میں چائے پینے کے لیے ایک ریستوراں میں داخل ہی ہوا تھا کہ میری نظر ایک دانشور ٹائپ بندے پر پڑی۔پا بہ گل، خاک بر سر برہنہ، سر چاک ژولیدہ مو، سر بہ زانو، تو میں سمجھ گیا اس کا← مزید پڑھیے
رات سیاّل ہے سیمگوں ظرف میں ہے انڈیلا اسے ایک جرعہ بھرا اور ستارہ ہوئی اندروں ہے نمی ایک سرخی اذیت بھری جھرجھری اک سفیدی کہ لذت سے آمیخت ہے زندگی کھل اٹھی اب ہے سجدہ فگن ایک نوخیزپن روح← مزید پڑھیے
بے جی گاؤں سے باہر جاتیں تو برقع اوڑھتیں اور پردہ کرتیں۔اسے شٹل کاک برقع کہا جاتا تھا۔اب شاید وہ برقع کسی عجائب گھر کی زینت ہو۔ ویسا برقع دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔ بے جی وہ برقع پہنتیں← مزید پڑھیے
کارل مارکس نے صحافت کے بارے میں بہت خوبصورت بات کی ہے کہ صحافت اس اطلاع کا نام نہیں کہ فلاں انسان مر گیا بلکہ صحافت اس اعلان کا نام ہے کہ یہاں کوئی مرنے والا ہے۔ہمارے صحافی بھائی اب← مزید پڑھیے
بینکاری وہ شعبہ ہے جس میں آ کر کامیاب آدمی بھی افتخار جالب ہو جاتا ہے اور جمیل الدین عالی کو بینک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ کر بھی اپنی پہچان دوہا جیسی صنف ِادب بتانی پڑتی ہے۔اوروں کا← مزید پڑھیے
سیکنڈ کلاس شہری اور میں اکٹھے پلے بڑھے۔ساتھ ساتھ ہی ہمارے گھر تھے۔ سو اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا بھی اکٹھا سا تھا۔ہم ہم عمر تھے سو اکٹھے جوان ہوئے تو اسے باہر جانے کا شوق چڑآیا اور ہمیں ملک میں← مزید پڑھیے
ایران، ترکی، یونان اور سپین کا ڈنکی روٹ غربا کا روٹ تھا اور غریب خاندانوں کے ان بچوں کے لیے تھا جن پر یہاں کے سسٹم اور حاکموں نے زندگی تنگ کر دی گئی تھی۔وہ غربت کے چنگل سے کسی← مزید پڑھیے
گلی میں داخل ہوتے پہلا گھر ہمارا تھا یعنی گلی ہمارے گھر سے آغاز ہوتی تھی۔یہ غربا کی گلی تھی جدید زبان میں اسے Slum Area کہا جاتا ہے۔یہ گلی نشیب میں واقع تھی اور اونچائی پر بازار تھا جہاں← مزید پڑھیے
خدا کے کلام پر گرہ لگانا حضرت جامی کا ہی کام ہے ہم تو پڑھ کر سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں۔بسم اللہ الرحمان الرحیم کے نو رکن ہیں اس پر حضرت جامی نے گرہ لگائی ہست کلید در گنج حکیم← مزید پڑھیے
ہمارے پاس چار پانچ اعلی قسم کی لغات ہیں ان میں ہماری زیادہ دلچسپی ان الفاظ سے ہوتی ہے جو متروک ہو چکے ہوں۔ہمارے شعرا اساتذہ میں ایک شاہ حاتم تھے وہ اپنے ناپسندیدہ الفاظ کو اردو یعنی ریختہ سے← مزید پڑھیے
بچوں کے نام رکھنے کی فلاسفی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔پنجاب کے علاقے میں بچوں کے نام رکھنے کی روایت بہت سارے حقائق اور خواہشات کی آئینہ دار ہے۔یہاں ایک دو عشرے قبل تک بھی سکندر اعظم← مزید پڑھیے
ہمارے سیاسی محبوب عشقیہ محبوبوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔لہذا فراز سے ہماری ادبی نہیں سیاسی چپقلش ہے کہ ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا فراز بیچارہ بھی شاعر ہی← مزید پڑھیے
افتخار جالب نے تحریر میں جس لسانی تشکیل کا ڈول ڈالا تھا احمد جاوید نے وہی کام تقریر میں جاری کیا۔ موسیقی روح کی غذا اور نصیبو لال کسی بدروح کی غذا ہے۔منٹو کا معاشرہ صرف اس کے افسانوں میں← مزید پڑھیے
میں نے اردو کے بڑے شعرا کی ترتیب میں میر، غالب اور اقبال کے بعد یگانہ کو رکھا تو آدھے سے کہیں زیادہ دوستوں نے اس ترتیب کو جیسے سنا ان سنا کر دیا۔بہت سوں نے حیرت کا اظہار کیا۔← مزید پڑھیے
غزل وہ بددعا ہے جو ہر شاعر کو لگتی ہے۔ پرچے اور خرچے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مدیر کو پرچے کے صفحات کا تعین علم الاعداد کی روشنی میں کرنا چاہیے۔ علم الکلام مذہب سے متعلق ہے اور کلام← مزید پڑھیے
ناموں کا معاملہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ لوگوں کے نام ہوں شہروں کے یا ادبی جرائد کے ان کی اہمیت مسلم ہے۔موجودہ یا ماضی قریب کے بہت سارے ادبی جرائد کے نام آج کی مستعمل زبان میں گویا ایک مارکہ← مزید پڑھیے
عطاالحق قاسمی کی کلیات منصہ ِشہود پر آیا تو اس کی پہلی کاپی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک تو شعری کلیات کا تحفہ اور ثانیاً سب سے پہلے وصولی یعنی ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ ہو گیا← مزید پڑھیے
غزہ کے فلسطینی خاندانوں کو کہیں بھی چلے جانے اور منتقل ہونے کا حکم دے کر اسرائیل اس بات کو یقینی نہیں بنا رہا ہے کہ وہ زندہ رہیں بلکہ انہیں محض یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ کسی← مزید پڑھیے
سیاست اور سیاست دان ہماری جمہوری معاشرت کا اہم جز ہیں۔سیاست دان ہی ملکی معاملات سر انجام دینے کے اہل اور قابل ہیں۔ان کے بارے میں سوئے ظن سے بچنا لازمی ہے۔وہ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔بین السطور← مزید پڑھیے
سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی عوام کے خلاف پرتشدد خونی مہم شروع کی۔ اس کا خمیازہ غزہ کے مکینوں کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ مگر،غزہ میں جاری تشدد کا مقصد “انتقام” کی پیاس بجھانا← مزید پڑھیے