کھنڈروں کا تاجر …..(افسانہ)۔۔۔۔۔صادقہ نصیر

  گارسیا ایک چھوٹے قد کا خوب صورت اور سلجھا ہوا جوان تھا ۔  جب  کولمبیا  یونیورسٹی سے ہسٹری میں ڈگری یافتہ ہوا تو فوراََ ہی اسے آرکیالوجی کے محکمہ میں جاب مل گئی ۔  اس کے لئے یہ ایک سنہری موقع تھا ۔ غربت اور بے روزگاری کا تحفہ لے کر پیدا ہوا تھا ۔ جیسے ہی اس کو تعیناتی کا پروانہ ملا وہ میکسیکو چلا آیا ۔ وہاں اس نے کینکون شہر کے فائیو سٹار ریزورٹ کے قریب رہائش اختیار کر لی ۔  مایا تہذیب کے کھنڈرات کینکون سے تین گھنٹے کی مسافت پر تھے لیکن گارسیا کے لئے کینکون میں ہی رہائش رکھنا فائدہ مند تھا ۔ یہاں لاتعداد بڑے بڑے ریزورٹ تھے جہاں اسے روزانہ کی بنیاد پر سیاح مل جاتے  ۔ گارسیا ہوشیار تھا اس لئے ٹورسٹ بس چلانے کے  بجائےاپنی پرائیوٹ وین پر ان لوگوں کے لئے کشش تھا جو زیادہ رقم خرچ کرکے اپنی فیملیوں کے ساتھ مکمل آزادی سے کھنڈرات دیکھنا چاہتے تھے ۔  ہوٹل کی جانب سے اس نے ایک دو لازمی کورسز بھی کر لئے اور باقاعدہ طور پر لائسینس یافتہ ٹورسٹ گائڈ بن گیا گیا ۔  

کینکون سے تین گھنٹے کی مسافت پر میکسیو کے علاقے چیچن کی تین ہزار سال قدیمی مایا  تہذیب کے کھنڈرات  دنیا بھر کے خاص طور پر قطب شمالی اور یورپ کے یخ بستہ ملکوں کے نوجوان طالبعلم ، بے فکر نوجوان جوڑے اور خوشحال  خاندان اور برفوں میں سارا سال گزار کر سرد موسم کی بیزاری دور کرنے والے اور  ویکیشن کے شوقین لوگوں کے لئے کشش رکھتی تھی ۔ اور ان کھنڈروں میں سیاحوں کو لے جانا ، گھمانا اور قدیم تہذیب کی تاریخ کے ان گھپ اندھیروں میں اپنے علم کی شمع کے ساتھ روشنی ڈالنے کے لئے خوب بولنا گارسیا کے لئے رزق کا سامان تھا ۔ گارسیا کی مانگ اس لئے بھی زیادہ تھی کہ اس کو انگریزی زبان پر بھی عبور تھا اور ہسٹری اور آرکیالوجی کے علاوہ وہ پرائیوٹ سیاح فیملیوں کی نفسیات ، معاشرت اور اقدار کو بھی ایک نظر میں بھانپ لیتا ۔  وہ لاطینی ہسپانوی اور فرنچ بھی جانتا تھا ۔ عام لاطینی مردوں کے برعکس خوش جمال اور خوش خصال بھی تھا ۔ لیکن مزاجاََ سنجیدہ سوچ کا مالک تھا جو اس کی پیشہ ورانہ ساکھ میں اضافہ کرتی ۔ 

فیملیوں کے بچوں ، بوڑھوں اور جوان مردوں عورتوں کے مزاج اور ضروریات کو ریزورٹ سے لیتے وقت ہی جانچ لیتا ۔ ہر ایک کی صحت ، معذوری اور آپس کے رشتوں کا علم لے کرچلتا ۔ اور پھر وہ اس خاندان کے چہروں سے اچھے برے تعلقات کا اندازہ لگا لیتا اور اس کے اندازے درست ہوتے ۔ ان درست قیافوں سے وہ بات چیت کا تعین کرتا ۔ یوں ہر سیاح خاندان اسے ڈرائیور نہیں اپنا ذاتی معاون محسوس کرتے ۔ وہ مخلوط خاندان کو پہلے ہی سمجھا دیتا کہ اگر چیچن کے کھنڈر دیکھنے ہیں تو صبح سویرے نکلنا بہتر ہوگا ۔ وہ ہر صبح ایک نئے سیاح خاندان کو کریبین کے پانیوں پر لب ساحل  بنے خوبصورت ، وسیع اور بہترین ریزورٹس کے سلسلے کے کسی ایک ریزورٹ سے سیاح فیملیاں اٹھاتا ، ان کے سامان اپنی صاف ستھری فیملی وین میں رکھتا ۔ تسلی سے ہر ایک فرد کو سوار کرواتا ۔ سب کو پانی کی بوتلیں تھماتا ۔ اے سی کو فیملی کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرتا ۔ اور ڈرائیو کرنے سے پہلے سب کو پرسکون ہونے کی تلقین کرتا ۔ اور یہ  تسلی دیتا کہ راستے میں کسی جگہ    پررکنے کی ضرورت ہو تو بتا دینا ۔ وین میں سوار ہونے والے بچے اور بوڑھے افراد کے ہاتھ تھام کر سوار ہونے میں مدد کرتا ۔ 

وہ بھانپ لیتا تھا کہ نوجوان میاں بیوی اور بچے کے علاوہ جو بزرگ مرد عورت ہیں وہ مرد کے ماں باپ ہیں یا عورت کے ۔ بڑی ہوشیاری سے گفتگو میں حفظ مراتب کا خیال رکھتا ۔ سیاحوں کی اجنبی زبانوں اور مختلف ثقافتوں کے باوجود وہ انسانی رشتوں کی سمجھ رکھتا تھا ۔ سیاح فیملی میں میر کارواں کون ہے  اس کو بھی جانتا ۔ جوان عورت کے دل میں کیسے مسکرا کر جگہ بنانی ہے ، بوڑھی ماں کے آگے کیسے تعظیم سے سر جھکا کر اور جھک کر مادام کہہ کر اسے سہارا دے کر اترنے میں مدد کرنی ہے ۔  بچے کے ہاتھ میں کھلونے کی نوعیت سے اس کی نفسیات سمجھ کر اس کو بھی اپنا گرویدہ بنانا جانتا تھا ۔ اس بنیاد ی جانکاری کے ساتھ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی بخوبی نبھاتا ۔ کینکون کے سیاح مہمانوں کو چیچن تک لے جانے کے تین گھنٹے کے دورانئے میں وہ ایک گھنٹہ سیاح فیملی کو سونے کا کہتا ۔ باقی دو گھنٹے کا راستہ وہ مسلسل گائیڈ کا رول اداکرتے ہوئے میکسیکو، کینکون اور چیچن کے معاشی ، سیاسی اور تاریخی حالات اور پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے  ایک لیکچرر کی طرح بولتا رہتا ۔ وہ مکمل علم رکھتا تھا ۔  چیچن پہنچ کر وہ پھر پانی سے تواضع کرتا ۔ اور پھر پورے دن کے ٹور کا پروگرام بتاتا۔ وہ یہی مشورہ دیتا کہ سب سے پہلے اس قدیمی تہذیب کے کھنڈرات کو دیکھ لینا عقلمندی ہے ۔  

یوں وہ سیاح فیملی کی رضامندی سے ٹیمپل ، مقدس رنگین ستون، رصد گاہ ، پرانے مقدس در خت ، بھینٹ گاہیں اور  پرانے کنویں دکھاتے ہوئے ان کی تعمیر، اہمیت اور تاریخ بھی بتاتا مثلا یہ ٹیمپل ہے اور اس کی ہمہ سمتی کیا شاندار ہے ۔ قدیمی لوگ اس ٹیمپل کے اندر جا کر تالی بجاتے تھے اور جتنی زور سے تالی بجتی اس کی گونج سے باز گشت کا مطلب دعا قبول ہونے کا اشارہ ہے اور یہ کہ ٹیمپل کی سینکڑوں سیڑھیاں ، سات منزلیں ، ہر منزل کسی روحانی منزل کی علامت ہے اور یہ بھی بتاتا کہ آخری منزل پیراڈائز کا درجہ رکھتی تھی اور آج بھی یہاں کے مقامی اسی روحانی آسرے پر زندہ ہیں ۔ گارسیا کے مطابق اس قدیمی تہذیب کی رصد گاہ جس کی آخری منزل کے آخری جھروکے سے ماہرین شمسی نظام ستاروں ، چاند اور سورج کے گھٹنے بڑھنے  کی بنیاد پر کیلنڈر بناتے تھے ۔ ان کی تہذیب میں کئی کیلنڈر رائج تھے ۔ وہ لوگوں کو یہ معلومات دے کر حیران کر دیتا کہ ایک کیلنڈر ایسا بھی ہے جو چاند کے چڑھنے اترنے پر بنیاد کرتا ہے جو عورت کی ماہواری اور نو ماہ کے حمل اور پیدائش کے وقت کا تعین کرتا ہے ۔ اسی لئے اس چاند کے کیلنڈر پر ایک سال میں 9 ماہ ہیں  ۔ یہ معلومات سیاح سن سن کر حیران ہوتے ۔ کچھ کے سر سے گزر جاتی کچھ سوچ میں پڑ جاتے کہ اتنے قدیم وقتوں کے لوگ بغیر کسی جدید سامان کی سہولت کے کس طرح اپنے ذہن کے چاک و چوبند گوشوں کی روشنی سے علم کی کھوج میں لگے ہوئے تھے ۔ اور کس طرح مشاہدے سے حسابی تخمینے لگا کر دن رات اور مہ و سال کے پیمانے بنا لیتے تھے ۔ 

گارسیا ہر سیاح فیملی کو ان تہذیبی کھنڈروں کے سامنے انفرادی اور فیملی فوٹو سیشن میں بھی مدد کرتا ۔ اور ہر مندر اور ستون کے سامنے تعظیما جھک جاتا اور دعا کے انداز میں آنکھیں بند کر لیتا ۔ کئی سیاح بھی احتراما اس رسم میں میں شامل ہو جاتے ۔ کوئی سیاح برائے تجسس گارسیا کو پوچھ لیتا کہ کیا وہ بھی ان قدیمی مذہبی علامتوں اور دعائیہ رسومات کا معتقد ہے؟ گارسیا جواب دینے میں توقف سے کام لیتے ہوئے کہتا ” نہیں شاید بالکل نہیں ۔ کیونکہ اگر ان پر اعتقاد رکھنے اور دعائیہ رسومات کی اہمیت ہوتی تو یہ تہذیب تباہ ہو کر ختم نہ ہوتی “ کوئی سیاح اس جواب پر مزید استفسار کرتا کہ پھر وہ ان کھنڈروں کے پتھروں کے آگے کیوں جھک جاتا ہے تو اس کا جواب ہوتا  ” میں اس جگہ پر اپنے سیاحوں کو بتانے کے لئے جھکتا ہو‎ں کہ وہ جان سکیں کہ قدیمی لوگ ان پتھروں کے مندروں کو تقدیس اور نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔ میں تو بس ان کی تہذیب کی رصد گاہ اور ان کے ذہین طرز تعمیر سے متاثر ہوتا ہوں ۔ اور اپنے سیاحوں  کی توجہ تین ہزار سال قبل کے ذہین دماغوں کی سوچ اور سائنسی تجربوں کی طرف دلاتا ہوں ۔ میں منطقی طور پر سوچتا ہوں ۔ ان خوف زدہ کرنے والے پتھروں سے کبھی میں نے معجزے نہیں ڈھونڈے ۔ بھلا آج کے دور میں ان کھوپڑیوں سے کیا ڈرنا اور مردہ کھوپڑی کیا کام کرے گی ۔ کام تو رصد گا میں بیٹھنے والوں نے کیا جو اب تک جاری ہے اور فن تعمیر کے لوگوں نے تین ہزار سال پہلے اس طرح کی حیران کن تعمیرات کیں جو آج بھی عجائبات کی صورت میں مجھ جیسے اور بہت سے لوگوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ بس اور کیا ۔اٹس مائی جاب” وہ شانے اچکا کر ہونٹ پھیلا کر مسکراتا اور  کہتا 

” کیوں یہ سچ ہی تو ہے ”  

اور مسکراتے ہوئے اپنا شولڈر بیگ فکس کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتا اور ایک اچھے گائڈ کی طرح  دوپہر  کے کھانے کے لئے کسی مناسب ریستوران میں لے جاتا اور سیاح فیملی کو کھانے اور سستانے میں مدد کرتا ۔  پھر انہیں سہ پہر کو کئی سمتوں سے نکلنے اور کھلنے والی پتلی پتلی گلیوں میں گھماتا جن کے دونوں اطراف کھلے آسمان اور گھنے پرانے درختوں کے سائے تلے مفلوک الحال  قدیم مقامی باشندے جو چھوٹے قدوں کے مرد عورتیں اور نوجوان تھے اپنے اپنے سٹال سجائے سیاحوں کے لئے قدیم تہذیب کو گھر لے جانے کی  سہولت بیچتے تھے ۔ اور اس تہذیب کی ثقافت کو اپنے ہاتھوں سے دستکاری ، آرٹ اور گھریلو صنعت میں ڈھال کر اپنی روٹی کماتے تھے ۔  یہ گلیاں ایک غیر ترقی یافتہ بازار اور میلے ٹھیلے کا سماں پیش کرتیں۔ ۔ یہاں شاید کچھ خاص تو نہیں تھا ۔ مگر یہ سب کچھ مایا تہذیب کے گردو نواح میں رہائشی لوگوں کے لئے بھوک مٹانے اور غربت سے  لڑنے والے مقامی لوگوں کے  ہاتھوں سی بنی نقال دستکاریاں تھیں ۔ شوخ رنگو‎ں کی دریاں ، بیگ اور پوشاکیں جن پر مایا تہذیب لکھا ہوتا ۔ کی رنگز ، پرس ، شیشے میں بند ٹیمپل ، ستون اور نشانیاں پتھروں یا شیشے کے مجسموں کی صورت میں قید کی ہوئی دیوی دیوتاو‎ں کی مورتیاں ہوتیں ۔ ہر تہذیبی کھنڈر کے ماڈل کے اوپر کسی نہ کسی خوف کی علامت کشیدہ ہوتی یا منقش ہوتی ۔ یہ خوفناک نقوش کھوپڑیو‎ں ، سانپو‎ں ، بچھوؤں، آلات حرب ، اور موت کے مناظر پر مبنی ہوتے ۔ ہر سٹال پر ماربل اور لکڑی کے شطرنج کے سیٹ ، کچھوے ، قدیم آلات موسیقی ، لکڑی سے تراشی انسانی کھوپڑیا‎ں ، منادی کرنے والے ڈھول ، ڈگڈگیاں نقارے اور باجے جو ایسی آوازیں نکالتے جو خطرے کا الارم کی حیثیت رکھتے ۔ ہر سٹال پر مقدس درختوں کی لکڑی سے گھڑے اور تراشے دل کی شکل میں بنے لاکٹ بھی برائے فروخت تھے  ۔ 

گارسیا بتاتا کہ قدیم لوگوں کے لئے یہ نقارے اور باجے اور ڈھول محض آلات موسیقی ہی نہیں تھے بلکہ ان کو بجانا ایک طرح سے مذہبی حیثیت رکھتا تھا ۔ شاید قدیم لوگ اس کو بلاوں کے ٹالنے اور خطروں سے بچنے کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ اور یہ بھی ان کا عقیدہ تھا کہ جس گھر میں  خوف و ہراس کی مقدس علامتوں کا سامان ہوتا ہے وہاں بد روحیں، بلائیں اور مصیبتیں نہیں آتیں ۔  گارسیا کے سیاح مہمان ان کی طرف لپکتے تو وہ ان پر مہربان ہوکر انہیں پہلے سے آگاہ کر دیتا کہ یہ مقامی دکاندار بہت قیمت بتائیں تو ہرگز شے مت خریدنا اور ان سے بارگین کریں تو یہ قیمت کی نچلی ترین سطح تک آجاتے ہیں ۔ سیاح فیملیاں گارسیا کو اپنا ہمدرد سمجھنے لگتیں ۔  خوب گھما کر سیر کرواتا ۔ گائیڈ گارسیا جب واپس ر یزورٹ میں مہمانِ سیاحوں کو ریزورٹ میں چھوڑتا تو کرائے کی رقم وصول کر کے فیملی کے ہر فرد سے ہاتھ ملاتا اور ان کے میر کارواں کو فیس بک دوستی کی درخواست کرتے ہی ڈیجٹل دوستی میں شامل ہوکر اپنے کلائنٹ کو ریویو لکھنے کو کہتا ۔ زیادہ تر کلائنٹ اس کی بہترین پیشہ ورانہ سروس پر بہترین ریٹنگ لکھتے ۔ یوں کھنڈروں کا گائیڈ اپنی صلاحیتوں کے بل پر پانیوں کے کنارے عالی شان ریزورٹس کے سیاحوں کے لئے  اپنی مانگ بڑھانے میں بہت کامیاب تھا ۔  

سیاح تو چند دن گزار کر چلے جاتے لیکن گارسیا کے لئے یہ معمول تھا کہ ہر روز ایک نئی ٹورسٹ فیملی مگر راستہ وہی  ، گفتگو وہی جس میں مایا تہذیب کی ازبر تاریخ اور کھنڈروں کا تعارف جسے ہر روز ایک ہی طرح سے دہرانا ۔ گارسیا کو پہلے کئی سال یہ شب و روز بڑے اچھے لگتے ۔ نئے جوش کے ساتھ نئے مہمان ۔ مگر رفتہ رفتہ گارسیا کو بوریت سی ہونے لگی ۔ ہر شام کھنڈر نوردی کرکے واپس آتا اسے  لگتا کہ اب ان کھنڈروں کی قدیم سرزمین سے پتھروں میں رچی بسی اداسی اور خوف بھی اس کے ساتھ چمٹ کر اس کے ساتھ آجاتا ہے ۔ وہ 50 سال کا ہونے کے باوجود  کوئ گرل فرینڈ نہ بنا سکا ۔ گھر میں کوئی اس کا انتظار کرنے والا نہ تھا ۔  اس نے کافی کما لیا تھا ۔ اس تنہائی جس کا وہ عادی تھا مگر اب اس تنہائی میں کھنڈروں کی شکستگی اور اجڑی تہذیب کی اداسی موت کی طرح اس کی روح میں اترنے لگی تھی ۔ اب اس کی بوریت اور زندگی کی یکسانیت اسے اداسی کی تکلیف سے دوچار کرنے لگی۔ ایسا اسے پہلے کبھی محسوس نہ ہوا تھا ۔  اب وہ کسی شام کھنڈروں سے واپس آ کر کینکون کے اپنے سادہ سے رہائشی فلیٹ کے ٹیرس  پر آبیٹھتا ۔ کیریبین کے زمردی اور کبھی گہرے سبز رنگت کے پانیوں کو ہوا کے جھونکوں سے لہراتا دیکھتا اور شراب سے لطف اندوز ہوتا ۔ مگر جونہی شام گہری ہوکر سبز زمردی رنگ کے پانی کو دوات کی سیاہی کے رنگ میں بدل دیتی وہ جھرجھری لے کر کمرے میں آکر بستر پر اوندھا لیٹ جاتا۔ یہ تنہائی، اداسی ، نامعلوم خوف اس کے کمرے کے ماحول میں مایا تہذیب کے ان کھنڈروں جیسی ہو کر گھلنے لگتیں ۔ 

  اسی بے نام اداسی میں وقت کاٹتے کاٹتے وہ 55 سال کا ہوگیا ۔ ریزورٹ کے سیاحوں میں اس کی مقبولیت اب بھی برقرار تھی ۔ وہ ویسے ہی چاک و چو بند تھا ۔ اب ہر ٹرپ سے واپسی پر وہ سیاحوں کو تہذیبی با زار سے یادگار چیزیں خریدتے دیکھتا تو کچھ نہ کچھ اپنے لئے بھی لے لیتا ۔ بلکہ روزانہ کی بنیاد پر اس بازار سے اس نے اتنا کچھ خرید کر اپنے کمرے میں جمع کر لیا تھا کہ اس کے بیڈ روم میں ان کے رکھنے کو بھی جگہ نہ رہی ۔ اس نے اپنے فلیٹ میں ایک چھوٹے سے اضافی کمرے کو جو سٹوریج کا کام کرتا تھا اسے خالی کرکے اس میں یہ قدیم یاد گاریں سلیقے سے سجا کر رکھ دیں ۔ ہر چھٹی والے دن ان کی جھاڑ پونچھ کرتا ۔  سامان اتنا ہوگیا تھا کہ اسے کمرے میں شیلفیں بنوانی پڑیں ۔ اب اس نے مایا تہذیب کی تمام یاد گاروں کو ایک میوزیم میں ڈھال دیا تھا ۔ اس کا وقت کٹنے لگا ، دل بہلنے لگا۔ اب وہ بوڑھا ہو رہا تھا ۔ یہ بات اس کا ہر شام تھکنے والا جسم بتاتا تھا ۔ 

جسم اور روح مایا تہذیب کے کھنڈر بننے کا عندیہ دینے لگے تھے ۔ اس نے بیزار ہوکر چند سال پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی ۔ ریٹائرمنٹ نے تو اسے اور بھی خالی کردیا ۔ کبھی باہر نکل جاتا ۔ مگر ہر جگہ ہر موسم دل کے مزاج میں خالی پن اتارتا رہتا ۔ گھر آتا ۔ کھانا کھا کر شراب انڈیلتا لیکن نیند مسے پہلے اپنے میوزیم نما کمرے سے بانس کی بنی بانسری کو چند لمحے بجاتا ۔ مگر یہ قدیم بانسری اسے اور بوجھل کر دیتی ۔ 

ایک دن نہ جانے اسے کیا سوجھی سورج ڈھلنے سے پہلے وہ اپنے منی میوزیم میں سے بڑا سا ڈھول اٹھا لایا ۔ اور ٹیرس پر بیٹھ کر ہلکے ہلکے پیٹنے لگا ۔ پاس پڑوس کے لوگ اپنی گیلریوں سے جھانکنے لگے ۔ اس کا پڑوسی ہیوگو اور اس کی بیوی کارمن  جو کینکون کے ہی دو ریزورٹس پر کام کرتے تھے ۔ ان کے لئے بھی یہ سیاح روزی کا باعث تھے ۔ کارمن ایک شاندار ریزورٹ کے بفے میں ویٹریس تھی اور ہیوگو اسی طرح کے کسی دوسرے ریزورٹ میں ہینڈی مین تھا ۔ وہ تھا تو کارپینٹر مگر ہینڈی مین ایک مستقل نوکری تھی ۔ یہ دونوں گارسیا کے قریبی بے تکلف دوست بھی تھے ۔ یہ میاں بیوی آپس میں خوب لڑتے رہتے جس کی آوازیں گارسیا کے فلیٹ تک پہنچتی رہتیں ۔ مگر  یہ دونوں اکٹھے ہو کر اس کے ساتھ کبھی کبھی شراب کے لئے ساتھ دینے آ جاتے۔ انہوں نے جھانکتے ہوئے پوچھا “ یہ کیا ہوا تمہیں ۔؟”  کارمن نے ٹیرس کی ریلنگ پر سے اپنے آپ کو گارسیا کے ٹیرس کی طرف جھکا کر اس پٹتے ڈھول کو ستائش سے دیکھا ۔ گارسیا نے ان دونوں ہمسایوں کو گھر آنے کی دعوت دی ۔ ہیو گو اور کارمن نیم لباسی میں چپلیں گھسیٹتے اس کے فلیٹ کے ٹیرس تک بے دھڑک آگئے ۔ لوہے کی کرسیاں گھسیٹ کر دونوں میاں بیوی قریب رکھی تپائی سے شراب انڈیل کر گلاس تھام کر چسکیاں لینے لگے ۔ کارمن بولی؛ “گارسیا بجاتے رہو” گارسیا منادی والا بڑا سا ڈھول پیٹتا رہا کبھی زور کی ضرب لگاتا، کبھی پڑوسیوں کے خیال سے ضرب ہلکی کر دیتا ۔  گارسیا نے منادی والے ڈھول کو پیٹنا بند ہی کیا تھا کہ کارمن نے بے تکلف ہوتے ہوئے  قریب رکھی ہوئی بانسری اٹھائی اور قہقہہ لگاتے ہوئے بولی  ؛ ” یہ بھی لگتا ہے کہ  تم  چیچن سے ہی لائے ہو” گارسیا نے آگے بڑھ کر بانسری لی ۔ آؤ تمہیں میں پرانے لوگوں کی امن اور محبت کی بانسری سناتا ہوں ۔ یہ کہہ کر اس نے بانسری پر ہونٹ رکھ کر بے ترتیب سی جنبش دینی شروع کردی۔  

کارمن کو لگا کہ امن ہی امن ہوگیا ہے ۔ وہ خاموش سی ہوگئی۔    گارسیا یکدم بانسری بند کرکے شوخ ہوکر تیزی سے اٹھا اور میوزیم والے کمرے کی بتی جلا کر زور سے بولا، ” آؤ بہت کچھ ہے میرے پاس ”   ہیو گو اور کارمن اگرچہ گھر سے لڑتے جھگڑتے نکلے تھے مگر وہ بھی شوخ ہو کر اس کے کمرے تک آگئے ۔ بونے سے قد کی بھدے نقوش والی کارمن کبھی بھی ہیو گو کو نہیں بھائی تھی مگر اس مرتبہ نیکر پہن کر مٹکتی بیوی کے کندھے تھام کر پیچھے پیچھے آگیا۔ کارمن اندر داخل ہوتے ہوئے بولی، ” لگتا ہے گارسیا کہ تمہاری بانسری کی آواز نے ہیو گو کے دل میں میری محبت ڈال دی ہے یہ بڑا رومانٹک ہو رہا ہے”  ” تم اس کی محبت چاہتی ہو؟”  ” مجھے اس کی محبت کبھی نہیں ملے گی۔ یہ بہت ٹھرکی ہے ۔ مجھے پتہ ہے کہ یہ ہر عورت پر مچل اٹھتا ہے” کارمن نے مایوس لہجے میں کہا۔  گارسیا کو اس بھدی عورت پر ترس آیا جو سارا دن ریزورٹ میں کام کرتی اور شام کو گھر کے کام کرتی لیکن پھر بھی ہیوگو کی گالیاں سنتی ۔ لیکن گارسیا یہ بھی جانتا تھا کہ کارمن بھی کم نہیں ۔ کافی بد تہذیب اور زبان دراز اور لڑاکی تھی ۔  گارسیا نے اسے اپنے چھوٹے سے میوزیم کی شیلفوں کو دکھا تے ہوئے ہر قسم کی مصنوعی نوادرات کا معائنہ کروایا اور ایک بار پھر گائیڈ سا بن گیا۔  ایک بار پھراس کی آرکیالوجی والی زبان چل پڑی؛ 

” یہ دیکھو یہ منادی والا ڈھول ہے ۔ مایا کے لوگ اس کو شام کے وقت سورج کے نیچے گرنے سے پہلے اس کو پیٹتے تھے تاکہ بلائیں اور ہلاک کرنے والے جانور قریب نہ آئیں ۔” اور یہ بھی بتایا کہ یہ ڈھول لوگوں کو کسی بات ، خطرے سے آگاہ کرنے کے اعلان کی علامت بھی تھا ۔ “اور یہ کھوپڑی” ؟۔  کارمن نے خوف زرہ ہوکر ایک لکڑی کی تراشی ہوئی کھوپڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ” اوہ  ہاں یہ کھوپڑیاں ۔ یہ پرانے لوگ اپنے گھر کے باہر رکھتے تھے موت سے بچنے کے لئے ۔ موت ان کھوپڑیوں کو دیکھ کر بھاگ جاتی تھی ۔ ”  کارمن نے اگرچہ کئی بار  چیچن کے کھنڈروں اور ان یادگاری  مصنوعات کو دیکھ رکھا تھا مگر کبھی اس طرح کسی سے نہ بتایا تھا ۔ کارمن کو جھرجھری سی آئی مگر خوف کے ساتھ اس کھوپڑی کو للچائی نظروں سے دیکھتی رہی ۔ گارسیا کو ایک بار پھر اس لڑاکی مگر خوف زدہ عورت پر ترس آیا ۔ تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے شیلف کی دوسری چیزوں کی طرف متوجہ کروایا۔ ۔ اسے شیشے میں قید دیوی دیوتاوں کے مجسمے ، ٹیمپل ، اور حشرات الارض کے مصنوعی ڈھانچے دکھائے ۔  پھر آخر میں لکڑی سے تراشیدہ دل کی شکل کا ایک لاکٹ دکھایا جس پر کسی دیوتا اور اس ٹیمپل کی تصویر تھی جو وہ اپنے سیاح مہمانوں کو دکھایا کرتا تھا ۔ اس ٹیمپل کی ساتوں منزلیں جو درجہ بدرجہ روحانی بلندی اور بہشت تک پہنچنے کا راستہ تھیں ۔ سیاحوں کے لئے ورطہء حیرت کا سامان ہوتیں اور وہ اسے عکس بند تو کرلیتے لیکن ساتھ ہی شیشے میں مقید سوونئیر کے طور پر اسے خرید لیتے ۔ 

لیکن کارمن کو لکڑی کے دل والا لاکٹ اور اس پر ٹیمپل کی تصویر دکھاتے ہوئے گارسیا نے اسے بتایا کہ یہ لاکٹ قدیم عورتیں اور مرد گلے میں پہنتے تھے تاکہ ان پر محبت کی دیوی مہربان رہے ۔ کارمن کی آنکھیں چمک اٹھیں۔  “مگر اس کو ہر وقت پہننا ہوگا اور اس ٹیمپل کو سامنے رکھ کر دعا کرنی ہوگی تاکہ تم اس کی ساتویں منزل کی پیرا ڈائز تک پہنچ جاؤ یہ کہہ کر گارسیا نے ہیو گو کو آنکھ ماری ۔ اور وہ لاکٹ کارمن کے گلے میں پہنا دیا ۔  گارسیا کو ایک بار پھر اس معصوم  اور لڑاکی عورت پر ترس آیا گارسیا  دل کا بہت نرم تھا ۔” تم کچھ اور لینا چاہو گی؟ گارسیا نے مہربان ہوتے ہوئے پوچھا ۔  اتنے میں ہیو گو نے ایک کھوپڑی اٹھائی اور بولا، ” یہ بھی لے لو موت نہیں آئے گی ۔ “ ” نہیں مجھے محبت چاہیئے اور محبت کھو جانے کا خوف موت سے بھی بڑا ہوتا ہے ۔”  کارمن نے بڑے اعتماد سے اپنا محبت کے بارے میں فلسفہ سنایا ۔ 

 کارمن نے ہیو گو کا ہاتھ تھاما جیسے اسے یقین ہو کہ اب ہیو گو ہمیشہ کے لئے اس کا ہوگیا ہے ۔ ہیو گو نے بھی ایسا ہی تاثر دینے کے لئے اس پر جھک کر اس کے کندھوں کو تھاما اور چپلیں گھسیٹتے وہ دونوں گارسیا کے فلیٹ سے مٹکتے اٹھکھیلیاں کرتے نکل گئے ۔  چند روز کے بعد وہ ٹیرس پر شام کی شراب کے گھونٹ انڈیل رہا تھا کہ ہیو گو بھی گلاس پکڑے ٹیرس پر لٹک گیا اور اسے آنکھ مار کر بولا، ” تمہارے لاکٹ نے کام کردیا ہے ۔ کارمن اب مجھ سے لڑتی نہیں ہے ۔ اس کو مجھ سے سچی محبت ہوگئی ہے “ ” اور تم ابھی تک ٹھرکی ہو دوسری عورتوں کے لئے ؟” گارسیا شرارت سے بولا ۔ ہیو گو نے قہقہہ لگایا ۔ گارسیا نے پیار بھری ڈانٹ پلائی اور بولا؛ ” باز آجاؤ” 

” جب سے لاکٹ پہنا ہے زبان درازی کم ہوگئی  ہے اور دن میں کئی بار اسے آنکھوں کے قریب لاکر دعا کرتی ہے ساتویں منزل تک پہنچنے کے لئے ۔ 

ہیو گو نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔ پھر شیطانی ہنسی کے ساتھ ہونٹ پھیلا کر بولا؛  ” ساتویں منزل تک پہنچنے کا انتظار کر رہی ہے ۔ بے چاری ٹھگنی ۔ اتنی سیڑھیاں چڑھنا اس کے لئے کتنا مشکل ہوگا ۔ گارسیا پھر ایک بار کارمن پر ترس کھانے لگا۔  ہیو گو شرارت سے بولا ؛ ” تم کینکون کی محبت سے محروم ساری عورتوں کو لاکٹ دے دو ۔  اور زور سے قہقہہ لگایا ۔  

گارسیا اس رات سونے کے لئے بستر پر دراز ہوا تو مگر اسے نیند نہ آئی ۔ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا اور ایک بار پھر وہ مایا کے کھنڈروں میں سے کھدائی کر کے خوف  نکال کر خالی پن اپنے اندر اتارتا رہا ۔  ۔ اس نے وہ رات ان خوفوں کو سمیٹنے میں گزاری جو مایا تہذیب میں بھی تھے اور  سوچنے لگا کہ آج بھی انسان  ان خوفوں کو کسی نہ کسی شکل میں لئے پھر رہےہیں۔ اس کی زندگی کا اب کوئی مقصد نہ  تھا ۔ ہیو گو پر رشک آنے لگا ۔ کم از کم لڑتے جھگڑتے دن تو جلدی گزر جاتا ہے ۔ یہ سوچتے اسے نیند  آگئی۔  اگلی صبح دیر سے اٹھا ۔  ناشتہ کرکے اس نے میوزیم میں صفائی کی ۔ چیزوں کو از سر نو اس طرح ترتیب دیا کہ بہت سی گنجائش نکل آئی ۔  پھر نہا دھو کر سہ پہر کے بعد گاڑی نکالی اور چیچن کی طرف روانہ ہوگیا ۔  آج ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار اپنی کھنڈروں کی جاب کی طرف رواں دواں تھا ۔ لیکن کوئی سیاح فیملی اس کے ساتھ نہ تھی ۔ وہ اکیلا تھا ۔ اس لئے خاموش تھا ۔ اس کو باری باری کسی نہ کسی سیاح فیملیوں کے دھندلے چہرے یاد آجاتے ۔ آج اس کے دل میں کھنڈروں کی ساری اداسی امڈ آئی تھی ۔ اس نے میوزک آن کی اور بقیہ سفر کاٹا ۔ وہ چیچن پہنچا تو شام کا اندھیرا پھیلنا شروع ہو چکا تھا ۔ سیاح کھنڈروں کے بازار کی گلیوں سے تہذیب کے خوف کی علامتوں کی یاد گاری مصنوعات خرید خرید کر اپنے تھیلوں میں ڈال کر تھکے ماندے ٹورسٹ بسوں میں سوار ہو رہے تھے ۔ 

گارسیا ان گلیو‎ں کے کسی ایک پرانے سایہ دار درخت کے نیچے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا ۔  اس نے سوچا کبھی وہ بھی ٹورسٹ گائیڈ تھا مگر کبھی اتنا آزردہ نہ تھا ۔ اسے لگا کہ زندگی کا بیشتر حصہ اس نے ان کھنڈروں پر آتے گزارا ۔ نہ جانے کیوں مایا کے کھنڈروں کی ساری اداسی اس میں سمٹ کر بیٹھ گئی ہے ۔  اس نے سوچا کہ اگر یہ ٹیمپل اتنا مقدس تھا تو اس نے کیوں نہ اس تہذیب کو تباہ ہونے سے بچایا ۔ یہ سوال گارسیا کے دماغ میں ہمیشہ سے اٹھتا تھا ۔ مگر وہ بھی اس جگہ کو اہم جان کر اس تہذیب کے کھنڈروں سے نکلتی اداسی اور خوف کو روز نگلتا تھا ۔ اس کے لئے یہ اداسی ہی روزگار کا ذریعہ تھی ۔ بس وہ خاموشی تان لیتا ۔ آج بھی جب سیاح ٹوٹی پھوٹی وینڈر شاپس سے نکل نکل کر واپس ہورہے تھے تو گریول کی بنی تنگ سڑکوں پر شام کے اندھیرے کے ساتھ انجان  مہمانوں کے چلے جانے کے بعد سناٹا پھیلنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی مفلوک الحال دکاندار بچی کھچھی تہذیب کی نشانیاں سمیٹ کر تھیلوں میں ڈالنے لگے تو وہ جھٹکے سے اٹھا اور اس کونے والے سٹال کی طرف بڑھا جس کی شاید آج کوئی بکری نہ ہوئی تھی ۔ اس کا سٹال ان چیزوں سے بھرا ہوا تھا ۔  

اس نے سوچا  کہ اس نے اچھا کیا کہ کووڈ کی وبا سے پہلے گائڈ کا کام چھوڑ دیا تھا ۔ پھر وبا نے ٹورزم کو ماند کردیا تھا ۔ اور اب لگتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید بھی کم ہوگئی ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ سٹال کے قریب پہنچا ۔ وہ مایوس ہوا کہ ٹھیلوں پر کوئی شناسا چہرہ نہ تھا ۔ شاید مایا تہذیب کی طرح چیچن کو تباہ کرنے کے لئے نئی وبا نے حملہ کرکے جدید تہذیب کو بھی نگلنے کی کوشش کی ۔ وہ یہ تجزئے کرتا اس مفلوک الحال بیو پاری سے مخاطب ہوا ؛ ” میں یہ سارا  سامان تم سے آدھی قیمت پر خرید لوں گا نوجوان بیوپاری نے حیرت سے اس کو دیکھا ۔ گارسیا نے آنکھیں بند کرکے سر کو اثبات میں جنبش دیتے ہوئے اسے یقین دلایا ۔  نا امید نوجوان بیوپاری کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔ وہ بولا؛ “مگر میرے پاس پیک کرنے کے لئے وافر تھیلے نہیں ہیں” تم فکر نہ کرو میں اپنی وین سے ٹوکریاں لاتا ہوں تم ابھی میرا انتظار کرو “ وہ بھاگا ہوا پارکنگ میں کھڑی وین کی طرف لپکا اور چند ٹوکریاں اور بیگ اٹھا لایا ۔ نوجوان پھٹیچر بیوپار ی نے سارا سامان ان میں سنبھال کر احتیاط سے رکھ دیا ۔ یہ بچا ہوا غیر فروخت شدہ سامان اس کی آج رات کے رزق کی تنگی کا عندیہ تھا ۔ گارسیا نے اسے سارے سامان کو خرید کر اچھی بھلی رقم منٹوں میں اس کو تھمادی جس کے لئے شاید وہ کئی دن اور گرمی میں  ساتویں منزل تک پہنچنے کی طرح تپسیا کرتا ۔رقم ہاتھ میں پکڑتے ہی اس نے رقم جیب میں ڈالنے سے پہلے سامنے کھڑے آسمان کو چھوتے  مایا تہذیب کے پر شکوہ طرز تعمیر کے باقی بچے ہوئے ٹیمپل کی آخری منزل پر نظر ڈال کر آنکھیں بند کیں اور تشکری تالی پیٹی جیسے اسے پیرا ڈائز کی ساتویں منزل اور روحانی خزانہ مل گیا ہو ۔ گارسیا وین میں سامان رکھنے لگا تو نوجوان بیو پاری اس کے ساتھ سامان رکھنے میں مدد کو آیا ۔ 

” اوکے” گارسیا نے اس سے ہاتھ ملایا اور بولا میں پھر آؤں گا۔ اب روزانہ وہ نوجوان سامان لے کر بیٹھتا تو سیاحوں کو آواز دے کے متوجہ کرنے کے بجائے تھوک خریدا ر گارسیا کا انتظار کرتا ۔ گارسیا ہر ہفتے آتا اور مایا تہذیب کے تمام خوف ، اداسیا‎ں اور دیوی دیوتا، کھوپڑیاں اورٹیمپل کے علاوہ  ان کے علامتی علاج جو شیشے ، ماربل اور لکڑی میں تراشے ہوتے تھوک کے حساب سے لے جاتا ۔ مگر وہ خود ہی اپنی اس بے کار سی تھوک خریداری کو اپنی حماقت سمجھتا ۔ پھر اس نے وہاں جانا بند کردیا ۔ اس کا سٹور کھنڈروں کے آثار سے کھچا کھچ بھر چکا تھا ۔  کبھی وہ سوچتا کہ ان کاٹھ کباڑ بنتے سامان کو پھینک دے لیکن آج کل پر ٹالتا رہا اور سامان وہیں پڑا رہا۔ اور گارسیا اپنے شب و روز کی یکسانیت سے بور ہوتا رہتا ۔ ایک ویک اینڈ پر شام کو اندھیرے سے ذرا پہلے جب وہ شراب کا گلاس ہاتھ میں تھامے  سمندر کے سبز زمردی حسین رنگ  پانی کو رات کے اندھیرے میں ہوا  کے دوش پر سیاہ  رنگ کے ہچکولوں میں تبدیل ہوتے دیکھ کر جھر جھری لے کا شراب کا آخری گھونٹ انڈیل رہا تھا کہ کارمن نے فلیٹ کے ٹیرس سے جھانکتے ہوئے اسے پکارا، ” گارسیا سوئے تو نہیں ہوابھی ؟ میرے ساتھ میری ایک دوست ہے جو تمہارا میوزیم دیکھنا چاہتی ہے “ ” کل آنا اسے لے کر” گارسیا نے بیزار ہوکر کہا۔ ” پلیز گارسیا ہم صرف چند منٹ لیں گے ۔ میں نے تمہارے  میوزیم کی بڑی تعریف کی ہے ۔ میری عزت رکھ لو۔ میرا دل ٹوٹ جائے گا” کارمن نے بڑی سادگی سے التجا کی ۔ ” تو اس لاکٹ سے تمہارا دل جڑا نہیں ابھی تک” گارسیا نے بے دلی سے مذاق کیا ۔ اور بولا “ چلو لے آؤ اپنی دوست کو۔  سادہ لوح کارمن اپنی سہیلی کو لے جھٹ سے سیڑھیاں چڑھ کر ہانپتی ہوئی آپہنچی ۔ وہ فرط مسرت سے ہانپ رہی تھی ۔ بہت پر جوش تھی جیسے اس لاکٹ نے اس کے ہیو گو کی ساری محبت اسے یکبار دے دی ہو ۔ گارسیا نے دیکھا کہ اس نے خلاف معمول خوبصورت لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور میک اپ بھی تھوپا ہوا تھا ۔ ” بے چاری محبت میں لتھڑی کارمن ہیو گو جیسے ٹھرکی پر اندھا یقین کرتی ہے “ اس نے پوچھا ” ہیو گو کہاں ہے ۔”  کارمن بولی ” وہ آرہا ہے  میری دوست کے ساتھ ۔” ” بے وقوف عورت کتنی معصوم ہے ”  گارسیا بڑبڑایا۔ 

اتنے میں ہیو گو کارمن کی سہیلی کے ساتھ  لائن مارتا ہوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔  گارسیا نے اس سہیلی کے ساتھ ہیو گو کو خوش دیکھ   کر ہیو گو کو متفکر ہو کر دیکھا اور کارمن پر ترس کھاتے ہوئے بولا۔  ” تم دونوں یہاں بیٹھو میں مہمان خاتون کو اپنا کلیکشن دکھا دوں ۔  پھر اس نے اس مہمان عورت سے  ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ” گارسیا” 

وہ بھی پر جوش ہو کر مسکرائی اور ہاتھ آگے بڑھایا ۔ ” تمہیں بھی اپنے شوہر کی محبت کا قدیم نسخہ چاہئے” ” اوہ نو! نو!میں سنگل ہوں” گارسیا نے ایک نظر اس کے سراپے کو دیکھا وہ کم عمر دوشیزہ تو نہیں تھی شاید اس سے چند سال چھوٹی ضرور تھی ۔ مگر جاذیبیت اور خوش لباسی کی وجہ سے کافی کم عمر لگ رہی تھی ۔ ” بے وقوف کارمن لاکٹ پہن کر کتنی لاپرواہ ہوگئی ہے کہ ہیو گو کے ٹھرکی ہونے کا شکوہ بھی نہیں  اور اس جاذب عورت کی موجودگی پر شک سے بے نیاز بھی ہے ۔ اس نے  باہر ٹیرس پر کھڑی کارمن کو دیکھا وہ اس لباس میں بہتر لگ رہی تھی اور ہیو گو کا ہاتھ پکڑے  قہقہے لگا رہی تھی ۔  اس نے ان دونوں کو نظر انداز کرکے اس جاذبیت کو مخاطب کیا۔ ” چلئے مادام” وہ نیم تاریک سٹور نما کمرے کا تیز بلب آن کرکے جھک کر ہاتھ کے اشارے سے اس مسکراتی دلکش اور پروقار عورت کو لے آیا ۔  “واؤ ۔ یہ تو بہت کچھ جمع کر رکھا ہے تم نے ”   ” اپنا نام نہیں بتایا آپ نے ۔” اوہ ۔ “ ”  ہیزل” وہ پوری آب و تاب سے ہنسی۔ “آپ کو کیا چاہئے مادام ؟” ” میرا خیال ہے کہ یہ بانسری ٹھیک رہے گی “ اس نے بانسری شیلف سے اٹھاتے ہوئے کہا ۔ ” نہیں  مادام آپ کو بھی لاکٹ کی ضرورت ہے” گارسیا بولا ۔ وہ زور سے کھنکناتی ہوئی آواز میں بولی، 

” آر یو سیریس؟ میں تو سنگل ہوں ۔ مجھے کس کی محبت کے لئے چاہئے؟  ۔” گارسیا نے ایک لکڑی کا سرخ رنگ کا لاکٹ اٹھایا اور بڑی بے باکی سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے  زبردستی اس کے گلے میں ڈال دیا ۔  ہیزل  شرمائی ۔   گارسیا کو لگا کہ اس نے  لاکٹ پہناتے ہوئے اپنا دل بھی اس لکڑی کے دل کے ساتھ اس کے گلے میں ڈال دیا ہے ۔ اس نے  اپنے دل کے کھنڈر میں ایک بار  سا چھناکا محسوس کیا ۔ ہیزل نے اس لاکٹ کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے چوما تو گارسیا نے بھی اس کے ہاتھوں اور پیشانی پر بوسہ دینے میں تامل نہ کیا ۔  ہیزل لاکٹ پہن کر باہر آئی ۔ ہیو گو اور کارمن کافی شراب پی چکے تھے ۔  گارسیا نے ہیو گو کو اور ہیزل  نے کارمن کو سہارا دے کر سیڑھیوں کے نیچے تک جانے میں مدد کی ۔ کارمن اور ہیو گو کو ان کے فلیٹ کے اندر پہنچا کر دونوں کچھ دیر خاموش باہر کھڑے رہے ۔  ” پاگل ہیں دونوں” ہیزل ہنسی ۔ ” تم شام کو میرے ساتھ شراب پینے آیا کرو” آر یو شور؟’  ہم دوست بن سکتے ہیں۔  ہیزل کے دل میں لکڑی کے دل اور گارسیا کے بوسے نے پہلے ہی ہلچل مچا دی تھی ۔  وہ حیران ہونے کی دانستہ کوشش میں اپنی چھوٹی مگر چمکتی پر کشش آنکھوں کو پھیلا کر گارسیا کو دیکھتی رہی ۔ شاید یہ اس کا اقرار محبت  تھا اور شاید  لاشعور میں واقعی کسی دوست کا انتظار کر رہی  تھی۔ 

“مادام میں نے لاکٹ میں اپنا دل بھی رکھ کر دیا ہے “ اب تو انکار کی گنجائش نہیں تھی ۔ اور گارسیا ایک سنجیدہ پڑھا لکھا پیسے والا آدمی تھا ۔ ہیزل جانچ گئی تھی کہ وہ ہیو گو کی طرح ٹھرکی نہیں ہوگا ۔ اب رفتہ رفتہ وہ محبت کرنے والے دوست بن گئے ۔ یہاں تک کہ ہیزل اس کے فلیٹ میں ہی منتقل ہوگئی ۔وہ دونوں بہت خوش تھے ۔  گارسیا کے کھنڈرائے ہوئے دل اور فلیٹ میں زندگی آگئی ۔ اگلی صبح گارسیا بولا ؛ “. کہیں گھومنے  چلیں ؟” “کہاں ؟” ” میں. ایک بار ان فائیو سٹار ریزورٹ میں ایک ہفتہ کے لئے ٹھہرنا چاہتا ہوں جیسے میرے خوش باش سیاح مہمان جوڑے ٹھہرتے تھے ۔ پھر کسی ٹورسٹ کی رہنمائی میں ان کے پیچھے پیچھے چلنا چاہوں گا ۔ اور شام کو سورج ڈھلنے سے پہلے خاموشی کے ساتھ تمہارا ہاتھ پکڑ کر زمردی سبز سمندر کے کنارے ریت پر چلنا چاہتا ہوں ۔ اور چاند کے نکلنے کے بعد چاند کا عکس ہرے پانی میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ میری حسرت تھی ۔ پہلے  میں اوروں کے آگے چلتا اور مڑ مڑ کر ان کو ہانکتے ہوئے کبھی فطرت کی خوبصورتی کو گہرائ سے نہ دیکھ سکا ۔ ہیزل کچھ نہ بولی بس کافی میں چمچ ہلاتے ہو ئے اسے دیکھنے لگی ۔ گارسیا شاید اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے مزید بولنا چاہتا تھا : ” میں سالوں تک ان کھنڈروں سے اداسی اور موت اور تہذیب کی تباہی کے اسباب کے سبق دہراتا رہا ۔ کبھی سوچا ہی نہیں کہ میرا دل کھنڈر بن رہا ہے ۔ مجھے ان کھنڈروں نے کچھ نہیں دیا “ ” او نو گارسیا تم ایک قابل قدر اور بہترین گائیڈ تھے ۔ تم نے کمائی کی ہے ۔ لوگ تمہیں پسند کرتے ہیں” ” مگر میں اب چند دن ریزورٹ میں سیاح کی حیثیت سے رکنا چاہتا ہوں” ہیزل زور سے ہنسی اور بولی ” ان ہی ریزورٹ میں اور اسی سمندر پر ۔ یہ تو تم روز اپن گھر کی بالکنی سے بھی دیکھتے ہو ۔ کہیں اور کیوں نہیں ؟” ” بس ایک مرتبہ سیاحوں کی طرح اجنبی بن کر اس ہرے سمندر کو اپنے اندر اتارنا چاہتا ہوں ۔ کھنڈروں نے مجھے کبھی ہرے سمندروں کی طرف غور سے دیکھنے ہی نہیں دیا۔  گارسیا بہت دکھی ہورہا تھا ۔ 

ہیزل کافی کا مگ تپائی پر رکھ کر اس کے قریب آئی  اور اس کے پاس کرسی کے بازو پر بیٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر  پیار بھری سرگوشی کرتے ہوئے اپنے لاکٹ کو نکال کر اسے دکھاتے ہوئے بولی، ” گارسیا ان کھنڈروں نے تمہیں یہ دل والا لاکٹ دے کر تمہیں محبت کی راہ دکھائی ہے ۔ کیا میں تمہیں اس لاکٹ کی وجہ سے نہیں ملی اور کیا تم سے اپنا دل اس لاکٹ کے ساتھ مجھے نہیں دیا؟ کیا تم نے کھنڈروں سے محبت نہیں نکالی ۔ کیا محبت کے دیوتاؤں سے نہیں ملے ؟” گارسیا پگھل سا گیا ۔ ہیزل نے اسے بوسہ دیا اور پھر گارسیا نے لاکٹ سے نکلتی ہوئی ہیزل کی محبت کی شعاعوں کو دیکھا اور بولا، ” تو پھرتم میرے ساتھ کہاں جانا پسند کروگی ۔ اب فیصلہ تم پر ہے۔” گارسیا اپنے ناسٹیلجیا کے دکھ بھول کر ایک امنگ سے بولا ۔ ” مجھے تم چیچن لے کر چلو ویسے ہی جیسے تم سیاحوں کو لے کر جاتے تھے ۔ مجھے اچھا لگے گا ۔ میں چاہتی ہوں تم کھنڈروں میں بھی زندہ رہو ۔  پھروہ دونوں تیار ہوکر چیچن کی طرف رواں دواں تھے ۔ تمام راستے ہیزل باتیں کرتی رہی ۔ پہلی بار چیچن کے راستے پر گارسیا خاموشی سے ہیزل کی کھنکتی آواز سن رہا تھا ۔ اور اسے کوئی لیکچر نہیں دینا پڑ رہا تھا ۔ تین گھنٹے بعد وہ دونوں مایا تہذیب کے مانوس کھنڈروں کی سیر کر رہے تھے ۔ پہلی بار گارسیا ریستوران میں  نئے نویلے سیاح جوڑوں کی طرح ایک عورت کے ساتھ محبت بھرا کھانا کھا رہا تھا ۔ شام کو واپسی سے قبل ہیزل بولی ؛ گارسیا مجھے آج بہت سی شاپنگ کرنی ہے ۔” ” چلو” ایک بار پھر گارسیا ان مفلوک الحال مقامی دکانداروں کے سٹالز پر کھڑا تھا ۔  ہیزل بلا سوچے سمجھے کی رنگز ، جیولری ، بانسریاں ، موسیقی کے بے ہنگم باجے ، اور دل کے لاکٹ خرید کر تھیلوں میں ڈال رہی تھی ۔  

” اتنے سارے دل کے لاکٹ؟”  ” کھوپڑیاں نہیں لو گی؟” گارسیا بولا ۔ ” نہیں ۔ محبت ہر تہذیب میں زندہ رہتی ہے ۔ “ ” تم نے کھوپڑیوں کے خوف میں موت کو گلے لگا لیا مگر محبت کا دل والا لاکٹ نہیں پہنا”  “یہ توہم پرستی ہے “ “تو کیا میں اور تم بھی واہمہ ہیں” ہیزل نے خفگی کا اظہار کیا ۔ ” او نو ہیزل تم میری محبت ہو ۔ جیتا جاگتا مجسم ۔ تم محبت کی دیوی ہو” 

” اور تم محبت کے دیوتا بننا سیکھو” شام کو واپسی پر گارسیا کے مزاج میں  پہلے والی بور کرنے والی یکسانیت  نہیں تھی ۔ ڈرائیو اسے اڑن کھٹولا محسوس ہو رہی تھی ۔  

ایک شام ہیزل بہت گہری سوچ میں تھی حالانکہ وہ تازہ دم اور خوش تھی ۔ ” کیا سوچ رہی ہو ۔؟” ” گارسیا میں سوچ رہی ہوں کہ تم دوبارہ سے گائیڈ بن جاو ۔ تم ان جمع کی ہوئی کھوپڑیوں پر سے بلا وجہ دھول صاف کرتے رہتے ہو” ” اب تو ریٹائر منٹ لے چکا ہوں اور عادت بھی نہیں رہی جانے کی” نہیں تم گھر بیٹھے یہ کام کر سکتے ہو ۔ ” وہ کیسے “ 

گارسیا نے پوچھا” ” تم فون پر ان مقامی لوگوں کو مایا تہذیب کے نمونے آرڈر پر بنواؤ اور یہیں گھر پر اپنی دکان سیٹ کرو ۔   میں تمہاری مدد کروں گی ۔ بس خیال رکھنا دل والے لاکٹ، اور کی رنگ اور مدھر بانسریاں زیادہ بنوانا” اور پھر گارسیا نے تہذیبوں کے کھنڈرات سے محبتیں کھوجنی شروع کر دیں ۔  اسے گھر پر ہی تہذیب کے نمونے تیار ہو کر مل جاتے ۔  دل والے لاکٹ کی ڈیمانڈ بہت تھی ۔  کارمن بھی گاہک اٹھا لاتی اور محبت کے تعویذ خوب بکتے ۔ ہیزل کا نیٹ ورک بھی گارسیا کے کاروبار میں اہم کردار ادا کر رہا تھا ۔ ایک دن ویک اینڈ پر شام کی شراب کے گھونٹ پیتے ہوئے ہیزل بولی، ” گارسیا اب تم کھنڈروں کے گا ئیڈ ہی  نہیں بلکہ کھنڈروں کے تاجر بھی ہو ۔  پتہ ہے تم نے ہی کھنڈروں سے محبت کی علامت کے دل والے لاکٹ کھوجے ۔ تم نے محبت کرنا سیکھا اور سکھایا ۔ محبت ہر زمانے کی ضرورت ہے ۔” ” ہاں تم درست کہہ رہی ہو” ” اگلے سال ہم دنیا کی دوسری پرانی کھنڈر تہذیبیں دیکھنے جائیں گے ٹورسٹ کی طرح ۔ ہے ناں” ہیزل چہکی ۔ 

 گارسیا واقعی ایک کامیاب گائیڈ سے خوشحال کھنڈروں کا تاجر بن چکا تھا ۔ اپنے بالوں میں پھیلی چاندی کے باوجود اس کا دل ترو تازہ تھا ۔ وہ اب کھنڈر نہیں بلکہ  کھنڈروں کا تاجر تھا جو  محبت کو تازہ کرنے والے قدیم دل بیچتا تھا ۔ اب وہ ٹورسٹ گائڈ نہیں بلکہ مشہور بزنس مین بن گیا تھا ۔ ہیزل نے اسے سکھایا تھا کہ محبت زندہ ہو تو تہذیبیں مٹ کرکھنڈر نہیں بنتیں‎۔ محبت ہر مردہ تہذیب کے بعد ایک زندہ تہذیب کی بنیادیں رکھ دیتی ہے ۔ 

julia rana solicitors london

کھنڈروں کا تاجر گارسیا ایک بار پھر جی اٹھا۔ 

 

 

 

 

 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کھنڈروں کا تاجر …..(افسانہ)۔۔۔۔۔صادقہ نصیر

  1. کھنڈروں کا تاجر
    صادقہ نصیر کا معمول سے ہٹ کر ایک دلچسپ افسانہ ہے۔ اس افسانہ کے تین پہلو ہیں:
    گارسیاؔ ، کولمبیا یونیورسٹی کا ایک ذہین جوان، جو تاریخ میں امتحان پاس کر کے میکسیکو میں ایک شہر کینکون میں جا بسا جس کے گرد و نواح کے مایاؔ کھنڈرات میں مقامی تاریخ نہ صرف جنم لیا تھا بلکہ پل پلا کر اب اُن کھنڈرات میں آنے والے سفارت کے شواقین کو وہاں کے قصے بھی سُناتی ہے۔ افسانہ، گارسیا کی ایک طرح کی سوانح عمری ہے جہاں کہ وہ ایک طالب ِرزق سے مالکِ افراط بنا۔
    راوی، جس نے آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو سیاحت کا تعارف کرانے کے بعد اُس کے مختلف اسلوب سے بھی قربت کا موقع فراہم کیا۔ کسی بھی جگہ جا کر وہاں گھوم پھر کر واپس آ جانا ایک عام ٹورِست کا معمول ہوتا ہے، لیکن کسی بھی جگہ کو اُن آنکھوں سے دیکھنا جن میں دوربین اور خوردبین دونوں موجود ہوں، اُن کے مالک کو اور ہی مناظر پیش کرتی ہیں۔ صادقہ نصیرؔ کے پاس ان آنکھوں کا تحفہ موجود ہے۔
    مایاؔ تہذیب، کو ایک افسانہ میں پیوند لگا لگا کر بہت میٹھے اور دلچسپ طریقہ سے پیش کیا گیا ہے۔ نہ صرف آپ آج کےکیکون شہر کے رہنے والوں سے مِلتے ہیں، بلکہ وہ جو کبھی یہاں رہتے تھے وہ بھی اس بیانیہ میں آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
    اس کے علاوہ، افسانہ میں کہانی، کردار، امید و یاس اور تحیر سب موجود ہیں
    (سائیں سُچّا)

Leave a Reply