مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

لیڈر بننے کا سفر جواب دہی: اختیار کا اخلاقی حساب(5)-مصور خان

قیادت کا اصل امتحان فیصلہ کرنے کے لمحے پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، اور پھر لیڈر سے سوال کیا جاتا ہے۔ جواب دہی اسی←  مزید پڑھیے

اندرونی اور بیرونی پرسیپشن/قاسم یعقوب

آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں، کس افسانہ نگار کو زیادہ پڑھا یا کون سا ناول آپ کو بہت اعلیٰ فن پارہ لگتا ہے تو سو←  مزید پڑھیے

ڈسپوزایبل محبت….صادقہ نصیر

ڈسپوزایبل محبت کیا کریں ہمیں ایک تومحبت ہو جاتی ہے۔ وہ بھی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ ہر راہ پر ہر موڑ پر ہر ایک سے ہوجاتی ہے۔ چند لوگوں سے تو خاص ہی ہوتی ہے اور کسی ایک سے←  مزید پڑھیے

بسنت، ثقافت اور عوامی اختیار: تجارتی تہواروں کے تحت عوام کی بے بسی/سائرہ رباب

ثقافت صرف رنگ، موسیقی، یا تصویروں کا نام نہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ایک سماج میں لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کیسا ہے، وہ اپنی زمین، زبان، وسائل اور ایک دوسرے سے کس حد تک←  مزید پڑھیے

فل اسٹاپ/مقصود جعفری

میز پر دھرے پراٹھے کے بچے ہوئے ٹکڑے کا ذائقہ اس جھوٹ جیسا تھا جو عموما ہم اپنے باپ کے ساتھ بولتے ہیں ۔ اس کے ساتھ رکھی چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ کسی بوڑھے کی آخری ہچکیوں کی←  مزید پڑھیے

ادھوری ملاقات/ علی عباس کاظمی

یہ بات اب ماضی لگتی ہے مگر کبھی یہ حال تھا کہ خط لکھنا بھی ایک پورا دن مانگتا تھا۔ قلم ہاتھ میں آتا تو الفاظ فوراً نہیں اترتے تھے دل کو پہلے سنبھالنا پڑتا تھا۔ شاید اسی لیے میں←  مزید پڑھیے

میچ میکنگ۔۔(افسانہ)۔۔۔۔صادقہ نصیر

میچ میکنگ۔۔ “آپ کی نظر میں کوئی رشتہ ہے”؟۔ میری دوست نے کہا ۔ “کس کے لئے ؟ “ میں نے پوچھا۔ “میرے بیٹے کے لئے اور بیٹی کے لئے “ پھر خود ہی تعارف بڑھاتے ہوئے بولی۔”ماشاللہ دونوں ہی←  مزید پڑھیے

گڑ کی سوغات اور اس کے کمالات/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

گڑ ہمارا سماجی و ثقافتی سرمایہ ہے۔ یہ شہر شہر گاؤں گاؤں، بڑے بڑے اسٹورز ہوں یا گلی کے نکڑ پر موجود کریانے کا کھوکھا ہو، ہر جگہ اپنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں نظر آتا ہے۔ اس کے سب←  مزید پڑھیے

لیڈر بننے کا سفر – فیصلہ سازی: قیادت کا عملی امتحان(4)-مصور خان

لیڈر بننے کا سفر فیصلہ سازی: قیادت کا عملی امتحان قیادت کا اصل امتحان اس لمحے شروع ہوتا ہے جب لیڈر کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار نیت کو سنوارتا ہے اور دیانت اعتماد پیدا کرتی←  مزید پڑھیے

تاج برطانیہ کی ریاست ہنزہ نگر کے خلاف فوجی مہم (3) – اشفاق احمد ایڈوکیٹ

ریاست ہنزہ نگر کے خلاف اس جنگ کے متعلق کرنل ڈیورنڈ اپنی مشہور تصنیف “دی میکنگ آف اے فرنٹیر” میں لکھتے ہیں کہ نومبر 1891ء تک صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی۔ وادیِ سندھ کے قبائل بونجی پر حملے کی←  مزید پڑھیے

اپنی اہمیت پہچانیں/ علی عباس کاظمی

یہ تحریر دراصل ایک خاموش نصیحت ہے اُن دِلوں کے نام جو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں، بہت زیادہ سہہ لیتے ہیں اور بہت کم اپنے لیے جیتے ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے لیے سبق ہے جو دوسروں کو خوش←  مزید پڑھیے

پولیس افسر کی خود نوشت/اسلم اعوان

زندگی کی توانائیوں سے لبریز پولیس آفیسر ، ذوالفقار چیمہ ، کی خود نوشت پر تبصرہ لکھنا محض کتاب پر رائے دینا نہیں بلکہ یہ معاشرے کے اخلاقی اور سماجی بیانیے سے مکالمہ کے مترادف ہو گا کیونکہ اُن کی←  مزید پڑھیے

آج کی دھمال۔۔صادقہ نصیر

آج کی دھمال۔۔ ہر چیز جو اب جھیلی نہیں جاتی۔ جاو اداسی اب بہت ہوچکی اب دل سے اتر گئی ہو۔ جدائی! اب جدا ہوجاو ۔ وقت جدائی ہے۔ اے زہر کے پیالو! اب زہر کی معیاد بھی ایکسپائر ہوچکی←  مزید پڑھیے

کیا نظریۂ ضرورت کے تحت دین ساقط الاعتبار ہو سکتا ہے؟ – وحید مراد

عقل، علم اور ضرورت : ایک فکری الجھن کا جائزہ معاصر سماجی اور فکری فضا میں “ضرورت” کا لفظ اپنی اصل معنویت سے خاصا دور ہوچکا ہے اور بعض تناظرات میں ایک مشتبہ تصور کے طور پر سمجھا جانے لگا←  مزید پڑھیے

یومِ یکجہتی کشمیر/ علی عباس کاظمی

پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک سرکاری چھٹی نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو لوگوں کو کشمیر کے مسئلے اور وہاں کے عوام کے حالات کے←  مزید پڑھیے

حامد یزدانی ؛ تاثیرِ حیرت کی دعا مانگتا ہوا شاعر / سجاد بلوچ

ٹنوں کے حساب سے ہونے والی شاعری اور ہزاروں کی تعداد میں چھپنے والی کتابوں میں سچی بات یہ ہے کہ کم ہی کوئی ایساشعری مجموعہ ہاتھ آتاہے کہ جسے کھولتے ہی ایک سرخوشی کا احساس آپ کو جکڑ لے۔←  مزید پڑھیے

وِکست بھارت میں فروغِ عبدل (ایک غیر مطبوعہ افسانہ)- اشعرنجمی

عبدالمجید کے دفتر کی فضا میں ایک ایسی مصنوعی تازگی تھی جو صرف مہنگے فلٹریشن سسٹم اور اقتدار کی قربت سے میسر آتی ہے۔ میز پر پھیلے ہوئے رنگین بروشرز اور ’اردو کتب میلے‘ کے نقشے کسی جنگی حکمت عملی←  مزید پڑھیے

صفر کی گونج/مقصود جعفری

اندھیرا گہرا نہیں تھا۔ یہ سیاہی نہیں تھی، بس روشنی کی غیر موجودگی تھی۔ اور وہ اس غیر موجودگی کے عین بیچ میں کھڑا تھا۔ نام؟ اس کے لیے نام ایک اضافی بوجھ تھا۔ وہ تو بس ہونےکا ایک نقطہ←  مزید پڑھیے

اللہ دیکھ رہا ہے /علی عباس کاظمی

یہ بظاہر ایک عام سا واقعہ تھا، ایک معمول کی خریداری۔۔۔ مگر اس نے سوچ کے کئی بند دروازے کھول دیے۔ ایک مارٹ میں داخل ہوئے تو ذہن بکھرا ہوا تھا، نظریں اشیاء پر تھیں اور دل لاپرواہی میں ڈوبا←  مزید پڑھیے

تہوار کیوں ضروری ہیں-سائرہ رباب

نوآبادیات محض فوجی قبضے کا نام نہیں۔ جب بھی کوئی کولونائزر کسی خطے پر قابض ہوتا ہے تو اس کا بنیادی مقصد وسائل، خام مال اور محنت کی لوٹ کھسوٹ ہوتا ہے، اور مقامی لوگوں کو ان کی زمین، جغرافیہ←  مزید پڑھیے