میر واہ کی راتیں (قسط2)۔۔۔ رفاقت حیات
یعقوب اس کے گھٹنے پر ہاتھ مار کر قہقہے میں لوٹنے لگا۔ ’’تم اب بچّے نہیں رہے۔ ماشا اللہ سمجھ دار ہو۔‘‘ باتوں کے دوران چائے والا آ گیا۔ نذیر نے پیالیوں میں چائے ڈالی۔ کاریگرچائے پی کر اُٹھا اور← مزید پڑھیے
