عزازیل/سید محمد زاہد

وہ برکانی شیشے اور آتش فشانی انگاروں سے بنے تخت پر بیٹھا خنجر کی نوک سے ناخنوں میں الجھی راکھ صاف کررہا تھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ نہ سوجھا تو اسی خنجر سے تخت پر جڑے زبرجد، عقیق اور زرقون اکھاڑنے لگا۔ یہ ایک روایتی دن کا آغاز تھا۔ صدیوں پرانی ہاویہ کے ماحول میں ذرا برابر تبدیلی نہیں آئی تھی۔
ایک چیلہ اندر داخل ہوا۔ پاؤں میں گر کر سجدہ پیش کیا۔
’’میرے آقا! آج ہمارے معاہد میں سے سترہ لوگوں کی مدت پوری ہوئی۔ انہیں پیش کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔‘‘
’’اتنے کم؟ کمینا دلال! کیا جدید انسان نیک تو نہیں ہو گیا؟‘‘
چیله خاموش کھڑا رہا۔
’’انہیں بروکر سپیشل علاقے میں بھیج دو۔ وہ فون دو جو ہمیشہ بچتے رہیں لیکن رابطہ کسی سے نہ ہو سکے۔‘‘
ساتھ ہی ہاتھ کے اشارے سے جانے کو کہا۔
عزازیل نے دوزخ کو خودکار نظام پر چھوڑ دیا تھا۔ ایک دور تھا جب وہ فرشتوں سے الجھتا اور مفکروں کو بہکانے کی کوشش کرتا۔ ناکامی اس کا مقدر تھی مگر وہ اوتاروں اور ان کے ساتھیوں کو تنگ کرکے لطف اندوز ہوتا۔ پہاڑوں ریگزاروں میں ان کے ساتھ خجل خوار ہوتا اور کچھ کو بہکا بھی لیتا۔ اُس دور میں دوزخ کا ایندھن اکٹھا کرنے کے لیے اسے سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔ اس کے بعد کئی صدیوں تک وہ فارغ بیٹھا رہا۔ صرف کاغذی کاروائی تھی۔ روایتی انتظامی امور نمٹانا اور پھر فرصت ہی فرصت۔ انسان خود اس کو تلاش کرنے کی جستجو میں سرگرداں تھا۔ معاہدہ کرنے کے جتن کرتا۔ یہ کام بھی اس نے چھوٹے چھوٹے چیلوں کو سونپ دیا تھا۔
لیکن اب کچھ دیر سے دوزخ میں آنے والوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔
اس کا فون بجنے لگا۔ اسکرین پر دیکھا اور بڑا سا منہ بنا لیا۔ کسی نامعلوم نمبر سے پیغام تھا، ’’میرے پاس تمہارے لیے ایک خاص چیز ہے۔ کسی دن نصدق سٹاک مارکیٹ میں ملنے آؤ۔‘‘
سٹاک مارکیٹ کا سن کر دل کی آتش سوزاں بڑھک اٹھی۔ فون دربار سے باہر پھینک دیا۔ وہ آگ کی دیوار سے ٹکرایا تو پگھل کر بہتے ہوئے لاوا میں شامل ہو گیا۔ یہ اس مہینے کا ساتواں فون تھا۔
سٹاک مارکیٹ کو عزازیل نے اپنے بیٹے زلنبور کے حوالے کیا ہوا تھا۔ عزازیل کو وہ جگہ بالکل پسند نہیں تھی۔ وہاں کی بجائے وہ گنگا اشنان کرنے یا نہر اردن میں بتیسمہ لینے کو کم تکلیف دہ سمجھتا تھا۔ وٹیکن ہو یا بیت العتیق، کاشی کی گلیاں ہوں یا درب الصلیب، اسے کہیں بھی جانے سے اتنی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ مذہبی لیڈروں کی منافقت کے باوجود وہاں کچھ نہ کچھ شیطانی اصولوں کی پاسداری کی جاتی تھی۔ سٹاک مارکیٹ میں دیوی ’تخے‘ کی بو بسی ہوئی تھی۔ وہ لچی اسے ذرا پسند نہیں تھی۔
’’زلنبور۔‘‘ وہ چلایا۔
مکھی کے منہ والا فوراً حاضر ہو گیا۔
’’جی! اندھیروں کے آقا۔‘‘
’’کوئی حرام خور مجھے ملنا چاہتا ہے۔ اس نے مجھے نصدق سٹاک مارکیٹ میں بلایا ہے۔‘‘
’’کسی چیلے کو بھیج دیں۔‘‘
’’نہیں اس کا کہنا ہے کہ میرے پاس تمہارے لیے کوئی خاص چیز ہے۔ شاید کوئی بہت خبیث روح ہو۔‘‘ عزازیل اپنی داڑھی میں انگلی پھیرتے ہوئے بولا،
’’ناممکن ہے۔ آپ ایسے ہی زحمت کریں گے۔‘‘
اسے زلنبور کی یہ بات بہت بری لگی۔
’’اس بار میں خود جانا چاہتا ہوں۔‘‘
میرے لیے کیا حکم ہے۔ جانے کا انتظام کروں۔‘‘
’’نہیں میں اپنی خصوصی طاقت استعمال کروں گا۔ تم میرے لیے ایک نئے فون کا انتظام کرو۔ جو مکمل طور پر ہیٹ پروف ہو اور آگ کی شدت سے ہیلڈ نہ ہو جائے۔ یہ زر دار بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن کام اس کے بالکل الٹ۔‘‘
زلنبور کسی ہارے جواری کے انداز میں باربار پہلو بدل رہا تھا۔ ہمت جمع کر کے بولا،
’’میرے آقا! کچھ دن پہلے نیو ائر نائٹ پر آپ زمین پر گئے تو اپنے ہی گھر کو آگ لگا آئے۔‘‘
’’وہ تخم خنزیر’اعور‘ کی غلطی تھی۔ بدکاری کو فروغ دینا تمہارے اس بھائی کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی چڈو ماں جیسا تماش بین ہے۔ ازل سے شراب، سیکس اور آگ کا چولی دامن کے ساتھ ہے۔ وہ اپنی خر مستی میں اسے سنبھال نہ سکا اور چیلوں کے ساتھ کچھ معصوم بھی جلا ڈالے۔ مستقبل کے ہمارے معاہد ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔‘‘
’’جی! ہمارا بہت نقصان ہوا کئی شراب خانے جل گئے اور باقیوں پر سختی کر دی جائے گی۔‘‘
زلنبور نے ایک گرم سانس لی جیسے مکھیاں بھن بھنا رہی ہوں۔
’’ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں اور وہاں تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘
اگلے دن عزازیل ٹریول ڈیپارٹمنٹ میں کھڑا تھا۔
’’او لفنگو! ٹائمز سکور جانے کے لیے تیز ترین فلائٹ کا انتظام کرو۔‘‘ پورے ڈیپارٹمنٹ میں بھگدڑ مچ گئی۔
چیف ٹرانسپورٹرسامنے آ کر ناصیہ فرسا ہوا اور بولا، ’’آقا جو چیلہ ہم نے وہاں بھیجا تھا وہ واپس آیا تو اس کے سر کے دونوں طرف چوہے جیسے کان تھے۔ وہاں کے ڈرامے بازوں نے اسے مکی ماؤس بنا کر بچوں کو ورغلانے پر لگا دیا تھا۔‘‘
’’ کسی بھنگن کی اولاد! میں تمہیں ایسا بے وقوف دکھائی دیتا ہوں۔‘‘
چیف نے ڈرتے ڈرتے آگ کے گولے کا دروازہ کھول دیا۔ عزازیل نے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور گھومتے ہوئے گولے میں چھلانگ لگا دی۔ جسم بکھر گیا، عجیب رنگوں کی ایک سرنگ میں ہلارے لیتے ہوئے جادو کی نگری نصدق ٹائمز سکوئر فور کے داخلی دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ ایک کوڑے دان کے پیچھے چھپ کر خود کو سمیٹ کر اپنی شکل بدل لی- سینگوں اورکھروں کو ایک درمیانی عمر کے تھوڑے گنجے آدمی کی ظاہری شکل کے مطابق تبدیل کر کے پسینے سے بھرے سیاحوں کے ساتھ گھل مل گیا۔
عمارات پر ڈیجیٹل بل بورڈز جگمگا رہے تھے۔ سڑکوں پر انسانوں کا ہجوم تھا۔ہر طرف براڈوے تھیٹرز تھے۔ فن کار سڑکوں پر شیطانی حرکات کر کے مجمع کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہنے کو یہ دنیا کی تفریحی صنعت کا ایک بڑا مرکز ہے لیکن شور ایسا جیسے دوزخ کی بدروحیں مل کر بین کر رہی ہوں۔ ہر طرف پھیلی شوگر کینڈی، آئس کریم اور کافی کی ملی جلی بو اس کے نتھنوں میں گھس گئی۔ وہ ناک کھجانے لگا۔ ایسی غیر فطری بو تو جہنم سے بھی نہیں آتی تھی۔
لیکن وہ خوش تھا۔ ایک دو گھنٹے تک اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔ عظمت کُن کے نشان سورج کو انسانی ہاتھوں سے بنی عظیم عمارتوں کے پیچھے شرمندگی سے منہ چھپائے دیکھ کر اس کی خوشی دو بالا ہو گئی تھی۔
لوگوں کی اس بھیڑ میں وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا کہ ایک مکی ماؤس اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
’’ہم آپ کو زمین پر موجود سب سے خوبصورت ثقافتی مرکزمیں خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘
وہ اسے پہچان گیا تھا۔
’’ف۔ اٹ! تم بھی جانتے ہو اور میں بھی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔‘‘ عزازیل نے اپنے دائیں بازو کو کہنی سے اکٹھا کر کے اسے جواب دیا۔
’’میں مکی ہوں ۔مجھے یہ ڈھونگ بھرے تیس سال ہو گئے ہیں۔ اپنا نام بھی بھول گیا ہوں سب لوگوں کی طرح تم بھی مکی ماؤس کہہ سکتے ہو۔‘‘
’’اصل بات کرو مجھے کس لیے بلایا ہے؟ اس شور اور ہنگامے میں یوں لگتا ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آری سے میری کولونوسکوپی کر رہا ہو۔‘‘
مکی ماؤس نے اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
وہ ایک بار میں داخل ہو کر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
سامنے پڑی میز پر کوک آئس کریم برگرز کے نشانات تو نظر نہیں آ رہے تھے لیکن ان کی بو اس کے چوڑے نتھنوں میں چبھ رہی تھی۔
’’مجھے اس دوزخ میں کیوں بلایا ہے؟‘‘
مکی نے سر کا خود اٹھا کر میز پر رکھ دیا۔
’’میں اپنا معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کون سا معاہدہ؟‘‘
’’جو میں نے 30 سال پہلے کیا تھا؟‘‘
’’کس کے ساتھ؟‘‘
’’ ایک کمپنی کے ساتھ۔ بعد میں پتا چلا کہ تمہارا بیٹا اور چیلے اس کے کرتا دھرتا ہیں۔‘‘
عزازیل اِدھر اُدھر جھانکنا چھوڑ کر اسے گھورنے لگا۔
’’ان گلیوں میں تمہیں جو بھی نظر آ رہا ہے سب اُس کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تمہارا خیال ہے کہ یہ گلیاں، یہ چوبارے میں چلاتا ہوں؟‘‘
’’ دوزخ تو چلاتے ہو۔ تم نے خود ہی اسے دوزخ کہا۔‘‘
’’یہ دوزخ تمہاری ہے۔ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی۔‘‘
مکی نے اپنی جیب سے ایک پرانا ڈاکومنٹ نکالا۔
’’میں نے اپنی روح اس کے ہاتھ بیچی تھی۔‘‘ عزازیل کاغذات کھول کر پڑھنے لگا۔
’’تم نے چوہا بننے کے لیے اپنی روح بیچ دی۔ اتنی گھٹیا ڈیل!
تم جانتے تھے کہ بہت سے لوگ میرے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں۔ تم بھی میرے پاس آ جاتے۔‘‘ عزازیل دائیں ہاتھ کی پہلی انگلی سے ناک کے اندر خارش کرنے لگا۔
’’اس وقت میں 18 سال کا انجان لڑکا تھا۔ میں نے سوچا کہ آسان کام ہے، لیکن اے شیطان اعظم، اگست کی گرمی میں اگر تمہیں یہ موٹا سوٹ پہنا دیا جائے تو تم بھی یہ کام چھوڑ کر ہاویہ سے نیچے کسی اور گڑھے میں جانا پسند کرو گے۔ ان حالات میں ایسے بچوں کے ساتھ تصویریں بنوانا جو تمہیں پاؤں سے ٹھوکریں مار رہے ہوں، ادھر ادھر کھینچ رہے ہوں، کتنا مشکل کام ہے؟ میرے پیارے، تم اپنے معاہد کو بہت نوازتے ہو۔ ان کا یہ حال تو نہیں کرتے۔‘‘
’’دوزخ میں بھی کوئی ایئر کنڈیشنر نہیں لگا ہوا۔
ویسے تم یہ کام چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘
اس نے اپنا چوغا بھی اتار دیا۔ دائیں بازو پر مکی ماؤس کا ٹیٹو کھدا ہوا تھا۔
’’میں چھوڑنے کی کوشش کروں تو یہ جلنا شروع کر دیتا ہے۔ دوزخ کی آگ کی طرح۔ معذرت خواہ ہوں تمہیں تو یہ اچھا لگتا ہوگا کیونکہ تم تو دوزخ کے تاجدار ہو۔‘‘
“بلڈی ایڈیٹ! اپنی بات کرو۔ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’تمہارے ساتھ سودا کرنا چاہتا ہوں۔ اے شیطانوں کے شیطان، اے عزازیل، تیرے سینکڑوں نام ہزاروں خوبیاں، تیری عظمت کے نشان ہر طرف موجود، اے فردوس ابلیس کے مالک، اے اہرمن! تیرا درجہ سب سے بلند، میرے پیارے راکشس تیری رسائی سے کچھ بھی دور نہیں۔ مجھے اس دوزخ سے صرف تم نکال سکتے ہو۔ مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ۔‘‘
’’ بدبو دارے گارے سے تخلیق ہونے والے ! تعریفیں کر کے ورغلانے کی عادت تیری سرشت میں شامل کر دی گئی تھی۔ انا اور نرگسیت کے مارے دیوتا کو ٹھیکری کی یہ کھنک بھاتی ہوگی۔ میں صرف مفاد دیکھ کر کام کرتا ہوں۔‘‘
مکی نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک اور ڈاکومنٹ نکال لیا۔
’’اسے پہچانو۔‘‘
فائل جانی پہچانی لگ رہی تھی۔
’’تمہارا معاہدہ ہے۔ نصدق سٹاک مارکیٹ کے ہیڈ کے ساتھ۔‘‘
’’یہ زمین پر کیسے آ گیا۔ ہم کئی سال سے یہ کاغذات ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘
’’تیس سالہ معاہدہ۔ جس نے تمہارے ساتھ معاہدہ کیا وہ تو کب کا مر چکا لیکن یہ پچپن سال بعد بھی قائم ہے۔ انہوں نے تمہارے بیٹے زلنبور کو مزید شکار گھیرنے کی رشوت دے کر اسے چوری کروا لیا۔‘‘
عزازیل سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اسےاب پتا چلا کہ زلنبور اسے سٹاک مارکیٹ میں آنے سے کیوں روک رہا تھا۔
’’سن آف اے بچ!‘‘
’’کارپوریٹ سیکٹر اور زلنبور نے خوشحالی کی دیوی تخے کو بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ یہ سب مل کر تمہیں دھوکا دے رہے ہیں۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’اس معاہدے میں کچھ خاص اصول تھے۔ تم نہ جانے کیسے ان شرائط پر راضی ہو گئے تھے؟‘‘
’’ہاں! کارپوریٹ ڈھانچے والا حصہ۔ مجھے وہ یاد ہے۔‘‘ شیطان ہنسا۔
’’یہ تمہاری مملکت کے لیے خطرناک ہے۔‘‘ مکی نے قریب جھکتے ہوئے کہا۔
شیطان نے ایک ابرو اٹھائی۔ ’’کیسے ؟‘‘
’’ہر انسان جس کے پاس دولت ہے وہ اس کمپنی کا حصہ دار بن سکتا ہے۔ ‘‘
’’معاہدے کے مطابق انہیں یہ حق حاصل ہے۔‘‘
’’یہ اس معاہدے کی بنیاد پر نئے لوگوں سے معاہدہ کر لیتے ہیں۔ نئے معاہد تمہاری بجائے ان کی کمپنیوں کے غلام ہیں۔ یہ غلام آگے نئے چیلے بھرتی کر لیتے ہیں۔ تمہارا بیٹا زلنبور ہر معاہدے پر دستخط کر کے انہیں شیطانی جواز فراہم کرتا ہے۔ دیوی تخے انہیں خوشحالی کی ضمانت دیتی ہے۔ اس نے نیون لائٹس اوڑھ لی ہیں۔ وہ دیکھو باہر آسمان کو چھوتی عمارات پر چمکتے ہر اشتہار میں، ہر برانڈ کے وعدے میں، وہ خوشحالی کی مصنوعی خوشبو کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔
یہ معاہدہ ہمیشہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔ تم اس کی روح واپس نہیں لے سکتے کیوں کہ ہر روز ایک نئے معاہدے کے ساتھ یہ پوری دنیا میں بکھرتی جا رہی ہے۔‘‘
عزازیل اپنے کان کھجانے لگا۔ وجود پر ایک لرزہ دوڑ گیا۔ اس کی صدیوں پرانی مملکت تنکا تنکا بکھر رہی تھی۔
” تم یہ معاہدہ لے جاؤ لیکن اس کی روح — سٹاک مارکیٹ کا جادو — اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ ٹائمز اسکوائر کی سڑکوں پر ہر خوش کن چہرہ اور ہر کینڈی یا برگر بیچنے والا اسے زندہ رکھتا ہے۔ تمہارے چیلے پوری زمین پر اپنے پنجے گاڑ چکے ہیں۔ اب انہیں کسی شیطان کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘
عزازیل ساری بات سمجھ چکا تھا۔ زلنبور جس کے ذمے بے ایمانی اور دھوکا دہی والے کاروباری لین دین کی وکالت تھی باپ کو بھی دھوکا دے گیا تھا۔ بنت الزنا ’تخے‘ اس کے ساتھ مل کر پوری دنیا میں گند مچا رہی تھی۔
نار سموم سے بنے دوزخ کے سردار کا جسم یوں ٹھنڈا پڑ گیا جیسے بھگندر کا مواد نکل گیا ہو۔ وہ دھیرے سے بولا، ’’کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر شیطان بھی لرز اٹھتا ہے۔ میں واپس نہیں جا رہا میں اس آگ کو مزید بڑھکاؤں گا۔ اس آتش سوزاں کو یزداں بھی سرد نہیں کر سکے گا کیوں کہ اس کے شور و ہنگام میں میری سوز دروں بھی شامل ہو جائے گی۔‘‘
اس نے اپنا سر بدبو دار میز پر رکھ دیا۔ اس کو ہاویہ میں جانے کی خواہش نہیں رہی تھی۔
****
(زلنبور: زلنبور ابلیس کے پانچ بیٹوں میں سے ایک ہے
اعور: ابلیس کا ایک اور بیٹا ہے جو بد کاری کی ترغیب دیتا ہے۔
ان کا تذکرہ مسلم بن الحجاج کی تفسیر قرآن میں آیا ہے۔
تخے: یونانی اساطیری دیوی جو شہروں اور ان کی خوشحالی کی نگران تھی۔)

Facebook Comments

Syed Mohammad Zahid
Dr Syed Mohammad Zahid is an Urdu columnist, blogger, and fiction writer. Most of his work focuses on current issues, the politics of religion, sex, and power. He is a practicing medical doctor.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply