(جدید شہروں کے پس منظر میں لکھے گئے ناولوں کا عمرانیاتی مطالعہ)
انسان بنیادی طور پر ایک سماجی حیوان ہے، لیکن جدیدیت کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والےشہر نے اس کی سماجی جبلت کو ایک عجیب و غریب تضاد سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف شہروں کی گہما گہمی، ہجوم اور چکا چوند ہے، تو دوسری طرف اسی ہجوم کے بیچوں بیچ رینگتی ہوئی ‘شہری تنہائی۔ اردو فکشن، جو کہ زندگی کا آئینہ دار رہا ہے، اس عمرانیاتی تبدیلی کو بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ کلاسیکی اردو ناولوں میں جہاں محلہ ایک جیتا جاگتا کردار تھا۔ وہیں جدید اردو ناول میں شہر ایک ایسی بے رحم مشین بن کر ابھرا ہے جو فرد کو تنہا، بے گانہ اور نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔
عمرانیات کے نقطہ نظر سے، شہر صرف اینٹ اور گارے سے بنی عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک خاص طرزِ زندگی (Urbanism) ہے۔ جارج سمل (Georg Simmel) کے مطابق، بڑے شہروں کی زندگی فرد کے اعصاب پر اس قدر بوجھ ڈالتی ہے کہ وہ خود کو بچانے کے لیے دوسروں سے لاتعلق (Blasé Attitude) ہو جاتا ہے۔ یہی لاتعلقی ‘شہری تنہائی’ کی بنیاد بنتی ہے۔ اردو ناولوں میں یہ تنہائی محض اکیلے پن کا نام نہیں، بلکہ یہ رشتے داروں، ہمسایوں اور خود اپنے آپ سے کٹ جانے کا عمل ہے۔
اردو فکشن میں شہری تنہائی کا موضوع محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مکمل عمرانیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اردو فکشن میں شہری تنہائی کے مطالعے کے لیے ہمیں چند اہم ناول نگاروں کے کام کو دیکھنا ہوگا جنہوں نے شہر کو ایک نوآبادیاتی، مابعد نوآبادیاتی اور عالمی تناظر میں پیش کیا۔ ذیل میں چند کلیدی ناولوں کا اس تناظر میں منتخب ناولوں سے اہم اقتباسات اور ان کا تجزیاتی ربط ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
قرۃ العین حیدر کے ہاں شہر محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک بہاؤ ہے۔ ان کے ناولوں (مثلاً ‘آگ کا دریا’ یا ‘آخرِ شب کے ہم سفر’) میں شہروں کی تبدیلی فرد کی داخلی تنہائی کا سبب بنتی ہے۔ جب فرد ایک پرانے شہر کی تہذیب سے نکل کر جدید شہر کی میکانکی زندگی میں قدم رکھتا ہے، تو وہ خود کو ایک ایسی خلا میں پاتا ہے جہاں اسے پہچاننے والا کوئی نہیں۔ ان کے کردار لندن یا پیرس جیسے عالمی شہروں میں بھی ‘شہری تنہائی’ کا شکار نظر آتے ہیں۔قرۃ العین حیدر کے اس شاہکار ناول میں شہر وقت کے ایک ایسے تسلسل کے طور پر ابھرتے ہیں جہاں فرد بار بار خود کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔
ناول کا کردار گوتم نیلمبر ہو یا ہری شنکر، وہ قدیم پاٹلی پتر سے لے کر جدید لکھنؤ اور لندن تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ جدید لکھنؤ اور لندن کے ابواب میں ‘شہری تنہائی’ اپنے عروج پر ہے۔ لندن کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے کرداروں کی تنہائی اس مابعد نوآبادیاتی دور کی عکاسی ہے جہاں فرد اپنی جڑوں سے کٹ چکا ہے۔ قرۃ العین نے دکھایا ہے کہ جدید شہر (Cosmopolitan Cities) فرد کو مادی آسائشیں تو دیتے ہیں لیکن اس کی روح کو ایک ایسے خلا میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں کمیونٹی کا تصور ختم ہو کر محض افراد کے مجموعے تک محدود ہو جاتا ہے۔اس اقتباس میں قرۃ العین حیدر نے جدید شہر میں فرد کی گمشدگی اور وقت کے بے رحم بہاؤ کو بیان کیا ہے۔
“لندن کی ان سڑکوں پر چلتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسے سمندر کا حصہ ہے جس کی لہریں ایک دوسرے سے ناواقف ہیں۔ ہر چہرہ ایک کتاب ہے جو بند ہے، اور ہر قدم ایک ایسی منزل کی طرف ہے جو شاید موجود ہی نہیں ہے۔ ہم سب اس بڑے شہر کے ہجوم میں ایک دوسرے کو چھو کر گزر جاتے ہیں، مگر ملتے کبھی نہیں۔”
یہ اقتباس اس شہری لاتعلقی (Blasé Attitude) کی عکاسی کرتا ہے جس کا ذکر عمرانیات دان جارج سمل نے کیا تھا۔ یہاں شہر فرد کو گمنامی کی ایسی چادر پہنا دیتا ہے جہاں وہ خود کو تاریخ کے بوجھ تلے دبا ہوا اور تنہا محسوس کرتا ہے۔
عبداللہ حسین کے ہاں شہر ایک ایسی جگہ ہے جہاں فرد کی شناخت گم ہو جاتی ہے۔ اداس نسلیں میں دیہی زندگی کی فطری وابستگی کے برعکس، شہر فرد کو ایک نمبر یا ایک پُرزے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ان کے ہاں تنہائی کا عمرانیاتی پہلو یہ ہے کہ جدید شہر فرد سے اس کی جڑیں چھین لیتا ہے اور اسے ایک ایسی بھیڑ کا حصہ بنا دیتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے کے لیے اجنبی ہے۔عبداللہ حسین نے برصغیر کی دیہی زندگی سے شہری صنعت کاری کی طرف منتقلی کے عمل کو بہت گہرائی سے پیش کیا ہے۔
ناول کا مرکزی کردارنعیم جب جنگ اور دیہات کی زندگی سے نکل کر شہری سیاست اور ہنگاموں میں شامل ہوتا ہے، تو وہ ایک داخلی بیگانگی (Alienation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ شہر یہاں ایک ایسی جگہ ہے جو فرد کی انفرادیت کو کچل کر اسے ایک ہجوم کا حصہ بنا دیتی ہے۔ عبداللہ حسین کے ہاں شہری تنہائی کا سبب وہ طبقہ وارانہ تقسیم ہے جو شہر پیدا کرتا ہے۔ نعیم کی تنہائی اس کی اپنی ذات سے فرار نہیں بلکہ اس سماجی ڈھانچے کے خلاف احتجاج ہے جو اسے ایک میکانکی پرزہ سمجھتا ہے۔ عبداللہ حسین کے ہاں شہری زندگی کی میکانیت اور جذباتی بنجر پن کا اظہار اس مکالمے سے ہوتا ہے۔
“یہ شہر نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی مشین ہے جہاں ہم سب کل پرزے ہیں۔ صبح ہم ایک خاص سمت میں نکلتے ہیں اور شام کو تھکے ہارے واپس آ جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم نے وہ سب کچھ کھو دیا جو ہمیں انسان بناتا تھا۔ اب ہم صرف پڑوسی ہیں، ہمدرد نہیں ہیں۔”
یہ اقتباس براہِ راست مارکسی بیگانگی (Alienation) کے نظریے سے جڑا ہوا ہے۔ صنعتی شہروں میں فرد اپنی محنت اور اپنے سماج سے کٹ کر ایک تجریدی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔
انتظار حسین کا ناول بستی شہری تنہائی کے مطالعے کے لیے سب سے اہم متن قرار دیا جا سکتا ہے۔ ناول کا عنوان ہی بستی ہے، جو اس قدیم نامیاتی (Organic) معاشرت کی علامت ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اس کے برعکس، ناول میں دکھایا گیا جدید شہر (لاہور) خوف، کرفیو اور سناٹے کا منظر پیش کرتا ہے۔یہاں شہر ایک خوفناک خواب بن کر ابھرتا ہے جہاں سے پرندے ہجرت کر جاتے ہیں اور انسان اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں۔
انتظار حسین نے دکھایا ہے کہ کس طرح فسادات، بے یقینی اور شہری پھیلاؤ نے انسانی بستیوں کو صحراؤں میں بدل دیا ہے، جہاں جسم تو قریب ہیں مگر روحیں ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔بستی میں شہری تنہائی کا ایک انوکھا رنگ ملتا ہے۔۱۹۷۱ء کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول دکھاتا ہے کہ جب شہر سیاسی بحران کا شکار ہوتے ہیں، تو فرد اپنے ہی گھر میں محصور ہو کر رہ جاتا ہے۔ ذاکر کی تنہائی اس شہری ماحول کی پیداوار ہے جہاں باہر گولیوں کی تھرتھراہٹ ہے اور اندر یادوں کا قبرستان۔ یہاں شہری تنہائی عدم تحفظ (Insecurity) کا دوسرا نام ہے۔انتظار حسین نے شہر کی بدلتی ہوئی سماجیات اور خوف کی فضا میں پیدا ہونے والی تنہائی کو یوں رقم کیا ہے۔
“جب شہروں پر سناٹا اترتا ہے تو وہ صرف گلیوں میں نہیں ہوتا، وہ انسانوں کے اندر بھی اتر جاتا ہے۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا، سڑک خالی تھی، مگر اس خالی پن سے زیادہ خوفناک وہ خالی پن تھا جو میرے کمرے کے اندر دیواروں سے ٹپک رہا تھا۔ کیا شہر اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ ہم اب ایک دوسرے کی آواز بھی نہیں سن سکتے؟”
یہ ٹکڑا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح شہر اپنی وسعت کے باوجود انسان کے لیے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں شہری تنہائی سیاسی عدم استحکام اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کا نتیجہ ہے۔
جدید عہد میں مستنصر حسین تارڑ نے شہروں کے پس منظر میں تنہائی کے فلسفے کو نئے معنی دیے۔اے غزالِ شب میں ماسکو کے شہر کو ایک سرد، بے حس اور تنہا مکان کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہاں شہری تنہائی سیاسی نظریات کی شکست اور انسانی رشتوں کے زوال کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔تارڑ صاحب نے اس ناول میں ماسکو جیسے عظیم الشان شہر کو ایک ایسے سرد خانے کے طور پر پیش کیا ہے جہاں انسان ایک دوسرے سے ملتے تو ہیں مگر ان کے درمیان برف کی دیواریں حائل ہیں۔
ناول کے کرداروں کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ جدید اپارٹمنٹ کلچر نے کس طرح انسانی رشتوں کو محدود کر دیا ہے۔ ایک ہی عمارت میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے ناواقف ہیں۔یہ ناول ثابت کرتا ہے کہ شہری تنہائی اب صرف مشرق کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی عمرانیاتی المیہ ہے۔ ماسکو کی وسیع سڑکیں اور زیرِ زمین ریلوے اسٹیشن فرد کی چھوٹائی اور اس کی تنہائی کو مزید واضح کر دیتے ہیں۔ تارڑ صاحب نے اپارٹمنٹ کلچر اور جدید شہر کی سرد مہری کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
“ماسکو کے ان بلند و بالا بلاکس میں ہزاروں روشنیاں جلتی ہیں، مگر ہر روشنی ایک الگ جزیرہ ہے۔ دیوار کے اس پار کوئی مر جائے تو اس پار والے کو اس کی سڑاند سے پتہ چلتا ہے، اس کی آخری ہچکی سے نہیں۔ یہ جدید بستیوں کا نیا نصیب ہے: قریب ترین اجنبی۔”
یہ اقتباس شہری تنہائی کے عمرانیاتی مطالعے کا نچوڑ ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ مادی ترقی اور عمودی بستیوں (Vertical Housing) نے کس طرح انسانی ہمدردی اور باہمی تعلق کو ختم کر کے فرد کو ایک قید خانے میں بند کر دیا ہے۔
بانو قدسیہ نے لاہور کے نیم شہری اور جدید شہری ماحول کے امتزاج سے شہری تنہائی کا ایک الگ رخ پیش کیا ہے۔ ناول کے کردار (قیوم، سیمی شاہ) جدید یونیورسٹی کلچر اور شہری طبقہ اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی تنہائی حرام و حلال کے فلسفے کے ساتھ ساتھ اس مادی ہوس سے جڑی ہے جو شہر پیدا کرتا ہے۔راجہ گدھ میں شہر ایک ایسی چراگاہ ہے جہاں ہر کوئی دوسرے کا شکار کر رہا ہے، اور اس شکار کے عمل میں فرد تنہا رہ جاتا ہے۔ سیمی شاہ کی خودکشی اور قیوم کی در بدر کی ٹھوکریں اس شہری بیگانگی کا شاخسانہ ہیں جہاں محبت کے نام پر صرف جسمانی ہوس اور ذہنی تنہائی ملتی ہے۔ بانو قدسیہ نے متوسط شہری طبقے کی نفسیاتی اکتاہٹ اور تنہائی کو یوں بیان کیا ہے۔
“ہم سب اپنی اپنی اناؤں کے خول میں بند، اس شہر کی سڑکوں پر بھٹکتے راجہ گدھ ہیں۔ ہم محبت نہیں مانگتے، ہم صرف ایک دوسرے کو نوچنے کی تاک میں رہتے ہیں تاکہ اپنی تنہائی کا پیٹ بھر سکیں۔ اس شہر میں بھیڑ تو ہے، مگر رفاقت مفقود ہے۔”
یہاں شہری تنہائی اخلاقی زوال اور مادی ہوس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شہر ایک ایسی جگہ کے طور پر ابھرتا ہے جہاں مادی کامیابی تو ملتی ہے مگر ذہنی سکون اور سچی رفاقت نہیں ملتی۔
اردو ناولوں کے مطالعے سے شہری تنہائی کے درج ذیل عمرانی اسباب سامنے آتے ہیں۔
1. رابطوں کا فقدان: جسمانی قربت کے باوجود سماجی فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
2. ثقافتی تصادم: دیہات سے شہر آنے والے کردار ایک مستقل تذبذب اور تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔
3. تاریخی جبر: جنگوں اور تقسیمِ ہند جیسے واقعات نے شہروں کے تمدنی حسن کو چھین کر انہیں تنہا جزیروں میں تبدیل کر دیا ہے۔
4. اپارٹمنٹ کلچر: جدید ناولوں میں دکھایا گیا ہے کہ بلند و بالا عمارتوں نے انسانوں کو چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیوں میں بند کر دیا ہے۔ دیوار کے اس پار رہنے والا پڑوسی ایک نامعلوم ہستی بن چکا ہے۔
5. میکانکی زندگی: معاشی دوڑ نے انسان کو مشین بنا دیا ہے۔ وقت کی کمی نے سماجی میل جول (Social Interaction) کو ختم کر دیا ہے۔
6. شناخت کا بحران: بڑے شہروں میں فرد کی اپنی کوئی شناخت نہیں رہتی۔ وہ ہجوم کا ایک گمنام حصہ بن کر رہ جاتا ہے، جو اسے داخلی تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے۔
7. ٹیکنالوجی اور تنہائی: جدید اردو افسانوں اور ناولوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے دور میں بڑھتی ہوئی تنہائی کو بھی موضوع بنایا جا رہا ہے، جہاں ورچوئل دنیا تو آباد ہے مگر حقیقی دنیا ویران ہے۔
جدید شہروں کی تعمیر اور وسعت نے جہاں مادی سہولیات فراہم کی ہیں، وہاں فرد کو نفسیاتی طور پر تنہا اور سماج سے بیگانگی (Alienation) کا شکار کر دیا ہے۔ جدید اردو ناول میں شہر محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ایک ایسا فعال کردار ہے جو فرد کی تنہائی میں اضافہ کرتا ہے۔اپارٹمنٹ کلچر اور میکانکی زندگی نے محلہ داری کی روایتی سماجی رفاقت کو ختم کر دیا ہے۔
اردو فکشن میں شہری تنہائی کا عمرانیاتی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ناول نگاروں نے عالمی سطح پر آنے والی تبدیلیوں کو محض فیشن کے طور پر نہیں اپنایا، بلکہ انہوں نے اردو معاشرت کے بدلتے ہوئے ڈھانچوں کا گہرا مشاہدہ کیا ہے۔ جدید شہر، جو ترقی اور خوشحالی کا استعارہ سمجھے جاتے تھے، فرد کے لیے نفسیاتی قید خانے ثابت ہو رہے ہیں۔ اردو ناول نگاروں نے اس المیہ کو کامیابی سے بیان کیا ہے کہ جدید انسان شہر کی بھیڑ میں جتنا دوسروں کے قریب ہے، اپنی ذات کے اندر اتنا ہی اکیلا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں