یہ کیسا معاشرہ ہے؟ -علی عباس کاظمی

یہ بات بظاہر سادہ ہے مگر معنوی طور پر نہایت گہری کہ اگر کوئی معاشرہ واقعی عدل، توازن اور انسانی وقار کی بنیاد پر استوار ہو تو وہاں دعا محض ایک روحانی نسبت رہ جاتی ہے۔۔۔ ایک فریاد نہیں بنتی۔ ایسا معاشرہ جہاں قانون طاقتور کے ہاتھ کا کھلونا نہ ہو بلکہ کمزور کے لیے ڈھال ہو، جہاں فیصلے تعلق، دولت یا حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصول کے مطابق ہوں، جہاں کسی کو اس لیے دربدر نہ ہونا پڑے کہ اس کے پاس سفارش نہیں اور کسی کو اس لیے قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے کہ اس کے پاس طاقت ہے۔۔۔ وہاں انسان خدا سے کم مانگتا ہے، شاید اس لیے نہیں کہ وہ خدا کو بھول جاتا ہے بلکہ اس لیے کہ اس کے اردگرد کی دنیا اسے جینے کا حق دے رہی ہوتی ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشروں کی اکثریت اس مثالی تصویر سے کوسوں دور ہے۔ یہاں معاشرہ مجموعی طور پر نہیں چلتا، بلکہ چند مخصوص افراد یا طبقات کی مرضی سے “ہانکا” جاتا ہے۔ وسائلِ رزق، مواقع، اختیار اور طاقت چند ہاتھوں میں سمٹ آتے ہیں اور اکثریت محض تماشائی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں دعا عبادت سے نکل کر مجبوری بن جاتی ہے اور انسان خدا کو اس لیے پکارتا ہے کہ زمین پر اس کے لیے کوئی سننے والا باقی نہیں رہتا۔

ایک متوازن معاشرے میں انسان کی بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج اور تحفظ حکومت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہیں، خیرات یا احسان نہیں۔ وہاں کوئی شہری اس خوف میں مبتلا نہیں ہوتا کہ بیماری آ گئی تو علاج کہاں سے کرے گا یا اگر روزگار چھن گیا تو بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا۔ ایسے ماحول میں انسان خود کو بے سہارا محسوس نہیں کرتا اس کی خودی مجروح نہیں ہوتی اور وہ ہاتھ پھیلانے کے بجائے سر اٹھا کر جیتا ہے۔ خدا سے اس کا تعلق شکر کا ہوتا ہے۔۔۔ فریاد کا نہیں۔

اس کے برعکس جب معاشرے کی باگ ڈور چند طاقتور ہاتھوں میں آ جائے، جب قانون کی زبان دولت بولنے لگے، جب انصاف کے ترازو میں وزن برابر نہ رہے، تو پھر ہر گلی، ہر محلے اور ہر گھر میں ایک خاموش کرب جنم لیتا ہے۔ لوگ محنت تو کرتے ہیں مگر ثمر سے محروم رہتے ہیں۔ وسائل پیدا بھی ہوتے ہیں مگر ان پر قبضہ مخصوص طبقے کا ہوتا ہے۔ دولت گردش کے بجائے تجوریوں میں قید ہو جاتی ہے اور غریب کی غربت اس کی نسلوں تک منتقل ہو جاتی ہے۔

ایسے میں انسان خود کو ہر قدم پر محتاج محسوس کرتا ہے۔ کبھی کسی دفتر کے دروازے پر، کبھی عدالت کی سیڑھیوں پر، کبھی ہسپتال کی پرچی کے لیے اور کبھی بچوں کے اسکول کی فیس کے لیے۔ یہ محتاجی صرف معاشی نہیں ہوتی، یہ ذہنی اور نفسیاتی بھی ہوتی ہے۔ انسان آہستہ آہستہ یہ ماننے لگتا ہے کہ اس کی حیثیت ایک مکمل شہری کی نہیں بلکہ ایک درخواست گزار کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ خاموش ہو جاتا ہے اور دعا آنسو بن کر رب تک پہنچتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے معاشروں میں مذہب اور دعا کا استعمال بھی بدل جاتا ہے۔جب سب دروازے بند ہو جائیں تو دعا شکر نہیں رہتی ۔۔۔ بس آخری سہارا بن کر رہ جاتی ہے۔ لوگ انصاف کے لیے عدالت کے بجائے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں،روزگار کے لیے محنت اور منصوبہ بندی کی بجائے لوگ قسمت پر بھروسہ کرتے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی دعاؤں پر اکتفا کرتے ہیں۔یوں دعا عبادت سے زیادہ ایک سماجی فریاد لگتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ چند لوگ پورے معاشرے کے مقدر کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں؟ سماجی بگاڑ کی ایک جڑ کمزور شعور ہے اور دوسری اداروں کی ناکامی۔ جب ادارے مضبوط نہ ہوں، جب احتساب محض ایک نعرہ بن جائے اور جب عوام کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جائےتوطاقت کا خلا مستقل نہیں رہتا ہمیشہ کوئی نہ کوئی اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ خلا اکثر وہ لوگ بھرتے ہیں جن کا مفاد اجتماعی بھلائی سے زیادہ ذاتی فائدے سے جڑا ہوتا ہے۔

ایسے حالات میں خدا سے مانگنا ایک فطری ردِعمل بن جاتا ہے۔ جب انسان کو ہر دروازہ بند نظر آتا ہے تو وہ آخری دروازے پر دستک دیتا ہے۔ لیکن اصل المیہ یہ نہیں کہ لوگ دعا مانگتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وہ اس نظام کو بدلنے کی امید چھوڑ دیتے ہیں جس نے انہیں دعا پر مجبور کیا۔ دعا اگر عمل سے کٹ جائے تو وہ تقدیر پرستی کو جنم دیتی ہے اور تقدیر پرستی ظالم نظاموں کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے۔

ایک زندہ اور صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں خدا سے مانگنے کے ساتھ ساتھ انسان سے بھی سوال کیا جاتا ہے۔ جہاں حکمرانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وسائل کہاں گئے، فیصلے کس بنیاد پر ہوئے اور عوام کو ان کا حق کیوں نہیں ملا۔ وہاں دعا کے ساتھ جدوجہد بھی ہوتی ہے، عبادت کے ساتھ احتساب بھی اور ایمان کے ساتھ شعور بھی۔ یہی توازن معاشرے کو آگے بڑھاتا ہے۔

خدا سے مانگنا بذاتِ خود کوئی کمزوری نہیں، کمزوری تب بنتی ہے جب دعا کو اس ناانصافی کا متبادل بنا دیا جائے جسے انسان خود ختم کر سکتا ہے۔ اگر معاشرے میں انصاف قائم ہو، مواقع منصفانہ ہوں اور انسان کو اس کی محنت کا پورا پھل ملے، تو دعا ایک خوبصورت رشتہ رہتی ہے۔۔۔ ایک مجبوری نہیں۔

julia rana solicitors

سوال یہ نہیں کہ ہم خدا سے کیوں مانگتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہمیں خدا سے اتنا مانگنے پر مجبور کس نے کیا؟ اگر اس سوال کا جواب ہم ایمانداری سے تلاش کر لیں، تو شاید ہمیں اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے نظام کو بدلنے کا حوصلہ بھی مل جائے۔ کیونکہ وہ معاشرہ جو انسان کو انسان کے سامنے محتاج بنا دے، وہاں خدا سے مانگنا بڑھ جاتا ہے اور وہ معاشرہ جو انسان کو اس کا حق دے دے، وہاں دعا شکر میں بدل جاتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply