی تو ایسی حرکت، کوئی تو ایسا اشارہ کر کے دکھاؤ جو میں نہیں کر رہا، مجھ پر ہی انحصار کیوں ہے، کچھ تو خود بھی کر کے دکھاؤ، میئرنگ کا قلم بند کیا یہ سین انسان کے مجبور ہونے کی بہترین عکاسی کر رہا ہے کہ جبر کی ہتھکڑیوں سے باہر آنا انسان کیلئے ممکن نہیں ۔ گویا کہ جبر وہ تعلق ہے جو وجود اور عکس کے درمیان ہے، یعنی کہیں کوئی آزادی نہیں اور افلاطون کے بقول یہ کائنات فقط ایک عکس ہی تو ہے۔ عکس کس چیز کا ہے یہ البتہ ملین ڈالر سوال ہے۔ آزادی اگر کہیں ہے تو اس وجود اور عکس کی جوڑی سے باہر نامعلوم کے کچھ مقامات ہیں اور آزادی کا تصور پھر نامعلوم کے انہی مقامات پہ دیکھا جانا چاہئے ۔
انسان کو اگر عکس تصور کیا جائے، جو کہ ہے، تو پھر آزادی کیلئے ضروری ہے کہ اس میں کچھ ایسا ہو جس سے وجود خود محروم ہو، اور یہ وہی شرر ہے، وہی خودی ہے جس کی قوالی اقبال کرتے رہے ہیں ۔ اور یہ شرر انسانی شعور ہے جو وجود کی ضد ہے۔ وجود اپنی اصل میں موضوع(object) ہے اور شعور معروضیت کا اصول ( principle of subjectivity) ، صرف یہی بنیادی اور واحد فرق ہے جو وجود اور عکس کے درمیان آزادی کی حدود طے کرتا ہے باقی سب جبر ہے ۔
سماج کی ساخت ایسی ہے کہ آزادی کے اصل محرک، وجود کی اس ضد (شعور) ، کو جتنا زیادہ ہو سکے دھندلایا جائے، بس روح افزاء اور جام شیریں کے درمیان کا انتخاب دے کر آزادی کا جعلی سا تاثر قائم رکھا جائے، کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر شر کا جواب خیر سے دینا ہے تو پھر خیر کا جواب کس چیز سے دیا جائے ؟
آزادی کیلئے سب سے پہلا قدم خود کو اس وجود سے جدا کرنا ہے جس کا ہم عکس ہیں ، وجود سے یہ علیحدگی فلسفیانہ مباحثوں میں جنم نہیں لے سکتی، یہ بے ساختگی ہے، وجودی بے ساختگی، جو لاشعوری سطح سے ابھرتی ہے اور بطور جبلت گویا کہ ابھرتی ہے، چاہیں تو شعور کی جبلت کہہ لیں، سرور کربلائی کے بقول
” سیانڑے مصلحت توں بول نئیں سگدے جتھاں سرور
میں ڈٹھا ہے اتھاں اکثر دیوانے بول پوندے ہن ”
کسی ناانصافی پر جہاں سیانے مصلحت( یا بزدلی ) کی وجہ سے خاموش ہیں ، وہاں دیوانے کا یوں بول اٹھنا ایک بے ساختگی ہی تو ہے جو لاشعوری سطح سے ابھری ہے، دیوانے کو شاید الف لیلہ کی فلسفیانہ تفصیلات معلوم نہ بھی ہوں مگر وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ظلم ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تو وہ بول اٹھے گا،،، یہی وجودی بے ساختگی ہے جو حقیقی آزادی ، حقیقی شعور کا عملی اظہار ہے، جو شخص اس بے ساختگی سے محروم ہے وہ کسی طور آزاد نہیں کہلایا جا سکتا ۔
آزادی کے اظہار کی ان بے ساختگیوں کی دو اقسام ہیں، یعنی وجود کے چنگل سے خود کو آزاد کر نے کیلئے جو بے ساختگی درکار ہے، وہ دو قسم کی ہے ، ایک وہ جسے ہم مشروط طور پر ، نسوانی بے ساختگی، کہہ سکتے ہیں، یہاں نسوانی سے مراد فقط جنس نہ لیا جائے، یہ مردوں میں بھی پائی جاتی ہے، نسوانی بے ساختگی کا مطلب اپنے اندرونی جزبات کی بھڑاس نکالنا ہے، یہ چاہے آنسوؤں کی صورت ہو، یا ناز نخرے کی صورت یا پھر لڑائی جھگڑے کا منظر بھی پیش کر سکتی ہے، محبت اور روٹھنے منانے کے اظہاریئے میں عموماً یہی بے ساختگی دیکھنے کو ملتی ہے، سماج اس بے ساختگی کو پھر بھی کہیں ناں کہیں قبول کر لیتا ہے کہ یہ نظام کی بجائے قلوب کے توڑنے جوڑنے تک محدود رہتی ہے ۔ فیمینزم کی تحریکوں نے اس نسوانی بے ساختگی کو مضبوط کیا ہے یا وہ اسے روند رہی ہیں؟ اس کا فیصلہ ہر قاری خود کر لے ۔
بے ساختگی کی دوسری قسم کو مشروط طور پر، مردانہ بے ساختگی، کہا جا سکتا ہے، یہ فنون لطیفہ کی دنیا ہے ، یہاں بھی مردانہ سے مراد فقط جنس نہیں ، خواتین بھی اس بے ساختگی کی حامل ہیں ، اس قسم میں اپنی بے ساختگی کو کسی آرٹ کی شکل میں بطور احتجاج پیش کیا جاتا ہے، کسی ناانصافی پہ آواز اٹھانا مقصد ہے، اس بے ساختگی کو سماج اور اس کے کرتا دھرتا اپنے لئے ایک حقیقی خطرہ سمجھتے ہیں، کیونکہ فنون لطیفہ کا اصل مقصد ہی ایک ایسے نئے آئینے کو تخلیق کرنا ہے جس میں عکس اپنے وجود کا محتاج نہیں رہتا بلکہ خود مختار بن جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ریاست تخلیق کاروں پر اپنے کیمرے زوم کر کے رکھتی ہے کہ کہیں کسی ایسے آئینے کو تخلیق نہ کر ڈالیں جس میں عکس کلی طور پر وجود سے الگ ہو جائے کہ ایسے میں عوام الناس کا شعور جاگ سکتا ہے، اسی لئے ریاست ہمیشہ انہی تخلیق کاروں پر خرچ کرے گی جو ریاستی مفاد میں کام کریں گے، ” باغیوں ” سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
آرٹ میں پھر دو انتہائیں ہیں، ایک وہ جو عکس کو اپنے وجود سے مکمل طور پر آزاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ ادب ہے، لٹریچر ہے،،، جبکہ دوسری انتہا میں عکس کی آزادی نہایت کم ہے، یہ موسیقی (بغیر شاعری والی) ہے،،، ادب اور موسیقی کے درمیان پھر مصوری اور مجسمہ سازی کے فنون آتے ہیں، جو مکمل تو نہیں مگر جزوی آزادی ضرور دیتے ہیں۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل کے بعد سے آرٹ کی مدد سے آزادی کے اظہاریئے پر یوں قدغن لگا دی گئی کہ آرٹ کو پھر پیسوں میں تولا جانے لگا، جس سے آرٹ کا اثر کم تر ہوتا چلا گیا، آج اس کے مقصد کا بڑا حصہ بس جمالیاتی حس کی تسکین تک محدود ہو چکا ۔
ریاستوں نے اپنے باسیوں کو یہ جو معاشی ، شہری ، سماجی اور سیاسی آزادیاں دے رکھی ہیں، یہ بھی ریاستوں کے انسٹرومنٹس ہیں جن کی مدد سے سماج کا درجہ حرارت ناپا جاتا ہے کہ پارہ کس سمت رواں ہے اور اسی اعتبار سے پھر سماج کی سمت درست کرنے کے کوشش کی جاتی ہے، ساتھ میں فرد بھی آزادی کے اس جزوی اور جعلی تاثر سے مطمئن ہو جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے کہ معاملات اس کے قابو میں ہیں اور اسی کی مرضی سے چل رہے ہیں۔
اس منظر کا تصور کیجئے کہ آئینے میں عکس تو موجود ہے جو بظاہر مکمل آزادی کے ساتھ حرکات و سکنات کئے جا رہا ہے مگر آئینے کے سامنے کھڑے جون ڈی کے وجود کا مکمل انکار کر دیا جائے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply