Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔
بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔
ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔
برسوں سے ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم کی اصلاح کس طرح کی جائے۔ کبھی نصاب کی تبدیلی کو نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے، کبھی اساتذہ کی تربیت کو بنیادی مسئلہ قرار دیا جاتا← مزید پڑھیے
برصغیر پاک و ہند میں عام طور پر فتویٰ کو ایک علمی رائے کے بجائے حتمی، فیصلہ کن اور واجب التعمیل حکم سمجھ لیا گیا ہے، گویا یہ کسی عدالتِ عالیہ کا آخری فیصلہ ہو جس کے بعد نہ سوال← مزید پڑھیے
اسلام محض چند عبادات یا رسوم کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو فرد کی باطنی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ظاہری ترتیب کو بھی منضبط کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد جس اصول پر← مزید پڑھیے
علماء امت کی فکری گہرائی، مسائل پر گہری نظر اور اجتہادی بصیرت ہمیشہ اسلامی تہذیب کا روشن باب رہی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ہر دور کے فکری انتشار میں دین کو جمود نہیں بلکہ رہنمائی کا سرچشمہ← مزید پڑھیے
رات کی مدھم چاندنی جب ڈاکٹر بخت روان کے حجرے پر ٹھہری ہوئی تھی، ہم چند احباب ایک ایسی نشست میں جمع تھے جو محض ملاقات نہیں، وقت کے گزرے ہوئے اوراق کی ورق گردانی تھی۔ عشائیے کے بعد چائے← مزید پڑھیے
مولانا فضل الرحمن کی سیاست، ان کے بعض سیاسی اتحاد، وقتی فیصلے اور عملی حکمتِ عملیاں ہمیشہ اختلافِ رائے کا موضوع رہی ہیں، اور یہ اختلاف بجا بھی ہے۔ سیاست میں اتفاقِ رائے ایک غیر فطری شے ہے۔ مگر اس← مزید پڑھیے
یہ محض کسی ایک امتحانی سال کی خبر نہیں، بلکہ ایک طویل پس منظر کے ساتھ سامنے آنے والی تشویش ناک حقیقت ہے۔ حالیہ میٹرک نتائج نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا کے قریب ایک ہزار← مزید پڑھیے
یہ تحریر نہ کسی فرد کی مدح سرائی ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کی تشہیر، اور نہ ہی اسے کسی عقیدت نامے کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ یہ دراصل اعتماد کی ایک کہانی ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاست کو اگر شور، نعروں اور وقتی بحثوں سے ہٹا کر ٹھنڈے دل و دماغ سے دیکھا جائے تو ایک بنیادی تضاد صاف نظر آتا ہے۔ ایک طرف مورثی قیادت پر تنقید ہے، دوسری طرف تنظیمی اور نظریاتی← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں بعض الفاظ ایسے ہیں جو روزانہ اتنی بار دہرائے جاتے ہیں کہ آخرکار اپنی روح کھو بیٹھتے ہیں۔ “میرٹ” بھی انہی مظلوم لفظوں میں شامل ہے۔ یہ لفظ تقریروں میں بڑے اعتماد سے بولا جاتا ہے، بیانات میں← مزید پڑھیے
یورپ اور مغرب کی ترقی کا سوال محض ایک تاریخی بحث نہیں بلکہ ایک فکری امتحان ہے۔ یہ سوال دراصل ہم سے یہ جانچتا ہے کہ ہم تاریخ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں: نعروں کی آنکھ سے، تعصبات کے← مزید پڑھیے
کہتے ہیں تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں تاریخ سے زیادہ بے رحم اس پر تبصرہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ مکمل ہو یا ادھورا، نیت نیک ہو یا بدنیت، نتیجہ اچھا ہو یا برا، ایک← مزید پڑھیے
رشید یوسفزئی کی پشتو تصنیف “پاشلی فکرونہ” کے بعد جب ان کی اردو کتاب “آوارہ خیالات” کا مسودہ سامنے آیا تو یوں محسوس ہوا جیسے ایک نئی فکری دنیا نے اپنے دروازے کھول دیے ہوں۔ ہر صفحے پر کوئی تازہ← مزید پڑھیے
زندگی کے سب سے مشکل لمحے وہ نہیں ہوتے جہاں راستہ بند ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں کئی راستے سامنے ہوں اور انسان کو معلوم نہ ہو کہ کس سمت قدم بڑھایا جائے۔ ایسے لمحوں میں انسان عموماً یا← مزید پڑھیے
یونیورسٹیوں کی یہ بہار بھی کچھ عجیب ہے۔ خیبر پختونخوا کے نقشے پر اگر تعلیمی اداروں کی نشانیاں لگائی جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر ضلع میں کسی وزیر، مشیر یا ایم پی اے نے ووٹ لینے کے← مزید پڑھیے
انسانی تاریخ کی گزشتہ چند صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے جو انقلاب برپا کیا، وہ تمدن کی سمت بدل دینے والا واقعہ ہے۔ انسان نے خلا کی وسعتوں کو ناپا، مصنوعی ذہانت ایجاد کی، بایوٹیکنالوجی سے زندگی کی بناوٹ← مزید پڑھیے
نوٹ: علمی ، تعبیری ،سیاسی اور اصولی و فروعی اختلاف آپ کا حق ہے لیکن بلا دلیل الزام یا پچھ الفاظ یا فتوی بازی کم علم لوگوں کی نشانی ہے۔ انسانی زندگی کے کچھ ایسے سوالات ہیں جو ازل سے← مزید پڑھیے
بونیر کے حالیہ سیلاب میں امدادی سرگرمیوں میں بارہا یہ منظر آنکھوں کے سامنے آیا ہے کہ متاثرین کو جو اشیائے خورد و نوش یا کپڑے امداد کے طور پر ملتے ہیں وہ ان کی اصل ضرورت سے میل نہیں← مزید پڑھیے
کتاب، محض صفحات پر بکھرے الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب کا آئینہ، ایک فکر کا دریا، اور سوال کی شکل میں اُبھرتی ہوئی روشنی ہے۔ یہ روشنی جب بھی اندھیروں سے ٹکرائی، جب بھی روایت، طاقت یا مذہبی← مزید پڑھیے
پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی و سیاسی تجربہ ہے جو تاریخ کے ایک خاص سیاق و سباق میں ابھرا۔ اس کی پیدائش ایک ایسے وقت میں ہوئی جب عالمی سامراج بکھر رہا تھا اور نوآبادیاتی اقوام← مزید پڑھیے