گول باغ کا منجمد اثاثہ/مقصود جعفری

وقت یہاں کبھی بھی مستطیل نہیں رہا۔ مگر یہ ایک دائرہ بھی نہیں ہے۔وقت گول باغ میں ایک شفاف جیلی کی شکل میں بہتا تھا۔ جب بھی کوئی شاعر یہاں سے اٹھ کر جاتا، وہ اپنے پیچھے وقت کا ایک قطرہ چھوڑ جاتا، اور وہ قطرہ ہوا میں منجمد ہو جاتا۔ شام ایک ٹھوس، سرمئی دھات کا بلاک ہے جسے مارکیٹ کی ہتھوڑیوں نے گول باغ کی پسلیوں پر دے مارا ہے۔آسمان پر 3.6 ایکڑ کا لیبل چسپاں ہے۔ لیکن روح تو مٹھی میں بند ریزہ ریزہ تخیل ہے۔اب پارک کی باؤنڈری کے قریب ہر صبح، دکاندار آتے ہیں اور ان منجمد قطروں کو ایک ریڑھی پر جمع کرتے ہیں۔ وہ انھیں سکنڈ ہینڈ سچ کہہ کر بیچ دیتے ہیں۔

یہاں ایک پرانا، تھکا ہوا بینچ ہے جو کئی ادبی بیٹھکوں کا گواہ ہے، یہ بولتا نہیں۔ یہ سنتا ہے۔ اس کے ریشوں میں وہ تمام قہقہے، وہ تمام تنقیدیں، اور وہ تمام مصرعے جم چکے ہیں جو خالد سعید اور لالا ممتاز اطہر کی آوازوں سے ٹوٹ کر گرے تھے۔ بینچ اب ایک فراموش شدہ ریکارڈ پلیئر ہے، جس کی سوئی کمرشل شور میں ٹوٹ چکی ہے۔ اب یہ ہر جمعہ کی شام کو خود بخود چار فٹ تک زمین سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ یہ تب تک معلق رہتا ہے جب تک خالد سعید کے کسی نثر پارے کا آخری لفظ دوبارہ فضا میں نہ گونجے، جسے لیاقت جعفری کی آواز نے کبھی جنم دیا تھا۔

ایک بیمار سی سفید روشنی اب پارک کو منور نہیں کرتی۔ یہ صرف اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ شاعر اور ادیب جو یہاں بیٹھتے تھے، وہ نہیں ہیں۔ ان کی جگہ ایک بڑے سائز کا، چمکتا ہوا سائن بورڈ آویزاں ہے۔روشنی پوچھتی ہے۔کیا میں سچ کو چھپا سکتی ہوں؟
تاریکی جواب دیتی ہے۔ نہیں، تم صرف سچ کو سستا بنا سکتی ہو۔

اب نئی نسل یہاں آتی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں موبائل ہے۔ وہ سکرین پر تیز رفتار سڑکیں دیکھتے ہیں، حالانکہ وہ ایک باغ میں بیٹھے ہیں اور ان کے کانوں میں بغیر آواز کا میوزک چل رہا ہے۔ گول باغ کی مٹی اب مٹی نہیں رہی۔ یہ ایک نرم پاؤں کی یاد ہے۔ ایک دلیل کی آواز جو گھاس پر بچھ جاتی تھی اور جس پر مقبول گیلانی اور عبدالستار تھہیم کی گال مہاڑ چہل قدمی کرتی تھی۔

باغ کی مٹی میں اب بھی ادیبوں کی پرانی بحثیں اور قہقہے دبے ہوئے ہیں۔ جب رات کو خاموشی چھا جاتی ہے، تو مٹی کی تہہ سے باریک، کانپتی سرگوشیوں کی آوازیں آتی ہیں — یہ وہی دلیلیں ہیں جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی تھیں۔اور جن کوعامر سہیل اورمبشر مہدی نے یونہی بکھرا چھوڑ دیا کہ اسی میں حسن ہے
گول باغ کا درخت، جوکبھی سایہ دیتا تھا، اب یہ درخت پتوں کی جگہ زرد پڑ چکے کاغذ کے ٹکڑے اگاتا ہے۔ یہ وہ مسترد شدہ مسودے اور ادھورے خیالات ہیں جو نیئر مصطفیٰ، مدھر ملک اور قاضی علی نے یہاں بیٹھ کر لکھے تھے۔ جب ہوا چلتی ہے، تو یہ کاغذ ٹکراتے ہیں تو ٹائپ رائٹر کی مدھم آواز پیدا ہوتی ہے۔اور جس کے عقب میں عاقب سعید اور عدنان صہیب نظموں کے لاڈ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔یہ درخت اب اپنی جڑوں میں کاروباری قبضے کی آہٹ سن رہا ہے۔مگر جڑیں زمینی پرتوں میں مزید نیچے جا رہی ہیں۔ وہ فرار نہیں ہو رہیں،بلکہ وہ گہری جا کر تاریخ کو تھام رہی ہیں۔

جس جگہ خالد سعید بیٹھتے تھے، وہاں کی مٹی میں ایک چھوٹا سا دائرہ بن گیا ہے جو کبھی گیلا نہیں ہوتا، یہاں تک کہ تیز بارش میں بھی نہیں۔ یہ دائرہ دراصل خالد سعید کا مجسم، منجمد سکوت ہے جو اب بھی اس جگہ کو تھامے ہوئے ہے۔
دکانوں کے دروازوں سے روزانہ پیسوں کی تیز، مرغولہ دار خوشبو نکلتی ہے، جو پارک کے اندر آ کر آکسیجن کے ساتھ مکس ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً، نئی نسل کے جو بچے یہاں آتے ہیں، انہیں عام سانس لینے کے لیے بھی ایک آن لائن خریداری کا خیال اپنے ذہن میں لانا پڑتا ہے۔پارک کی سرحدیں لچکدار ہیں۔ وہ صبح سکڑتی ہیں جب دکانوں کا سامان باہر نکل آتا ہے۔ وہ رات کو پھیلتی ہیں جب دکاندار تالا لگاتے ہیں۔ گول باغ سانس لینے کی کوشش میں اپنا سینہ پھلاتا اور سکیڑتا ہے۔ ہر سانس کے ساتھ وہ ایک شعر کھو دیتا ہے، اور ایک کریانے کی رسید پا لیتا ہے۔گول باغ کا سکڑنا کوئی جغرافیائی عمل نہیں ہے۔ یہ ایک حسیاتی انقباض ہے۔

منور آکاش، ساحر شفیق اور میری محفل والی خالی جگہ اب ایک شفاف خلا بن چکی ہے۔اگر کوئی شخص اس خلا کے بیچوں بیچ کھڑا ہو جائے اور آنکھیں بند کر لے، تو وہ دو مختلف وقتوں میں بیک وقت موجود ہوگا۔ اس کا جسم شور مچاتی مارکیٹ میں ہوگا، لیکن اس کا سایہ 2009ء کی دہکتی شام میں، ایک بھرپور، علمی بحث میں شریک ہوگا۔

اسی گول باغ میں شوزب کاظمی نے ماچس کو سلگانی کا نام دیا اور یہیں میں نے گول باغنا کو دریافت کیا جس کا مطلب تھا، تنہائی میں بیٹھ کر پرانی شاعری اور میوزک سننا جو تجارتی ٹریفک کے ہارن میں دبی ہوئی ہو اور ایک ایسے شہر کی روح کو محسوس کرنا جو اپنی ثقافت کو پیسوں کے بدلے فروخت کر چکا ہو
میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ گول باغ اب ایک پارک نہیں، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ دوبارہ کبھی کسی پرانے دوست سے نہیں مل سکتے، کیونکہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ دونوں کس ساعت کے سکڑاؤ میں موجود ہیں۔گول باغ اب ٹھٹھرا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے زبردستی اختصار دے دیا گیا ہو۔ اسی گول باغ کے اندر بیٹھ کر، میں نے باہر کی دنیا کو دیکھا۔ باہر کی دنیا ایک بیضوی جھگڑا تھی، جس کے گرد بڑے بڑے شاپنگ بیگز گول گھوم رہے تھے۔

اورمیں نے سمجھ لیا کہ گول باغ اب نام نہیں، یہ ایک فعل (Verb) ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply