موسمی سختیاں اور ہماری کم بختیاں /محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہمارا وطن ان دنوں سخت سردی، دھند اور اسموگ کی لپیٹ میں ہے۔ گویا امراض تنفس کے کباب اور زہریلے کیچپ کا کھانا ہماری پلیٹ میں ہے۔ باد سموم کا چرچا ہے۔ امراض شدید اورلاکھوں کا خرچا ہے۔ مضرصحت ہواؤں کا زور ہے۔ مبتلا سارا پنجاب، مرکز اس کا لاہور ہے۔ خاص طور پر لاہور نے اپنے بدن پر کہرکی قبا اوڑھ رکھی ہے۔ کبھی سیاہ اوڑھنی لاہوری نظاروں کو ڈھانپتی دکھائی دے رہی ہے، کبھی سرمئی شاموں کی ٹوپیاں، لاہور کی سفید زلفوں کو چھپا رہی ہوتی ہیں اور کبھی یوں لگتا ہے جیسے یہ بانکا شہر تن پہ سیاہ شیروانی پہنے، تاریک راہوں پہ چلتے ہوۓ اپنے ہمساۓ شہروں کو ہم پیالہ و ہم نوالہ ہونے کی یقین دیانی کرانے کے لئے نکل کھڑا ہے۔

لاہور کے پاس گزشتہ کافی عرصے سے دنیا کا آلودہ ترین شہر ہونے کا “اعزاز” ہے. کبھی دلی اور کبھی کراچی کی جانب سے اس اعزاز کو چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر لاہور پھر بازی جیت جاتا ہے۔ لاہور والوں کو ” زندہ دلان لاہور” شائد اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پھیپھڑوں میں اتنی ساری آلودگی اور دھند جمع ہونے کے باوجود بھی پھیپھڑوں کے پڑوس میں واقع ‘دل’ اگر بے دھڑک دھڑکتا ہے اور بلاک نہیں ہوتا تو یہ اس دل کے ” زندہ ” ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔

ان دنوں شدید دھند کی وجہ سے لاہور کے موج مستی کے عادی خوش خوراک شہریوں نے سیرو تفریح اور روٹی شوٹی کے تمام پروگرام ملتوی کر دیئے ہیں۔ صبح سویرے نہاری پاۓ لینے والوں کی قطاریں کم کم دکھائی دیتی ہیں اور حلوہ پوری کا ناشتہ کرنے کے دلدادہ، گھروں سے باہرنکلنے پر ذیادہ آمادہ نہیں ہوتے ہیں۔ جن کے دفاتر ہیں دور افتادہ، وہ جانے کو تیار نہیں ذیادہ، وہ گھروں میں بند رہنے کا کرتے ہیں ارادہ۔ لاہور کے کڑیل جوان پہلوانوں نے کسرت کو چھوڑ کر خود کو کمبلوں سے ڈھانپ لیا ہے، کیونکہ ہہی عافیت کا ایک ذریعہ ہے، انہوں نے بھانپ لیا ہے کہ سرد ویرانوں میں کانپتے ہاتھ پیروں اور بجتے دانتوں کے ساتھ باہر نکلنے کی بجاۓ گرم لحاف بستروں میں پڑے رہنا ہی مسئلے کا حل ہے۔ سورج بھی اپنے منہ پر بدلی کا ماسک پہنے اپنی شعاعوں کو زمین پر پہنچانے سے قاصر رہتا ہے۔ لوگ باگ، آفتا ب کو گہری دھند سے نکل کر آسمان پہ نمودار ہوتا دیکھنے کے لئے اتنے بیتاب و بیقرارہوتے ہیں جیسے وہ سورج نہیں عید کا چاند دیکھنے کے متمنی ہوں۔ واقعتاً جب شام ڈھلے ڈوبتے سورج کی کرنیں نیچے اترتی نظر آتی ہیں تو چہروں پہ خوشی کے جذبات دیدنی ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر کو ہی سہی، پھر ہر سو پھیلے کہر کے پہر اور یخ بستہ ہواؤں کے قہر باہم مل کر ٹھٹھرتے سوالوں سے متاثرین کے احوال پوچھتے ہیں۔

لاہور پہ ہی موقوف نہیں، راولپنڈی – اسلام آباد اور کے۔ پی۔ کے۔ کے علاوہ دوسرے شہروں تک دھند کا دھندہ زورشور سے جاری رہتا ہے۔ دوسری جانب لاہور کا ساتھ دینے کو گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان، حتیٰ کہ سمہ سٹہ اور روہڑی تک دھند کی روڑی بچھی ہوتی ہے۔ ادھر موٹر ویز آدھے دن کے لئے حفظ ما تقدم کے طورپر بند کر دی جاتی ہیں۔ کیونکہ ماضی میں دھند میں گاڑیوں کا چلتا پھرتا اجتماع، اجتماعی حادثات کا شکار ہو جاتا تھا۔ اس لئے جسم کو چھیدتی سرد ہواؤں میں گرما گرم سوپ پینے کے شوقین، دودھ کے جلے لوگ، چھاجھ بھی پھونک پھونک کر پینے پر مجبورہوتے ہیں۔ اس لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ ایسے سفر سے گریز کریں جس کی پاداش میں آپکو انگریزی کا سفر suffer بھگتنا پڑتا ہے۔ لہووری موسم کی آنکھ مچولی سے ایسے ہی حیران پریشان ہو جاتے ہیں جیسے ان سے راستہ پوچھنے والا انجام بندہ ان کی ” سجی تے کھبی ” رہنمائی کے بعد شہر میں سرگرداں پھر رہا ہوتا ہے۔

اگر بارشیں برسنے کو ہوں، کالی گھٹائیں چھا جائیں، گرمی ہو یا سردی، دکھا رہی ہوں بیدردی، شائقین طعام پکوڑے اور سموسے کھانے کو بے چین ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح حال پوچھتی ٹھنڈ ہو اور رم جھم بارش کا گھمنڈ میں، ایسا دکھاۓ جلوہ کہ کھانٔے کو دل چاہے گاجر کا حلوہ۔ ابلے ہوۓ گرم انڈوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ فوڈ اسٹریٹس کی رونقیں دوبالا اور قیمت چڑھ جاتی ہے۔ بادام، پستے والی کشمیری چاۓ کا چسکا اورگرما گرم مچھلی کھانے کا شوق سردی کو بھگانے کا حیلہ بن جاتا ہے۔ رہی بات چکن کارن سوپ کی، تو پینے والے کو یوں لگتا ہے جیسے مل رہی ہوحرارت دھوپ کی۔ پھر سب کوٹ سویٹر اتار کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ بالٹی گوشت اور سیخ کباب کے مزے بھی اس موسم کی عطا ہوتے ہیں۔ گویا سردی آور نزلے زکام کی دوا ہوتے ہیں۔

ہمارے لوگ جس طرح دوسروں پر زور زبردستی کرتے اور حد سے تجاوز کرتے ہیں اس کے اثرات موسموں نے بھی قبول کر لئے ہیں۔ پچھلی برسات نے ایسی ایسی زیادتیاں کیں کہ بےرحمانہ بارشوں نے تمام حدیں پار کر دیں۔۔ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں میں وہ طغیانی آئی کہ اللہ کی پناہ۔ ڈیمز کے پانیوں نے وہ ادھم مچایا، وہ آہ و بکا کی کہ ڈیمز کے بند دروازوں کو کھول کر پانیوں کو بند کی قید سے آزاد کرنا پڑا۔ سیلابوں نے الگ اپنے ضبط کے بند توڑ ڈالے اور پانی بپھرتا ہی چلا گیا۔ اور اب موسم سرما کی باری ہے۔ پیشین گوئیاں تھیں اب کی بار سردیاں بھی پہلے سے زیادہ شدت سے حملہ آور ہونگیں۔
اس موسم پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ رہے ہیں۔ اس کے رنگ ڈھنگ ابھی سے دکھائی دے رہے ہیں۔ اللہ جانے آنے والی گرمیوں کے کیسے غصیلے نازو انداز دیکھنا پڑیں گے۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے۔ آمین۔

julia rana solicitors

اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں موسمیاتی تغیرات اور درجہ حرارت میں اضافہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ وہاں اس میں انسانوں کا برابرکا کردار اورعمل دخل بھی شامل ہے۔ خاص طور پر ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے فضائی کثافت کو بڑھانے اور زہریلی گیسوں اور کارخانوں کے فضلے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے میں کوتاہی شامل حال رہی ہے۔ جہاں تک ایشیائی ممالک اور بالخصوص برصغیر پاک و ہند کا تعلق ہے۔ یہاں بھی اس سلسلے میں ماحول کے تحفظ سے عدم آگاہی اور لا تعلقی نے فضائی ماحول کو خراب کرنے اور آلودگی میں اضافہ کرنے میں دانستہ کردار ادا کیا ہے۔ مثلا ہم فصلوں کی باقیات کو جلا کر ہوا میں دھویں کی مقدار کو مسلسل بڑھاتے رہے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں اور فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھویں نے بھی فضائی ماحول کو مصر صحت بنا دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور دیگر رسل و رسائل میں استعمال ہونے والا دھواں چھوڑتا ایندھن کا بے محابہ استعمال بھی فضائی آلودگی کا بڑھاتا رہا ہے۔ علاوہ ازیں جنگلات کی آگ اور درختوں کی کٹائی سے فضا میں آکسیجن کی مقدار کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں خاطر خواہ اصلاحی اقدامات نہیں کئے۔ نتیجے کے طور پر صدیوں سے پہاڑوں پہ جمی برف اور گلیشئرز کے پگھلنے سے سمندروں اور دریاؤں میں طغیانی اور میدانوں میں سیلابوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں جن سے فصلوں اور املاک کو ناقابل برداشت نقصان پہنچ رہا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply