مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
شام میں مارچ 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور یہ آج تک جاری ہے، ان 11برسوں نے ملک کی چولہیں ہلا کر رکھ دیں، ساڑھے پانچ لاکھ لوگ ہلاک اور 21 لاکھ زخمی ہوئے اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے← مزید پڑھیے
بعض اداروں کی کہانی عجیب ہوتی ہے۔ انجمن ترقی اردو کا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے ۔ یہ ادارہ 1903 میں قائم ہوا اور جب انگریز حکمرانوں نے اپنی نوک قلم سے برصغیرکو دولخت کیا تو ہزاروں شہر اور قصبے← مزید پڑھیے
جدید خیالات نے کروٹیں بدلنا شروع کیں تو نئی دنیا , نئے لوگ, نئے رنگ اور نئے خیالات نے ہر طرف اپنے قدم جمانے شروع کیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرانی تہذیب اور نئی تہذیب کے لوگوں میں اختلاف رائے جنم← مزید پڑھیے
آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت کہتی ہے کہ ہم نے تیاری کرلی ہے، بلڈ شیڈ نہیں ہوگا، مختلف شہروں اور جگہوں میں پانچ سو کمیرے وغیرہ لگائے ہیں۔ دوسری طرف وزیر داخلہ موصوف فرما رہے ہے کہ لاء انفورسمنٹ← مزید پڑھیے
یہ 1958 کا واقعہ ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق کے لیے خوبصورت بندروں کی دو ٹولیاں پال رکھی تھیں۔ انھیں مختلف مفروضوں کی پڑتال اور ادویات کے اثرات کے لیے استعمال کیا جاتا۔ اچانک ان بند روں کی کالونی میں چیچک← مزید پڑھیے
جنوبی ایشیاء میں جہاں اسوقت پاکستان ایک سیاسی اور آئینی بحران سے گزر رہا ہے، سری لنکا ایک بدترین اقتصادی بحران کا سامنا کر رہا ہے، وہیں بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اسکے ہمنوا اصل← مزید پڑھیے
“چولستان میں تیز بارش ژالہ باری، روہیلوں کا جشن “کل رات Aslam Malik صاحب کی وال پر یہ خبر پڑھی تو اللہ کا بے حد شکر بھی ادا کیا، لیکن ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ اے کاش جشن منانےکے← مزید پڑھیے
کرونا کی وبا سے قبل وطن یاترا کو گیا تو اپنے ہاں کے دو لکھاریوں قمر رحیم اور جاوید خان سے پہلی مرتبہ ملاقات کا موقع ملا۔ دونوں احباب کی تحریریں پڑھتا رہتا تھا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے← مزید پڑھیے
گزشتہ سال مرزا یاسین بیگ صاحب نے ایک تحفہ مجھے بھیجا تھا اس کے بارے میں اپنا اظہار ِ خیال پیش خدمت ہے : یاسین بیگ صاحب کا ایک پارسل جسے میں سالِ نوء کا تحفہ کہوں گا، وصول ہوا← مزید پڑھیے
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ مذاق پسند نہیں کرتے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے بس سنجیدہ بات کی جائے اور جب آپ ان سے پوری سنجیدگی سے کوئی بات کرتے ہیں تو جواباً وہ بھی← مزید پڑھیے
شدت پسندی کی وہ لہر چل نکلی ہے کہ اب مجنوں کی محبت کی شدت بھی ڈرانے لگی ہے۔ نفاق نے معاشرے کے حسن کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ ہر کس و نا کس اس شخص کو قرار واقعی سزا دینا چاہتا ہے، جس پر سچا جھوٹا کوئی سا بھی الزام ہو۔ یہاں اس دیس میں مجرم اور ملزم کا فرق مٹ چکا ہے۔ "تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔"← مزید پڑھیے
سیرت ابن ہشام میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدماتِ دین کے حوالے سے لکھا ہے ۔ “حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کے حوالے سے نبی کریمﷺ کی مشیر تھیں۔ ” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا← مزید پڑھیے
ڈئیر سہیلی صاحبہ! یہ جان کر افسوس ہوا کہ آپ کو میرے فوت ہونے کا کوئی افسوس نہیں ہوا۔ الٹا آپ کو فکر پڑ گئی ہے کہ میں 72 حوروں کو لئیے بیٹھا ہوں۔ اگر 72 حوریں حقیقت میں ملتیں← مزید پڑھیے
سلطنت چلغوزہ سےخبریں کچھ اچھی نہیں آرہیں ,حالانکہ اس موسم میں تو وہاں سے گرج چمک کے ساتھ آندھی اور طوفان پنجاب کے مغربی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔ جہاں پورے ملک میں دہائیوں کی سب سے سخت خشک سالی← مزید پڑھیے
اگر کوئی اسے غلو نہ سمجھے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حفاظت اور اسلامی مزاحمت کی معجزانہ پیشرفت میں تین افراد کا کردار بنیادی ہے۔ ایک سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ← مزید پڑھیے
کیا آپ نے کبھی کسی کی زندگی کا جبری بلاتکار ہوتے دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو آئیے بتاتا ہوں کہ کسے کہتے ہیں جبری بلاتکار کل بازار میں ایک دوست نظر آگئے تو ان کے پاس رک گیا، حال← مزید پڑھیے
جب کوئی بھی ادارہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہو اور مستقبل قریب میں اس کے شیرازہ بکھرنے کے واضح آثار نظر آ رہے ہوں تو اس ادارے سے وابستہ مخلص ذمہ داران سرجوڑ کر ایک ایسی پالیسی← مزید پڑھیے
لیکس فیم ریسرچ سینٹر، سیفاسل فاؤنڈیشن، فرانس اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات، الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی، الماتی کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر فرانسیسی یونیورسٹی آف لی ہاورے (ULH) نے اس موضوع پر ایک کانفرنس کی میزبانی کی۔ 11 اور← مزید پڑھیے
کل عمران خان نے مریم نواز کیلئے جو بھی کہا وہ قابلِ مذمت بھی ہے اور قابلِ افسوس بھی ۔۔ اور یہ سب کچھ اتنا نیا بھی نہیں کیونکہ بات تو تلخ ہے لیکن ہمارے مُلک کے عام گلی محلوں← مزید پڑھیے
تہذیب زمانوں کی پیداوار ہوتی ہے اور اس میں سانس لینے والی روایتیں ، رسوم، لفظ، محاورے اور ضرب الامثال کسی ایک دہائی یا صدی پر محیط نہیں ہوتیں بلکہ ان کی پیدائش اور تراش خراش کئی کئی نسلوں کا← مزید پڑھیے