ہم نے تمام عمر سرکاری ملازمت کی ہے، اور ریٹائر ہونے کے بعد شکر الحمد للّہ کہا ، کیونکہ ایسی نوکری جس کے اختتام پہ کم یا زیادہ مستقل ماہانہ پنشن ملتی ہے، اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جبکہ نجی نوکری میں تنخواہ کتنی بھی پر کشش ہو، فراغت کے بعد آمدنی صفر ہو جاتی ہے، صرف پس انداز کی گئی رقم سے یا کسی سرمایہ کاری سےگزر بسر کی جاتی ہے، اس تناظر میں پنشن بھی نادر روزگار سے کم نہیں ہوتی ۔ ایسی نوکری یقیناً قسمت والوں کو ملتی ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ خیال کچوکے ضرورمارتا ہے کہ بد قسمتی سے سرکاری ملازمتوں میں آپ کو نہ چاہتے ہوۓ بھی صاحبان کے آگے جی حضوری کرنا پڑتی ہے۔ دفاتر میں عام طور پر فضا ایسی ہوتی ہے کہ جہاں آپ نے سینئرز کی کسی بات سے اختلاف کیا فورآ اے سی آر ( سالانہ خفیہ رپورٹ) کی ڈائری کے اوراق میں منفی تاثرات کا اندراج ہوجاتا ہے اور سالانہ کارکردگی رپورٹ میں منفی ریمارکس درج ہو جائیں تو سمجھو پروموشن گئی اور کبھی نوکری بھی ۔ لہذا بیشتر ماتحت اپنی بہتر ساکھ کی خاطر اپنے سینئرز کے دل میں گھر پیدا کرنے کے لئے انکی ابروء چشم کے اشارے کے منتظررہ کر ہمہ وقت ایسی خدمآت سر انجام دینے کے لئے میاں مٹھو بنے رہتے ہیں، جن کا ملازمت کی شرائط و قواعد میں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
ملازمت پوری ہونے تک، جی سر، یس سر، اور صاحب جی کہتے کہتے ہماری عمر بیت جاتی ہے۔ کوئی سر سر کی رٹ لگائے یا سرسری طور سر کہے عام طور پر اس کا تعلق ادب و احترام سے نہیں ہوتا۔ بلکہ سر کو سر نہ کہنے پر، پر ضرور جلتے ہیں۔ کچھ افسران اپنے جونئرز کو تنبیہ کرتے ہیں کہ انہیں سر نہ پکارا جاۓ۔ اس کے باوجو وہ سرسر کی تکرار سے سر کا سر کھاتے ہیں ہمارے کسی کسی سینئرز میں بھی خود کو سر کہلوانے کا خا صا شوق ہوتا ہے۔ ان کے سر اور گردن میں اس وقت تناؤ آ جاتا ہے، جب کوئی انکے سامنے سر، سر کی گردان کر رہا ہو۔ سر کہلوانے کا اپنا ایک مزا ہوتا ہے۔ مطیع اہلکاروں کا افسران بالا کو سر کہنا منہ میں گھلتی رس ملائی سے کہیں زیادہ، کانوں میں رس گھولتا ہے۔ کسی زیردست کی کیا مجال کہ حکم حاکم کی سرتابی کرے یا سرا سر اپنے سر کی سر بلندی کو فراموش کر بیٹھے اور سر کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنے کی جسارت کرے۔ ورنہ آپکا سر ہوتا ہے اور آپکے سر کا قلم۔ کسی کو سرکہنا اپنے دل کو مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اپنی کم مائیگی کا اظہار ہوتا ہے۔ بظاہر سر کا لفظ انگریزوں کی روائت کے طور پر کسی کی تکریم میں بولا جاتا ہے لیکن انگریزی زبان میں اکثر اس لفظ کو اپنے سے سینئر افسران کی اطاعت گزاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم کے لئے اگر اردو میں جناب عالی، معزز و محترم، صاحب ذی وقار کہہ کر التماس کیا جائے تو اردو زبان کی چاشنی سے، کہنے والے کے منہ میں بھی حلاوت محسوس ہوگی اورسننے والا بھی دل ہی دل میں مسرور ہو کر کہے گا کہ تمہارے منہ میں گھی شکر۔
یہاں ایک معصومانہ خیال نے ہمیں درد و فسوں کی فضا سے نکال کر سکھ چین کی بانسری بجانے کی طرف راغب کر دیا۔ ہمیں بانسری کی دھنوں میں فورا ایک ایسا سر سنائی دیا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ ” اے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ ہم نے اپنے بارے میں سوچا کہ ” اے جناب آپ بھی تو صاحب ہی کہلاتے ہیں، کیونکہ آپ کے بیٹے آپ کے صاحبزادے ہوتے ہیں، اس طرح وہ صاحب کے یعنی ہمارے فرزند نیک ارجمند ہیں”. جی ! صحیح کہا لغوی اعتبار سے صاحبزادہ صاحب کا بیٹا ہوتا ہے، اس طرح ہم بھی کسی نہ کسی طور صاحب ٹہرے۔ جیسے شہزادہ، برخورداربادشاہ کا، سید زادہ، بیٹا سید باپ کا اور نوابزادہ ، فرزند نواب کا۔
فی الحقیقت ہمیں اپنے صاحب ہونے پر ہرگز فخر نہیں۔ اصل قابل مسرت بات یہ ہے کہ میرا صاحبزادہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے تعلق سے اپنی ہمشیرگان کی محبتوں کا اسیر اور والدین کی خدمت گزاری کا سفیر ہے۔ وہ، ” بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ” کی مصداق قطر میں کود پڑا آتش گرما میں عشق، قطر چلا گیا۔ اولاد، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کو سکھ دینے والی نعمت ہوتی ہے۔ ان کی قدر و قیمت وہ سب سے زیادہ جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور حکمت ہے کہ جس کو چاہے بیٹے عطا کرے، جس کو بیٹیوں کی رحمت سی متمتع کرے، جسے چاہے بیٹوں اور بیٹیوں سے مالا مال کرے اور جسے بالکل اولاد سے محروم رکھے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں اور ہم پہ لازم ہے کہ ہم اللہ کی منشاء و مرضی کو خندہ پیشانی سے قبول کریں اور ہرگز آزردہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ نہیں معلوم رب کائنات دنیا میں بے اولاد رہنے والوں کو آخرت میں اہل اولاد کے مقابلے میں کیسی کیسی نعمتوں اور آسائشات سے ہم کنارکرے۔ بیٹے بھی اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اور بیٹیاں بھی۔ تاہم دنیا میں ان کے اچھے کردار اور اعمال سے انکی توقیر و عزت ہوتی ہے جبکہ بدسلوکی و بگاڑ سے انکی بری شہرت و نا لائقی کا ڈھنڈورا پٹتا ہے۔ ایسے والدین خوش نصیب سمجھے جاتے ہیں جن کے گھروں میں بیٹیاں ماں باپ کی راحت و آسائش کا سامان پیدا کرتی ہیں، اچھی تعلیم سے آراستہ ہو کر خوبیوں اور سلیقہ مندی کے ساتھ گھرکو خوشیوں اور مسرتوں کی آماجگاہ بناتی ہیں وہ ماں باپ کے ہر حکم کو بسر و چشم بجا لاتی ہیں اور ان کی خدمت کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر بازی لے جانے کی سعی کرتی ہیں۔ والدین انکے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے جتنے فکرمند ہوتے ہیں یہ اتنی ہی سعادت مندی اور محبت کی دلکش شالیں اوڑھے نظروں کے سامنے گھومتی نظر آتی ہیں۔ رہی بات بیٹوں کی تو ان پر والدین کا ذیادہ انحصار ہوتا ہے۔ بیٹے جوان ہو کر اپنے والدین کا سہارا بنتے ہیں، انکی بیماریوں کے علاج اور بڑھاپے کی تکلیفوں کو کم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹربن کرعلاج معالجے کی سہولت دیتا ہے کوئی انجینئرنگ کرکے اپنے وسائل آمدن کو ان کے قدموں میں نچھاور کرتا ہے ، اور کوئی باہر ملازمت حاصل کرکے والدین کے گھرکو سکون بخش اور امیدوں کے نورمحل اور تاج محل بنانے میں کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ یہ بچوں کی سعادت مندی ہوتی ہے جنہیں دیکھ کر ہرباپ کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس بیٹے نا خلف اور بگڑے نواب نکل آئیں تو ماسواۓ ٹھنڈی آہیں بھرنے کے کچھ نہیں بچ پاتا۔ اگر کوئی اس بات کو مبالغہ آرائی پہ محمول نہ کرے تو عرض کروں کہ ماشاء اللہ ہمارے صاحبزادے ہمیں خوش و خرم رکھنے کے لئے ایسے جتن کرتے ہیں کہ انکے لئے دل و جان سے دعائیں نکلتی ہیں۔ سارا گھر ان کی خدمات پر یوں شاداں و فرحاں ہوتا ہے جیسے ہمارا ماہر کرکٹر صاحبزادہ فرحان اپنے چھکوں، چوکوں کے ذریعے اسٹیڈیم میں موجود سب شائقین کا دل جیت لیتا ہے۔ اللہ ان دونوں صاحبزادوں کو سلامت رکھے۔ جن کے دم سے فکر و غم کے اس دور میں مسکراہٹوں کے پھول کھلتے ہیں۔۔
عنوان :- “صاحب، صاحب زادہ اور فرزند نیک ارجمند “.
تحریر:- محمد کوکب جمیل ہاشمی ۔
ہم نے تمام عمر سرکاری ملازمت کی ہے، اور ریٹائر ہونے کے بعد شکر الحمد للّہ کہا ، کیونکہ ایسی نوکری جس کے اختتام پہ کم یا زیادہ مستقل ماہانہ پنشن ملتی ہے، اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جبکہ نجی نوکری میں تنخواہ کتنی بھی پر کشش ہو، فراغت کے بعد آمدنی صفر ہو جاتی ہے، صرف پس انداز کی گئی رقم سے یا کسی سرمایہ کاری سےگزر بسر کی جاتی ہے، اس تناظر میں پنشن بھی نادر روزگار سے کم نہیں ہوتی ۔ ایسی نوکری یقیناً قسمت والوں کو ملتی ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ خیال کچوکے ضرورمارتا ہے کہ بد قسمتی سے سرکاری ملازمتوں میں آپ کو نہ چاہتے ہوۓ بھی صاحبان کے آگے جی حضوری کرنا پڑتی ہے۔ دفاتر میں عام طور پر فضا ایسی ہوتی ہے کہ جہاں آپ نے سینئرز کی کسی بات سے اختلاف کیا فورآ اے سی آر ( سالانہ خفیہ رپورٹ) کی ڈائری کے اوراق میں منفی تاثرات کا اندراج ہوجاتا ہے اور سالانہ کارکردگی رپورٹ میں منفی ریمارکس درج ہو جائیں تو سمجھو پروموشن گئی اور کبھی نوکری بھی ۔ لہذا بیشتر ماتحت اپنی بہتر ساکھ کی خاطر اپنے سینئرز کے دل میں گھر پیدا کرنے کے لئے انکی ابروء چشم کے اشارے کے منتظررہ کر ہمہ وقت ایسی خدمآت سر انجام دینے کے لئے میاں مٹھو بنے رہتے ہیں، جن کا ملازمت کی شرائط و قواعد میں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
ملازمت پوری ہونے تک، جی سر، یس سر، اور صاحب جی کہتے کہتے ہماری عمر بیت جاتی ہے۔ کوئی سر سر کی رٹ لگائے یا سرسری طور سر کہے عام طور پر اس کا تعلق ادب و احترام سے نہیں ہوتا۔ بلکہ سر کو سر نہ کہنے پر، پر ضرور جلتے ہیں۔ کچھ افسران اپنے جونئرز کو تنبیہ کرتے ہیں کہ انہیں سر نہ پکارا جاۓ۔ اس کے باوجو وہ سرسر کی تکرار سے سر کا سر کھاتے ہیں ہمارے کسی کسی سینئرز میں بھی خود کو سر کہلوانے کا خا صا شوق ہوتا ہے۔ ان کے سر اور گردن میں اس وقت تناؤ آ جاتا ہے، جب کوئی انکے سامنے سر، سر کی گردان کر رہا ہو۔ سر کہلوانے کا اپنا ایک مزا ہوتا ہے۔ مطیع اہلکاروں کا افسران بالا کو سر کہنا منہ میں گھلتی رس ملائی سے کہیں زیادہ، کانوں میں رس گھولتا ہے۔ کسی زیردست کی کیا مجال کہ حکم حاکم کی سرتابی کرے یا سرا سر اپنے سر کی سر بلندی کو فراموش کر بیٹھے اور سر کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنے کی جسارت کرے۔ ورنہ آپکا سر ہوتا ہے اور آپکے سر کا قلم۔ کسی کو سرکہنا اپنے دل کو مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اپنی کم مائیگی کا اظہار ہوتا ہے۔ بظاہر سر کا لفظ انگریزوں کی روائت کے طور پر کسی کی تکریم میں بولا جاتا ہے لیکن انگریزی زبان میں اکثر اس لفظ کو اپنے سے سینئر افسران کی اطاعت گزاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم کے لئے اگر اردو میں جناب عالی، معزز و محترم، صاحب ذی وقار کہہ کر التماس کیا جائے تو اردو زبان کی چاشنی سے، کہنے والے کے منہ میں بھی حلاوت محسوس ہوگی اورسننے والا بھی دل ہی دل میں مسرور ہو کر کہے گا کہ تمہارے منہ میں گھی شکر۔
یہاں ایک معصومانہ خیال نے ہمیں درد و فسوں کی فضا سے نکال کر سکھ چین کی بانسری بجانے کی طرف راغب کر دیا۔ ہمیں بانسری کی دھنوں میں فورا ایک ایسا سر سنائی دیا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ ” اے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ ہم نے اپنے بارے میں سوچا کہ ” اے جناب آپ بھی تو صاحب ہی کہلاتے ہیں، کیونکہ آپ کے بیٹے آپ کے صاحبزادے ہوتے ہیں، اس طرح وہ صاحب کے یعنی ہمارے فرزند نیک ارجمند ہیں”. جی ! صحیح کہا لغوی اعتبار سے صاحبزادہ صاحب کا بیٹا ہوتا ہے، اس طرح ہم بھی کسی نہ کسی طور صاحب ٹہرے۔ جیسے شہزادہ، برخورداربادشاہ کا، سید زادہ، بیٹا سید باپ کا اور نوابزادہ ، فرزند نواب کا۔
فی الحقیقت ہمیں اپنے صاحب ہونے پر ہرگز فخر نہیں۔ اصل قابل مسرت بات یہ ہے کہ میرا صاحبزادہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے تعلق سے اپنی ہمشیرگان کی محبتوں کا اسیر اور والدین کی خدمت گزاری کا سفیر ہے۔ وہ، ” بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ” کی مصداق قطر میں کود پڑا آتش گرما میں عشق، قطر چلا گیا۔ اولاد، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کو سکھ دینے والی نعمت ہوتی ہے۔ ان کی قدر و قیمت وہ سب سے زیادہ جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور حکمت ہے کہ جس کو چاہے بیٹے عطا کرے، جس کو بیٹیوں کی رحمت سی متمتع کرے، جسے چاہے بیٹوں اور بیٹیوں سے مالا مال کرے اور جسے بالکل اولاد سے محروم رکھے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں اور ہم پہ لازم ہے کہ ہم اللہ کی منشاء و مرضی کو خندہ پیشانی سے قبول کریں اور ہرگز آزردہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ نہیں معلوم رب کائنات دنیا میں بے اولاد رہنے والوں کو آخرت میں اہل اولاد کے مقابلے میں کیسی کیسی نعمتوں اور آسائشات سے ہم کنارکرے۔ بیٹے بھی اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اور بیٹیاں بھی۔ تاہم دنیا میں ان کے اچھے کردار اور اعمال سے انکی توقیر و عزت ہوتی ہے جبکہ بدسلوکی و بگاڑ سے انکی بری شہرت و نا لائقی کا ڈھنڈورا پٹتا ہے۔ ایسے والدین خوش نصیب سمجھے جاتے ہیں جن کے گھروں میں بیٹیاں ماں باپ کی راحت و آسائش کا سامان پیدا کرتی ہیں، اچھی تعلیم سے آراستہ ہو کر خوبیوں اور سلیقہ مندی کے ساتھ گھرکو خوشیوں اور مسرتوں کی آماجگاہ بناتی ہیں وہ ماں باپ کے ہر حکم کو بسر و چشم بجا لاتی ہیں اور ان کی خدمت کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر بازی لے جانے کی سعی کرتی ہیں۔ والدین انکے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے جتنے فکرمند ہوتے ہیں یہ اتنی ہی سعادت مندی اور محبت کی دلکش شالیں اوڑھے نظروں کے سامنے گھومتی نظر آتی ہیں۔ رہی بات بیٹوں کی تو ان پر والدین کا ذیادہ انحصار ہوتا ہے۔ بیٹے جوان ہو کر اپنے والدین کا سہارا بنتے ہیں، انکی بیماریوں کے علاج اور بڑھاپے کی تکلیفوں کو کم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹربن کرعلاج معالجے کی سہولت دیتا ہے کوئی انجینئرنگ کرکے اپنے وسائل آمدن کو ان کے قدموں میں نچھاور کرتا ہے ، اور کوئی باہر ملازمت حاصل کرکے والدین کے گھرکو سکون بخش اور امیدوں کے نورمحل اور تاج محل بنانے میں کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ یہ بچوں کی سعادت مندی ہوتی ہے جنہیں دیکھ کر ہرباپ کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس بیٹے نا خلف اور بگڑے نواب نکل آئیں تو ماسواۓ ٹھنڈی آہیں بھرنے کے کچھ نہیں بچ پاتا۔ اگر کوئی اس بات کو مبالغہ آرائی پہ محمول نہ کرے تو عرض کروں کہ ماشاء اللہ ہمارے صاحبزادے ہمیں خوش و خرم رکھنے کے لئے ایسے جتن کرتے ہیں کہ انکے لئے دل و جان سے دعائیں نکلتی ہیں۔ سارا گھر ان کی خدمات پر یوں شاداں و فرحاں ہوتا ہے جیسے ہمارا ماہر کرکٹر صاحبزادہ فرحان اپنے چھکوں، چوکوں کے ذریعے اسٹیڈیم میں موجود سب شائقین کا دل جیت لیتا ہے۔ اللہ ان دونوں صاحبزادوں کو سلامت رکھے۔ جن کے دم سے فکر و غم کے اس دور میں مسکراہٹوں کے پھول کھلتے ہیں۔۔
عنوان :- “صاحب، صاحب زادہ اور فرزند نیک ارجمند “.
تحریر:- محمد کوکب جمیل ہاشمی ۔
ہم نے تمام عمر سرکاری ملازمت کی ہے، اور ریٹائر ہونے کے بعد شکر الحمد للّہ کہا ، کیونکہ ایسی نوکری جس کے اختتام پہ کم یا زیادہ مستقل ماہانہ پنشن ملتی ہے، اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔ جبکہ نجی نوکری میں تنخواہ کتنی بھی پر کشش ہو، فراغت کے بعد آمدنی صفر ہو جاتی ہے، صرف پس انداز کی گئی رقم سے یا کسی سرمایہ کاری سےگزر بسر کی جاتی ہے، اس تناظر میں پنشن بھی نادر روزگار سے کم نہیں ہوتی ۔ ایسی نوکری یقیناً قسمت والوں کو ملتی ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ خیال کچوکے ضرورمارتا ہے کہ بد قسمتی سے سرکاری ملازمتوں میں آپ کو نہ چاہتے ہوۓ بھی صاحبان کے آگے جی حضوری کرنا پڑتی ہے۔ دفاتر میں عام طور پر فضا ایسی ہوتی ہے کہ جہاں آپ نے سینئرز کی کسی بات سے اختلاف کیا فورآ اے سی آر ( سالانہ خفیہ رپورٹ) کی ڈائری کے اوراق میں منفی تاثرات کا اندراج ہوجاتا ہے اور سالانہ کارکردگی رپورٹ میں منفی ریمارکس درج ہو جائیں تو سمجھو پروموشن گئی اور کبھی نوکری بھی ۔ لہذا بیشتر ماتحت اپنی بہتر ساکھ کی خاطر اپنے سینئرز کے دل میں گھر پیدا کرنے کے لئے انکی ابروء چشم کے اشارے کے منتظررہ کر ہمہ وقت ایسی خدمآت سر انجام دینے کے لئے میاں مٹھو بنے رہتے ہیں، جن کا ملازمت کی شرائط و قواعد میں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
ملازمت پوری ہونے تک، جی سر، یس سر، اور صاحب جی کہتے کہتے ہماری عمر بیت جاتی ہے۔ کوئی سر سر کی رٹ لگائے یا سرسری طور سر کہے عام طور پر اس کا تعلق ادب و احترام سے نہیں ہوتا۔ بلکہ سر کو سر نہ کہنے پر، پر ضرور جلتے ہیں۔ کچھ افسران اپنے جونئرز کو تنبیہ کرتے ہیں کہ انہیں سر نہ پکارا جاۓ۔ اس کے باوجو وہ سرسر کی تکرار سے سر کا سر کھاتے ہیں ہمارے کسی کسی سینئرز میں بھی خود کو سر کہلوانے کا خا صا شوق ہوتا ہے۔ ان کے سر اور گردن میں اس وقت تناؤ آ جاتا ہے، جب کوئی انکے سامنے سر، سر کی گردان کر رہا ہو۔ سر کہلوانے کا اپنا ایک مزا ہوتا ہے۔ مطیع اہلکاروں کا افسران بالا کو سر کہنا منہ میں گھلتی رس ملائی سے کہیں زیادہ، کانوں میں رس گھولتا ہے۔ کسی زیردست کی کیا مجال کہ حکم حاکم کی سرتابی کرے یا سرا سر اپنے سر کی سر بلندی کو فراموش کر بیٹھے اور سر کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنے کی جسارت کرے۔ ورنہ آپکا سر ہوتا ہے اور آپکے سر کا قلم۔ کسی کو سرکہنا اپنے دل کو مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اپنی کم مائیگی کا اظہار ہوتا ہے۔ بظاہر سر کا لفظ انگریزوں کی روائت کے طور پر کسی کی تکریم میں بولا جاتا ہے لیکن انگریزی زبان میں اکثر اس لفظ کو اپنے سے سینئر افسران کی اطاعت گزاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم کے لئے اگر اردو میں جناب عالی، معزز و محترم، صاحب ذی وقار کہہ کر التماس کیا جائے تو اردو زبان کی چاشنی سے، کہنے والے کے منہ میں بھی حلاوت محسوس ہوگی اورسننے والا بھی دل ہی دل میں مسرور ہو کر کہے گا کہ تمہارے منہ میں گھی شکر۔
یہاں ایک معصومانہ خیال نے ہمیں درد و فسوں کی فضا سے نکال کر سکھ چین کی بانسری بجانے کی طرف راغب کر دیا۔ ہمیں بانسری کی دھنوں میں فورا ایک ایسا سر سنائی دیا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ ” اے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ ہم نے اپنے بارے میں سوچا کہ ” اے جناب آپ بھی تو صاحب ہی کہلاتے ہیں، کیونکہ آپ کے بیٹے آپ کے صاحبزادے ہوتے ہیں، اس طرح وہ صاحب کے یعنی ہمارے فرزند نیک ارجمند ہیں”. جی ! صحیح کہا لغوی اعتبار سے صاحبزادہ صاحب کا بیٹا ہوتا ہے، اس طرح ہم بھی کسی نہ کسی طور صاحب ٹہرے۔ جیسے شہزادہ، برخورداربادشاہ کا، سید زادہ، بیٹا سید باپ کا اور نوابزادہ ، فرزند نواب کا۔
فی الحقیقت ہمیں اپنے صاحب ہونے پر ہرگز فخر نہیں۔ اصل قابل مسرت بات یہ ہے کہ میرا صاحبزادہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے تعلق سے اپنی ہمشیرگان کی محبتوں کا اسیر اور والدین کی خدمت گزاری کا سفیر ہے۔ وہ، ” بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ” کی مصداق قطر میں کود پڑا آتش گرما میں عشق، قطر چلا گیا۔ اولاد، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کو سکھ دینے والی نعمت ہوتی ہے۔ ان کی قدر و قیمت وہ سب سے زیادہ جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور حکمت ہے کہ جس کو چاہے بیٹے عطا کرے، جس کو بیٹیوں کی رحمت سی متمتع کرے، جسے چاہے بیٹوں اور بیٹیوں سے مالا مال کرے اور جسے بالکل اولاد سے محروم رکھے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں اور ہم پہ لازم ہے کہ ہم اللہ کی منشاء و مرضی کو خندہ پیشانی سے قبول کریں اور ہرگز آزردہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ نہیں معلوم رب کائنات دنیا میں بے اولاد رہنے والوں کو آخرت میں اہل اولاد کے مقابلے میں کیسی کیسی نعمتوں اور آسائشات سے ہم کنارکرے۔ بیٹے بھی اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اور بیٹیاں بھی۔ تاہم دنیا میں ان کے اچھے کردار اور اعمال سے انکی توقیر و عزت ہوتی ہے جبکہ بدسلوکی و بگاڑ سے انکی بری شہرت و نا لائقی کا ڈھنڈورا پٹتا ہے۔ ایسے والدین خوش نصیب سمجھے جاتے ہیں جن کے گھروں میں بیٹیاں ماں باپ کی راحت و آسائش کا سامان پیدا کرتی ہیں، اچھی تعلیم سے آراستہ ہو کر خوبیوں اور سلیقہ مندی کے ساتھ گھرکو خوشیوں اور مسرتوں کی آماجگاہ بناتی ہیں وہ ماں باپ کے ہر حکم کو بسر و چشم بجا لاتی ہیں اور ان کی خدمت کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر بازی لے جانے کی سعی کرتی ہیں۔ والدین انکے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے جتنے فکرمند ہوتے ہیں یہ اتنی ہی سعادت مندی اور محبت کی دلکش شالیں اوڑھے نظروں کے سامنے گھومتی نظر آتی ہیں۔ رہی بات بیٹوں کی تو ان پر والدین کا ذیادہ انحصار ہوتا ہے۔ بیٹے جوان ہو کر اپنے والدین کا سہارا بنتے ہیں، انکی بیماریوں کے علاج اور بڑھاپے کی تکلیفوں کو کم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹربن کرعلاج معالجے کی سہولت دیتا ہے کوئی انجینئرنگ کرکے اپنے وسائل آمدن کو ان کے قدموں میں نچھاور کرتا ہے ، اور کوئی باہر ملازمت حاصل کرکے والدین کے گھرکو سکون بخش اور امیدوں کے نورمحل اور تاج محل بنانے میں کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ یہ بچوں کی سعادت مندی ہوتی ہے جنہیں دیکھ کر ہرباپ کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس بیٹے نا خلف اور بگڑے نواب نکل آئیں تو ماسواۓ ٹھنڈی آہیں بھرنے کے کچھ نہیں بچ پاتا۔ اگر کوئی اس بات کو مبالغہ آرائی پہ محمول نہ کرے تو عرض کروں کہ ماشاء اللہ ہمارے صاحبزادے ہمیں خوش و خرم رکھنے کے لئے ایسے جتن کرتے ہیں کہ انکے لئے دل و جان سے دعائیں نکلتی ہیں۔ سارا گھر ان کی خدمات پر یوں شاداں و فرحاں ہوتا ہے جیسے ہمارا ماہر کرکٹر صاحبزادہ فرحان اپنے چھکوں، چوکوں کے ذریعے اسٹیڈیم میں موجود سب شائقین کا دل جیت لیتا ہے۔ اللہ ان دونوں صاحبزادوں کو سلامت رکھے۔ جن کے دم سے فکر و غم کے اس دور میں مسکراہٹوں کے پھول کھلتے ہیں۔۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں