مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

پاکستان میں رئیل سٹیٹ کا کاروبار۔۔۔اعظم معراج

کچھ دن پہلے پنجاب حکومت نے زرعی ا راضی کو ہاؤسنگ کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے  2013  میں   اپنی کتاب پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش←  مزید پڑھیے

حالیہ عورت مارچ اورمخصوص مائنڈسیٹ کی پریشانی۔۔۔۔مہک سلیم

حالیہ عورت مارچ سے صرف دو نعرے پیش ہیں۔ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ ’’اپنا بستر خود گرم کرو اور اپنی ڈِک پکچر اپنے پاس رکھو!!‘‘ یہ نعرے تازیانے کی طرح لگے اور فیس بک کے صفحات نیکو کار مردوں اور←  مزید پڑھیے

ایمنسٹی یا رسہ گیری ۔۔۔۔اعظم معراج

وہ جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل کی گئی ایک فلاحی ریاست تھی بانیان ریاست کے جلدی فوت ہو جانے سے ہوس زرو اقتدار کے پجاری اس کے مالک بن بیٹھے حکمرانوں کے ساتھ مل کر اشرافیہ لوٹ کھسوٹ اور معاشی←  مزید پڑھیے

میرا شہر۔۔۔۔ طاہر حسین

میرا شہر کونسا ہے۔۔ چکوال؟ جہاں میری نال گڑی۔ جس کی مٹی میں میری قیمتی امنانتیں دفن ہیں۔ مگر یہ شہر میرا کیسے ہوا۔۔ یہاں تو بس زندگی کے ابتدائی چند سال گزرے۔ ہاں یہ خواہش میرے دل میں ضرور←  مزید پڑھیے

بامیان بودا کے عظیم الجثہ مجسمے ۔۔۔۔اسحاق محمدی

1997کے وسط میں بامیان کے عظیم بودا مجسموں کے متعلق میرا ایک طویل مقالہ روزنامہ جنگ کے “سنڈے میگزین” میں چھپا تھا جسے کافی سراہا گیا تھا۔ بعد میں جب مارچ 2001 میں طالبان کے ہاتھوں ان شاندار انسانی شاہکاروں←  مزید پڑھیے

کچلے ہوئے غنچے ۔۔۔۔ام عفان سید

خوش رنگ پھول پورے باغ میں رونق لگائے ہوئے تھے۔ سرخ ، عنابی، گلابی، پیلے، نیلے، ہرے، سفید حتی کہ کالے گلاب بھی اپنی چمکدار جلد کو سورج کی روشنی میں نمایاں کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ہلکے گلابی رنگ←  مزید پڑھیے

قصہ ہمارے شاعر دوست کا۔۔۔عنبر عابر

جب  وہ تازہ تازہ فیسبک پر وارد ہوا تھا تو اندھیر نگری چوپٹ راج تھا۔ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔مصرعِ طرح سمجھ کر ہر ایک اس پر طبع آزمائی کرتا۔ شہہ پاکر وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر←  مزید پڑھیے

حواس باختہ بھارتی حکومت۔۔۔طاہر انعام شیخ

پلوامہ حملے اور پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حملوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے نمایاں کردیا ہے اور یہ کہ اگر دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان تنازع کی اس بنیادی وجہ کو←  مزید پڑھیے

ابھی ہم زندہ ہیں۔۔ تو کیوں نہ مل لیا کریں کبھی کبھی ۔۔۔۔۔۔ابن آس محمد

عزیز دوست، بچوں کے اہم ادیب، اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظفر احمد خان سے آخری ملاقات اس انداز میں ہوئی کہ وہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا تھا، نہ جواب دے رہا تھا، بلکہ سن ہی نہیں رہا تھا←  مزید پڑھیے

ہر فرد ہے ملت کے امیج کا سفارتکار۔۔۔احمد نصیر

جیسا کہ میں نے کچھ دن قبل بھی گزارش کی تھی، سوشل نیٹ ورک میں مقید اس گلوبل و گوگل ویلیج دور میں دراصل ہر فرد ہی انفرادی حیثیت میں سفارتکار ہے، ہم سب جہاں جہاں جس جس حیثیت میں←  مزید پڑھیے

منطق الطیر،جدید۔۔تبصرہ:صلاح الدین درویش

مستنصر حسین تارڑ کا نیا ناول ہے”خس و خاشاک زمانے “کے بعد اس ناول میں مجھے ایک مرتبہ پھر فکری اعتبار سے مستنصر کے ہاں فکری مراجعت کی ایک اور صورت دکھائی دی ہے۔وہ مستنصر جسے اپنی گھر وطن والدین←  مزید پڑھیے

کالے مول نہ ہوندے بگے ۔۔۔۔ عبدالرحمن

“صفائی نصف ایمان ہے ” حضور والا آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ حدیث ہے اور مستند ہے۔گئے دنوں کی بات ہے کہ جب کبھی میں اس حدیث کو دیکھتا تو شکوک شبہات مجھے اپنے گھیرے میں لے  لیتے←  مزید پڑھیے

پاکستان بمقابلہ بھارت،عمران خان بمقابلہ نریندر مودی۔۔۔۔فراست محمود

لفظ ” پاکستان بمقابلہ بھارت” جب بھی نظروں سے گزرتا ہے ایک عجیب سی سنسنی دونوں ملکوں کے باشندوں کے جسموں میں ایسے دوڑنے لگتی ہے کہ پھر ” جوش سے نہیں ہوش سے” مشورہ دینے اور کہنے والے بھی←  مزید پڑھیے

جینٹلمین۔۔۔۔۔ مدثر بشیر

کسی سرکاری دفتر میں سائل کی چائے سے تواضع بذاتِ خود الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے لیکن یہاں انوکھا پن اس لئے بھی سوا تھا کہ یہ دفتر تھا بھی محکمہ بجلی کا ۔بلوں نے لوگوں کا دماغ الٹا←  مزید پڑھیے

“درویشوں کا ڈیرہ” کی تقریبِ رونمائی کا احوال۔۔۔۔مزمل صدیقی

کتاب درویشوں کا ڈیرا پر ہم نے بہتوں کی آراء سُنیں اور اپنے کانوں سے دھواں نکلتے محسوس کیا ۔بارے بار پہلی کوئی عقل کی باتیں کانوں میں پڑیں  ۔خلاصہ جس کا یہ ہے فرد کی آزادی دراصل کیا ہے←  مزید پڑھیے

شو کمار بٹالوی نال میریاں ست ملاقاتاں۔۔۔۔سرجیت پاتر

شو نال میریاں گنتی دیاں ملاقاتاں ہوئیاں۔ جدوں کدی میں کلاس وچ شودی شاعری پڑھاؤاندا پڑھیار مینوں کہندے: سر کوئی شو دی گل سناؤ۔ اودوں میرا جی کردا کاش میں شونوں کجھہ ہور ملیا ہوندا۔ پر شو دے جیؤندے جی←  مزید پڑھیے

ہوٹلوں میں موت کا کاروبار۔۔۔۔۔ طاہر حسین

ج دل بہت اداس ہے اور اداسی کا سبب معصوم بچوں کے وہ چہرے جو رہ رہ کر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ اولاد سے بڑھ کر ہے بھی کیا کہ جو قدرت کا وہ تحفہ جو جان نچھاور کرنے←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر انور سجاد۔۔ سرپرست مدیرِ مکالمہ

لاہور کی فصیل کے اندر جنم لینے والے  ڈاکٹر انور سجاد ۔ ڈاکٹر دلاور علی کے  بیٹے۔ ڈاکٹر دلاور، لاہور کے اوّلین ڈاکٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر  صاحب  27 مئی 1935 میں چونا منڈی ،لاہور میں پیدا ہوئے  ←  مزید پڑھیے

میرے ماموں کا لڑکا۔۔گل نوخیز اختر

کامران میرے ماموں کا لڑکا ہے اوراپنے تئیں دنیا کی عجیب و غریب خاصیتوں کا مالک ہے۔اس کی عمر 30 سال ہے جس میں سے اس نے 50 سال علم سیکھنے میں لگائے ہیں۔اس کے بقول وہ کالا علم بھی←  مزید پڑھیے

جون ایلیا سے ملیے۔۔۔۔انور احسن صدیقی کی خود نوشت سے انتخاب

سید محمد تقی اور رئیس امروہی کے تذکرے کے بغیر کراچی کی تہذیبی اور مجلسی زندگی کا ذکر نامکمل رہے گا۔لہذاا س موقع کی مناسبت سے اس احوال کو میں بیان کردینا چاہتا ہوں۔ وہ چار بھائی تھے۔ سب سے←  مزید پڑھیے